07/10/2020
Kâizen Academy
Your Child's future is in Safe hands
07/10/2020
15/07/2019
لاریٹس سکول کے حارث کیمپس کا واقعہ
بیچاری 18 سالہ عاصمہ چھوٹے بہن بھائیوں کی سکول اور ٹیوشن کی فیس اور گھر کے بجلی کے بل کی ذمہ داری لئیے اپنے باپ کا واحد سہارا بن کر اس ظالم سماج میں کمانے نکلی تھی. اور فقط سات ہزار ماہانہ تنخواہ کے عوض بیچاری نے زندگی ہی قربان کر دی. اسے کیا پتہ تھا جو معاشرہ جہالت کی بنیادوں پر کھڑا ہو وہاں قوم کے معماروں کو بھی لوگ جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں.
ظالمو یہ عزت دی تم نے ایک قوم کی معمار کو؟ قوم کی معمار بعد میں وہ تو ایک لڑکی تھی ناں؟ تمہارا مذہب تو عورتوں کی عزت کا علمبردار ہے. مگر اتنے لوگوں کے سامنے ایک معصوم نہتی لڑکی پر لفظوں کے اس قدر وار کر دینا کہ چنگیز خان کی تلواریں بھی انسانیت کو وہ زخم نہ دے سکیں جو تمہارے زہر آلود الفاظ نے ظلم کا سینہ چاق کر کے رکھ دیا.
اس سے بڑا ظلم یہ کہ تمہارے لفظوں کے وار سہتی سہتی خون سے لت پت نہتی لڑکی جب زندگی اور موت کی کشمکش میں تھی اور تم صرف اس لئیے ایمبولینس بلوانے سے انکاری ہو گئے کہ تمہارا سکول بدنام ہو جائے گا؟ ہائے ہائے کہاں مر گئی انسانیت؟ کہاں گئے وہ عورتوں کی عزت کے علمبردار؟ کہاں گئے وہ تمہارے سب دعوے؟ کوئی پرندہ بھی کہیں مر رہا ہو تو جس دل میں خدا بستا ہو اس میں انسانیت جاگ ہی جاتی ہے. تو کیا خدا کو بھی بھول گئے تھے تم؟
جاہلو تم نے اگر تعلیم سے نفرت اور جہالت کو ہی اپنی میراث بنانا ہے تو اس میں اساتذہ کا کیا قصور ہے؟ تم جاؤ تمہیں تمہاری جہالت مبارک. مگر تمہیں خدا کا واسطہ اپنے حال پر ترس کھاؤ. کیا تم جہالت کے خاتمے کے خوف سے اب اساتذہ کا قتل کر کر کے انھیں معاشرے سے ہی ختم کر دو گے؟ آج تو یہ بھی ثابت ہو گیا کہ اقتدار اور دولت کے نشے میں چور انسان ناں صرف اپنی موت سے غافل ہو جاتا ہے بلکہ پوری انسانیت کے لئیے زہر قاتل بن جاتا ہے.
کیا اس معاشرے میں کوئی خدا ترس، کوئی مسلمان، کوئی غیرت مند اور کوئی انسان ایسا ہے جو میرے ساتھ میری اس بہن کو انصاف دلوانے کی خاطر آواز بلند کر سکے؟
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Website
Address
Sheikhupura