Dr sajjad Ahmad

Dr sajjad Ahmad

Share

Child Specialist

Photos from Dr sajjad Ahmad's post 20/08/2026
20/08/2026

سوال: ڈاکٹر صاحب! سنا ہے کہ بچے کو فیڈر سے دودھ پلانے سے کان میں انفیکشن ہو جاتا ہے، کیا یہ سچ ہے؟

جواب: جی، لیکن اس بات کو صحیح طریقے سے سمجھنا ضروری ہے۔
بوتل سے دودھ پینے والے بچوں میں، خاص طور پر جب بچے کو بالکل لٹا کر بوتل سے دودھ پلایا جائے، کان کے انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم ایسا نہیں ہے کہ فیڈر سے دودھ پینے والے ہر بچے کو کان کا انفیکشن ہو جائے۔

اس میں دو اہم باتیں سمجھنا ضروری ہیں۔

1️⃣ ماں کا دودھ

ماں کے دودھ میں ایسے قدرتی حفاظتی اجزاء موجود ہوتے ہیں جو بچے کے جسم کو مختلف انفیکشنز سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔
اسی وجہ سے ماں کا دودھ پینے والے بچوں میں کان کے انفیکشن، سانس کی نالی کے بعض انفیکشنز اور دست وغیرہ کا خطرہ نسبتاً کم دیکھا جاتا ہے۔
فارمولا دودھ بچے کو ضروری غذائیت فراہم کرتا ہے، لیکن اس میں ماں کے دودھ جیسے قدرتی حفاظتی اجزاء موجود نہیں ہوتے۔

2️⃣ بچے کو بوتل پلانے کا طریقہ

اکثر والدین بچے کو بالکل لٹا کر فیڈر دے دیتے ہیں۔ یہ طریقہ مناسب نہیں ہے۔
ناک اور گلے کے پچھلے حصے کو کان کے درمیانی حصے سے ایک باریک نالی ملاتی ہے، جسے یوسٹیشین ٹیوب کہا جاتا ہے۔
چھوٹے بچوں میں یہ نالی بڑوں کی نسبت چھوٹی اور زیادہ افقی ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے چھوٹے بچوں کے کان کے درمیانی حصے میں رطوبت جمع ہونے اور کان میں انفیکشن ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
جب بچے کو بالکل لٹا کر بوتل سے دودھ پلایا جاتا ہے تو دودھ کے گلے کے پچھلے حصے کی طرف جانے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ اس طرح کان کے درمیانی حصے میں ہوا کی مناسب آمدورفت اور رطوبت کی نکاسی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے کان کے انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ دودھ عام طور پر سیدھا کان کے اندر نہیں جاتا۔ اصل مسئلہ کان کے درمیانی حصے میں ہوا کی مناسب آمدورفت اور رطوبت کی نکاسی متاثر ہونا ہے۔
جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا ہے، یوسٹیشین ٹیوب کی ساخت اور سمت میں تبدیلی آتی ہے، جس سے کان کے درمیانی حصے میں ہوا کی آمدورفت اور رطوبت کی نکاسی بہتر ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے عمر بڑھنے کے ساتھ کان کے انفیکشن کا خطرہ عموماً کم ہو جاتا ہے۔

💥 بچے کو بوتل کیسے پلائیں؟
✅ بچے کو نیم سیدھی حالت میں گود میں رکھ کر بوتل پلائیں۔
❌ بچے کو بالکل لٹا کر بوتل نہ دیں۔
❌ بوتل منہ میں لگا کر بچے کو اکیلا نہ چھوڑیں۔
❌ بچے کو بوتل منہ میں لگا کر سونے نہ دیں۔
❌ بوتل کے نیپل کا سوراخ خود سے بڑا نہ کریں، کیونکہ دودھ بہت تیزی سے آنے کی صورت میں بچے کو دودھ نگلنے اور سانس لینے میں دشواری ہو سکتی ہے۔

✅ اگر نیپل خراب، پھٹ جائے یا پرانا ہو جائے تو اسے تبدیل کریں اور کمپنی کی ہدایات پر عمل کریں۔

💥 آخر میں ایک اہم بات
بوتل خود کان کا انفیکشن نہیں کرتی، لیکن بچے کو خاص طور پر بالکل لٹا کر بوتل سے دودھ پلانے سے کان کے انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
اس لیے اگر بوتل سے دودھ پلانا ضروری ہو تو بچے کو نیم سیدھی حالت میں، مناسب سہارا دے کر دودھ پلائیں۔
چھوٹی سی احتیاط، بچے میں کان کے انفیکشن کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر سجاد طفیل (ایم بی بی ایس، آر ایم پی، ایف ایم ڈی سی، ڈی سی ایچ)
چائلڈ سپیشلسٹ اینڈ فیملی فزیشن
راولپنڈی ٹیچنگ ہسپتال راولپنڈی
طفیل میڈیکل سنٹر نیا محلہ نزر انتے پارا ھوٹل لیاقت روڈ راولپنڈی

19/08/2026
19/08/2026

Child with steroid sensitive nephrotic syndrome , presented with relapse , how to treat relapse?

For a child with steroid-sensitive nephrotic syndrome (SSNS) presenting with a relapse, the standard treatment is oral prednisolone/prednisone.

1. Confirm relapse

Relapse is usually defined as 3+ or 4+ proteinuria on urine dipstick for 3 consecutive days after having achieved remission.

Assess:

* BP, weight, edema, hydration
* Urine protein/creatinine ratio if needed
* Serum albumin, urea/creatinine, electrolytes if clinically indicated
* Look for infection, especially fever, abdominal pain, cellulitis, respiratory infection
* Ask about steroid adherence.

2. Prednisolone treatment — uncomplicated relapse

Prednisolone 2 mg/kg/day OR 60 mg/m²/day PO once daily in the morning
Maximum 60 mg/day.

Continue the daily dose until complete remission for ≥3 consecutive days.

Then:

Prednisolone 1.5 mg/kg OR 40 mg/m² PO on alternate days
Maximum 40 mg/dose, for 4 weeks.

No further taper is generally required after this 4-week alternate-day course.

Example

For a 20-kg child:

* Relapse: 40 mg prednisolone once daily
* Once urine protein is negative/trace for ≥3 days:
* 30 mg alternate days × 4 weeks

For a 30-kg child:

* Relapse: 60 mg once daily (maximum)
* After remission: 40 mg alternate days × 4 weeks.

3. When it is NOT simply an ordinary relapse

If the child has:

* Frequent relapses — ≥2 relapses within 6 months or ≥4 within 12 months
* Steroid dependence — relapse while receiving steroids or within ~14 days of stopping
* Significant steroid toxicity
* Relapse despite appropriate steroid therapy
* Features suggesting steroid-resistant disease

→ involve pediatric nephrology and consider a steroid-sparing agent such as levamisole, mycophenolate mofetil, tacrolimus/cyclosporine, cyclophosphamide or rituximab depending on the clinical situation.

4. Important supportive management

Do not routinely give albumin + furosemide just because the child has edema.

Use:

* Salt restriction if significant edema
* Normal age-appropriate fluid intake unless severe edema/hyponatremia
* Daily weight and urine protein monitoring
* Treat infections promptly
* Vaccination review
* Assess for thrombosis if severe edema/hypoalbuminemia or suggestive symptoms.

Urgent admission if severe edema/ascites with respiratory compromise, hypovolemia/shock, serious infection/sepsis, thrombosis, severe hypertension, AKI, or significant electrolyte disturbance.

Key regimen to remember:
Relapse → Prednisolone 2 mg/kg/day (max 60 mg) → remission ≥3 days → 1.5 mg/kg alternate days (max 40 mg) × 4 weeks.

If you give me the child’s weight, age, current urine protein, albumin, creatinine, degree of edema, and previous steroid regimen, I can calculate the exact dose and outline the ER/inpatient management including edema, albumin, diuretics, infection and thrombosis precautions.

19/08/2026

اگر آپکے گھر میں چھوٹے بچے ہیں تو اپنے گھر سے متعلق ان ہدایات پر عمل کریں:

تمام والدین کو آگاھ کریں۔یہ صدقہ جاریہ ہے ۔جزاك الله

1۔مٹی کا تیل ,واشروم کلینر , فصلوں کے سپرے ،کیمیکلز کو کھانے پینے ,پرانی کولڈ ڈرنکس کی بوتلوں یا برتنوں میں نہ رکھیں۔ کیوں کہ بچے کھانے والے برتن يا بوتل میں رکھی چیز کو چکھ کر دیکھتے ہیں۔
2۔تیز دھار آلات جیسے چھری، چاقو اور دیگر آلات جیسے پیچ کس بچے کی پہنچ سے دور رکھیں۔ ان سے کام کرتے وقت نظر رکھیں کہ بچہ محفوظ رہے۔
3۔کچن میں چائے ,ہانڈی سوپ بناتے ہوئے یا پانی گرم کرتے وقت دھیان رکھیں کہ چھوٹا بچہ چولہے کے قریب نہ آئے۔بچہ جل سکتا ہے۔
4۔ایسی مشینری جسکو تار لگی ہو، اُسکی تار نیچے نہ لٹکنے دیجیۓ۔ کیوں کہ بچے تار کھینچ کر مشین کو خود پر گرا سکتے ہیں۔
5۔بالٹی یا کسی بھی بڑے برتن میں پانی صرف اُس وقت ڈالیں جب ضرورت ہو۔ بالٹی پانی سے بھری ہو تو بچے پر نظر رکھیں کہ اسکے قریب نہ جائے۔ بچے بالٹی یا ٹب میں بھی ڈوب جاتے ہیں
6۔تمام ادویات، شیمپو، ماؤتھ واش بچوں کی پہنچ سے دور،کسی ایسی الماری میں رکھیں جسکو تالا لگایا جا سکتا ہو۔
7۔گھر میں مچھر کی گول coil ہرگز نہ جلائیں۔ اس کے شعلے سے آگ لگنے خطرہ ہوتا ہے۔لیکوڈ استعمال کریں
8۔کتابوں کی الماری اور ٹیلی ویژن کو پیچھے سے دیوار کے ساتھ جوڑ کر رکھیں۔ بچے ان پر اپنا وزن ڈال کر انکو اپنے اوپر گرا سکتے ہیں۔
9۔جب بچے زمین پر رینگنا یا چلنا شروع کر دیں تو سیڑھیوں پر گیٹ لگا کر بند کریں۔ایسے بچے جو چل سکتے ہیں وہ ہر وقت کسی بڑے کی نگاہ میں ہونے چاہئیے۔
10۔بچے کو اٹھا کر سیڑھیاں اترتے وقت اپنا ایک ہاتھ ریلنگ پرضرور رکھیں ۔
11۔اگر آپکے گھر میں پالتو جانور ہے تو بچے کو اس کے پاس اکیلا مت چھوڑیں۔بچے کو نقصان پہنچا سکتا ہے
12۔گھر میں بڑے شاپنگ بیگ نہ رکھیے۔ یا بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔بچے سر پر لپیٹ کر پھنس جاتے ہیں اور یہ دم گھٹنے کاباعث بن سکتا ہے
13۔ بچوں کو 4 سال تک مونگ پھلی يا اس جیسی دانے دار کھانے والی چیزیں ہرگز نہ دیں۔یہ سانس کی نالی میں جانے کا خطرہ ہے۔
14۔ ربڑ کا غبارا اگر پھٹ جائے تو بچے کو اس سے کھیلنے نہ دیجئے۔ یہ ربڑ بچے کے سانس کے عمل کو خراب کر سکتی ہے۔ اسی طرح ایسے کھلونے جو انتہائی چھوٹے ہوں یا جن میں چھوٹے سیل ہوں، بچوں کھیلنے کے لیے خرید کر نہ دیں۔

15۔گھر میں کام کرنے والے ملازم اور ملازمہ پر نظر رکھیں۔وہ بچے پر تشدد کر سکتے ہیں۔ خاص کر اس عمر میں کہ جب بچہ آپکو بول کر خود سے بتا نہیں سکتا۔

16۔ بجلی کے تمام پلگ یا سوٸچ جو بچے کی پہنچ میں ہوں، انکو موٹی ٹیپ کے ساتھ بند کر دیں یا کور کریں۔ تاکہ بچہ اس میں انگلی ڈال کر کرنٹ نہ لگوا لے۔
17-کار کی چابی سنبھال کر رکھیں۔بچے کار میں بیٹھ کر خود کو بند کر لیتے ہیں اور پھر دم گھٹنے یا گرمی سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یاد رکھیے، آپکے چھوٹے بچے ہر وقت آپکی نظروں کے سامنے ہونے چاہیے ۔

ڈاکٹر سجاد طفیل (ایم بی بی ایس، آر ایم پی، ایف ایم ڈی سی، ڈی سی ایچ)
چائلڈ سپیشلسٹ اینڈ فیملی فزیشن
راولپنڈی ٹیچنگ ہسپتال راولپنڈی
طفیل میڈیکل سنٹر نیا محلہ نزر انتے پارا ھوٹل لیاقت روڈ راولپنڈی

18/08/2026

بچے کو دودھ پلانے والی ماں اکثر یہ سوال کرتی ہے:
“میں کیا کھاؤں کہ میرا دودھ زیادہ بھی بنے اور بچے کے لیے بھی بہترین ہو؟”
حقیقت یہ ہے کہ دودھ پلانے والی ماں کو کسی خاص مہنگی غذا، خاص مشروب یا مخصوص نسخے کی ضرورت نہیں۔ اصل ضرورت متوازن اور متنوع غذا کی ہے۔
ماں کی خوراک میں دالیں، گوشت، انڈے، دودھ یا دہی، سبزیاں، پھل، اناج اور مناسب مقدار میں صحت مند چکنائی شامل ہونی چاہیے۔ مختلف غذائیں کھانے سے ماں کو اپنی صحت برقرار رکھنے کے لیے ضروری غذائی اجزاء ملتے ہیں۔
پانی بھی مناسب مقدار میں پئیں۔ پیاس لگنے پر پانی پینا کافی ہے؛ زبردستی بہت زیادہ پانی پینے سے دودھ غیر معمولی طور پر زیادہ بننے کا ثبوت نہیں ملتا۔
ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ عام طور پر دودھ پلانے والی ماں کو ہر قسم کی غذا سے بلاوجہ پرہیز کرنے کی ضرورت نہیں۔
کچھ لوگ کہتے ہیں:
“یہ چیز کھاؤ گی تو دودھ خراب ہو جائے گا، وہ چیز کھاؤ گی تو بچے کو گیس ہو جائے گی۔”
ایسی بہت سی باتوں کی سائنسی بنیاد نہیں ہوتی۔ اگر کسی خاص غذا کے بعد ہر مرتبہ بچے میں واضح مسئلہ نظر آئے تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں، لیکن خود سے بہت سی غذائیں بند کر دینا مناسب نہیں۔
دودھ پلانے والی ماں کو اپنی مرضی سے سخت ڈائٹ یا وزن کم کرنے والی غذا شروع نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ اس دوران ماں کو بھی مناسب توانائی اور غذائیت کی ضرورت ہوتی ہے۔
اسی طرح سگریٹ اور دوسری تمباکو کی مصنوعات سے مکمل پرہیز ضروری ہے، جبکہ چائے اور کافی جیسی کیفین والی چیزیں بھی بہت زیادہ مقدار میں استعمال نہیں کرنی چاہئیں۔
اور سب سے اہم بات:
ماں کا دودھ بچے کے لیے بہترین غذا ہے، لیکن ماں کو بھی اپنی صحت کے لیے اچھی غذا کی ضرورت ہے۔
والدین کے لیے آسان اصول:
مختلف قسم کی غذائیں کھائیں۔
پھل اور سبزیاں روزانہ استعمال کریں۔
گوشت، انڈہ، دالیں اور دوسری پروٹین والی غذائیں شامل کریں۔
مناسب مقدار میں پانی پئیں۔
بلاوجہ غذاؤں سے پرہیز نہ کریں۔
یاد رکھیں:
دودھ پلانے والی ماں کے لیے کوئی ایک جادوئی غذا نہیں؛ متوازن غذا، مناسب آرام اور اپنی صحت کا خیال سب سے اہم ہے۔
بچوں کی صحت اور بیماریوں سے متعلق مستند معلومات کے لیے پیج فالو کریں۔
ڈاکٹر سعید ستوریانی

ڈاکٹر سجاد طفیل (ایم بی بی ایس، آر ایم پی، ایف ایم ڈی سی، ڈی سی ایچ)
چائلڈ سپیشلسٹ اینڈ فیملی فزیشن
راولپنڈی ٹیچنگ ہسپتال راولپنڈی
طفیل میڈیکل سنٹر نیا محلہ نزر انتے پارا ھوٹل لیاقت روڈ راولپنڈی

18/08/2026

اگر نوزائیدہ یا 6 ماہ سے کم عمر بچہ سوتے وقت یا جاگتے ہوئے بھی اپنی زبان مسلسل منہ سے باہر رکھتا ہے تو اسے صرف بچے کی عادت سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ خاص طور پر جب زبان تقریباً ہر وقت باہر نظر آئے، تو سب سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کہیں زبان کا سائز معمول سے بڑا تو نہیں۔
ایسی حالت کو Macroglossia کہا جاتا ہے، یعنی زبان کا غیر معمولی طور پر بڑا یا موٹا ہونا۔ بعض بچوں میں یہ ایک نسبتاً بے ضرر یا isolated حالت بھی ہو سکتی ہے، جسے Benign/Idiopathic Macroglossia کہا جاتا ہے، لیکن بعض اوقات یہ کسی پیدائشی یا ہارمونل بیماری کی اہم علامت بھی ہو سکتی ہے۔
مثلاً Down syndrome میں زبان نسبتاً بڑی اور منہ سے باہر نظر آ سکتی ہے۔ اسی طرح Congenital Hypothyroidism میں بھی زبان بڑی اور موٹی ہو سکتی ہے، اور اس کے ساتھ بچے میں سستی، کم دودھ پینا، قبض، طویل یرقان، کمزور رونا یا نشوونما میں تاخیر جیسی علامات موجود ہو سکتی ہیں۔
اسی طرح Beckwith-Wiedemann syndrome میں macroglossia ایک اہم clinical feature ہے۔ بعض بچوں میں mucopolysaccharidoses اور دیگر مخصوص genetic/metabolic disorders میں بھی زبان بڑی ہو سکتی ہے۔ اس لیے ایک چھوٹے بچے میں مسلسل باہر نکلی ہوئی یا غیر معمولی طور پر موٹی زبان کو مکمل clinical assessment کے بغیر صرف "عادت" قرار دینا مناسب نہیں۔
کچھ بچوں میں زبان واقعی بڑی نہیں ہوتی بلکہ oral muscle tone کم ہونے یا منہ اور زبان کے پٹھوں کے کنٹرول میں مسئلے کی وجہ سے زبان آگے کی طرف رہ سکتی ہے۔ اس لیے صرف تصویر دیکھ کر diagnosis نہیں کیا جا سکتا؛ بچے کا مکمل معائنہ ضروری ہے۔
دوسری طرف، بڑے بچوں میں ناک بند رہنے، Adenoids یا Tonsils کے بڑھنے، الرجی یا دوسری وجوہات سے منہ کھول کر سونا عام ہو سکتا ہے۔ لیکن یہاں بنیادی مسئلہ عموماً mouth breathing ہوتا ہے، ضروری نہیں کہ زبان بھی مسلسل باہر نکلی ہوئی ہو۔ اگر بچہ زور سے خراٹے لیتا ہے یا نیند میں سانس رکنے جیسی کیفیت ہوتی ہے تو sleep-disordered breathing کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔
والدین کے لیے اہم بات
اگر نوزائیدہ یا چھ ماہ سے کم عمر بچے کی زبان تقریباً ہمیشہ باہر رہتی ہے، غیر معمولی طور پر موٹی یا بڑی محسوس ہوتی ہے، منہ مکمل بند نہیں ہوتا، دودھ پینے میں دشواری ہے، سانس لینے میں مسئلہ ہے یا زبان کی وجہ سے بچے کو نگلنے میں مشکل ہوتی ہے تو بچے کو Pediatrician سے ضرور چیک کروائیں۔
ہر باہر نکلی ہوئی زبان بیماری نہیں ہوتی، لیکن چھوٹے بچے میں مسلسل باہر رہنے والی یا بڑی زبان ایک اہم clinical clue ضرور ہو سکتی ہے۔ اصل وجہ تلاش کرنا ہی سب سے اہم قدم ہے۔

اگر یہ معلومات آپ کو مفید لگی ہوں تو دوستوں کے ساتھ ضرور شئیر کریں اور بچوں کی صحت اور بیماریوں سے متعلق مستند معلومات کے لیے پیج فالو کریں۔

ڈاکٹر سجاد طفیل (ایم بی بی ایس، آر ایم پی، ایف ایم ڈی سی، ڈی سی ایچ)
چائلڈ سپیشلسٹ اینڈ فیملی فزیشن
راولپنڈی ٹیچنگ ہسپتال راولپنڈی
طفیل میڈیکل سنٹر نیا محلہ نزر انتے پارا ھوٹل لیاقت روڈ راولپنڈی

Want your school to be the top-listed School/college in Sheikhupura?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Tufail Medical Center Naya Mahala Opposite Anty Para Hotel Liquat Road
Sheikhupura
39650