کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی
دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی
بات وہ آدھی رات کی رات وہ پورے چاند کی
چاند بھی عین چیت کا اس پہ ترا جمال بھی
سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتا
ایک دفعہ تو رک گئی گردش ماہ و سال بھی
دل تو چمک سکے گا کیا پھر بھی ترش کے دیکھ لیں
شیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی
اس کو نہ پا سکے تھے جب دل کا عجیب حال تھا
اب جو پلٹ کے دیکھیے بات تھی کچھ محال بھی
میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر
ہاتھ دعا سے یوں گرا بھول گیا سوال بھی
اس کی سخن طرازیاں میرے لیے بھی ڈھال تھیں
اس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھی
گاہ قریب شاہ رگ گاہ بعید وہم و خواب
اس کی رفاقتوں میں رات ہجر بھی تھا وصال بھی
اس کے ہی بازوؤں میں اور اس کو ہی سوچتے رہے
جسم کی خواہشوں پہ تھے روح کے اور جال بھی
شام کی نا سمجھ ہوا پوچھ رہی ہے اک پتا
موج ہوائے کوئے یار کچھ تو مرا خیال بھی
پروین شاکر ۔
Faiz Ur Rasool M.Phil Litreture
This page will provide you English grammar, literature, article and magazine.
رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا آ خری خطبہ مبارک ۔
میرے ہم نفس میرے ہمنوا مجھے دوست بن کر دغا نہ دے ۔
اِک موجۂ صہبائے جُنوں تیز بہت ہے
اِک سانس کا شیشہ ہے کہ لبریز بہت ہے
کچھ دِل کا لہُو پی کے بھی فصلیں ہُوئیں شاداب
کچھ یُوں بھی زمیں گاؤں کی زرخیز بہت ہے
پلکوں پہ چراغوں کو سنبھالے ہوئے رکھنا
اِس ہجر کے موسم کی ہوا تیز بہت ہے
بولے تو سہی، جھوٹ ہی بولے وہ بلا سے
ظالم کا لب و لہجہ دلآویز بہت ہے
کیا اُس کے خدوخال کھلیں اپنی غزل میں
وہ شہر کے لوگوں میں کم آمیز بہت ہے
محسنؔ اُسے ملنا ہے تو دُکھنے دو یہ آنکھیں
کچھ اور بھی جاگو کہ وہ "شب خیز" بہت ہے
وہ ہمسفر تھا مگر اُس سے ہم نوائی نہ تھی
کہ دھوپ چھاؤں کا عالم رہا جدائی نہ تھی
بچھڑتے وقت ان آنکھوں میں تھی ہماری غزل
غزل بھی وہ جو کسی کو ابھی سنائی نہ تھی❤🌼💫
16/07/2022
تیـری نـگاہ ســے ایسی شـراب پی مـیں نـے
کہ پھر نہ ہوش کا دعویٰ کیا کبھی میں نے
وہ اور ھوں گـے جنہیں موت آئے گی بـیدم
نـگاہِ یـار سـے پـائی ھـے زنـدگی مـیں نـے
16/07/2022
ہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنّم بھی نہ ہو
چمنِ دہر میں کلیوں کا تبسّم بھی نہ ہو
یہ نہ ساقی ہو تو پھر مَے بھی نہ ہو خُم بھی نہ ہو
بزمِ توحید بھی دنیا میں نہ ہو، تم بھی نہ ہو
خیمہ افلاک کا اِستادہ اسی نام سے ہے
نبضِ ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے
(ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ)
16/07/2022
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک
عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب
دل کا کیا رنگ کروں خونء جگر ہونے تک
ہم نے مانا تغافل نہ کرو گے لیکن
خاک ہوجائیں گے، ہم تم کو خبر ہونے تک
مرزا غالب
16/07/2022
Don't be disappointed.
16/07/2022
16/07/2022
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Sheikhupura