02/11/2024
، ،
Follow this link to view our item on WhatsApp: https://wa.me/p/9923613834321421/923024423112
It is an educational page ,you can ask me questions about your study, career and health.Please share
02/11/2024
، ،
Follow this link to view our item on WhatsApp: https://wa.me/p/9923613834321421/923024423112
میں کسی بھی غیر مرد کی محتاج نہیں!!
میرا نام لاریب ہے. کالج میں ایک لڑکے نے مجھ سے اظہار محبت کیا. اسے میں نے بہت سمجھایا لیکن اُسے ذرا اثر نہیں ہوا. وہ کٹر ٹھرکی تھا یا پھر اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ کوشش جاری رکھو، ایک نہ ایک دن مان ہی جائے گی. میں اُس کی باتیں سن کر ہنستی تھی، وہ دل میں خوش ہوتا تھا کہ ہنسی تو پھنسی، پر اُسے یہ کہاں معلوم تھا میری ہنسی کا مطلب ہے کہ ہنسوں تو کبھی نہ پھنسوں.
آج پھر وہ چلا آیا تھا.
اچھا تو تمھارا یہ دعوی ہے کہ تم محبت کرتے ہو مجھ سے، کیا ہوتی ہے محبت؟ کچھ معلوم ہے اس کے بارے میں. جس سے محبت ہو اس کے حقوق کا علم ہے تمھیں. یہ فرائض سرانجام دینے کے قابل ہو تم.
اُس کے چہرے پے حیرانیوں کے سائے لہرانے لگے. اُسے ان گہری باتوں کا علم ہی کہاں تھا. وہ تو بس فلموں، ڈراموں کی آغوش میں جوان ہو کر ہزاروں نوجوانوں کی طرح اپنی فطری ضروریات کے ہاتھوں مجبور ہو کر محبت کا نام اپنی روح میں سمو چکا تھا.
سچ میں جب سے تمھیں دیکھا ہے، میرا چین و سکون لٹ گیا ہے. ہر جگہ تم ہی دکھائی دیتی ہو ،میں سچی محبت کرتا ہوں، پلیز مان جاؤ نا.
کیا مان جاؤں؟ میں نے بے نیازی سے پوچھا.
تم بھی محبت کر لو مجھ سے، بہت خوش رکھوں گا تمھیں، ہر بات مانوں گا.
اچھا میری ہر بات مانو گے.
ہاں! ہر بات مانوں گا، تم نہیں جانتی تمھاری یہ عام سی آنکھیں میرے لیے کتنی خاص ہیں.
لوگوں کو تو محبوبہ کی آنکھیں جھیل جیسی گہری لگتی ہیں، تم انھیں عام کہہ رہے ہو.
آپ نے خود ہی تو کہا تھا کہ بناوٹی باتیں آپ کو پسند نہیں، یہ سب جھوٹی تعریفیں ہوتی ہیں، اس لیے سچ بتا رہا ہوں کہ چاہے یہ آنکھیں عام سی ہیں پر میرے لیے تو خاص ہیں.
خاص کیوں ہیں؟ وجہ بتاؤ.
کیونکہ ان سے ذہانت ٹپکتی ہے، جب آپ کے لب پھول برساتے ہیں تب یہ بھی پورا ساتھ دیتی ہیں، ایسا لگتا جیسے یہ بھی بول رہی ہوں..
اوہ! تو محبت کی پہلی سیڑھی چڑھ ہی گئے ہو تم.
اچھا بتاؤ، میری ہر بات مانو گے؟
ہاں ہر بات..
تو پھر میری محبت اپنے دل سے نکال دو، اگر تم سچی محبت کرتے ہو مجھ سے تو میری یہ بات بھی مانو گے.
اُس کی آنکھوں میں پانی جمع ہونے لگا تھا جسے اندر ہی اندر جذب کرنے کی وہ ناکام کوشش کر رہا تھا.
ٹھیک ہے آئندہ آپ نہیں دیکھو گی مجھے..
یہ کہہ کر وہ خاموشی سے چلا گیا.
اس لیےکہ وہ مجھے یقین دلانا چاہتا تھا کہ واقعی مجھ سے سچی محبت کرتا ہے.
میرے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی. میں نے دل میں سوچا کہ تم مجھے بیوقوف نہیں بنا سکتے.
کافی دن گزر گئے، اُس نے مجھ سے کوئی بات نہیں کی، کوئی کال نہ میسیج.
پھر ایک دن وہ خود ہی میرے پاس چلا آیا.
میں نے تمہاری محبت اپنے دل سے نکال دی ہے. اب تم میرے لیے ایک عام عورت ہو.
لفظ عورت سن کر میں کھلکھلا کر ہنس پڑی..
پتہ میری محبت کیوں نکلی ہے تمہارے دل سے؟ کیونکہ یہ محبت کبھی تھی ہی نہیں، محبت کبھی دل سے نہیں نکلتی بشرطیکہ سچی ہو. محبوب کے ساتھ حقیقی پل تو دور کی بات، کبھی خیالوں میں بھی اس کا ہاتھ تک پکڑنا نصیب نہ ہو، اور نہ ہی وہ شدتوں کو جانتا ہو، پھر بھی دل سے محبت نہیں نکلتی.
وہ شرمندہ سا ہوا.
تمھیں کیا پتہ میں کتنا رویا ہوں؟ کتنی راتیں جاگ کر گزاری ہیں؟ کتنا سوچا ہے؟ پھر میں نے خود کو سمجھایا کہ میں تمہاری بات مانوں گا، فریادی بن کر اب نہیں آؤں گا، اس لیے کہہ رہا ہوں محبت ختم ہو گئی. شادی تو ویسے بھی تمہارے ساتھ نہیں ہو سکتی.
کیوں مجھے خارش ہے؟ میری رگ مزاح پھڑک اٹھی.
پھر ہنستے ہوئے اس نے بتایا کہ ہمارے خاندان والے برادری سے باہر شادی نہیں کرتے.
تو کیا تمھارے خاندان والے برادری سے باہر محبت کر لیتے ہیں؟
وہ چپ رہا، کیا جواب دیتا.
خیر میں تم سے دوستی کرنا چاہتا ہوں، تم بہت اچھی لڑکی ہو، اگر تم میری محبت میں گرفتار ہو جاتیں تو میری نظروں میں اپنی اہمیت کھو دیتیں، اور ہم لڑکے واقعی ایسی لڑکیوں سے محبت تو خوب کرتے ہیں پر شادی نہیں.
اب کے حیران ہونے کی باری میری تھی. میری پلاننگ کامیاب ہوئی تھی. وہ سچ مان رہا تھا.
پر میں اس کی دوسری چال بھی سمجھ گئی. مرد کو بسس سیٹیسفیکشن چاہیے ہوتی ہے، چاہے ذہنی ہو یا جسمانی، جب اُسے یقین ہو گیا کہ میں واقعی ہاتھ آنے والی نہیں تو اُس نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا. وہ میرے ساتھ باتوں سے ذہنی تسکین چاہتا تھا، وقت اچھا گزارنا چاہتا تھا.
اچھا دوستی کر کے کیا کریں گے؟ اچھے دوست کیسے ہوتے ہیں؟ میں نے اس سے پوچھا.
ہم اپنی ہر بات ایک دوسرے سے شیئر کیا کریں گے، میں آپ کو گفٹ دیا کروں گا، اکھٹے شاپنگ پر جائیں گے، خوب گھومیں پھریں گے، کھابے اڑائیں گے، دکھ سکھ کے ساتھی، بالکل اچھے دوست بنیں گے ہمیشہ ساتھ رہنے والے.
محبت کی جگہ اب دوستی کا لفظ آ گیا تھا مگر ترجیحات اور مقاصد و معاملات وہی تھے.
ایک لڑکا لڑکی کبھی دوست نہیں ہو سکتے، ہاں کلاس فیلو ہو سکتے ہیں، جب سٹڈی ختم ہوئی رابطہ ختم. لیکن دوستی تو وہ ہوتی جو مستقل رہے.
محبت تم نہیں کرتی، دوستی پر تمھیں اعتراض ہے. اچھا منہ بولی بہن بن جاؤ. میں اتنی اچھی لڑکی کھونا نہیں چاہتا.
میں بھی اتنی اچھی لڑکی گنوانا نہیں چاہتی. میں نے دل میں سوچا.
یہ اس کا آخری حربہ تھا محبت اور دوستی میں دال نہ گلی تو منہ بولی بہن..
اچھا بھائی بہن بن کر کیا ہوگا؟ میں نے پوچھا
دونوں ساتھ وقت گزارا کریں گے، اپنی ہر بات بتایا کریں گے، صبح صبح اکٹھے سیر کو جایا کریں گے، جاگنگ کریں گے، ٹینیس کھیلیں گے، بہت خوش رہیں گے دونوں. یہ زندگی بورننگ نہیں لگتی تمھیں جو گزار رہی ہو، تھوڑا سا بدلو تم خود کو. دیکھنا کتنی خوشیاں ملتی ہیں، سچی بھائی بہن والا رشتہ ہوگا، کوئی نقصان نہیں…
اور اس دوران تم بہن لفظ کا سہارا لے کر مجھ سے اپنی ذہنی تسکین حاصل کرتے رہو، نظروں سے ہی میرے چہرے کو چھوتے رہو، ٹینس کھیلتے ہوئے میرے بدن کے اتار چڑھاؤ کو للچائی نگاہوں سے دیکھتے رہو، تمھارا وقت رنگین ہو جائے گا.
میں خاموش نظروں سے کہہ رہی تھی، وہ کن اکھیوں سے دیکھتا ہوا جواب کا منتظر تھا..
سوری میری خوشیاں، کھابے، سیر، جاگنگ، زندگی کے رنگ، ٹویسٹ، قہقہے، دکھ سکھ کسی غیر مرد کے محتاج نہیں.
میں اپنے پاپا کے ساتھ سیر کو جاتی ہوں. باپ کی شفقت بھری گفتگو بہت لطف دیتی ہے. میری ماں میری سب سے اچھی دوست ہے، میرے دکھ سکھ کی ساتھی ہے. میری سکھیاں کھابے اُڑانے میں لاجواب ہیں، اُن کے ساتھ میرا وقت بہت اچھا گزرتا ہے. میرے ٹیچرز میرے رہنما ہیں. اپنے بھائی کے ساتھ میں گھنٹوں باتیں کرتی ہوں، معصوم شرارتیں دو منٹ میں ناراض دو منٹ میں راضی، ایک دوسرے کے بنا ذرا وقت نہیں گزرتا، اس کے پیچھے بائیک پر بیٹھے ہوئے میں آزاد فیل کرتی ہوں، اس کے ساتھ شاپنگ کا جواب نہیں. میں بہت خوش ہوں. ایک نیا رشتہ بنا کر میں ان سب رشتوں کی مٹھاس نہیں کھونا چاہتی..
پتہ نہیں لڑکیوں کی حسین زندگی غیر مردوں سے ہی کیوں جڑی ہوتی ہے؟ خوبصورت خوابوں کے چکر میں عمر بھر کے لیے آنکھیں زخمی کروا لیتی ہیں.
اتنا کہہ کر میں چلی آئی. اس کا ری ایکشن کیسا تھا؟ میں نے دیکھا نہیں، لیکن اسے ایک سبق ضرور مل گیا تھا.
میں نے گھر آ کر سجدہ شکر ادا کیا اور آنکھ اشکبار ہو گئی. میرے اللہ تو مجھےایسے ہی ثابت قدم رکھنا، اس عہد کی پیداوار ہو کر بھی میرے قدم ذرا نہ ڈگمگائیں.
#منقول
میں نے بار ہا اس موضوع پر غور کیا کہ
“موت“ کیا ہے؟
اس سے زندگی کا کیا رشتہ ہے؟
ایک دفعہ میں نے ایک سمندری جہاز دیکھا، جب وہ ساحل سے دور ہوا اور نظروں سے اوجھل ہو گیا تو لوگوں نے کہا کہ “چلا گیا“۔
میں نے سوچا دور ایک بندر گاہ ہو گی، وہاں یہی جہاز دیکھ کر لوگ کہہ رہے ہوں گے کہ “آ گیا“
شاید اسی کا نام موت ہے، ایک پرانی زندگی کا خاتمہ اور نئی زندگی کی ابتداء۔۔۔
خلیل جبران❤️
but athentic*ہم کیا کرسکتے ہیں؟؟؟*
ہم وہ کر سکتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر میں کیا تھا!!!
(یہود خیبر کو نہیں بھولے
آپ بھول چکے )
کیا آپ جنگ میں شامل ہونا چاہتے ہیں؟ مضمون کو آخر تک پڑھیں!!!
خیبر کے قلعوں میں پناہ لینے والے یہودی کھانے پینے کا سامان لے کر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جانے کے منتظر تھے۔
خیبر کے قلعے ایک ٹھوس، اونچی جگہ پر تھے۔
اگر آپ نے تیر مارا تو وہ آپ کے پاس واپس آجائے گا۔
اگر تم پتھر بھی پھینکو تو وہ ان تک نہیں پہنچے گا۔
اگر آپ چیخیں گے تو آپ کی آواز ان تک نہیں پہنچے گی۔
خیبر تباہ نہیں ہوا۔
خیبر فتح نہیں ہوا تھا۔
اسلامی فوج کئی دن محاصرہ کیےانتظار کرتی رہی۔
لیکن یہودیوں نے قلعے نہیں چھوڑے۔
مسلمانوں کا ذخیرہ اور ان کے حوصلے ختم ہونے والے تھے۔
پھر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حکمت عملی تیار کی۔
کھجور کے درخت کاٹے جائیں گے۔
خیبر کے یہودیوں کی معیشت ایک ایک کر کے منقطع ہو جائے گی۔
ان کی قسمت ٹوٹ جائے گی۔
ان کا مستقبل اکھڑ جائے گا۔
کیونکہ یہودیوں کے لیے پیسہ، دولت اور خوشحالی سب کچھ تھا۔
جیسے جیسے درخت کاٹے گئے، یہودی تباہ ہو گئے۔
درختوں کے کٹ جانے کے بعد یہاں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
انہوں نے ایک معاہدہ کیا اور یہودیوں کے دارالحکومت خیبر سے اتنا سامان لے کر چلے جائیں گے جتنا وہ لے جا سکتے تھے۔
جنگ خیبر میں شامل ہونا چاہتے ہو تو آج بھی ان کے درخت کاٹ دو!!!
آج آپ لعنت بھیجیں گے تو بھی آپ کی آواز یہودیوں تک نہیں پہنچے گی۔
پتھر پھینکو گے تو اسرائیل تک نہیں پہنچے گا
اگر آپ تیر بھی ماریں گے تو وہ ان تک نہیں پہنچے گا۔
لیکن آپ بھی ہمارے نبی ﷺ کی حکمت عملی پر عمل کر سکتے ہیں!
اپنی کلہاڑی لے لو اور یہودیوں کے درخت کاٹ دو!
وہ کیسے؟؟؟
ہر یہودی کی جائیداد جو آپ کے گھر میں داخل ہوتی ہے ایک درخت ہے۔
ہر یہودی صابن جو آپ استعمال کرتے ہیں ایک درخت ہے۔
ہر کولا جو آپ پیتے ہیں ایک درخت ہے۔
ہر یہودی پانی جو آپ پیتے ہیں ایک درخت ہے۔
*Cokes, Pepsi, Fantas, M&S, AMC Donald's, Dominos, Pizza Huts, Tescos, Sainsbury's, Morrisons, , Ariel, Algidas, Max, Danones*
اور گوگل سے دیکھیں جو ان کا ساتھ دے رہے ہیں، وہ ان کے درخت ہیں۔
کیا آپ خیبر کی جنگ میں شامل ہونا چاہتے ہیں؟
لہٰذا بائیکاٹ کی کلہاڑی اٹھاؤ اور یہودیوں کے درخت کاٹ دو!
ہمارے اللہ فرماتے ہیں کہ جو کوئی معمولی سی نیکی بھی کرے گا اسے اس کا اجر ملے گا۔
اس پیغام کو اپنے تمام مسلم گروپوں تک پہنچائیں۔
آؤ مسلمانو، خیبر میں شامل ہونے کا وقت ہے۔
میرا نام علی شیر ہے ضلع شیخوپوره سے تعلق ہے اور عرصہ دراز سے شيخوپوره رہنے والا ہوں۔
بچپن سے تاحال مختلف ادوار گزرے جن میں عزیز ، رشتہ دار، دوست ، ہمجولی، ہم جماعت، تعلق دار، دفتری رفقاء کار ، افسران و ماتحت افراد سے تعلق و معاملات چلتے رہے ہیں۔ ان افراد میں سے بعض کے ساتھ رابطہ منقطع ہوگیا ، بعض کے ساتھ کم ہوا اور باقی افراد کے ساتھ رابطہ اور معاملات چل رہے ہیں۔ جس کو بھی میری زندگی کے کسی بھی مرحلے پر مجھ سے ملنے کا موقع ملا وہ کم از کم میرے بارے میں کچھ جانتا ہے۔ ہمارا اب زیادہ رابطہ نہیں ہے۔ میں نے "دوستوں کے درمیان دوبارہ اتحاد" نامی ایک تجربے میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا جس کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ تصویر کے بغیر پوسٹ کون پڑھتا ہے، کیونکہ ہم جلدی میں رہتے ہیں اور اپنے اہم لمحات کو بھول جاتے ہیں۔
اگر کوئی اس پیغام کو نہیں پڑھتا ہے تو یہ صرف ایک سماجی تجربہ ہو گا، لیکن اگر آپ کو اسے آخر تک پڑھنے کو ملتا ہے، تو میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے بارے میں ایک لفظ لکھیں، جیسے کوئی چیز، کوئی جگہ، کوئی شخص، ایک لمحہ، کوئی ایسی چیز جس سے مراد وہ رشتہ ہے جو ہمارا تھا یا ہمارے پاس ہے۔ پھر متن کو کاپی کریں اور اسے اپنے پروفائل کے طور پر رکھیں۔ میں آپ کی وال پر جاؤں گا کہ وہ لفظ لکھوں گا جو مجھے آپ کی یاد دلاتا ہے۔ براہ کرم تبصرہ نہ کریں اگر آپ کے پاس اسے کاپی کرنے کا وقت نہیں ہے کیونکہ اس سے تجربہ برباد ہو جائے گا۔ آپ کا شکریہ، اور شروع میں اپنا نام تبدیل کرنا یاد رکھیں، بالکل آپ کی طرح، لوگ آپ کو بتائیں گے کہ وہ آپ کو کیسے یاد کرتے ہیں۔
21/10/2023
https://www.instagram.com/reel/CyeA0_Bod0i/?igshid=MzRlODBiNWFlZA==
Allah hifazat farma Palestine 🇵🇸 ke logo ki 🥺 Allah hifazat farma masjid e aqsa ki ameen 😢🤲🤲🥺❤️...
معزرت کے ساتھ مگر جو خواتین مختلف گروپس میں امداد مانگتی ہیں وہ یہ ضرور پڑھ لے۔۔۔
ہم 1988 میں جب نویں کلاس میں پڑھتے تھے ، اس وقت اسکول یونیفارم میں اونٹ کے رنگ کی شلوار قمیض اور سفید جوتے ہوتے تھے ۔
ہیڈ ماسٹر صاحب یونیفارم کے معاملے میں بہت سختی سے پیش آتے تھے اس لئے تمام طلباء یونیفارم پہن کر آتے تھے سوائے دو ایک کے جو غریب تھے۔
ایک دن صبح کی اسمبلی کے دوران میٹرک کے طالب علم بیکھو مٙل بغیر یونیفارم کے اسمبلی کی قطار میں کھڑا تھا ، جیسے ہی ہیڈ ماسٹر کی نظر اس پر پڑی بہت ہی غصے میں بیکھو مٙل کو کالر سے پکڑ کر باہر لیکر آیا ، ہیڈ ماسٹر کا غصہ دیکھتے ہوئے بیکھو مل زور زور سے کہنے لگا
سائیں میری بات سنیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری بات سنیں
میرا باپ باسو مل غریب آدمی ہے وہ مجھے کہاں سے یونیفارم اور جوتے لیکر دے ؟
مجھے آپ ماریں نہیں میں کل سے اسکول نہیں آؤں گا ۔
ہیڈ ماسٹر استاد غلام حیدر کھوکھر نے اسے چھوڑ دیا اور اسٹیج پر چڑھ کر تمام طلباء سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کے بعد بیکھو مٙل ایک ایک کلاس میں آئے گا ، آج آپ کو جو خرچی ملی ہے وہ آپ بیکھو مل کو دے دینا تاکہ وہ یونیفارم خرید کر سکے۔
میرے پاس حسب معمول آٹھ آنے جیب خرچ ملتا تھا سوچا آج کے دن سموسہ نہیں کھاؤں گا وہ میں بیکھو مل کو دے دوں گا ۔
کلاس میں ابھی بیٹھے ہی تھے کہ کلاس کے ٹیچر استاد فقیر محمد حیات ہسبانی کلاس میں آ گئے ، تھوڑی دیر بعد بیکھو مٙل بھی استاد سے اجازت لیکر ہماری کلاس میں داخل ہوا ۔
اس کے ہاتھ میں ایک ایک روپے کے چند نوٹ اور کچھ سکّے تھے جو شاید اس نے اپنی کلاس سے جمع کئے تھے ۔
استاد فقیر محمد حیات ہسبانی بہت غصے میں تھے ہم سب کو منع کیا کہ کوئی بھی اس کو پیسے نہیں دے گا اور بیکھو مٙل کی جانب دیکھتے ہوئے غصے میں کہا کہ ڈوب نہیں مرتے جو بھیک مانگتے پھرتے ہو ۔
کیا غربت کی آڑ میں ساری زندگی بھیک مانگتے پھرو گے ؟
واپس اپنے کلاس میں جاؤ اور جن جن سے پیسے لئے ہیں ان کو واپس کر کے آؤ میں تمہیں یونیفارم لیکر دوں گا
بیکھو مٙل استاد کے کہنے پر واپس اپنی کلاس میں گیا اور سب کو ان کے پیسے واپس کر کے آ گیا ۔
استاد فقیر محمد حیات ہسبانی نے پوچھا کہ شام کے وقت کون سا کام کر سکتے ہو ؟
بیکھو مٙل نے جواب دیا کہ میرا باپ موچی ہے ، میں بوٹ پالش کرنا اور جوتوں کی مرمت کا کام کر سکتا ہوں مگر میرے پاس سامان خرید کرنے کیلئے پیسے نہیں ہیں۔
استاد نے پوچھا کتنے پیسے چاہئے ہونگے ؟
اس نے کہا ایک لکڑی کی پیٹی اور چند برش ، پالش وغیرہ سب ملا کر کوئی ڈیڑھ سو روپے چاہئے ان میں سب سامان آ جائے گا ۔
استاد نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور ڈیڑھ سو روپے گن کر دیئے اور کہا کہ یہ ادھار ہے ، تم مجھے روز کے حساب سے ہر ہفتے سات روپے واپس کرنا۔
اس کے بعد مجھ سے کاپی مانگی اور اس کے تین کورے صفحات پھاڑ کر نکال لئے اور ان پر کچھ لکھنے لگے تینوں چٹھیاں بیکھو مٙل کو دیتے ہوئے کہا ایک چٹھی رشید پنجابی کو دینا وہ تمہیں کپڑا دے گا اور تمہیں ایک روپے روزانہ کے حساب سے اس کا قرض واپس کرنا ہے ، دوسری چٹھی خالق منگی کو دینا وہ تجھے نئے جوتے دے گا اسے بھی ایک روپیہ روز کے حساب سے قرضہ واپس کرنا ہے ، یہ تیسری چٹھی یوسف درزی کو دینا وہ تمہیں یونیفارم سی کر دے گا اسے بھی ایک روپے روزانہ دینے ہیں، چار روپے قرضہ اتارنے کیلئے تمہیں ہر صورت میں اتنا کمانا ہیں تاکہ تم قرضہ چکا سکو اور اسے کے بعد تمہیں اپنی محنت کے ذریعے آگے بڑھنا ہے
ایک بار بھیک مانگنے کی عادت پڑ گئی تو ساری زندگی بھیک مانگتے ہی گزرے گی
بیکھو مٙل وعدہ کر کے چلا گیا بعد میں استاد نے ہمیں کہا کہ آپ لوگ اپنے جوتوں کی مرمت اور بوٹ پالش ہمیشہ بیکھو مٙل سے کروایا کریں
وقت تیزی سے گزر گیا 12 سال پلک جھپکتے گزر گئے
1999 میں ہائے اسکول کرونڈی میں دسویں کلاس کے طلباء کی الوداعی پارٹی ہو رہی تھی ، استادوں کے ساتھ شہر کی معززین کو بھی دعوت تھی۔
تقریر کرنے کیلئے شہر کی ایک بڑی فلور مل کے معزز جنرل منیجر بیکھو مٙل کو دعوت دی گئی ، کاٹن کے سوٹ میں ملبوس ، ماتھے پر ری بین کا چشمہ رکھے اپنی تقریر میں اسی اسکول میں پیش آئے 1988 کا قصہ سناتے ہوئے زار و قطار روتے ہوئے اسٹیج پر بیٹھے اپنے استاد فقیر محمد حیات ہسبانی کے پیروں کو چھوتے ہوئے بتایا کہ کس طرح ایک کامل استاد نے مجھے بھیک مانگنے سے بچایا اور محنت کا سبق دیا ۔
(محترم محمد ایوب قمبرانی کی سندھی تحریر کا اردو ترجمہ)
آج کل مدد کے نام پر جو بھیک بانٹی جا رہی ہے, اس سے ھم مستقل بھکاری پیدا کئے جا رہے ہیں ، اس کی تصیح کے لئے بھی کسی استاد فقیر محمد حیات حیسبانی جیسا مرد قلندر درکار ھے
منقول .....
بزم جہاں میں آج یہ کس کا ورود ہے
جبریل کے لبوں پر مسلسل دُرود ہے
فخرُ الرّسُل ہے شافعِ روزِ حساب ہے
اُمّی لقب ہے صاحبِ اُمّ الکتاب ہے
قرآن جس کا خُلق ہے وہ رحمتِ تمام
جس کیلئے ہوا ہے دو عالَم کا انصرام
جس کے غلام فاتحِ ایران و شام ہوں
لاکھوں دُرود اُس پہ، ہزاروں سلام ہوں
ﷺ
| Monday | 16:00 - 20:00 |
| Tuesday | 16:00 - 20:00 |
| Wednesday | 16:00 - 20:00 |
| Thursday | 16:00 - 20:00 |
| Friday | 16:00 - 20:00 |
| Saturday | 16:00 - 20:00 |