School of Management

School of Management

Share

School for creativity, innovation & export management or leadership training. Contact us for personal grooming & excel in life.

@The_Trainings

22/02/2018

Kids are creative & scientists.
By encouraging them you increase & strengthen their capacity.

16/02/2018

کیا آپ نیا بزنس شروع کرنا چاہتے ہیں یا اپنے چلتے بزنس کو مزید بڑھانا چاہتے ہیں
کیا آپ ذاتی تعمیر کے حوالے سے جاننا چاہتے ہیں یا اپنے وقت کا موثر استعمال کرنا چاہتے ہیں
تو آئیے ڈاکٹر مظہر جمیل صاحب سے ان تمام موضوعات پر لائیو لیکچر سنیئے
پیشکش: سکول آف لیڈر شپ اینڈ مینجمنٹ

https://www.facebook.com/TheTrainings/

13/02/2018

کیا آپ اپنے بچوں سے متعلق فکر مند ہیں ؟
کیا آپ کے بچےبازاری تیز مصالحے دار چٹ پٹی اشیاء کھانے کے عادی ہو چکے ہیں اور گھر کی بنی اشیاء نہیں کھاتے ؟

آئیے !اپنے بچوں کے اسی طرح کے مسائل کا حل جانیے، آج کے لائیو سیشن۔
13 فروری شام 6:30 بجے

06/02/2018

Can Teachers become Agents of Change?
2nd National seminar on Educational_Change
17 feb 2018
Institute of Education
Main feroz pur Road Lahore
9AM to 5PM

05/02/2018

‏‎ ‎

حقیقت یہ ہے کہ
کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے
محض ایک دن جذبات کا اظہار مسئلہ کشمیر کا حل نہیں ہے

29/01/2018

جنسی تعلیم یا فحاشی کا فروغ
تحریر :محمد فہیم شاکر
شیخوپورہ 19جنوری 2018ء
نئے سال کی آمد پر قصور میں زینب نامی ایک معصوم گڑیا کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں قتل کرکے لاش کو کچرے میں پھینک دیا گیا یہ سراسر انسانیت کی توہین تھی چاہئے تو یہ تھا کہ مجرم کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جاتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا بلکہ اس پہ مستزاد یہ کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں جنسی تعلیم کے فروغ کا شور اٹھایا گیا اور یہ تاثر دیا گیا کہ اگر پاکستانی تعلیمی اداروں میں جنسی تعلیم نہ دی گئی تو ایسے واقعات ہوتے رہیں گے
قصور سمیت ملک بھر میں ہونے والے واقعات کے بغور جائزہ لیں تو نظر آتا ہے کہ یہ سارے اغواء، زیادتی اور قتل کے کیسز ہیں یعنی فوجداری واقعات ہیں ان کی روک تھام پولیس اور انتظامیہ کے ذمے ہیں لیکن تکلیف دہ بات تو یہ ہے کہ ان کو ٹھیک کرنے کی بجائے کمال ہوشیاری سے ان کی ذمہ داری والدین اور تعلیمی اداروں پر ڈالی جا رہی ہے ان سارے واقعات کا سیکس ایجوکیشن سے دور کا بھی تعلق نہیں لیکن مغربی فنڈنگ پر چلنے والی این جی اوز ان سب کی آڑ میں اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے پر تلی ہوئی ہیں
ذیل میں ہم انہی باتوں کا جائزہ لیں گے کہ جنسی تعلیم سے کیا مراد لی جا رہی ہے اور پاکستان میں اس کے فروغ کے لئے کیوں اتنی کوششیں کی جا رہی ہیں اور اسلام اس حوالے سے کیا راہنمائی کرتا ہے ؟
یہاں پر یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ بچوں کو جنسی تعلیم دینا بذات خود معاشرے میں بگاڑ کا سبب بن سکتی ہے اس سے کسی بگاڑ کا خاتمہ نہیں ہو سکتا
وہ سارا کچھ جو بچے ٹیلی ویژن پر دیکھتے ہیں اسے سکول جا کر دہراتے ہیں جس سے دیگر بچے متاثر ہو کر وہی کام کرنا شروع کر دیتے ہیں کیا ہم نہیں جانتے کہ تعلیمی اداروں میں آئے روز مینہ بازار کا انعقاد ہوتا ہے ثقافتی شوز کے نام پر بچیوں کے ڈانس کرواجا رہے ہیں یہ سب عریانی کے اسباق ہی تو ہیں اسی لئے اوریا مقبول جان نے کہا تھا کہ بچوں میں جنسی تعلیم بے حیائی کے فروغ کا سبب بن سکتی ہے 31دسمبر2013کو اپنے ایک بیان میں آندھرا پردیش ہائی کورٹ کے جج جسٹس ایل نرسمہا ریڈی نے کہا کہ ہائی سکولز میں جنسی تعلیم دینے سے بچوں کے ذہنوں میں خرابی ہو رہی ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ مشترکہ خاندان سسٹم ختم ہونے سے بچوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو گیا ہے
جبکہ اسلام ہرگز ایسا معاشرہ نہیں چاہتا جہاں انسانوں کی خواہشات کو بے لگام چھوڑ دیا گیا ہو بلکہ اسلام دین فطرت ہونے کے ناطے انسانوں کی فطری ضروریات کا خیال رکھتا ہے اور انہیں جائز طریقے سے پورا کرنے کا مکمل سامان اور راہنمائی فراہم کرتا ہے تاکہ معاشرے بے لگام گھوڑے پر سوار ہوکر اپنا اخلاقی وجود نہ کھو بیٹھے لیکن جیسے جیسے ہمارے معاشرے نے اسلام سے دوری اختیاری کرکے اہل مغرب کی اندھی تقلید شروع کی تو اپنی بنیاد بھی بھول بیٹھے اور روز بروز زوال کا شکار ہوئے اور ہمارے مقامی نام نہاد دانشوروں نے اس زوال کو مزید گہرا کرنے میں اپنا کردار خوب نبھایا ہے
اگر غور سے دیکھا جائے تو اہلِ مغرب کسی بھی چیز کو پردے میں رکھنے کے قائل نہیں شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں مختصر لباس استعمال کیا جاتا ہے لیکن حیرت ہوتی ہے پاکستان کے نام نہاد دانشوروں پر جو کہتے ہیں کہ کم کپڑے پہننا فحاشی نہیں بلکہ کم کپڑے پہننے والوں کی زندگی میں مداخلت کرنا فحاشی ہے ایسا کہنا ہے فرنود عالم کا، اب جبکہ ان کی سوچوں کا معیار ہی ایسا ہے تو ان سے بحث بیل کے آگے بین بجانے والی بات ہے ۔
پاکستان میں بچوں کو جنسی تعلیم دینے پر زور وہ لوگ دے رہے ہیں جو خود بچوں کی نازیبا ویڈیوز مہنگے داموں خریدتے ہیں
چلتے چلتے یورپ کا حال سنتے چلئیے سابق برطانوی فٹبال کوچ بیری بیٹیل پر بچوں سے زیادتی کے 48مقدمات درج ہیں اور اس پر اسے عدالتی کاروائی کا سامنا کرنا پڑا اسی طرح سابق فرنچ انٹرنیشنل فٹ بالرستیو میرلیٹ کو کم عمر لڑکے پر جنسی حملے کے الزام میں شامل تفتیش کیا گیا
برطانیہ جہاں تعلیمی اداروں میں سیکس ایجوکیشن دی جاتی ہے اسی ملک کے معتبر ترین نشریاتی ادارے کے نمائندے جمی سوائل کے مرنے کے بعد معلوم ہوا کہ مرنے والے نے اپنے کیرئیر کے دوران 450لوگوں بشمول بچوں سے جنسی زیادی کی
اسی طرح بی بی سی اردو کی 19اپریل 2017ءکی رپورٹ میں بتایا کہ یورپ اور جنوبی امریکہ کے حکام نے سوشل سائیٹ وٹس ایپ کے ذریعے بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی تصاویر کو تقسیم کرنے والے نیٹ ورک کے درجنوں افراد کو گرفتار کیا ہے ۔
بچوں کے جنسی استحصال کی تصاویر اور ویڈیوز کو انٹرنیٹ پر ڈالنے کے معاملے میں یورپ گلوبل ہب بن رہا ہے ۔
اسی طرح بی بی سی اردو کی 3اپریل 2017ءکی رپورٹ کے مطابق انٹرنیشنل واچ فاونڈیشن نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا کہ دنیا بھر میں غلط استعمال والے مواد کا 60فیصد اب یورپ میں پایا جاتا ہے جو کہ پہلے کے مقابلے میں 19فیصد زیادہ ہے اور یورپی ممالک میں غیر قانونی مواد ڈالنے کے معاملے میں نیدر لینڈ سرفہرست ہے
تکلیف دہ بات یہ ہے کہ پاکستانی تعلیمی اداروں میں جنسی تعلیم کے فروغ کا شور بھی یہی یورپ اٹھا رہا ہے جس سے ان کے مقاصد کی صاف سمجھ آرہی ہے لہذا پاکستانی قوم خبردار رہے کہ اہل یورپ ہر گز پاکستانی قوم اور معاشرے کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے
مذکورہ بالا مثالیں ان مغربی ممالک سے لی گئی ہیں جہاں سیکس ایجوکیشن نصاب کا حصہ ہے لیکن ہزاروں لاکھوں واقعات میں سے چند ایک کا ذکر کرکے یہ بتانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ خود ان ممالک میں بھی بچوں سے زیادتی کے واقعات رکے نہیں اس کے باوجود اس نصاب کو پاکستانی تعلیمی اداروں میں رائج کرنے کا مقصد بچوں کو قبل از وقت بالغ بنانے ، ان کو جنسی بے راہ روی کی طرف لے جانے اور معاشرے میں انارکی پھیلانے کے علاوہ کچھ نہیں ۔
پاکستان میں موجود این جی اوز اور ان کے ہرکارے چند ایسے فرضی سوالات کی مدد سے عوام کو دھوکہ دیتے ہیں جن سے انہیں پاکستان میں جنسی تعلیم کے فروغ کی حمایت دستیاب ہوتی ہے انہی سوالات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اگر بچے آپ سے پوچھیں کہ ” بچے کہاں سے آتے ہیں “؟ تو آپ ان کو میاں بیوی کے تعلقات اور اس کے بعد کاسارا پروسیجر مکمل تفصیل سے بتا سکتے ہیں اسی طرح بچہ اگر پوچھے کہ سپرم اور انڈہ اکٹھے کیسے ہوتے ہیں تو انہیں مکمل تفصیل فراہم کی جائے
کوئی ان سے پوچھے کہ ایک بچہ یہ ہی کیوں پوچھے گا کہ بچے کہاں سے آتے ہیں ؟ اور اسے کیا خبر کہ سپرم اور انڈہ کیا ہوتے ہیں ؟اور اگر وہ پوچھ ہی لے تو اسے چھوٹی عمر میں میاں بیوی کے تعلقات سمجھانے کی کیا ضرورت ہے بھلا ؟وقت سے پہلے بچوں کو بالغ کرنا کہاں کی دانشمندی ہے
اسی طرح غیر ملکی فنڈنگ پر چلنے والی این جی اوز جس جنسی تعلیم کا پرچار کرتی ہیں اس کا ایک پوائنٹ یہ بھی ہے کہ بچون کو بتایا جائے کہ سیکس صرف خود لذت حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنے ساتھی کو لذت دینا بھی ہے اب آپ ہی بتائیے یہ بد اخلاقی سے بچانے کی تعلیم ہے یا فحاشی کی
اب آئیے اہل مغرب کے ہاں رائج جنسی تعلیم کے سلیبس پر ایک نظر ڈالتے ہیں
انٹرنیٹ سے پوچھا گیا تو وکی پیڈیا نے سیکس ایجوکیشن کی تعریف کچھ یوں کی
S*xeducation is instruction on issues relating to human sexuality
یہاں پر آگاہی کی بجائے ہدایات کا لفظ استعمال ہوا ہے یعنی اس کا مطلب یوں ہوا کہ طلبہ کو بے راہ روی ک ہدایات دینا جنسی تعلیم ہے اس کے دیگر اجزاءیا مکمل پروگرام میں جو چیزیں شامل ہیں وہ یہ ہیں

Humansexual anatomy
S*xual reproduction
S*xual activity
Age of consent
Reproductive health
Reproductive rights
Safe S*x
Birth control
S*xual abstinence

ان موضوعات کو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ ان کا بچوں کے اغواءزیادتی اور قتل جیسے قبیح واقعات روکنےسے کوئی تعلق نہیں تو پھر سیکس ایجوکیشن کے لئے اتنا واویلا کیوں؟اس سارے سلیبس میں تو جنسی عمل قائم کرنا ، خود لذتی، دوسرے کو لذت دینا، اس سارے عمل میں بیماریوں سے بچنا اور محفوظ جنسی ملاپ کے طریقے بیان کئے گئے ہیں اور ان کی تربیت دی گئی ہے ۔
پاکستانی تعلیمی اداروں میں جنسی تعلیم کے لئے تڑپنے والی این جی اوز سے سوال کیا جانا چاہئیے کہ یہ سب کیا ہے اور بچوں کو اس سب تربیت کا فرہم کیا جانا کیوں ضروری ہے؟ اور کیا یہ سب فطری ہے ؟ ہر گز فطری نہیں یاد رکھئیے اہل مغرب اور سیکس ایجوکیشن کے لیے تڑپنے والے دراصل فطرت کی نادیدہ قوتوں سے برسر پیکار ہیں اور آپ کو تو معلوم ہی ہوگا کہ فطرت سے برسر پیکار ہونے کا مطلب اپنی موت کو دعوت دینا ہے یہی وجہ ہے یورپ اور امریکہ صرف ا سی وجہ سے اپنا خاندانی نظام تباہ کر چکے ہیں اور اب انڈیا کا سماج دہائی دے رہا ہے کہ ہائی سکولز میںجنسی تعلیم کے نتائج کے طور پر بچے خاندان سے دور ہو رہے ہیں
اگر آپ زرا غور کریں تو معلوم ہوگا کہ پاکستان اس وقت جنسی ادویات کے سمگلروں کے لئے ایک بڑی مارکیٹ بن چکا ہے اور 2015/16کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں اندازاََ 8بلین امریکی ڈالر کی جعلی ادویات فروخت ہو رہی ہیں کہیں ایسا تو نہیں کہ امریکہ اور اس جیسے ممالک پاکستان میں اپنی انہی ادویات کی فروخت بڑھانے کے لئے جنسی تعلیم پر زور دے رہے ہیں تاکہ جہاں ایک طرف خاندان تباہ ہوں وہیں دوسری طرف ان کی ادویات کی خوب فروخت بڑھے کیونکہ وطن عزیز میں جنسی ادویات کا ستعمال نوجوا ن نسل میں ایک نشے کی طرح سرایت کر چکا ہے اور اسے بیچنے والے اپنے مفاد کی خاطر کبھی بھی ان کے مضر صحت ہونے کا نہیں بتائیں گے ۔
جنسی خواہش ایک فطری اور پاکیزہ جذبہ ہے جنس کے خالق نے جنسی معاملات میں جو راہنمائی کی ہے وہ نہ صرف کافی ہے بلکہ فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے اور اس راہنمائی کی مُروجہ علوم کے پس منظر میں مزید تشریح کی جا سکتی ہے اور کی جانی بھی چاہئیے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اکثر مسلم ماہرین جنسیات بھی قرآن و حدیث کی ان تعلیمات کو یکسر نظر انداز کرکے مغربی ماہرین جنسیات کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں ایک مسلم اکثریتی معاشرے میں قرآن و حدیث سے ہٹ کر جنسی تعلیم دینے سے جنسی انارکی، کنفیوژن اور فحاشی تو پھیل سکتی ہے لیکن شادی شدہ لوگوں کی آسودگی اور غیر شدہ لوگوں کی تربیت کا باعث نہیں بن سکتی جبکہ یہی تعلیم ایک غیر مسلم معاشرے میںغیر مسلموں کے لئے مفید قرار پاتی ہے پس اس بات کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ جنسی تعلیم کا جو نصاب ایک غیر مسلم معاشرے کے لیے سود مند ہے وہی نصاب مسلم معاشرے کے لیے بہت خطرناک ہے کیونکہ اہل مغرب کسی بھی چیز کو پردے میں رکھنے کے قائل نہیں جبکہ اسلام نے ہر چیز کو اس کی درست جگہ پر رکھا ہے کہ جہاں اسے ہونا چاہئیے تھا
جنس کے خالق نے جنسی ضروریات کے جائز طریقے اور ضابطے بھی فراہم کئے ہیں اور ان سے انحراف کی صورت میں سورہ نور کی شکل میں تنبیہہ بھی کی ہے
زرا دیکھئے تو اللہ نے کیا الفاظ استعمال کئے
کہ یہ احکام ہم نے نازل کئے ہیں اور ہم نے ہی فرض بھی کئے ہیں ،یعنی یہ سفارشات نہیں کہ جی چاہا تو مان لیا اور جی نہ مانا تو رد کر دیا بلکہ یہ فرض ہیں کہ خالق کے مقرر کردہ جنسی ضابطوں سے انحراف کی شکل میں یہ سزائیں دی جانی فرض ہیں اور آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے جب تک یہ سزائیں نافذ العمل رہیں تب تک اسلامی معاشرے امن و سکون کی مثالیں بنے رہے اور آج کے جدید تہذیبی معاشرے میں مغربی ممالک انہی سزاوںکو ختم کرنے کے در پے ہیں تاکہ مسلم معاشرے انارکی و انتشار کا شکار ہوجائیں
ایک مسلم معاشرے میں بچوں کو جنسی تعلیم اس قدر کھول کر نہیں دی جاتیں کہ وہ قبل از وقت بالغ ہونے کوپھرے
کہا جاتا ہے کہ اگر کسی بچے میں درج ذیل نشانیاں پائی جائیں تو ا س پر فری توجہ دی جانے کی ضرورت ہے
بچہ خاموش اور سہما ہوا دکھائی دے ، یا جسم میں درد کی شکایت کرے ،یا بڑوں سے ڈر رہا ہو،یا نظریں نیچی کرکے بات کرے،یا سکول سے چھٹی کے وقت سہم جاتاہو،یا اپنے والدین یا رشہ داروں کے ساتھ کمفرٹیبل محسوس نہ کرے۔
گذشتہ ادوار میں مسلم معاشروں کا سب سے بڑا آدمی اپنے فہم کی تشکیل محض تعقل پر نہیں کرتا تھا وہ اپنے فہم کی تشکیل میں الہامی ہدایت سے پورے طور پر فیض یاب ہوتا تھا اور اپنی عقل کو بھی بھرپور طریقے سے استعمال کرتا تھا اور یوں فہم نافع کی تشکیل کے بعد اپنی خواہشات کو اپنی فہم کے تابع رکھتا تھا
انسان کے اندر ایک نفس ہوتا ہے مسلم معاشروں کا المیہ ہے کہ انہوں نے نفس کو اس درجے پر موضوع نہیں بنایا جس درجے پر موضوع بنانا ان کی سب سے بڑی ضرورت تھی
نفس کے دو ڈومینز ہیں ایک ڈومین ہے طبیعت دوسرا ڈومین ہے شعور
طبیعت مزے اور لذت کے اصول پر آپریٹ کرتی ہے یعنی طبیعت خواہش کےساتھ آپریٹ کرتی ہے جبکہ شعور اچھے اور برے صحیح اور غلط نافع یا نقصان دہ کو پرکھتا ہے
جب طبیعت کے داعیات شعور پر غالب آجائیں تو اخلاق رذیلہ پیدا ہوتے ہیں لیکن جب شعور طبیعت کو اپنی تحویل میں لے تو اعلی اخلاق پیدا ہوتے ہیں
دین کی اصطلاح میں نفس کے غلبے سے مراد ہمارے اندر ہماری طبیعت کا غالب آجانا اور اپنی فطرت سے دور نکل جانا ہے
دین کے پیراڈائم میں تربیت کے بڑے مقاصد میں سے ایک بہت بڑا مقصد یہ ہے کہ تربیت کے نتیجے میں ایک ایسا انسان تیار ہوجائے جو اپنے نفس پر غالب رہے اس سے مغلوب نہ ہو لیکن اس کے لئے طبیعت کے داعیات اور نفس کی صورت اور شعوری کی تیاری سمجھنا بہت ضروری ہے اور نفسیات جسے ہم مغرب کے پیرا ڈائم میں ڈیفائن کر رہے ہیں اسے اپنے پیراڈائم مین ڈیفائن کرنا ہوگا
قصور واقعہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے ایسے واقعات بے شمار پہلے بھی ہو چکے ہیں قصور واقعہ کے نتیجے میں ایک بحث شروع ہوئی ہے جس کی نوعیت اچانک چھا جانے والی ہے اس کے پیچھے علمیت کی شدید کمی ہے جبکہ ضرورت اس بات کی ہے ہم رد عمل کی نفسیات کا شکار ہوئے بغیر اپنے پیراڈائم میں رہتے ہوئے علمیت کی بنیاد پر اس کا تجزیہ کریں اور حل تلاش کریں

Photos from School of Management's post 24/01/2018

ایڈمن سکول آف لیڈر شپ اینڈ مینجمنٹ
جناب محمد فہیم شاکر صاحب کا
سوشل میڈیا کے فوائد اور نقصانات
پر آرٹیکل، جسے پڑھنے سے آپ ففتھ جنریشن وار فیئر کے تصور اور تباہ کاریوں سے آگاہ ہو سکیں گے

23/01/2018

مالٹا کی سرزمین پر:
تحریر محمد فہیم شاکر
سرگودھا 22 جنوری 2018ء

(یہ مضمون والدین اپنے بچوں کو اور اساتذہ اپنے طلبہ کو ضرور پڑھنے کو دیں تاکہ اس مضمون میں بیان کی گئی معاشرتی برائیوں سے بچوں کو بچانے میں مدد دی جا سکے)

سال 2018 کے آغاز پر ہی اصغر صاحب نے مجھے سرگودھا آنے اور مالٹے کھانے کی دعوت دی
اندھا کیا چاہے دو آنکھیں
مجھے مالٹے سے اسی قدر انسیت ہے جس قدر آپ کو کسی اور پھل سے
میں نے فورا سے پیشتر دعوت قبول کرلی اور آج صبح سویرے ہی مالٹے کے دیس کی طرف سفر شروع کر دیا
سفر شروع کرنے سے پہلے ہی مجھے مالٹے کی خوشبو آنے لگی دراصل یہ وہ احساس تھا جو میرے من میں سما چکا تھا کہ میں سرگودھا جا رہا ہوں جہاں مالٹے کے باغات ہیں
کسی سیر پر جانے سے پہلے کبھی آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے ؟
کافی دیر کے انتظار کے بعد گاڑی جو آئی تو اسے یقین ہی نہیں آیا کہ مجھے سرگودھا جانا ہے یہی وجہ کے کہ وہ بریک لگاتے لگاتے بہت آگے نکل گیا وہ شاید سمجھا تھا کہ میرے جیسوں کو سرگودھا نہیں جانا چاہئیے جبکہ دوسری طرف میں نے بھی سرگودھا جانے کی قسم کھا رکھی تھی
رینگتے رینگتے بس موٹروے پہ دوڑ رہی تھی ہرے بھرے کھیت تھے جو پیچھے کی جانب دوڑ رہے تھے اور یوں لگ رہا تھا کہ بس اپنی جگہ پر ساکت ہے
ہرے بھرے کھیتوں کے وسط میں اگی سرسوں کمال کا نظارہ پیش کر رہی تھی
کھیتوں کے بیچوں بیچ لوگوں کے کچے گھر جو گھر کم اور گھروندے زیادہ لگ رہے تھے
ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈیاں تھیں آڑے ترچھے کچے راستے تھے جو یہاں سے وہاں بھاگ رہے تھے لیکن سب کے سب خالی تھے کاش ان کچے راستوں پر کوئی گدھا گاڑی بھی ہوتی جس پر چارہ لاد رکھا ہوتا اور ایک کسان اسے ہانک رہا ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا بچے پگڈنڈیوں پر اچھل کود رہے ہوتے تو کتنا اچھا ہوتا
گاؤں کی کسان عورتیں روایتی انداز میں ساگ سر پر رکھے گاؤں کو واپس جا رہی ہوتیں تو کتنا۔اچھا ہوتا
لیکن ایسا کچھ بھی نہ تھا
شاید کسان پی ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر سنڈی مارنے کے جدید طریقے دیکھ اور سیکھ رہا ہوگا بچے فیس بک اور واٹس ائپ پر غیر ملکی دوستوں سے گپ شپ میں مصروف ہؤں گے اور کسان عورتیں زبیدہ آپا کے ٹوٹکے آزما رہی ہوں گی یا وہ بھی انسٹا گرام پر مصروف ہؤں گی
پتہ نہیں میں سوچتے سوچتے اتنا دور کیوں نکل جاتا ہوں کہ واپس مشکل سے ہوتی ہے
کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے؟
اگر کسی دن میں سوچتا سوچتا پیدل ہی دور نکل گیا تو مجھے یقین ہے کہ واپسی کے لیے بشیر رکشے والا پورے چار سو روپے مانگے گا
گاؤں کے لوگوں بارے سوچ رہا تھا کہ گنے کے کھیت لہلاتے نظر آئے کیا خوب نفاست سے کھڑے تھے اور کیا خوب ترتیب سے اس کی کٹائی کی گئی تھی
لیکن پتہ نہیں کیوں حکومت۔گنے کے کاشتکاروں کے ساتھ ناجائز سلوک کیوں کر رہی ہے؟
یقینا پتھر کے دور کا انسان بھی جیومیٹری اور اینگلز سے آشنا ہوگا کیونکہ فصل تو وہ تب بھی کاٹتا تھا جب جدید ٹیکنالوجی نہیں تھی اور جس نفاست اور ترتیب سے انسان فصل کاٹتا ہے اسے دیکھ کر انسانی ذہن میں موجود اینگلز کی باخوبی سمجھ آجاتی ہے
یہ سب سوچ رہا تھا کہ اچانک مجھے پیشاب کی حاجت ہوئی جسے میں نے نظر انداز کر دیا میری معلومات کے مطابق سفر میں بچوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے لیکن آج جب میرے ساتھ ایسا ہوا تو یقین سا ہو گیا کہ یہ بے پرکی کسی نا ہنجار نے اڑائی ہوگی
میں نے کنڈیکٹر کو پاس بلا کر اس کے کان میں کہا کہ بھئی یہ مسئلہ ہے تو نے کوٹ سرور انٹر چینج پر سواری اتارنی ہے مجھے حاجت پوری کرنے کا موقع دینا
وہ کہنے لگا کاکا سوچنا بھی نا
اسے کیا پتہ میں کس تکلیف سے دوچار تھا ؟
خود کے ساتھ جب ان لوگوں کو مسئلہ ہوتو یہ جہاں جی میں آئے بس روک کر بیٹھ جاتے ہیں
کیا کسی سفر میں آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے ؟
بچوں کو سفر پر لے جانے سے پہلے فطری انسانی حاجات پوری کروا لیا کریں ورنہ یہی مسئلہ آپ کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے
میرے ساتھ بیٹھے بابا جی نے کوٹ سرور اترنا تھا ڈرائیور نے موٹروے کے عین اوپر بس روکی اور بابا کو وہیں اتار دیا
اتارنے سے پہلے پورے پانچ منٹ بابا جی کو دروازے پر کھڑا رکھا اور بس چلتی رہی
کبھی وقت ملے تو سوچئے گا ضرور کہ کس چیز کی جلدی ہوتی ہے ہمیں
بس روک کر بھی بابا جی کو سیٹ سے اٹھایا جا سکتا تھا لیکن انہیں پہلے ہی زحمت دے دی گئی اس سوچ نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا کہ خود کو تو تکلیف میں دیکھ نہیں سکتے لیکن دوسروں کو ضرور تکلیف دیتے ہیں
بس ڈرائیو اپنی ڈرائیونگ پر توجہ نہیں دے رہا تھا وہ کنٹریکٹر کو پاس بٹھا کر گھریلو مسائل کو شدومد سے ڈسکس کر رہا تھا اور بار بار توجہ ہٹا کر کنٹریکٹر کو اپنی بات کا یقین دلا رہا تھا
کیا آپ بھی ڈرائیونگ کرتے ہوئے ایسا کرتے ہیں ؟
اگر ایسا ہی کرتے ہیں تو اچھا نہیں کرتے
یاد رکھیئے زندگی ایک قیمتی اثاثہ ہے ڈرائیونگ کے دوران معمولی سی غلطی آپ کو اس قیمتی اثاثے سے محروم کر سکتی ہے
لیکن بس ڈرائیور کو ذرا سا بھی احساس نہ تھا کہ کتنی قیمتی زندگیاں اس کے رحم و کرم پر ہیں
اسی اثناء میں موٹروے پولیس نے اسے رکنے کا اشارہ دیا
ڈرائیو گھبرا کر بس کو روکنے کی پوزیشن میں لے آیا لیکن جیسے ہی پولیس کی گاڑی کو کراس کیا پھر سے بھاگنے لگا
کیا لطف ہے ایسی حرکتوں میں یہ تو ڈرائیو ہی بتا سکتا ہے
ہمیں مجموعی طور پر اپنے رویوں پر از سر نو غور کرنا ہوگا کہ ہم سے کہاں غلطی ہوتی ہے
سفر کے دوران اول تو فوکسڈ رہنا چاہیئے لیکن اگر بات کرنے کی بونے آہی جائے تو سڑک سے نظر ہٹائے بغیر بھی بات کی جا سکتی ہے
میں ابھی تک تکلیف میں تھا جبکہ خیالات بے ترتیب ہو رہے تھے اور ہوتے بھی کیوں نا کہ تکلیف شدت سے اپنا احساس دلا رہی تھی
خدا خدا کرکے پنڈی بھٹیاں انٹر چینج آیا تو مجھے اپنی حاجت پوری کرکے سکون آیا
تکلیف رفع ہوتے ہی ایسے لگا جیسے میں اک نئی دنیا میں آچکا ہوں
بالکل بھی یاد نہ رہا کہ میں کچھ ہی دیر پہلے ایک کربناک تکلیف سے دوچار تھا
ایسا ہونا میری قومی تربیت کا نتیجہ تھا
آپ دیکھ لیجئے #قصور میں #زینب کے معاملے پر ساری قوم تکلیف میں تھی قصور کو آگ و خون میں بھی نہلایا گیا لیکن چند دن گزرنے کے بعد کسی کو یاد تک نہیں کہ ایسا کچھ ہوا بھی تھا
جب میری قوم کا اجتماعی طور پر یہ حال ہے تو میں بھی اسی قوم کا ایک فرد ہوں میرے ساتھ بھی ایسا ہونا لازمی تھا
والدین اور اساتذہ کا اپنے بچوں پر احسان ہوگا کہ وہ اس نسل کو اس سوچ سے نکال لیں
یہاں سے نکلے تو ٹوٹا پھوٹا لوکل سرگودھا روڈ موٹروے کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا بالکل ویسے ہی جیسے میرے ملک میں امراء اور غرباء ہر دو طبقات ساتھ ساتھ چلتے ہیں
لیکن دونوں کے درمیان ایک فرق ہوتا ہے جو آپس میں ملنے نہیں دیتا، موٹروے کے ساتھ چلنے والی خاردار تار کی طرح۔
میں موٹروے پہ محو سفر تھا لہذا ٹوٹے سرگودھا روڈ پر سفر کرنے والوں کی تکالیف دیکھتے ہوئے بھی مطمئین تھا اور سب اوکے لگ رہا تھا ویسے ہی جیسے پاکستان کی حکومتوں کو لگتا ہے۔
صاف نظر آرہا ہے کہ عوام پِس رہی ہے ملک میں انتشار اور بیروزگاری ہے لیکن مجال ہے جو حکومت کے کانوں پر جوں بھی رینگے شاید ملکی اثاثوں کی طرح ان کے کان بھی بیرون ملک رہن رکھے ہوئے ہیں کہ ان کو وہی سنائی دیتا ہے جو غیر ملکی آقاوں کو منظور ہوتا ہے
اور ہماری حکومت مسائل کی موجودگی کے باوجود سُکھ چین کی بنسری بجاتی نظر آتی ہے
جیسے ہی بس نے موٹروے چھوڑ کر سیال موڑ پر قدم رکھا تو پہلے گڑھے میں پڑتے ہی مجھ سمیت تمام سواریوں کو ان کی اوقات یاد آگئی یوں لگا جیسے یہی ٹوٹ پھوٹ ازل سے ابد تک ہمارے مقدر میں ہے لیکن کچھ وقت کے لیے ہم موٹروے پر جاکر اپنی اوقات بھول گئے تھے، ہم بھول گئے تھے کہ ہم پاکستانی ہیں اور یہاں ابھی طویل عرصے تک ملک مسائل کا شکار رہے گا تاکہ کچھ لوگ اپنے مفادات حاصل کر سکیں۔
عوام کا کیا ہے کچھ دیر کے لیے لوریاں اور سہانے خواب دکھا کر ان کے منہ بند کروا لئے جائیں گے
جیسے ہم موٹروے پر آکر سب کچھ بھول گئے تھے
لیکن سیال موڑ کی خستہ حال سڑک پر قدم رکھتے ہی وہی پاکستان تھا وہی رونا دھونا تھا وہی قانون شکنی تھی وہی لوڈ شیڈنگ تھی وہی مہنگائی تھی اور وہی ہم تھے
ہم جاگ رہے ہوتے ہیں تو مسائل بھی بیدار رہتے ہیں ہم رات کو سو جاتے ہیں تو کچھ دیر کے لیے یوں محسوس ہوتا ہے ہر طرف امن و شانتی ہے لیکن اگلی صبح بیدار ہوتے ہی وہی مسائل ہوتے ہیں جو پہلے سے زیادہ شدت سے سر اٹھاتے ہیں تو آپ کا کیا خیال ہے ہمارے سو جانے سے مسائل بھی سو جاتے ہیں
ارے میری بھولی قوم مسائل نہیں سوتے ، بلکہ ہمارے سونے پر وہ پلاننگ کرتے ہیں کہ کیسے ان انسانوں کو اگلے روز زیادہ تنگ کرنا ہے لہذا ہم یکساں نظام زندگی لاکر ان مسائل کو ہمیشہ کے لیے ختم کر سکتے ہیں
اور آپ جانتے ہیں کہ یہ صرف ایک خواب ہے
سیال موڑ پہنچا تو اصغر صاحب نے پُر تپاک استقبال کیا
اور چائے پیش کی، گیسی چولہے پر بنی چائے پیتے پیتے گاؤں کی چائے میں بھول ہی چکا تھا اصغر صاحب نے لکڑیوں کی ہلکی آنچ پر پکی الائچی ملی چائے پلائی تو دل گارڈن گارڈن ہو گیا
پھر ہم ملکی موسم، پھل اور حالات پر تبادلہ خیال کرتے رہے
مجھے لگا کہ چلنا پھرنا چاہیئے اور اُٹھ کر سیال موڑ کی ثقافت کا جائزہ لینے لگا اور PSOپٹرول پمپ جا پہنچا، یہاں ایک الگ ہی نظارہ دیکھا پمپ والوں نے آنے جانے والوں کی تفریح طبع کی خاطر ایک بڑے سے پنجرے میں دو عدد بندر قید کر رکھے تھے اور ذرا پرے رنگ برنگے جنگلے بنا کر ان میں چکور، تیتر، بٹیر، انواع و اقسام کے مرغے، رنگ برنگے طوطے اور کبوتر پال رکھے تھے
کبوتر اپنی عادت سے مجبور غٹر غوں میں اور طوطے چوں چوں میں مصروف تھے
کیا آپ کو مقامی پرندوں اور جانوروں کی بولیوں کے نام آتے ہیں
اگر نہیں تو ضرور یاد کیجئے گا کہیں کام آئیں گے
مرغے بھی اپنی عادت سے مجبور اپنے ہی پروں کو کُھجانے میں مصروف تھے مرغے کی خوبی ہی وہ قید میں ہو یا آزاد اپنی انہی حرکتوں میں مصروف رہتا ہے اور مرغیوں کو مرغوں کی یہی عادتیں سخت نا پسند ہیں اس لئے وہ جہاں بھی ہوں خواہ مرغوں کی معیت میں یا اکیلی، بے فکری سے دانہ دنکا چُگتی رہتی ہیں
دو پیلے رنگ کے مختصر جسم کے طوطے البتہ ایک کونے میں دنیا و مافیھا سے بے خبر راز و نیاز میں مصروف تھے انہیں میری آمد کی بھی خبر نہ ہوئی، شاید وہ جوڑا تھا۔
میں ان کو ان کے حال پر چھوڑ کر واپس ہونے لگا تو بندروں کو ایک الگ ہی تماشے میں مصروف دیکھا
ایک بندر پنجرے کے اندر دوسرا باہر مالٹے کے دو الگ الگ حصوں سے مصروف جنگ تھے
بندروں کو سرگودھا میں پیدا ہونے کا یہی ایک فائدہ ہے کہ مالٹے سستے اور وافر مل جاتے ہیں بلکہ پٹرول ڈلوانے کی خاطر آنے والے مفت میں بھی دے جاتے ہیں لہذا بندر سرگودھا کی اس مقامی خوبی سے بھرپور فائدہ چُک رہے تھے جو انہیں کسی دوسرے شہر میں پیدا ہونے پر شاید نصیب نہ ہوتی۔
اب آپ مجھ سے پوچھیں گے کہ بندروں کو آموں کے شہر ملتان میں پیدا ہونے کا کیا فائدہ ہوگا
تو انہیں کیا پڑی ہے اتنی سخت گرمی کے شہر میں پیدا ہوں
اس سے تو اچھا کہ مری یا گلیات میں پیدا ہوا جائے کہ جہاں جون جولائی میں قدرے ٹھنڈک کا احساس رہتا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ مری اور گلیات میں بندر وافر پائے جاتے ہیں
اس قدر وافر کہ آپ ایک درجن کی توقع کریں تو دو درجن آن ٹپکیں گے

اپنے بچپن میں سنا کرتے تھےکہ بندر کے دو دماغ ہوتے ہیں اس کا معنی یہ لیجئے کہ بندر ذہین ہوتے ہیں ان کی ذہانت کا مظاہرہ آج دیکھا کہ وہ مالٹے کو جیسے تیسے چھیل کر گودے کے حصول کی خاطر دیگر ریشے پہلے نکال کر الگ پھینک رہے تھے میں ان کی اس ذہانت پر داد دیے بغیر نہ رہ سکا وہ الگ بات ہے کہ چھلکا اتارنے کی خاطر انہیں مالٹے پر پاوں رکھ کر زور لگانا پڑ رہا تھا جس سے مالٹا ان کے ہاتھوں اور پاؤں کو لگی مٹی سے آلودہ ہو رہا تھا لیکن ان میں اتنی عقل کہاں؟ انہیں تو مالٹا کھانے سے غرض تھی جس کے لیے وہ مرے جا رہے تھے اب فری کے مالٹے کون چھوڑے بھلا ؟ یہ سارا تماشہ دیکھ کر ایک تو بچپن کی سنی کہانیوں سے دل اُٹھ گیا کہ ہر سنی سنائی بات پر یقین نہیں کرنا اور دوسرا یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بندر صفائی پسند ہر گز نہیں ہوتے
قانون کی خلاف ورزی سیال موڑ پر ویسے ہی زور و شور سے جاری ہے جیسے ہمارے شیخوپورہ میں ، لیکن بندروں کو اس سے کیا
وہ قانون کی پاسداری کرنے خاطر سرگودھا میں پیدا نہیں ہوئے
اگر انہیں قانون کی پاسداری ہی کرنا ہوتی تو کسی جدید ترقی یافتہ شہر میں پیدا ہو لیتے جیسے کہ لندن یا نیو یارک۔
سرگودھا میں پیدا ہونے کا انہیں فری مالٹوں کے پیکج کے ساتھ یہ بھی تو فائدہ ہے کہ قانون شکنی پر انہیں کوئی جرمانہ نہیں کرتا
اگر بندروں نے جرمانہ ہی کروانا تھا تو بہتر تھا کہ وہ انسانوں کی شکل میں جنم لے لیتے
حالانکہ قانون شکنی کرنے والے انسان بھی کسی جانور سے کم نہیں
کبھی آپ نے بھی قانون شکنی کا سواد حاصل کیا ہے؟ سچ سچ بتائیے گا کہ قانون شکنی زیادہ سوادی ہے یا جرمانہ کروانا؟
یہ سیال موڑ ہے یہاں اصغر صاحب کے ہمراہ ایک تیسرے مشترکہ دوست کا انتظار کرنا تھا انتظار کی گھڑیاں کیسے ختم ہوں یہ سوچ کر ہر چیز کا باریک بینی سے مشاہدہ شروع کر دیا مشاہدہ کرنا ایک طاقت ہے اور مشاہدہ کرنا ایک فن ہے اگر آپ کو مشاہدہ کرنا آگیا تو آپ فطرت کر ہمراز ہوجائیں گے اور فطرت کے ہمراز ہونے کا مطلب اندرونی طور پر ایک انتہائی طاقتور انسان ہونا ہے جو انسانوں کے معاشرے میں فیصلے کرنے میں آزاد ہوتا ہے اور جو مختلف چیزوں کے مابین موجود ہلکے سے فرق کو اچھی طرح پہچان لیتا ہے اور ان سے بھرپور فائدہ اٹھاتا ہے
میں اسی مشاہدے میں غرق ہو گیا
میں اصغر صاحب کے جنرل سٹور پر بیٹھا ہوا ہوں میرے سامنے پڑی سڑک پر ایک پٹھان چنے بھوننے والی ریڑھی لگائے کھڑا ہے یہ سڑک سارا دن یہیں پڑی رہتی ہے خود تو کہیں جاتی نہیں لیکن اس پر چلنے والے اپنی منرل تک ضرور چلے جاتے ہیں
پٹھان پہلے سے بھگو کر خشک کئے ہوئے چنوں کو سفید رنگ کا پاوڈر چھڑک کر مکس کر رہا تھا شاید یہ کھانے والا سوڈا ہے تاکہ چنے زیادہ دیر تک محفوظ رہ سکیں یا گرم ریت والے بالٹے میں جلدی بھن جائیں تاکہ خریدار کو جلدی اور گرم چنے دستیاب ہو سکیں میں اپنی زندگی میں یہ سب پہلی بار دیکھ رہا تھا
کیا آپ نے کبھی ایسا دیکھا ہے ؟ اسی اثناء میں ایک کار والا آکر رکا جس کے بیوی بچے اس کے ہمراہ تھے وہ اترا اور چنے وغیرہ خریدنے لگا ایک چھوٹی عمر کی لڑکی بھیک مانگنے آئی اور اس آدمی کو اپنی طرف متوجہ کیا آدمی نے ایک نظر اس پر ڈالی اور دوسرے لمحے اس نے اپنی بیوی کا بازو ہلا کر یہ سارا منظر دکھایا اور دونوں ہلکی ہنسی ہنسے شاید انہیں چھوٹی عمر میں بھیک مانگنے کے عمل نے ہنسا دیا تھا یا شاید وہ حالات کی ستم ظریفی بھولنے کے لیے ہنستے تھے جو بھی تھا اسی لمحے ایک خوانچہ فروش ان کے پہلو میں کھڑا تھا جو انہیں زبردستی پتیسا بیچنا چاہتا تھا اور وہ کار سوار میاں بیوی نہیں لینا چاہتے تھے اور لیتے بھی کیوں ؟ پتیسا نام کی یہ سوغات کسی بھی کپڑے سے ڈھکی ہوئی نہیں تھی اور یقینی سی بات ہے کہ خوب مٹی پڑی ہوگی اور خاک آلودہ پتیسا کھا کر وہ لوگ بیمار نہیں ہونا چاہتے تھے
کیا آپ اپنے گھروں میں کھانے پینے کی اشیاء ڈھانپ کر رکھتے ہیں ؟ اگر نہیں تو ڈھانپ کر رکھا کریں یہ حفظان صحت کے اصولوں میں سے ایک ہے
اصغر صاحب نے میری بوریت کو محسوس کرکے دہی بھلے منگوا لئے جسے لاہور میں دہی بڑے بھی کہتے ہیں شاید مختلف علاقوں میں اس کے نام بھی مختلف ہیں
آپ کے علاقے میں دہی بھلوں کو کس نام سے پکارا جاتا ہے؟
میں نے خوب مزے سے کھائے لیکن دہی بھلوں کے اندر کالی مرچ پہلی بار کھائی یہ ایک نئی چیز اور نیا سواد تھا میرے لیے
کیا آپ نے کبھی دہی بھلوں میں کالی مرچ کھائی ہے ؟ اگر نہیں تو ضرور کھایئے گا آپ ایک نئے ذائقہ سے روشناس ہوں گے
دہی بھلوں کا ذائقہ ابھی میرے منہ میں ہی تھا کہ ایک سدھائے ہوئے بندر کا تماشا دکھا کر پیسے کمانے والا مداری میرے پاس آکر رکا اور بندر سے مجھے سلام کرنے کو کہا، بندر نے جھٹ سے بایاں ہاتھ بلند کیا اور ماتھے سے لگا کر مجھے سلیوٹ کا احساس دلایا
لیکن میں پولیس آفیسر تو نا تھا کہ سلیوٹ لےکر فخر سے سینہ تن جاتا
مجھے مجبوراََ اس بندر کو کچھ روپے تھمانے تھے کہ یہی سب کچھ تو مداری نے اسے سکھا رکھا تھا اور اپنے مالک کے لیے اسی معمولی رقم کے حصول کی خاطر وہ سلام کرنا سیکھ گیا تھا حالانکہ یہ سب کرنا اس کی فطرت میں شامل نہیں
میں نے جیب سے خوب ٹٹول نکال کر دس روپے دیے مبادا کہ زیادہ نہ نکل آئیں اور بندر جھپٹا نہ مارے
دس روپے بندر کو تھمانا چاہے تو اس نے اپنی فطرت سے مجبور جھپٹا ضرور مارا اور میرے بائیں ہاتھ پر زخم دے گیا
شاید اس نے ایک انسان کا ہاتھ اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ کر اپنا تحفظ کرنا چاہا ہوگا یا شاید اسے وہ لمحہ یاد آگیا ہوگا جب اسے کسی مداری نما انسان نے عمر بھر کےلئے قید کرنے خاطر پکڑا ہوگا
اپنی آزادی سے محروم بندر سے زخم کھا کر بھی مجھے افسوس نہیں ہوا افسوس البتہ اس کی آزادی چِھن جانے پر ہوا
بندر اپنے مالک کو کیوں ایسے تکلیف نہیں دیتا؟ کیوں کہ اس کے مالک کے ہاتھ میں ایک چھڑی ہوتی ہے اور بندر اس چھڑی سے ایک بار پِٹنے کے بعد دوبارہ ایسی حرکت شاید کبھی نہیں کرتا
میرا افسوس ختم نہیں ہوا تھا کہ سڑک کے اس پار ایک اور مداری ایک اور بندر کو رکشے میں بٹھا کر اس کی رسی مضبوطی سے باندھ رہا تھا شاید یہ بندر بھی اپنی آزادی سے محروم تھا
انسان آخر کیوں اپنی کمائی یا تفریح کے لیے جانوروں کو قید کر لیتا ہے ؟
کہیں آپ نے کوئی جانور یا پرندہ قید تو نہیں کر رکھا ؟ اگر کر رکھا ہے تو اسے آج پہلی فرصت میں آزاد کر دیجئے گا اور جب آپ اسے آزاد کر دیں گے تو وہ آپ سے دور جاکر ایک نظر آپ پر ضرور ڈالے گا آپ اسے آزاد کرنے کی جگہ پر تب تک اس کا انتظار کرنا جب تک وہ مڑ کے آپ کو دیکھ نہ لے اور جب وہ آپ کو دیکھے گا تب ایک سرشاری کی کیفیت آپ پر طاری ہوگی اور آپ رات کو سکون کی نیند سو سکیں گے
اب سنیئے مالٹے کے فوائد:
موسم سرما کے پھلوں میں مالٹا پھلوں کا بادشاہ کہلاتا ہے
مالٹے میں بہت سارا غذائی مواد جیسےکہ فرکٹوز، گلوکوز، اور دوسرے کئی سکری مواد موجود ہوتے ہیں
مالٹے کا جوس جسم میں موجود تیزانیت کو ختم کرتا ہے
مالٹے میں کیمیائی اجزاء جیسا کہ سٹرک ایسڈ، اینٹی آکسیڈنٹ اور وٹامن سی کثرت سے پائے جاتے ہیں جو انسانی جلد کے لیے مفید ہوتی ہے
اور معدنی نمک مثلا کیلشیئم، میگنیشیم، پوٹاشیم ،فولاد، فاسفورس، جست اور تانبا وغیرہ بھی ہوتے ہیں
پوٹاشیم اور وٹامن اے اور سی کی موجودگی کی وجہ سے آپ کی نظر تیز رہتی ہے
مالٹا صالح خون بھی پیدا کرتا ہے جس سے آپ کے چہرے کی رنگت صاف ہوکر نکھار آتا ہے
مالٹا غذائیت کے ساتھ ساتھ فائبر بھی فراہم کرتا ہے جو قبض اور معدے کے السر کےلئے مفید ہے
مالٹے کا جوس پینے سے طبیعت میں سکون پیدا ہوتا ہے
روزانہ ایک مالٹا کھانے سے آپ بہت سے بیماریوں سے بچ سکتے ہیں اور آپ کی جلد ڈھلکنے کا عمل سست ہو جائے گا اور آپ اپنی عمر سے کم نظر آئیں گے
مالٹے کا جوس پلانے سے بچہ جلدی دانت نکالتا ہے
اسی طرح مالٹا نظام انہضام کو بھی درست کرتا ہے اور بھوک بڑھاتا ہے
مالٹا سردی کے موسم میں آتا ہے اس موسم میں ہر دوسرے فرد کو نزلے اور کھانسی کی شکایت ہوتی ہے لیکن اگر آپ روز ایک کنو کھائیں گے تو آپ سردی کے موسم میں پھیلنے والے انفیکشن سے محفوظ رہیں گے
تو آج ہی مالٹا گھر لائیں خود بھی کھائیں اور بچوں کو بھی کھلائیں

(جملہ حقوق محفوظ ہیں راقم کی تحاریر کو اپنے نام کےساتھ شیئر کرنے کی اجازت نہیں)

30/12/2017

2018 BY

26/12/2017

اسے المیہ کہا جائےیاسسٹم کا فالٹ،جو بھی ہے ایک بات تو یقینی ہےکہ مُروّجہ نظام تعلیم نے تعلیم کا مذاق بنا کر رکھ دیا ہے
اپنے لئے نہ سہی بچوں کے لیے ہی سہی،اسے بدلیے

Want your school to be the top-listed School/college in Sheikhupura?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Room#8 Second Floor Elahi Center Jinnah Park
Sheikhupura