Faiz Ur Rasool M.Phil Litreture

Faiz Ur Rasool M.Phil Litreture

Share

This page will provide you English grammar, literature, article and magazine.

02/07/2025

کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی
دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی

بات وہ آدھی رات کی رات وہ پورے چاند کی
چاند بھی عین چیت کا اس پہ ترا جمال بھی

سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتا
ایک دفعہ تو رک گئی گردش ماہ و سال بھی

دل تو چمک سکے گا کیا پھر بھی ترش کے دیکھ لیں
شیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی

اس کو نہ پا سکے تھے جب دل کا عجیب حال تھا
اب جو پلٹ کے دیکھیے بات تھی کچھ محال بھی

میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر
ہاتھ دعا سے یوں گرا بھول گیا سوال بھی

اس کی سخن طرازیاں میرے لیے بھی ڈھال تھیں
اس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھی

گاہ قریب شاہ رگ گاہ بعید وہم و خواب
اس کی رفاقتوں میں رات ہجر بھی تھا وصال بھی

اس کے ہی بازوؤں میں اور اس کو ہی سوچتے رہے
جسم کی خواہشوں پہ تھے روح کے اور جال بھی

شام کی نا سمجھ ہوا پوچھ رہی ہے اک پتا
موج ہوائے کوئے یار کچھ تو مرا خیال بھی

پروین شاکر ۔

24/11/2023

رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا آ خری خطبہ مبارک ۔

24/11/2023

میرے ہم نفس میرے ہمنوا مجھے دوست بن کر دغا نہ دے ۔

24/11/2023

اِک موجۂ صہبائے جُنوں تیز بہت ہے​
اِک سانس کا شیشہ ہے کہ لبریز بہت ہے​

کچھ دِل کا لہُو پی کے بھی فصلیں ہُوئیں شاداب​
کچھ یُوں بھی زمیں گاؤں کی زرخیز بہت ہے​

پلکوں پہ چراغوں کو سنبھالے ہوئے رکھنا​
اِس ہجر کے موسم کی ہوا تیز بہت ہے​

بولے تو سہی، جھوٹ ہی بولے وہ بلا سے​
ظالم کا لب و لہجہ دلآویز بہت ہے​

کیا اُس کے خدوخال کھلیں اپنی غزل میں​
وہ شہر کے لوگوں میں کم آمیز بہت ہے​

محسنؔ اُسے ملنا ہے تو دُکھنے دو یہ آنکھیں​
کچھ اور بھی جاگو کہ وہ "شب خیز" بہت ہے

24/11/2023

وہ ہمسفر تھا مگر اُس سے ہم نوائی نہ تھی
کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی

بچھڑتے وقت ان آنکھوں میں تھی ہماری غزل
غزل بھی وہ جو کسی کو ابھی سنائی نہ تھی❤🌼💫

16/07/2022

تیـری نـگاہ ســے ایسی شـراب پی مـیں نـے
کہ پھر نہ ہوش کا دعویٰ کیا کبھی میں نے
وہ اور ھوں گـے جنہیں موت آئے گی بـیدم
نـگاہِ یـار سـے پـائی ھـے زنـدگی مـیں نـے

16/07/2022

ہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنّم بھی نہ ہو
چمنِ دہر میں کلیوں کا تبسّم بھی نہ ہو
یہ نہ ساقی ہو تو پھر مَے بھی نہ ہو خُم بھی نہ ہو
بزمِ توحید بھی دنیا میں نہ ہو، تم بھی نہ ہو

خیمہ افلاک کا اِستادہ اسی نام سے ہے
نبضِ ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے

(ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ)

16/07/2022

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک

عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب
دل کا کیا رنگ کروں خونء جگر ہونے تک

ہم نے مانا تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہوجائیں گے، ہم تم کو خبر ہونے تک
مرزا غالب

16/07/2022

Don't be disappointed.

16/07/2022
16/07/2022

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

Want your school to be the top-listed School/college in Sheikhupura?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Sheikhupura