LAT And GAT Preparation

LAT And GAT Preparation

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from LAT And GAT Preparation, Education, Shikarpur.

18/05/2024

𝐏𝐋𝐃 𝟐𝟎𝟐𝟒 𝐁𝐚𝐥𝐨𝐜𝐡𝐢𝐬𝐭𝐚𝐧 𝟕𝟎

𝐂𝐨𝐧𝐟𝐞𝐬𝐬𝐢𝐨𝐧𝐚𝐥 𝐬𝐭𝐚𝐭𝐞𝐦𝐞𝐧𝐭 𝐫𝐞𝐜𝐨𝐫𝐝𝐞𝐝 𝐚𝐭 𝐛𝐞𝐥𝐚𝐭𝐞𝐝 𝐬𝐭𝐚𝐠𝐞----𝐎𝐧𝐜𝐞 𝐚 𝐟𝐨𝐫𝐦𝐚𝐥 𝐜𝐡𝐚𝐫𝐠𝐞 𝐰𝐚𝐬 𝐟𝐫𝐚𝐦𝐞𝐝 𝐚𝐧𝐝 𝐩𝐮𝐭 𝐭𝐨 𝐭𝐡𝐞 𝐚𝐩𝐩𝐞𝐥𝐥𝐚𝐧𝐭/𝐜𝐨𝐧𝐯𝐢𝐜𝐭, 𝐰𝐡𝐢𝐜𝐡 𝐰𝐚𝐬 𝐝𝐞𝐧𝐢𝐞𝐝 𝐛𝐲 𝐡𝐢𝐦 𝐮𝐧𝐝𝐞𝐫 𝐒. 𝟐𝟒𝟐, 𝐂𝐫.𝐏.𝐂. 𝐩𝐫𝐨𝐯𝐢𝐬𝐢𝐨𝐧𝐬 𝐨𝐟 𝐒. 𝟐𝟒𝟑, 𝐂𝐫.𝐏.𝐂., 𝐬𝐡𝐚𝐥𝐥 𝐢𝐩𝐬𝐨 𝐟𝐚𝐜𝐭𝐨 𝐛𝐞𝐜𝐨𝐦𝐞 𝐢𝐧𝐨𝐩𝐞𝐫𝐚𝐭𝐢𝐯𝐞 𝐚𝐧𝐝 𝐂𝐨𝐮𝐫𝐭 𝐡𝐚𝐝 𝐭𝐨 𝐩𝐫𝐨𝐜𝐞𝐞𝐝 𝐮𝐧𝐝𝐞𝐫 𝐒. 𝟐𝟒𝟒, 𝐂𝐫.𝐏.𝐂.

15/12/2023

𝐏𝐋𝐃 𝟐𝟎𝟎𝟕 𝐋𝐚𝐡𝐨𝐫𝐞 𝟒𝟒𝟒

𝐃𝐮𝐭𝐲 𝐣𝐮𝐝𝐠𝐞 𝐞𝐧𝐣𝐨𝐲𝐬 𝐭𝐡𝐞 𝐬𝐚𝐦𝐞 𝐩𝐨𝐰𝐞𝐫 𝐚𝐬 𝐭𝐡𝐞 𝐢𝐧𝐜𝐮𝐦𝐛𝐞𝐧𝐭 𝐣𝐮𝐝𝐠𝐞 𝐞𝐧𝐣𝐨𝐲𝐬.

05/11/2023

𝟐𝟎𝟐𝟑 𝐒𝐂𝐌𝐑 𝟏𝟗55

𝐉𝐮𝐝𝐢𝐜𝐢𝐚𝐥 𝐭𝐢𝐭𝐥𝐞 𝐝𝐨𝐞𝐬 𝐧𝐨𝐭 𝐫𝐞𝐧𝐝𝐞𝐫 𝐢𝐭𝐬 𝐡𝐨𝐥𝐝𝐞𝐫 𝐢𝐦𝐦𝐮𝐧𝐞 𝐟𝐫𝐨𝐦 𝐫𝐞𝐬𝐩𝐨𝐧𝐬𝐢𝐛𝐢𝐥𝐢𝐭𝐲 𝐞𝐯𝐞𝐧 𝐰𝐡𝐞𝐧 𝐭𝐡𝐞 𝐜𝐫𝐢𝐦𝐢𝐧𝐚𝐥 𝐚𝐜𝐭 𝐢𝐬 𝐜𝐨𝐦𝐦𝐢𝐭𝐭𝐞𝐝 𝐛𝐞𝐡𝐢𝐧𝐝 𝐭𝐡𝐞 𝐬𝐡𝐢𝐞𝐥𝐝 𝐨𝐟 𝐣𝐮𝐝𝐢𝐜𝐢𝐚𝐥 "𝐨𝐟𝐟𝐢𝐜𝐞-𝐈𝐦𝐦𝐮𝐧𝐢𝐭𝐲 𝐟𝐫𝐨𝐦 𝐜𝐫𝐢𝐦𝐢𝐧𝐚𝐥 𝐥𝐢𝐚𝐛𝐢𝐥𝐢𝐭𝐲 𝐝𝐨𝐞𝐬 𝐧𝐨𝐭 𝐞𝐱𝐭𝐞𝐧𝐝 𝐭𝐨 𝐧𝐨𝐧-𝐣𝐮𝐝𝐢𝐜𝐢𝐚𝐥 𝐚𝐜𝐭𝐬, 𝐚𝐧𝐝 𝐭𝐡𝐮𝐬, 𝐚 𝐣𝐮𝐝𝐠𝐞 𝐜𝐚𝐧𝐧𝐨𝐭 𝐢𝐧 𝐚𝐧𝐲 𝐰𝐚𝐲 𝐞𝐬𝐜𝐚𝐩𝐞 𝐜𝐫𝐢𝐦𝐢𝐧𝐚𝐥 𝐥𝐢𝐚𝐛𝐢𝐥𝐢𝐭𝐲 𝐚𝐧𝐝 𝐜𝐚𝐧 𝐛𝐞 𝐚𝐫𝐫𝐞𝐬𝐭𝐞𝐝.

Photos from LAT And G*T Preparation's post 21/05/2023

Lis pendens, meaning, purpose and its essential ingredients. Hand written notes.

27/01/2023

Complete Criminal Trial
(From FIR to conclusions)

فوجداری مقدمہ کے مراحل
(ایف آئی آر سے فیصلہ مقدمہ تک)

ایف آئی آر 𝐅𝐈𝐑:
جب بھی کوئی جرم ہوتا ہے تو سب سے پہلے پولیس کو اطلاع دی جاتی ہے اگر وہ جرم قابلِ دست اندازی ہو تو پولیس ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟏𝟓𝟒 کے تحت 𝐅𝐈𝐑 درج کرتی ہے(قابل دست اندازی جرم وہ ہوتے ہیں ہیں جن میں پولیس کسی بھی ملزم کو بغیر وارنٹ کے گرفتار کر سکتی ہے) ایف آئی آر کا مقصد فوجداری قانون کو حرکت میں لانا ہوتا ہے اگر پولیس ایف آئی آر درج نہ کرے تو پولیس کے اس عمل کے خلاف آپ 𝐃𝐒𝐏 یا 𝐒𝐏 کو درخواست دے سکتے ہیں۔ اگر پھر بھی ایف آئی آر درج نہیں کی جاتی تو جسٹس آف پیس (𝐣𝐮𝐬𝐭𝐢𝐜𝐞 𝐨𝐟 𝐩𝐞𝐚𝐜𝐞) کے پاس پٹیشن (𝐩𝐞𝐭𝐢𝐭𝐢𝐨𝐧) دائر کی جاتی ہے۔ یہ پٹیشن ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟐𝟐𝐀 اور 𝟐𝟐𝐁 کے تحت دائر کی جاتی ہے۔ جسٹس آف پیس کے اختیارات سیشن ججز کے پاس ہی ہوتے ہیں۔ مطلب کہ یہ درخواست سیشن جج (𝐬𝐞𝐬𝐬𝐢𝐨𝐧𝐬 𝐣𝐮𝐝𝐠𝐞) کے پاس درج کی جائے گی اور وہ پولیس کو 𝐝𝐢𝐫𝐞𝐜𝐭 کرے گا کہ اس وقوعہ کی ایف آئی آر درج کرے۔ اس کے علاوہ آپ کے پاس استغاثہ (𝐩𝐫𝐢𝐯𝐚𝐭𝐞 𝐜𝐨𝐦𝐩𝐥𝐚𝐢𝐧𝐭) کا راستہ ہر وقت موجود رہتا ہے۔ کسی بھی جرم (چاہے وہ قابل دست اندازی پولیس ہو یا نہ ہو) کے متعلق علاقہ مجسٹریٹ کو درخواست دی جا سکتی ہے۔

ضمانت قبل از گرفتاری:
ایف آئی آر درج ہو جانے کے بعد اگر شخص سمجھتا ہے کہ اسے جان بوجھ کر ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے اور وہ بے گناہ ہے تو وہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟒𝟗𝟖 کے تحت سیشن کورٹ میں ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے درخواست دائر کر سکتا اور گرفتار ہونے سے بچ سکتا ہے۔

تفتیش:
ایف آئی آر درج ہو جانے کے بعد پولیس دفعہ 𝟏𝟓𝟔 کے تحت اس کے متعلق تفتیش شروع کرتی ہے۔ جائے وقوعہ پر جا کر کر ثبوت اکٹھے کرتی ہے۔ دفعہ 𝟏𝟔𝟏 کے تحت گواہوں کے بیان ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔

ملزمان کی گرفتاری:
پولیس کے پاس اختیار ہے کہ وہ دوران تفتیش قابلِ ضمانت یا ناقابلِ ضمانت کیس میں ملزمان کو گرفتار کرے۔ اس کے علاوہ دفعہ 𝟏𝟔𝟗 کے تحت پولیس کے پاس اختیار ہے کہ وہ کسی بھی ملزم کو بے گناہ پا کر چھوڑ بھی سکتی ہے۔
مجسٹریٹ کے سامنے پیشی:
تفتیش کے دوران پولیس 𝟐𝟒 گھنٹوں کے اندر اندر گرفتار شدہ ملزمان کو علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو پیش کرنے کی پابند ہے۔
جب پولیس گرفتار ملزمان کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرتی ہے تو اس وقت تک کی گئی تفتیش بھی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنی ہوتی ہے اور اگر 𝟐𝟒 گھنٹوں میں تفتیش مکمل نہ کی گئی ہو تو ملزم کے جسمانی یا جوڈیشل ریمانڈ کی درخواست دی جاتی ہے اور دوسری جانب مجسٹریٹ کے سامنے پیشی پر ملزم ضمانت بعد از گرفتاری کے لیے درخواست دیتا ہے۔

ریمانڈ:
ریمانڈ دو طرح کا ہوتا ہے۔ جب پولیس نے ملزم سے کوئی برآمدگی کرنی ہو تو وہ دفعہ 𝟏𝟔𝟕 کے تحت جسمانی ریمانڈ کی درخواست کرتی ہے کہ ملزم کو واپس پولیس کے حوالے کیا جائے۔ اگر پولیس کو ملزم کی حراست کی ضرورت نہ ہو تو وہ دفعہ دفعہ 𝟑𝟒𝟒 کے تحت ریمانڈ جوڈیشل کی درخواست کرتی ہے۔
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟏𝟔𝟕 کے تحت جسمانی ریمانڈ کی زیادہ سے زیادہ میعاد 𝟏𝟓 دن ہے لیکن مجسٹریٹ کبھی بھی 𝟏𝟓 دن کا ریمانڈ ایک ساتھ نہیں دیتا بلکہ دو دو یا چار چار دن کا ریمانڈ جسمانی دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اب اگر دو دن کا ریمانڈ دیا گیا ہو تو پولیس اس شخص کو دو دن کے بعد دوبارہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرے گی۔ اس دوران جو بھی تفتیش کی ہوتی ہے وہ مجسٹریٹ کے سامنے رکھے گی اور دوبارہ سے ریمانڈ کے لیے درخواست دے گی۔ اس طرح وقفے وقفے سے مجسٹریٹ ٹوٹل 𝟏𝟓 دن کا جسمانی ریمانڈ پر ملزم کو پولیس کے حوالے کر سکتا ہے لیکن اگر ریمانڈ کی درخواست دیتے وقت مجسٹریٹ کو لگے کہ کہ پولیس نے کوئی خاص تفتیش نہیں کی تو مجسٹریٹ جسمانی ریمانڈ نہیں دیتا بلکہ ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیتا ہے۔

ضمانت بعد از گرفتاری:
اب ہم دیکھتے ہیں کہ کہ ایف آئی آر درج ہوگئی ملزم گرفتار ہوا اور ہم نے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر اس کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا۔ ملزم اب بعد از گرفتاری ضمانت کیلئے درخواست دائر کرسکتا ہے اور اگر عائد کردہ جرم قابل ضمانت ہو تو ضمانت ملزم کا حق ہے۔ ناقابلِ ضمانت جرم میں اگر ملزم بے گناہ ہو اور اس کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہ ہو اور مزید تفتیش کی ضرورت ہو تو بھی ملزم کو ضمانت مل سکتی ہے۔

چالان (𝐏𝐨𝐥𝐢𝐜𝐞 𝐫𝐞𝐩𝐨𝐫𝐭):
اب اگلا مرحلہ چالان جمع کروانے کا ہوتا ہے۔ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟏𝟕𝟑 ایف آئی آر درج ہونے کے بعد 𝟏𝟒 دن کے اندر اندر مجسٹریٹ کے پاس چالان جمع کروانا ہوتا ہے اگر 𝟏𝟒 دنوں میں پولیس نے چالان جمع نہیں کرایا تو تین دن کے اندر عبوری چالان جمع کرائے گی۔ مطلب کہ پولیس کے پاس چالان جمع کرانے کے لیے 𝟏𝟒+𝟑 دن کا وقت ہوتا ہے اس دورانیہ میں پولیس نے ہر حال میں مکمل یا نامکمل چالان جمع کرانا ہوتا ہے ( نامکمل چالان اس صورت میں جمع ہوتا ہے جب 𝐟𝐨𝐫𝐞𝐧𝐬𝐢𝐜 𝐫𝐞𝐩𝐨𝐫𝐭 تیار نہیں ہوتی اور اس کے آنے میں ابھی وقت ہوتا ہے) تاکہ جتنے بھی ثبوت اکٹھے ہوئے ہیں جتنی بھی تفتیش ہوئی ہے اس کی بنیاد پر عدالت ٹرائل چلا سکے لیکن عدالت کا اختیار ہے کہ وہ مکمل چالان کے بعد بھی ٹرائل شروع کر سکتی ہے۔

چالان کے کالم:
چالان کے 𝟕 کالمز ہوتے ہیں۔ پولیس نے ابھی تک جتنی بھی کارروائی کی ہوتی ہے اس چالان فارم پر لکھتی ہے۔
پہلے کالم میں نام و پتہ مستغیث درج ہوتا ہے
دوسرا کالم اشتہاری ملزمان کا ہوتا ہے
تیسرے کالم میں زیر حراست ملزمان کے کوائف درج ہوتے ہیں چوتھا کالم ان ملزمان کے متعلق ہوتا ہے جو ضمانت پر رہا ہوتے ہیں
پانچویں کالم میں مال مقدمہ کی تفصیل درج ہوتی ہے مثلاً ملزمان سے کوئی ہتھیار یا چرس برآمد ہوئی ہو تو اس کا ذکر ہوتا ہے
چھٹے کالم میں استغاثہ کے گواہان کی تفصیل درج ہوتی ہے۔ ساتویں کالم میں پوری تفتیش کا خلاصہ لکھا ہوتا ہے۔
چالان کے ساتھ مختلف ڈاکومنٹ بھی لف ہوتے ہیں جن میں ایف آئی آر کی کاپی، میڈیکل رپورٹ، فرد مقبوضگی اور نقشہ موقع شامل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مستغیث اور گواہان کے بیانات جو کہ پولیس نے 𝟏𝟔𝟏 کے تحت ریکارڈ کیے ہوں شامل ہوتے ہیں۔

مجسٹریٹ کے پاس چالان جمع ہونے پر اگر مجسٹریٹ کو لگے کہ وہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 𝟏𝟗𝟎 کے مطابق اس کیس کے ٹرائل کا اختیار رکھتا ہے تو ٹرائل شروع کرتا ہے اور اگر اسے لگے اس کیس میں ٹرائل شروع کرنے کا اختیار سیشن کورٹ کے پاس ہے تو وہ اس کیس کو سیشن جج کے پاس بھیج دیتا ہے۔ ضابطہ فوجداری میں دونوں عدالتوں کے ٹرائل کی الگ الگ وضاحت کی گئی ہے۔ لیکن یہاں ہم ٹرائل کو عام نقظہ نظر سے دیکھیں گے۔

ملزم کو دستاویزات کی فراہمی:
اگر تو ملزمان ضمانت پر رہا ہیں تو پولیس کے ذریعے انہیں بلایا جائے گا اگر تو وہ جیل میں ہیں تو بذریعہ جیل سپرانٹنڈنٹ انہیں بلایا جائے گا۔ جب ملزمان حاضر ہو جاتے ہیں تو چالان، گواہوں کے بیان اور جو بھی متعلقہ ڈاکومنٹ چالان کے ساتھ لف ہوتا ہے ان سب کی کاپیاں بغیر معاوضہ کے انھیں فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ ڈاکومنٹس فرد جرم عائد ہونے سے کم از کم 𝟕 دن پہلے دینا لازم ہے تاکہ ملزم کو پتہ چل سکے کہ اس کے خلاف کیا کیس ہے اور کیا کیا ثبوت اکٹھے ہو چکے ہیں۔

ٹرائل کا آغاز:
اب ٹرائل کا مرحلہ آتا ہے۔ ٹرائل کا آغاز ملزم پر فرد جرم عائد کرنے سے ہوتا ہے۔ عدالت ملزم کو بتاتی ہے تمہارے اوپر یہ الزام ہے۔ اس سے پوچھا جاتا ہے کہ آیا وہ اقبال جرم کرتا ہے یا جوابدہی کرے گا۔ ٹرائل کے دوران اگر تو ملزم اقبال جرم کر لے تو عدالت کے پاس اختیار ہے کہ وہ اس کو سزا سنا دے۔ لیکن اگر عدالت کو لگے کہ وہ جھوٹا اعترافی بیان دے رہا ہے تو عدالت اس کے بیان کو رد بھی کر سکتی ہے۔
اگر ملزم اعترافی بیان نہیں دیتا تو پھر باقاعدہ ٹرائل کا آغاز ہوتا ہے اس کے بعد پرازیکیوشن(𝐩𝐫𝐨𝐬𝐞𝐜𝐮𝐭𝐢𝐨𝐧) کے گواہوں کے بیان ریکارڈ ہوتے ہیں اور ملزم کا وکیل ان پر جرح کرتا ہے۔ پرازیکیوشن کے پاس دو طرح کے گواہ ہوتے ہیں ایک تو پرائیویٹ گواہ ہوتے ہیں جو کہ مستغیث کے گواہ ہوتے ہیں مثلاً کہ چشم دید گواہ وغیرہ۔ دوسرے پولیس کے گواہ ہوتے ہیں جیسا کہ ایف آئی آر درج کرنے والا پولیس افسر۔
جب پرازیکیوشن کے گواہان کے بیانات ریکارڈ ہو جاتے ہیں اس کے بعد ملزم کا 𝟑𝟒𝟐 کا بیان ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ جو کہ ہر حال میں لازم ہے۔ ملزم سے مختلف سوال پوچھے جاتے ہیں مثلاً اس سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کے خلاف یہ کیس کیوں بنایا گیا ہے یہ گواہ آپ کے خلاف گواہی کیوں دے رہے ہیں۔ ملزم ان سوالوں کا عموماً یہ ہی جواب دیتا ہے کہ میرے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا گیا اور میں بے گناہ ہوں۔ اس کے علاوہ ملزم سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا وہ اپنی صفائی میں کوئی ڈاکومنٹ یا کوئی گواہ پیش کرنا چاہتا ہے۔ان سوالوں میں ایک سوال یہ بھی شامل ہوتا ہے کہ کیا وہ اپنے حق میں گواہی دینا چاہتا ہے اگر وہ کہے کہ میں اپنا گواہ بنتا ہوں تو 𝟑𝟒𝟎 کے تحت وہ حلف اٹھا کر اپنے ہی گواہ کے طور پر پیش ہوتا ہے اور بیان دیتا ہے اور پرازیکیوشن اس پر جرح کرتی ہے۔ لیکن عام طور پر ملزمان 𝟑𝟒𝟎 کے تحت اپنا ہی گواہ نہیں بنتے اور نہ ہی اپنے حق میں کوئی گواہ پیش کرتے ہیں کیونکہ اگر وہ اپنا ہی گواہ خود بنے یا اپنے حق میں کوئی اور گواہ پیش کرے تو مخالف وکیل کو اس پر اور اس کے گواہ پر جرح کا حق ہوگا اور اس جرح میں ملزم پھنس سکتا ہے۔

بحث:
اب اگلا مرحلہ آرگومنٹ کا آتا ہے دونوں اطراف سے دونوں پارٹیز کے وکیل بحث کرتے ہیں۔

فیصلہ:
عدالت کیس کے متعلق فیصلہ سناتی ہے۔ فیصلہ کے لیے ضروری ہے کہ جج پہلے اسے لکھے اور پھر اس فیصلے کو عدالت میں سنائے۔ فیصلہ میں مجرم کو بری کر دیا جاتا ہے یا سزا سنائی جاتی ہے۔ اگر تو فیصلہ اس کی سزا کا ہے تو ملزم کو اپیل دائر کرنے کے لیے اس فیصلہ کی ایک نقل بلا اجرت دی جاتی

Photos from LAT And G*T Preparation's post 16/01/2023

Challan and its kinds

01/09/2021

LAT Ka challan bharny ka tariqa

Photos from LAT And G*T Preparation's post 28/08/2021

Revised syllabus of Law G*T

29/06/2021

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے اس مفصل فیصلہ میں وہ وجوہات تفصیل کے ساتھ بیان کی ہیں جن کی بنا پر ایک ملزم کو عطا کی گئی ضمانت کو منسوخ کیا جا سکتا ھے
June 28, 2021
2020 SCMR 1115

i) If the bail granting order is patently illegal,erroneous, factually incorrect and has resulted into miscarriage of justice.
ii) That the accused has misused the concession of bail in any manner.
iii) That accused has tried to hamper prosecution evidence by persuading pressurizing prosecution witnesses.
iv) That there is likelihood of absconsion of the accused beyond the jurisdiction of court.
v) That the accused has attempted to interfere with the smooth course of investigation.
vi) That accused misused his liberty while indulging into similar offence.
vii) That some fresh facts and material has been collected during the course of investigation which tends to establish guilt of the accused. [LAWYERS FORUM]

29/06/2021

List of Courts in Pakistan from top to bottom with their Jurisdiction & Powers With Relevant Sections:

SUPREME COURT

1. 184(1) Original jurisdiction in inter-governmental disputes, issues declaratory judgments;

2. 184(3) Enforcement of Fundamental Rights involving an issue of public importance;

3. Art 185(2) Appeal from judgment/order of High Court in criminal cases, tried in original and/or appellate capacity and having imposed death penalty or life imprisonment;

4. Art 185(2) Appeal in civil cases when the value of claim exceeds fifty thousand rupees;

5. Art 185(2) Appeal when High Court certifies that the case involves interpretation of the Constitution;

6. Art 185(3) Appeal (subject to grant of leave) from High Court judgment/order;

7. Art 186 Advisory jurisdiction on any question of law involving public importance referred by the President;

8. Art 187 To issue directions/orders for doing complete justice in a pending case/matter;

9. Art 188 To review any of its own judgment/order;

10. Art 204 To punish for its contempt;

11. Art 212 Appeal from Administrative courts/tribunals; and

12. Art 203F Its Shariat Appellate Bench hears appeals from judgments/orders of Federal Shariat Court.


FEDERAL SHARIAT COURT:

1. Art 203-D To determine whether a provision of law is repugnant to the Injunctions of Islam;

2. Art 203 DD Revisional Jurisdiction in cases under Hudood laws;

3. Art 203 E To review its judgment/order;

4. Art 203 E To punish for its contempt; and

5. Under Hudood laws, hears appeals from judgment/order of criminal courts.

HIGH COURT:

1. Art 199(1) to issue 5 writs namely mandamus, prohibition, certiorari, habeas corpus and quo warranto;

2. Art 199(2) Enforcement of Fundamental Rights;

3. Art 203: To supervise/control subordinate courts;

4. Art 204: To punish for its contempt;

5. To hear appeal under S.100 of CPC;

6. To decide reference under S.100 of CPC;

7. Power of review under S.114 of CPC;
۔
۔
۔
۔
۔

11/06/2021
Photos from LAT And G*T Preparation's post 01/06/2021

Law G*T answer keys

Want your school to be the top-listed School/college in Shikarpur?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Shikarpur