Raza Quran Academy - Online

Raza Quran Academy - Online

Share

Dawat e Islami

14/08/2025



🌹الحمدللّٰہ عزوجل🌹
آج *جشن آزادی* کی خوشی میں *مدرستہ المدینہ بابری مسجد* میں *بچوں* میں *پودے* تقسیم کیے گے
اور بچوں نے نیت کی کہ کل *جشن آزادی کے موقع پر *امیر اہلسنت کے فرمان* *(پودا لگانا ہے اور درخت بنانا ہے)*
پر عمل کرتے ہوئے اپنے *ملک 🇵🇰 *پاکستان* کے *شہدا کے ایصال ثواب کیلئے* ان پودوں کو اپنے گھروں یا گھر کے قریب لگائیں گے اور *درخت بنائیں گے *ان شاءاللہ عزوجل*
*مدرستہ المدینہ بابری مسجد شیخوپورہ*
🌹 *مدرس*
*قاری محمد عتیق عطاری*

02/07/2025


*الحمدللہ*
*مدنی مرکز کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے*
*مدرسۃ المدینہ بابری مسجد* کے تحت محرم الحرام کے چھٹے روز بھی 32 چوک شیخوپورہ میں عاشقان صحابہ و اہلبیت کیلئے میٹھے پانی کی سبیل کا اہتمام کیا گیا
انشاءاللہ الکریم یہ پانی کی سبیل یوم عاشورہ تک شھدائے کربلا کے ایصالِ ثواب کے لیے جاری رہے گی
*مدرستہ المدینہ بابری مسجد شیخوپورہ*
مدرس
🌺 قاری محمد عتیق عطاری

05/01/2025

بلی اگر کھانے پینے کی چیزوں میں منہ ڈال دے تو بلی کے جوٹھے کا کیا حکم ہے؟

فتوی نمبر:WAT-1101

تاریخ اجراء:25صفرالمظفر1444 ھ/22ستمبر2022 ء

دارالافتاء اہلسنت

(دعوت اسلامی)

سوال

بلی کے جوٹھے کا کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

اگر بلی کے منہ پر کوئی نجاست لگی ہو اور اسی حالت میں وہ کسی برتن میں منہ ڈال دے تووہ برتن ناپاک ہوجائے گااوراس میں جوپانی یاسالن وغیرہ ہوگاوہ بھی ناپاک ہوجائے گا،جسے پینایاکھاناجائزنہیں ۔

اوراگرنجاست نہ لگی ہویانجاست کالگنامعلوم نہ ہوتواس کاجوٹھامکروہ ہے ۔ اوراس کے استعمال کے متعلق تفصیل یہ ہے کہ :

اچھا پانی(غیرمکروہ پانی) ہوتے ہوئے مکروہ پانی سے وُضو و غُسل مکروہ ہے اور اگر اچھا پانی موجود نہیں تو اسی سے وضووغسل کرنے میں کوئی حَرَج نہیں۔ اسی طرح مکروہ جوٹھے کا کھانا پینا بھی مالدار کو مکروہ ہے۔ غریب محتاج کو بلا کراہت جائز۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

28/12/2024

الٹراساؤنڈ کروانا کیسا ؟‎

فتوی نمبر:aqs:1264

تاریخ اجراء:16جمادی الاولیٰ1439ھ/03فروری2018ء

دَارُالاِفْتَاء اَہْلسُنَّت

(دعوت اسلامی)

سوال

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ محض بچے کی جنس معلوم کرنے کے لیے یعنی یہ معلوم کرنے کے لیے کہ پیدا ہونے والا لڑکا ہے یا لڑکی ، عورت کا الٹرا ساؤنڈ کروانا کیسا ہے ؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

محض بچے کی جنس معلوم کرنے کے لیے یعنی یہ معلوم کرنے کے لیے کہ پیدا ہونے والا لڑکا ہے یا لڑکی ، شوہر کے علاوہ چاہے مرد ہو یا عورت اگرچہ مرد عورت کا محرم ہو ، عورت کا الٹرا ساؤنڈ کرے تو جائز نہیں ہے ، کیونکہ اس طرح بلا ضرورت عورت کا غیر کے سامنے ستر کھولنا لازم آتا ہے ، جو کہ جائز نہیں ہے ، ہاں اگر شوہر اپنی بیوی کا الٹرا ساؤنڈ کرے ، تو جائز ہے ، کیونکہ شوہر کے لیے اپنی بیوی کے تمام جسم کی طرف دیکھنا جائز ہے ۔

اللہ تعالیٰ کا قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں فرمانِ عالی شان ہے : ’’و لا یبدین زینتھن الا ما ظھر منھا ‘‘ترجمۂ کنز الایمان : اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں ، مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے ۔( القرآن مع ترجمۂ کنز الایمان ، پارہ 18 ، سورۃ النور ، آیت 31 )

اس آیت کے تحت تفسیرِ نعیمی میں ہے : ’’کوئی نا محرم مرد کبھی کسی نامحرم بالغہ عورت کو ہاتھ نہ لگائے یہاں تک کہ پیر و مرشد اور دینی یا دنیوی استاذ سے بھی پردہ واجب ، بیعت کرتے وقت بھی ہاتھ نہ لگائے یا زبانی بیعت کرے ، یہی سنت ہے یا پسِ پردہ رہ کر اپنی چادر پکڑائے ۔‘‘( تفسیرِ نعیمی ، جلد 18 ، صفحہ 584 ، مطبوعہ نعیمی کتب خانہ ، گجرات )

جامع ترمذی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے : ’’عن النبی صلی اللہ علیہ و سلم قال : المرأۃ عورۃ ‘‘ ترجمہ : نبی پاک علیہ الصلوۃ و السلام سے روایت کیا گیا ہے ، آپ علیہ التحیۃ و الثناء نے ارشاد فرمایا : عورت ( تمام کی تمام ) چھپانے کی چیز ہے ۔( جامع الترمذی ، ابواب الرضاع ، باب ماجاء فی کراہیۃ الدخول علی المغیبات ، جلد 1 ، صفحہ 351 ، مطبوعہ لاہور )

مرد کے اجنبی عورت کو دیکھنےکے متعلق ہدایہ میں ہے : ’’و لا یجوز ان ینظر الرجل الی الاجنبیۃ الا وجھھا و کفیھا ‘‘ترجمہ : مرد کا اجنبی عورت کی طرف سوائے اُس کے چہرے اور ہتھیلیوں کے ، دیکھنا جائز نہیں ہے ۔ ( الہدایہ ، کتاب الکراہیۃ ، فصل فی الوطء و النظر و المس ، جلد 4 ، صفحہ 417 ، مطبوعہ دار الکتب العمیہ ، بیروت)

مرد کے محارم کی طرف دیکھنے کے متعلق ہدایہ میں ہی ہے : ’’و ینظر الرجل من ذوات محارمہ الی الوجہ و الرأس و الصدر و الساقین و العضدین و لا ینظر الی ظھرھا و بطنھا و فخذھا ‘‘ترجمہ : مرد اپنی محارم کے چہرے ، سر ، سینے ، پنڈلیوں اور بازؤوں کی طرف دیکھ سکتا ہے اور اپنی محارم کی پیٹھ ، پیٹ اور ران کی طرف نہیں دیکھ سکتا ۔( الہدایہ ، کتاب الکراہیۃ ، فصل فی الوطء و النظر و المس ، جلد 4 ، صفحہ 420 ، مطبوعہ دار الکتب العمیہ ، بیروت)

شوہر کے اپنی بیوی کو دیکھنے کے متعلق مبسوط میں ہے : ’’اما نظرہ الی زوجتہ و مملوکتہ فھو حلال من قرنھا الی قدمھا ‘‘ترجمہ : مرد کا اپنی بیوی اور اپنی لونڈی کو ( سر کی ) چوٹی سے لے کر پاؤں تک ( تمام جسم کو ) دیکھنا حلال ہے ۔( المبسوط للسرخسی ، کتاب الاستحسان ، جلد 10 ، صفحہ 154 ، مطبوعہ کوئٹہ )

عورت کے عورت کی طرف دیکھنے کے بارے میں ہدایہ میں ہے : ’’و تنظر المرأۃ من المرأۃ الیٰ ما یجوز للرجل ان ینظر الیہ من الرجل‘‘ترجمہ : اور ایک عورت دوسری عورت کا صرف وہی حصہ دیکھ سکتی ہے جو ایک مرد کا حصہ دوسرا مرد کا دیکھ سکتا ہے ۔(الہدایہ ، کتاب الکراہیۃ ، فصل فی الوطء و النظر و المس ، جلد 4 ، صفحہ 420 ، مطبوعہ دار الکتب العمیہ ، بیروت)

مرد کا مرد کو دیکھنے کے متعلق ہدایہ میں ہی ہے : ’’و ینظر الرجل من الرجل الیٰ جمیع بدنہ الا ما بین سرتہ الیٰ رکبتیہ ‘‘ترجمہ : ایک مرد دوسرے مرد کی ناف سے لے کر گھٹنے تک کے علاوہ تمام بدن کو دیکھ سکتا ہے ۔( الہدایہ ، کتاب الکراہیۃ ، فصل فی الوطء و النظر و المس ، جلد 4 ، صفحہ 419 ، مطبوعہ دار الکتب العمیہ ، بیروت)

بہارِ شریعت میں ہے : ’’عورت کا عورت کو دیکھنا ، اس کا وہی حکم ہے ، جو مرد کو مرد کی طرف نظر کرنے کا ہے یعنی ناف کے نیچے سے گھٹنے تک نہیں دیکھ سکتی ، باقی اعضاء کی طرف نظر کر سکتی ہے ، بشرطیکہ شہوت کا اندیشہ نہ ہو ۔۔۔۔ پہلی ( یعنی مرد کا اپنی بیوی کو دیکھنے کی ) صورت کا حکم یہ ہے کہ عورت کی ایڑی سے چوٹی تک ہر عضو کی طرف نظر کر سکتا ہے ۔۔۔۔ جو عورت اس کے محارم میں ہو اس کے سر ، سینہ ، پنڈلی ، بازو ، کلائی ،گردن ، قدم کی طرف نظر کر سکتا ہے ، جبکہ دونوں میں سے کسی کی شہوت کا اندیشہ نہ ہو ، محارم کے پیٹ ، پیٹھ اور ران کی طرف نظر کرنا، ناجائز ہے ۔۔۔۔ اجنبی عورت کی طرف نظر کرنے کا حکم یہ ہے کہ اس کے چہرہ اور ہتھیلی کی طرف نظر کرنا ،جائز ہے ۔۔۔۔اجنبیہ کے چہرے کی طرف اگرچہ نظر جائز ہے ، جبکہ شہوت کا اندیشہ نہ ہو مگر یہ زمانہ فتنہ کا ہے اس زمانے میں ویسے لوگ کہاں جیسے اگلے زمانہ میں تھے ، لہٰذا اس زمانہ میں اس کو دیکھنے کی ممانعت کی جائے گی ۔ ‘‘( بہارِ شریعت ، حصہ 16 ، جلد 3 ، صفحہ 443 ، 444 ، 446 ، مکتبۃ المدینہ ، کراچی )

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
رضا آن لائن قرآن اکیڈمی
03017045029

11/12/2024


جرسی کے نیچے آستین فولڈ رہ گئی، تو نماز کا حکم‎

فتوی نمبر: har:4901
تاریخ اجراء: 20 ذوالحجۃ الحرام 1439ھ/01 ستمبر 2018 ء

دَارُالاِفْتَاء اَہْلسُنَّت
(دعوت اسلامی)

سوال
کیا فرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ سردیوں میں کپڑوں کے اوپر جرسی پہنتے ہیں اور وضو کے بعد جرسی تو نیچے کر لیتے ہیں ، لیکن آستین بعض اوقات فولڈ رہ جاتی ہے، کیا اسے بھی درست کرنا ضروری ہو گا اور نیچے نہ کرنے کی صورت میں نماز مکروہِ تحریمی ہو گی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

کپڑا فولڈ کر کے یعنی موڑ کر نماز پڑھنے سے حدیثِ پاک میں منع فرمایا گیا ہے اور اس حالت میں پڑھی گئی نماز مکروہ تحریمی و واجب الاعادہ ہو گی۔ پھر حدیث ِپاک میں مطلقاً کپڑا فولڈ کرنے سے منع فرمایا گیا ہے، چاہے اوپر والا ہو یا نیچے والا، لہٰذا بلاکراہت نماز کی ادائیگی کے لیے ضروری ہو گا کہ جرسی کے ساتھ ساتھ اندر قمیص کی آستین بھی نیچے کر لی جائے۔اگر صورتِ مسئولہ میں جرسی کی آستین کے نیچے قمیص کی آستین آدھی کلائی سے اوپر تک چڑھی ہوئی ہو اور اسی حالت میں نماز پڑھ لی ، تو مکروہ تحریمی و واجب الاعادہ ہو گی۔

حدیث شریف میں ہے: " قال النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اُمِرتُ ان اسجد علی سبعۃ اعظم علی الجبھۃ و اشار بیدہ علی انفہ و الیدین و الرکبتین و اطراف القدمین و لانَکفِتَ الثیاب و الشعر" نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے: پیشانی پر اور آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے دستِ مبارک سے اپنی مقدس ناک شریف کی طرف اشارہ فرمایا اور دونوں ہاتھوں پر اور دونوں گھٹنوں پر اور دونوں پاؤں کے کناروں پر اور یہ کہ ہم کپڑے اور بال نہ سمیٹیں۔
(صحیح البخاری، جلد 1، صفحہ 182، حدیث 812، مطبوعہ لاھور )

مرقاۃ المفاتیح میں ملا علی قاری علیہ الرحمۃ اس حدیثِ پاک کے آخری الفاظ کے تحت فرماتے ہیں: " و مِن کفِتھما ان یعقص الشعر و ان یشمر ثوبہ۔ملخصا" کپڑے اور بال سمیٹنے میں سے ہے ، اس کا بالوں کا جُوڑا بنانا اور کپڑا سمیٹنا۔
(مرقاۃ المفاتیح، جلد 2، صفحہ561، مطبوعہ کوئٹہ)

بحر الرائق میں ہے: "یدخل ایضا فی کف الثوب تشمیر کمیہ" کپڑا سمیٹنے میں اس کی آستینیں چڑھانا بھی داخل ہے۔
(البحر الرائق، جلد 2، صفحہ 42، مطبوعہ کوئٹہ)

حلبۃ المُجلی میں ہے : "ینبغی ان یکرہ تشمیرھا الی ما فوق نصف الساعد لصدق کف الثوب علی ھذا" آستینوں کا آدھی کلائی سے اوپر تک چڑھائے ہونا بھی مکروہ ہونا چاہیے ، کیونکہ کپڑا سمیٹنا اس پر بھی صادق آتا ہے۔
(حلبۃ المجلی، جلد 2، صفحہ 287، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں : " تمام متونِ مذہب میں ہے : " کرہ کف ثوبہ" تو لازم ہے کہ آستینیں اتار کر نماز میں داخل ہو اگرچہ رکعت جاتی رہے اور اگر آستین چڑھی نماز پڑھے ، تو اعادہ کیا جائے۔ کما ھو حکم صلاۃ ادیت مع الکراھۃ (جیسا کہ ہر اس نماز کا حکم ہے ، جو کراہت کےساتھ ادا کی گئی ہو ۔ )"
(فتاوٰی رضویہ، جلد7، صفحہ 310 ، 311 ، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرتِ علاّمہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں : " کوئی آستین آدھی کلائی سے زیادہ چڑھی ہوئی یا دامن سمیٹے نماز پڑھنا بھی مکروہِ تحریمی ہے، خواہ پیشتر سے چڑھی ہو یا نماز میں چڑھائی ۔"
(بھارِ شریعت، جلد 1، صفحہ 624، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
رضاآن لائن قرآن اکیڈمی
رابطہ نمبر 03017045029

25/11/2024

الحمداللہ جامع مسجد شان مصطفی خالد روڈ ٹیول والی گلی شیخوپورہ میں نمازی بچوں میں قرعہ اندازی کر کے محمد رضوان بھائی کو تحفہ دیا گیا
اللہ پاک اس بچے اور ہم سب کو پکا نمازی بنائے آمین
آپ بھی اپنی مساجد میں بچوں کو نمازی بناو تحریک چلائیں ہو سکتا ہے آپ کی ذرہ سی کوشش سے کوئی نمازی بن کر آپ کیلئے صدقہ جاریہ کا سبب بن جائے آمین

18/11/2024

موبائل کمپنی سے ایڈوانس بیلنس حاصل کرنا کیسا؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ موبائل کمپنیاں مختلف قسم کے پیکجز دیتی رہتی ہیں تاکہ لوگ ان کی طرف مائل ہوں، ان ہی میں سے ایک پیکیج لون (Loan) کا بھی ہے۔ اس کا طریقۂ کار یہ ہوتا ہے کہ اگر آپ کے پاس بیلنس ختم ہوگیا ہے تو کمپنی یہ آفر کرتی ہے کہ آپ لون لے لیں پھر جب آپ موبائل میں بیلنس ڈلوائیں گے تو ہم نے جتنے دئیے ہیں وہ اور اتنے اوپر مزید کاٹ لیں گے اور یہ بات کسٹمر کو معلوم ہوتی ہے اور کسٹمر راضی ہوکر لَون لیتا ہے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا اس میں زیادہ پیسے کاٹنا شرعاً جائز ہے؟ بعض لوگ کہتے ہیں یہ سود ہے کیا یہ بات درست ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

مذکورہ معاملہ ہرگز سود نہیں بلکہ ایک جائز طریقہ ہے کیونکہ یہ اجارہ ہے قرض نہیں کہ یہاں کمپنی سے پیسے وصول نہیں کئے جارہے بلکہ اس کی سروس استعمال کی جارہی ہے۔ عمومی طور پر کمپنی پہلے پیسے لے لیتی ہے اور پھر سروس فراہم کرتی ہے جبکہ پوچھی گئی صورت میں کمپنی پہلے سروس فراہم کررہی ہے اور پھر پیسے وصول کررہی ہے اور یہ دونوں طریقے جائز ہیں یعنی منفعت فراہم کرنے سے پہلے عوض لے لینا بھی درست ہے اور منفعت فراہم کرنے کے بعد عوض لینا یہ بھی درست ہے۔ اگرچہ پہلی صورت میں عوض کم وصول کیا جارہا ہے اور دوسری صورت میں عوض زیادہ لیا جارہا ہے اور کمپنی کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ پیشگی سروس عام ریٹ سے ہٹ کر کچھ زیادہ قیمت پر فراہم کرے جیسے نقد و اُدھار کی قیمتوں میں فرق کرنا جائز ہوتا ہے نیز صارف کو بھی یہ بات معلوم ہے کہ بعد میں ادائیگی کی صورت میں یہ سروس مجھے عام قیمت سے ہٹ کر کچھ زیادہ قیمت پر فراہم کی جائے گی اور وہ اس بات پر راضی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

البتہ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اس سہولت کو لون (Loan) کا نام نہ دیا جائے کیونکہ اس سے یہ شبہ لاحق ہوتا ہے کہ کمپنی قرض دے کر اس پر نفع وصول کررہی ہے اور بعض لوگوں نے اسے سود سمجھ بھی لیا حالانکہ اس کو سود سمجھنا غلط ہے کیونکہ کمپنی یہاں پیسے نہیں بلکہ سروس دے رہی ہے۔

تنویر الابصار میں ہے: ’’ تملیک نفع بعوض‘‘ یعنی کسی شے کے نفع کا عوض کے بدلے مالک بنا دینا اجارہ ہے۔
(الدرالمختار مع ردالمحتار، ج9، ص32 مطبوعہ کوئٹہ)

ہدایہ میں ہے: ’’تستحق باحدی معانی ثلاثۃ اما بشرط التعجیل او بالتعجیل من غیر شرط او باستیفاء المعقود علیہ‘‘
یعنی تین میں سے ایک صورت کے پائے جانے سے مؤجر اجرت کا مستحق ہوگا، پہلے دینے کی شرط کرلے، یا بغیر شرط کے پہلے اجرت وصول کرلے یا مستاجر، اجارہ پر لی گئی چیز سے فائدہ اُٹھالے۔
(ہدایہ، ج3، ص297، مطبوعہ کراچی)

امام کمال الدین ابن ہمام رَحْمَۃُ اللّٰهِ عَلَیْه فرماتے ہیں: ’’الثمن علی تقدیر النقد الفا وعلی تقدیر النسیئۃ الفین لیس فی معنی الربا‘‘
ترجمہ: نقد کی صورت میں ثمن ایک ہزار ہونا اور اُدھار کی صورت میں دو ہزار ہونا سود کے حکم میں نہیں۔
(فتح القدیر، ج6، ص81، مطبوعہ کوئٹہ )

وَاللّٰه اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہُ اَعْلَمُ صَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلَیْهِ وَآلِهٖ وَسَلَّمَ

(دارالافتاء اہلسنت دعوتِ اسلامی)
رضا آن لائن قرآن اکیڈمی
03017045029

04/11/2024

قرآن کی قسم کھا کر توڑنے کا شرعی کفارہ کیا ہے؟

فتوی نمبر: Nor-12207

تاریخ اجراء: 29شوال المکرم1443ھ/31مئی2022ء

دارالافتاء اہلسنت

(دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے قرآن کی قسم کھائی کہ میں اپنے فلاں دوست سے بات نہیں کروں گا۔ اب زید اس سے بات کرنے لگ گیا ہے، اس صورت میں زید کو کیا کرنا ہوگا؟؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

مستقبل میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے پر قسم کھانے کو شریعت کی اصطلاح میں یمینِ منعقدہ کہتے ہیں اور یمینِ منعقدہ کے توڑنے پر کفارہ لازم آتا ہے، نیز قرآن کی قسم بھی شرعاً قسم ہے۔ اب جبکہ صورتِ مسئولہ میں دوست سے بات کرنے پر زید کی وہ قسم ٹوٹ چکی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں زید پر اس قسم کا کفارہ ادا کرنا لازم ہے۔

قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو صبح و شام دو وقت کا کھانا کھلائیں اور اس میں جن کو صبح کھانا کھلایا ان ہی کو شام میں بھی کھلائیں تب ہی کفارہ ادا ہوگایا دس مسکینوں کو متوسط درجے کے کپڑے دیں۔ البتہ کفارے کی ادائیگی میں اس بات کا بھی اختیار ہوتا ہے کہ چاہے ، تو کھانے کے بدلے میں ہر شرعی فقیر کو الگ الگ ایک صدقۂ فطر کی مقدار برابر رقم دیں۔ واضح رہے کہ ساری رقم ایک ساتھ ایک ہی فقیر کو نہیں دے سکتے بلکہ دس فقیروں کو الگ الگ دینی ہوگی یا ایک شرعی فقیر کو الگ الگ دس دن تک دینی ہوگی۔ نیز اگر کوئی شخص دس صدقہ فطر کی مقدار رقم دینے پر بھی قدرت نہ رکھتا ہو تو اس صورت میں حکم یہ ہے کہ وہ لگاتار تین دن کے روزے رکھے۔

یمین منعقدہ توڑنے پر کفارہ واجب ہوتا ہے۔ جیسا کہ فتاوٰی عالمگیری میں ہے:”ومنعقدۃ وھو أن یحلف علی أمر فی المستقبل أن یفعلہ أو لا یفعلہ وحکمہ لزوم الکفارۃ عند الحنث“یعنی قسم کی تیسری قسم یمینِ منعقدہ ہے،اور وہ یہ ہے کہ کوئی شخص کسی مستقبل کے معاملے پر قسم کھائے کہ اس کو کرے گا،یا نہیں کرے گا۔اس کا حکم یہ ہے کہ قسم توڑنے پر کفارہ لازم ہوجائے گا۔ (فتاوٰی عالمگیری،ج02،ص52،مطبوعہ پشاور)

قسم کے کفارے کے متعلق اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:”لَا یُؤَاخِذُکُمُ اللہُ بِاللَّغْوِ فِیۡۤ اَیۡمَانِکُمْ وَلٰکِنۡ یُّؤَاخِذُکُمۡ بِمَا عَقَّدۡتُّمُ الۡاَیۡمَانَ ۚ فَکَفَّارَتُہٗۤ اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیۡنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوۡنَ اَہۡلِیۡکُمْ اَوْ کِسْوَتُہُمْ اَوْ تَحْرِیۡرُ رَقَبَۃٍ ؕ فَمَنۡ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ ؕ ذٰلِکَ کَفَّارَۃُ اَیۡمَانِکُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ ؕوَاحْفَظُوۡۤا اَیۡمَانَکُمْ ؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللہُ لَکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوۡن“ترجمہ کنزالایمان:اللہ تمہیں نہیں پکڑتا تمہاری غلط فہمی کی قسموں پر ہاں ان قسموں پر گرفت فرماتا ہے جنہیں تم نے مضبوط کیا تو ایسی قسم کا بدلہ دس مسکینوں کو کھانا دینا،اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو اس کے اوسط میں سے یاانہیں کپڑے دینایاایک بردہ آزاد کرنا تو جو ان میں سے کچھ نہ پائے تو تین دن کے روزے،یہ بدلہ ہے تمہاری قسموں کا جب قسم کھاؤ اوراپنی قسموں کی حفاظت کرو اسی طرح اللّٰہ تم سے اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم احسان مانو۔(القرآن الکریم،پارہ07،سورۃ المائدہ، آیت:89)

الجوہرۃ النیرہ میں ہے :”(کفارۃ الیمین عتق رقبۃ ۔۔۔ و ان شاء کسا عشرۃ مساکین ۔۔۔ و ان شاء اطعم عشرۃ مساکین) و تجزئ فی الاِطعام التملیک و التمکین ، فالتملیک ان یعطی کل مسکین نصف صاع من بر او دقیقہ او سویقہ ، او صاعا من شعیر او دقیقہ او سویقہ ، او صاعا من تمر “یعنی قسم کا کفارہ ایک غلام آزاد کرنا ہے اور چاہے تو دس مسکینوں کو کپڑے پہنائے اور چاہے تو دس مسکینوں کو کھانا کھلائے اور کھلانے میں مالک بنانا اور قدرت دینا دونوں صورتیں کافی ہیں ۔ مالک بنانا یہ ہے کہ ہر مسکین کو آدھا صاع گندم یا اس کا آٹا یا اس کا ستو یا ایک صاع جَو یا اس کا آٹا یا اس کا ستو یا ایک صاع کھجور دے۔ (الجوھرۃ النیرۃ ، کتاب الاَیمان ، ج2 0، ص252-251 ، مطبوعہ کراچی، ملخصاً )

صدرالشریعہ علامہ مفتی محمد امجدعلی اعظمی علیہالرحمہ قسم کے کفارے کے متعلق فرماتے ہیں:”قسم کا کفارہ غلام آزاد کرنا یا دس 10مسکینوں کو کھانا کھلانا یا ان کو کپڑے پہنانا ہے یعنی یہ اختیار ہے کہ ان تین باتوں میں سے جو چاہے کرے۔ ۔۔۔اور جن مساکین کو صبح کے وقت کھلایا انھیں کو شام کے وقت بھی کھلائے دوسرے دس 10 مساکین کو کھلانے سے ادانہ ہوگا۔ اور یہ ہوسکتا ہے کہ دسوں کو ایک ہی دن کھلادے یا ہرروزایک ایک کو یا ایک ہی کو دس دن تک دونوں وقت کھلائے۔۔۔ اور کھلانے میں اباحت و تملیک دونوں صورتیں ہوسکتی ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کھلانے کے عوض ہر مسکین کو نصف صاع گیہوں یا ایک صاع جَو یا ان کی قیمت کا مالک کردے یا دس 10 روز تک ایک ہی مسکین کو ہر روز بقدر صدقہ فطر دیدیا کرے۔ ۔۔۔اگر غلام آزاد کرنے یا دس مسکین کو کھانا یا کپڑے دینے پر قادر نہ ہو تو پےدرپے تین روزے رکھے۔“ (بہار شریعت،ج02، ص305،308، مکتبۃ المدینہ، کراچی، ملتقطاً)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

11/10/2024

غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ رفع یدین کرتے تھے، تو حنفی کیوں نہیں کرتے ؟

فتوی نمبر: Grw-0174

تاریخ اجراء: 27محرم الحرام 1443ھ/08ستمبر 2021 ء

دارالافتاء اہلسنت

(دعوت اسلامی)

سوال

حضور غوث پاک شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نماز میں تکبیراتِ انتقال کے وقت رفع یدین کرتے تھے،مگر حنفی حضرات رفع یدین نہیں کرتے، حالانکہ غوث پاک کو مانتے ہیں ، اس کی کیا وجہ ہے ؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فقہی و فروعی مسائل میں امام احمد بن حنبل علیہ الرحمۃ کے مقلِّد تھے اور فقہِ حنبلی کے مطابق نماز میں تکبیراتِ انتقال کے وقت رفع یدین کرنا سنت ہے ۔ اسی وجہ سے غوثِ پاک بھی رفع یدین کیا کرتے تھے ۔ رہی بات انہیں ماننے اور ان کے سلسلے میں بیعت ہونے کی،تو یاد رہے کہ چاروں ائمہ(امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت ، امام مالک بن انس ، امام محمد بن ادریس شافعی ، امام احمدبن حنبل علیہم الرحمۃ) اور ان کے متبعین سب اہلسنت ہیں، ان میں عقیدے کے اعتبار سے کوئی اختلاف نہیں، لہٰذا ایک دوسرے سے بیعت و ارادت کا سلسلہ قائم کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ اس کا تعلق فقہی مسائل کے ساتھ نہیں، سلسلہ عالیہ قادریہ کے شجرۂ طریقت میں حنفی بزرگ بھی موجود ہیں، جیسا کہ حضرت سیدنا شیخ عبد الواحد تمیمی (المتوفی : 410ھ ) حضور غوث پاک سے پہلے کے بزرگ ہیں ،سلسلہ قادریہ کے پیشوا ہیں اور امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ کے مقلِّد یعنی حنفی ہیں ۔ ایسی اور بھی بہت سی مثالیں موجود ہیں ۔

رہی بات فقہی مسائل کی ، تو ان میں ہر شخص اپنے امام کی پیروی کرے گا ،لہذا حنفی اگرچہ قادری ہو نماز میں رفع یدین نہیں کرے گا کہ عند الاَحناف نماز میں تکبیراتِ انتقال کے وقت رفع یدین سنت نہیں ۔

امام شمس الدين ابو عبد الله محمد بن احمد الذهبي (المتوفى : 748ھ) اپنی کتاب ’’سیر اعلام النبلاء‘‘ میں سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمۃ کے تعارف میں لکھتے ہیں :’’الشيخ عبد القادر أبومحمد بن عبد اللہ الجيلي :الشيخ، الإمام، العالم، الزاهد، العارف، القدوة، شيخ الإسلام، علم الأولياء، محيي الدين، أبو محمد عبد القادر ابن أبي صالح عبد اللہ بن جنكي دوست الجيلي ، الحنبلي، شيخ بغداد"ترجمہ :شیخ عبد القادر ابو محمد بن عبد اللہ الجیلانی :شیخ ، امام ، عالم ، زاہد، عارف، پیشوا، شیخ الاسلام ، عَلَم الاولیاء ، محی الدین ابومحمد عبد القادر بن ابو صالح عبد اللہ بن جنگی دوست جیلانی ، حنبلی ، بغداد کے شیخ ہیں ۔(سیر اعلام النبلاء، جلد 20 ،صفحہ 439، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)

اسی کتاب میں امام سمعانی علیہ الرحمۃ کے حوالے سے لکھتے ہیں:’’قال السمعاني: كان عبد القادر من أهل جيلان إمام الحنابلة، وشيخهم في عصره ‘‘یعنی : امام سمعانی کہتے ہیں : شیخ عبدالقادر جیلان کے رہنے والے ہیں ، اپنے زمانے کے حنبلیوں کے امام اور ان کے شیخ ہیں ۔(سیر اعلام النبلاء،جلد 20، صفحہ 441، مؤسسۃ الرسالہ، بیروت)

امام اہلسنت ، الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن سے سوال ہو اکہ کیاحضرت قطب الاَقطاب شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ پہلے حنفی تھے ، بعد میں حنبلی ہوئے؟ تو جواباً امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے فرمایا :’’حضور ہمیشہ سے حنبلی تھے اور بعد کو جب عین الشریعۃ الکبری تک پہنچ کر منصب اجتہادِمطلق حاصل ہوا، مذہب حنبل کو کمزور ہوتا ہوا دیکھ کر اس کے مطابق فتوی دیا کہ حضور محی الدین اور دین متین کے یہ چاروں ستون ہیں، لوگوں کی طرف سے جس ستون میں ضعف آتا دیکھا اس کی تقویت فرمائی ۔‘‘ (فتاوی رضویہ ، جلد 26، صفحہ 433، رضا فاؤنڈیشن ،لاھور )

فقہِ حنبلی کے مطابق نماز میں تکبیراتِ انتقال کے وقت رفع یدین سنت ہے، جیسا کہ امام احمد بن حنبل علیہ الرحمۃ کے بیٹے عبد اللہ بن احمد علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :’’سالت ابی عمن یتقدم فی الصلوۃ : رجل یحفظ القرآن لا یرفع یدیہ اذا رکع او رجل یرفع لا یحفظ القرآن ؟ قال : یؤم القوم اقرؤھم لکتاب اللہ ، وینبغی لہ ان یرفع یدیہ ؛ لانہ سنۃ ‘‘یعنی : میں نے اپنے والد گرامی سے پوچھا کہ ایک شخص حافظ قرآن ہے، مگر رکوع میں جاتے ہوئے رفع یدین نہیں کرتا اور دوسرا شخص حافظ قرآن تو نہیں مگر رفع یدین کرتا ہے، تو ان دونوں میں سے امام کسے بنایا جائے ؟ فرمایا : قوم کی امامت وہ کروائے جو قرآن پاک کو زیادہ پڑھنے والا ہے اور اسے چاہیے کہ وہ رفع یدین کرے، کیونکہ یہ سنت ہے ۔(مسائل احمد روایۃ ابنہ عبد اللہ ،باب صفۃ الصلوۃ ، المکتب الاسلامی ، بیروت)

عند الاَحناف تکبیراتِ انتقال کے وقت رفع یدین نہیں کیا جائے گا ،اَحناف کا یہ عمل بھی کثیر احادیث سے مؤید و ثابت ہے ،یہاں فقط ایک حدیث پاک ذکر کی جاتی ہے، جسے امام ابو عیسی محمد بن عیسی ترمذی (المتوفی : 279ھ) نے اپنی جامع میں حضرت علقمہ رضی اللہ تعالی عنہ کے طریق سے نقل کیاہے :’’قال عبداللہ ابن مسعود الااصلی بکم صلاۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فصلی فلم یرفع یدیہ الافی اول مرۃ‘‘ترجمہ :حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازکی طرح نماز نہ پڑھاؤں،پھر آپ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی اور تکبیر تحریمہ کے علاوہ کہیں ہاتھ نہ اٹھائے ۔(جامع الترمذی ،ابواب الصلاۃ ،باب رفع الیدین عند الرکوع،جلد1،صفحہ59، کراچی)

مذکورہ حدیث کو روایت کرنے کے بعد حضرت امام ابو عیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’ حدیث ابن مسعود حدیث حسن وبہ یقول غیر واحد من اھل العلم من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم والتابعین وھو قول سفیان واھل الکوفۃ‘‘ترجمہ:حدیث عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ حدیث حسن ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وتابعین میں سے متعدد علماء کا یہی مذہب تھا اور امام سفیان اور علمائے کوفہ کا بھی یہی قول ہے۔(جامع الترمذی ،ابواب الصلاۃ ،باب رفع الیدین عند الرکوع،جلد1،صفحہ59، کراچی)

نیز عشرہ مبشرہ سمیت کثیر صحابہ کرام اور تابعین فقہا اسی کے قائل تھے کہ تکبیراتِ انتقال کے وقت رفع یدین نہیں کیا جائے گا، جیساکہ صاحبِ عمدۃ القاری علامہ بدر الدین عینی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:’’وروی عن ابن عباس انہ قال : ان العشرۃ الذین شھد لھم رسول اللہ بالجنۃ ماکانوا یرفعون ایدیھم الا لافتتاح الصلاۃ۔

قلت فعلی ھذا مذھب ابی حنیفۃ مذھب جماعۃ من الصحابۃ والتابعین ومن بعدھم ؛ اما من الصحابۃ : فابوبکر الصدیق ، وعمر ، و عثمان ، و علی، و طلحۃ بن عبیداللہ ، والزبیر بن العوام ، وسعد بن ابی وقاص، و سعید بن زید، و عبد الرحمٰن بن عوف، و أبوعبیدہ عامر ابن عبد اللہ بن الجراح، فھٰؤلاء العشرۃ ، و عبد اللہ بن مسعود ، و جابر ابن سمرۃ، و البراء بن عازب ، و عبد اللہ بن عباس، و عبد اللہ بن عمر ، و ابوسعید الخدری ، ومن التابعین و من بعدھم :مذھب ابراھیم النخعی، و ابن ابی لیلیٰ، و علقمۃ، والأسود، والشعبی، و ابی إسحاق، و خیثمۃ، و قیس ، والثوری، و مالک، وابن القاسم، و المغیرۃ ، و وکیع، و عاصم بن کلیب، وجماعۃ آخرین‘‘ ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔ فرماتے ہیں کہ وہ دس صحابہ جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دی سوائے تکبیر تحریمہ کے ہاتھوں کو نہیں اٹھاتے تھے ۔ میں کہتا ہوں یہی مذہب امام ابو حنیفہ کا ہے، جماعت صحابہ و تابعین اور ان کے بعد کا مذہب ہے۔ صحابہ میں سے حضرت ابوبکر صدیق ، عمر ، عثمان ، علی، طلحۃ بن عبیداللہ ، الزبیر بن العوام ، سعد بن ابی وقاص، سعید بن زید، عبد الرحمٰن بن عوف، ابو عبیدہ عامر ابن عبد اللہ بن الجراح، یہ دس عشرہ مبشرہ ہوئے ،اور عبد اللہ بن مسعود ، جابر ابن سمرۃ، البراء بن عازب ، عبد اللہ بن عباس، عبد اللہ بن عمر ، ابوسعید الخدری، جبکہ تابعین اور ان کے بعد والوں میں سے ابراھیم النخعی، ابن ابی لیلیٰ، علقمہ، اسود، شعبی، ابو اسحاق، خیثمہ، قیس ، سفیان ثوری، امام مالک، ابن القاسم، مغیرۃ ، وکیع، عاصم بن کلیب، ودیگر جماعت (رضی اللہ عنہم اجمعین ) کا مذہب ہے۔(شرح سنن ابی داود، باب رفع الدین، جلد 3، صفحہ 303،مطبوعہ ملتان)

ہر شخص فقہی مسائل میں اپنے امام کی تقلید کا پابند ہے جیسا کہ الملل والنحل میں ہے :" أن علماء الفريقين: لم يجوزوا أن يأخذ العامي الحنفي إلا بمذهب أبي حنيفة، والعامي الشافعي إلا بمذهب الشافعي‘‘ یعنی : دونوں فریق کے علما یہ جائز نہیں رکھتے کہ عامی حنفی مذہبِ ابو حنیفہ یا عامی شافعی مذہبِ شافعی کے سوا دوسرے مذہب پر عمل کرے ۔ (الملل والنحل ، جلد 2، صفحہ10 ، مؤسسۃ الحلبی ،بیروت)

امام اہلسنت ، الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں :’’امام مرشدُ الانام محمد غزالی قدس سرہ العالی احیاء العلوم شریف میں فرماتے ہیں :’’مخالفتہ للمقلد متفق علی کونہ منکرا بین المحصلین ‘‘ترجمہ : تمام منتہی فاضلوں کا اجماع ہے کہ مقلِّد کا اپنے امام مذہب کی مخالفت کرنا شنیع و واجب الانکار ہے ۔“(فتاوی رضویہ ، جلد 6، صفحہ 706، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور )
🌹خوشخبری🍁
🌸 آپ 🇵🇰پاکستان یا🌏 دنیا کے کسی بھی🛣️ ملک سے تعلق رکھتے ہیں اور اگر🪷 آپ خود یا 🌺اپنے بچوں کو🏠 گھر بیٹھے تجوید کے ساتھ🌹 قرآن پاک پڑھنا 🌻یا پڑھانا🌸 چاہتے ہیں تو ☎️رابطہ فرمائیں 🕹️نوٹ عمر کی کوئی ✨قید نہیں پہلے💫 تین دن فری کلاس🎍
🌺رضاآن لائن 🌹قرآن اکیڈمی🥀
🍁📞03017045029🌼

26/09/2024

🌹خوشخبری🍁
🌸 آپ 🇵🇰پاکستان یا🌏 دنیا کے کسی بھی🛣️ ملک سے تعلق رکھتے ہیں اور اگر🪷 آپ خود یا 🌺اپنے بچوں کو🏠 گھر بیٹھے تجوید کے ساتھ🌹 قرآن پاک پڑھنا 🌻یا پڑھانا🌸 چاہتے ہیں تو ☎️رابطہ فرمائیں 🕹️نوٹ عمر کی کوئی ✨قید نہیں پہلے💫 تین دن فری کلاس🎍
🌺رضاآن لائن 🌹قرآن اکیڈمی🥀
🍁📞03017045029🌼

Want your school to be the top-listed School/college in Sheikhupura?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Sheikhupura