ﺍﯾﮏ ﮔﺎؤﮞ ﮐﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺴﺠﺪ ﻧﮯ ﻋﯿﺴﺎﺋﯿﺖ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﯽ۔ ﯾﮧ ﺧﺒﺮ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺁﮒ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯽ۔ ﺍﺱ ﮔﺎؤﮞ ﮐﮯ ﺩﯾﮕﺮ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺷﺨﺼﯿﺎﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺣﺐ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﺍﺻﻞ ﻭﺟﮧ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﯽ ﺟﺎ ﺳﮑﮯ۔ ﺩﻭﺭﺍﻥِ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺻﺎﺣﺐ ﺟﻮ کہ ﻋﯿﺴﺎﺋﯿﺖ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺍﭘﻨﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻣﺠﮭﮯ ﺻﺒﺢ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺳﮯ ﺩﯾﺮ ﮨﻮ گئی۔ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﻗﺎﻣﺖ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ، ﻭﺿﻮ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﻮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺩﯾﺮ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻘﺘﺪﯼ ﻟﻌﻦ ﺗﻌﻦ ﮐﺮﺗﮯ ﺍس لئے ﺳﻮﭼﺎ کہ ﺁﺝ ﻭﺿﻮ کے بغیر ﮨﯽ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮐﺮﺍ ﺩﻭﮞ، چنانچہ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮐﯿﺎ۔ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﻑِ ﺧﺪﺍ ﺑﮩﺖ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻋﺬﺍﺏ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﮩﻠﺖ ﺩﮮ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﺬﺍﺏ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ۔ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ کئی ﻣﺮﺗﺒﮧ ﮐﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﺬﺍﺏ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ۔ ﺍﺏ تو ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﺑﻦ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ بغیر ﻭﺿﻮ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮐﺮﻭﺍﻧﺎ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺑﻦ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﺒﮑﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻋﺬﺍﺏ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ۔ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻨﻘﯿﺪ، ﻧﺎﺭﺍﺿﮕﯽ ﯾﺎ ﺍﺻﻼﺡ ﻧﮧ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ۔ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺁﺫﺍﻥ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻏﺴﻞ ﮐﯽ ﻓﺮﺿﯿﺖ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ حالت جنابت میں ہی ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮐﺮﺍ ﺩﯼ۔ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﺬﺍﺏ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ ۔۔۔
ﯾﻮﮞ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﺎﺩﺕ ﺑﻦ گئی ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮے ﺩﻝ ﻭ ﺩﻣﺎﻍ ﺳﮯ ﺧﻮﻑ ﺧﺪﺍ ﺟﺎﺗﺎ ﺭﮨﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺻﺒﺢ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ لئے ﺍﭨﮭﻨﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﻋﯿﺴﺎﺋﯿﺖ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﻮﮞ، یہ روز روز صبح اٹھنے سے تو جان چھوٹ جائے گی۔
ﯾﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﯿﺴﺎﺋﯿﺖ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﯽ ﻣﮕﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﺬﺍﺏ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ ... ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺍﮦ ﻣﺨﻮﺍﮦ ہی اللہ کے عذاب سے ﮈﺭﺗﺎ ﺭﮨﺎ اور لوگوں کو ڈراتا رہا ۔۔۔
ﮔﺎؤﮞ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺑﺎﺁﻭﺍﺯ ﺑﻠﻨﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﮐﺒﺮ کہنے لگے اور ﺍﺳﺘﻐﻔﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ۔ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺰﺭﮒ ﺑﻮﻟﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﻋﺬﺍﺏ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﻧﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺼﻠﯽٰ، ﺩﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﮑﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﮨﯽ ﭼﮭﯿﻦ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﯼ ﺁﺧﺮﺕ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ۔۔۔
دوستو ۔۔۔ !!!
ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻋﺬﺍﺏ ﭘﺘﮭﺮوں ﮐﯽ ﺑﺎﺭﺵ، ﺯﻟﺰﻟﮧ، ﺁﻧﺪﮬﯽ، ﻗﺤﻂ ﺳﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮨﻢ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﻌﻤﺖ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺪﻭﻟﺖ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﺕ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮐﺮ کے ﺍﺑﺪﯼ ﺧﺴﺎﺭﮮ ﮐﺎ ﺳﻮﺩﺍ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺟﯿﺴﺎ ﮐﮧ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺷﻞ ﻣﯿﮉﯾﺎ ﮐﮯ ﻋﺬﺍﺏ ﺳﮯ ﻧﯿﮑﯽ ﮐﺮﻧﮯ کی ﻃﺎﻗﺖ ﭼﮭﻦ ﮔﺌﯽ۔
ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻣﺬﮨﺐ ﻓﺎﺭﻍ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺫﮐﺮ ﺍﺫﮐﺎﺭ، ﻭﺿﻮ، ﺗﺴﺒﯿﺤﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ، ﻣﮕﺮ ﮨﻢ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﻧﯿﭧ ﭘﯿﮑﺞ ﮐﺮﻭﺍ ﮐﺮ ﺍﺫﮐﺎﺭ، ﺳﻨﻦ، ﻧﻮﺍﻓﻞ ﺗﻮ ﺩﻭﺭ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻓﺮﺍﺋﺾ ﻭ ﻭﺍﺟﺒﺎﺕ ﺗﺮﮎ ﮐﺮ کے ﻭاﭨﺲ ﺍﭖ ﺍﻭﺭ ﻓﯿﺴﺒﮏ ﭘﺮ ﻟﮕﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﺍﯾﮏ ﻧﻌﻤﺖ ﮐﯽ ﺳﯽ ﭼﯿﺰ ﺁ ﮔﺌﯽ ہے۔ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﺬﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﮨﻢ ﺳﮯ ﻧﯿﮑﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﭼﮭﻨﯽ ﺟﺎ ﭼﮑﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔
ﺟﮩﺎﮞ ﭼﻠﺘﮯ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﺩﺭﻭﺩ ﻭ ﺳﻼﻡ ﺳﮯ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦِ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﻤﺘﺎﺯ ﮨﻮﺍ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺳﺘﺘﻐﻔﺎﺭ ﺳﮯ ﺑﺨﺸﺶ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ، ﺍﺫﮐﺎﺭ ﺳﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﻨﻮﺩﯼ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ ۔۔۔ ﻭﮨﺎﮞ ﺍﺏ ﻻﻧﮓ ﭨﺎﮎ ﭨﺎﺋﻢ ﺳﮯ ﻏﯿﺒﺖ، ﭼﻐﻠﯽ، ﺑﮩﺘﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﻓﻀﻮﻟﯿﺎﺕ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺁﭨﮫ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﻟﮧ ﺟﯽ ﺑﯽ ﮐﮯ ﻣﯿﻤﻮﺭﯼ ﮐﺎﺭﮈ ﺁﮈﯾﻮ ﺍﻭﺭ ﻭﯾﮉﯾﻮ ﮔﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﯿﺲ ﭘﯿﺴﮯ ﺩﮮ کر ﮐﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ لئے ﺳﯿﺴﮧ ﺍﻭﺭ ﺟﮩﻨﻢ ﮐﯽ ﺁﮒ ﺳﺎﻧﭗ ﺍﻭﺭ ﺑﭽﮭﻮ لئے ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﭘﮭﻮﻟﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺎﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﻤﺎﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻋﺬﺍﺏ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ ۔۔۔
ﻗﯿﻤﺘﯽ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ، ﮐﻤﭙﻮﭨﺮ، لیپ ﭨﺎﭖ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮨﻢ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﭘﮭﻮﻟﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺎﺗﮯ، ﺟﺒﮑﮧ آﺫﺍﻥ، ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﺍﻭﺭ ﺑﺰﺭﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮨﺎ ﭘﮑﺎﺭنے ﺍﻭﺭ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﭘﺮ ﺳﮑﺮﯾﻦ ﺳﮯ ﭼﭙﮏ ﮐﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﻋﺬﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ ۔۔۔
ﺟﮩﺎﮞ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﺮﯾﻢ ﮐﯽ ﺗﻼﻭﺕ ﺳﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻨﻮﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﻑِ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮩﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﺖ ﮐﯽ ﺁﯾﺎﺕ ﭘﺮ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺍ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺏ ﭨﯿﻠﯽ ﻭﯾﮋﻥ ﮐﯽ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﻧﺤﻮﺳﺖ ﮔﺎﻧﮯ ﺑﺠﺎﻧﮯ ﺑﮯ ﭘﺮﺩﮔﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﺠﻠﯽ ﮐﮯ ﺍﺻﺮﺍﻑ ﺳﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﮈﺭﺍﻣﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﻠﻤﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﯿﻦ ﭘﺮ ﺭﻧﺠﯿﺪﮦ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻧﻢ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﺬﺍﺏ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ ۔۔۔
ﺍﻟﻤﺨﺘﺼﺮ ... ﺍﭘﻨﮯ ﺭﻭﺯﮦ ﻣﺮﮦ ﮐﯽ ﻣﺼﺮﻭﻓﯿﺎﺕ ﮐﻮ ﺧﺪﺍﺭﺍ ﺍﯾﮏ ﻋﻘﻠﻤﻨﺪ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻋﻤﻞ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺳﮯ ﻧﻈﺮﺛﺎﻧﯽ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮧ ﺁﺧﺮﯼ ﻋﺬﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ. ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﮨﻞ ﻭ ﻋﯿﺎﻝ کی ﺁﺧﺮﺕ ﮐﯽ ﻓﮑﺮ
ﮐﺮﯾﮟ ۔
ﺍﻟﻠﻬﻢ ﺍﻧﺎ ﻧﺴﺎﻟﻚ ﺍﻳﻤﺎﻧﺎ ﻛﺎﻣﻼ ﻭﻟﺴﺎﻧﺎ ﺫﺍﻛﺮﺍ ﺍﻟﻠﻬﻢ ﻭﻓﻘﻨﺎ ﻟﻤﺎ ﺗﺤﺐ ﻭﺗﺮﺿﻰ ۔
The Muslim Revival School System Sheikhupura
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from The Muslim Revival School System Sheikhupura, School, Rana Street, Sheikhupura.
*اپنی غلطی کا اعتراف کریں اور تکبر سے بچیں۔*
بہت سی مشکلات ایسی ہیں جن کی وجہ دو بھائیوں کی عداوت ایک دو سال،کئ برس یا ساری عمر جاری رہتی ہیں۔اس لئے اس مسئلے کا آسان ترین حل یہ ہے کہ ایک بھائی دوسرے سے کہ دے:
*"غلطی میری تھی ۔ میں معذرت کرتا ہوں۔"*
نفرت کی چنگاری بجھانے میں جلدی کیجئے، قبل اس سے کہ ان چنگاریوں آگ بھڑک اٹھے اور سب کچھ خاکستر کردے۔
*" مجھے افسوس ہے۔" قصور میرا تھا۔" "آپ کا دل صاف ہے۔"*
ہم انکسار اور تواضع کا مظاہرہ کرتے ہوئے لوگوں سے ایسے الفاظ کہنا سیکھ جائیں تو زندگی آسان اور خوشگوار ہوجائے!
دو جلیل القدر صحابہ ابوذر اور بلال رضی اللہ عنہما کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہوگیا ۔ *ابوذر رضی اللہ عنہ* نے غصہ میں *سیدنا بلال رضی اللہ عنہ* کو ابن السوداء(کالی کلوٹی حبشی کا بیٹا ) کہ دیا۔
بلال رضی اللہ عنہ نے اس کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی۔ آپ نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو بلایا اور دریافت کیا:
*"کیا آپ نے بلال کو گالی دی؟"*
ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں، دی۔"
فرمایا:
*" تو آپ نے ان کی والدہ کا ذکر کیا ہے؟"*
کہا:" یا رسول اللہ! جو شخص لوگوں سے گالم گلوچ کرتا ہے، اس کے والدین کا ذکر کیا ہی جاتا ہے۔"
آپؐ نے فرمایا : *" آپ میں جاہلیت ہے۔"*
ابوذر رضی اللہ عنہ کا چہرہ پھیکا پڑگیا، بولے :" کیا بڑھاپے کی اس عمر میں بھی؟"
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
*"ہاں۔"*
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ماتحتوں سے برتاؤ کا طریقہ سمجھاتے ہوئے فرمایا:
*" جنھیں اللہ نے تمھارے ماتحت کیا ہے وہ تمہارے بھائی ہی ہیں۔ جس کسی کا بھائی اس کا ماتحت ہو وہ اسے اپنا کھانا کھلائے اور اپنا لباس پہنائے، اس کے بس سے باہر کا کام نہ کہے، اگر کوئی چارہ نہ ہو تو ایسے کام میں اس کی مدد کرے"*
( السنن (الکبری للبیھقي : 7/8, وصحیح مسلم، حدیث : 1661۔)
یہ سن کر ابوذر رضی اللہ عنہ جا کر بلال رضی اللہ عنہ سے ملے ، معذرت کی اور بلال رضی اللہ عنہ کے سامنے زمین پر بیٹھ کر اپنا گال ننگے پرش پر رکھا اور کہا:
" بلال! اپنا پاؤں میرے گال پر رکھ دو۔"
صحابہ کرام کا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کے باعث ، یہی مزاج تھا۔ وہ نفرت کی آگ بھڑکنے سے پہلے ہی اسے بجھانے کی کوشش کرتے تھے۔ اگر بالفرض آگ بھڑک اٹھتی تو اسے مزید پھیلنے سے روکتے۔
ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے درمیان ذرا تلخ کلامی ہوگئی۔ عمر ناراض ہو کر چل دیئے۔
ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ندامت ہوئی اور اس خدشے کے پیش نظر کہ معاملہ بڑھ جائے گا، عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے پیچھے گئے اور کہتے رہے:
*عمر ! مجھے معاف کردو۔"*
عمر نے مڑ کر نہیں دیکھا۔ ابوبکر معذرت کرتے بےچارے پیچھے پیچھے جاتے رہے۔ عمر گھر پہنچے اور اندر جاکر دروازہ بند کرلیا۔
ابوبکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے ۔ آپ نے انھیں دور سے آتے دیکھا،چہرے کا رنگ بدلا ہوا پایا تو فرمایا:
*"لو، آپ کا یہ صاحب تو کسی مشکل میں گرفتار ہے۔"*
ابوبکر رضی اللہ عنہ قریب آئے اور خاموشی سے بیٹھ گئے۔ چند لمحے ہی گزرے ہونگے کہ عمر رضی اللہ عنہ کو بھی اپنے رویے پر ندامت کااحساس ہوا۔ ان لوگوں کے دل روشن تھے۔
عمر بھی گھر سے نکلے اور کشاں کشاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں چلے آئے۔ سلام عرض کیا اور آپ کی جانب بیٹھ گئے۔ ساری بات بتائی کہ کیسے انھوں نے ابوبکر سے بے رخی برتی اور ان کی معذرت قبول نہ کی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آگیا۔ ابوبکر نے آپ کے چہرے پر ناراضی کے آثار دیکھے تو کہنے لگے:
*"یا رسول اللہ ! واللہ ! میرا ہی قصور تھا۔ غلطی میری ہی تھی۔"*
یوں وہ عمر کا دفاع کرنے لگے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
*" کیا آپ میری خاطر میرے صاحب کا پیچھا چھوڑتے ہیں؟*کیا آپ میری خاطر میرے صاحب کا پیچھا چھوڑتے ہیں؟*
میں نے کہا تھا: " اے لوگوں! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔"
آپ لوگوں نے جوابا کہا تھا:
*"تم جھوٹ کہتے ہو۔ اور ابوبکر نے کہا تھا: "آپ سچ کہتے ہیں۔"*
( صحیح البخاری،حدیث:3661.
غلطی کا اعتراف کرنے سے آدمی چھوٹا نہیں ہوجاتا۔انکسار اور تواضع کا تقاضا بھی یہی ہے کہ انسان ہٹ دھرمی کے بجائے غلطی کا اعتراف کرنا سیکھے۔
حدیث میں آیا ہے:
*"جو شخص اللہ تعالی کے لئے تواضع اختیار کرتا ہے، اللہ اسے بلند کردیتاہے۔*
(" صحیح مسلم،حدیث:2588.)
*ایک نظر ادھر بھی*
*" اپنی غلطی کا اعتراف کرنا بڑاپن ہے۔"*
ماخوذ:زندگی سے لطف اٹھائیے ،دکتورمحمد عبدالرحمن العریفی۔
*کرونا وائرس کی آزمائش میں خوف وہراس نہیں ایمان و صبر سے کام لیجئیے*
بقلم
*عمران محمدی*
عفا اللہ عنہ
*=============*
ہمارے استاذ گرامی جناب نصر جاوید صاحب حفظہ اللہ فرماتے ہیں جن دنوں امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا پھر تھوڑے وقت کے بعد عراق پر حملہ کردیا دیکھتے ہی دیکھتے مسلمانوں کی دو عظیم حکومتیں تاراج ہوگئیں تیزی سے مسلمانوں کا قتل عام ہورہا تھا ہر طرف مایوسی کا سماں بندھا ہوا تھا
ابتلاء و آزمائش کے ان حالات میں کیفیت یہ بن گئی تھی کہ بہت سے لوگوں کی ایمانی کیفیت ہچکولے کھانے لگی
وہ فرماتے ہیں، کسی پروگرام کے اختتام پر ایک شخص نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا مسلمانوں کا کوئی خدا موجود بھی ہے (جو ان کی مدد کرسکے) یا نہیں (العیاذ باللہ)
اور دوسری طرف کچھ وہ بھی تھے جو پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ایمان ویقین کے ساتھ امریکہ کا ڈٹ کر مقابلہ کررہے تھے
دیکھیں آزمائشوں، مصیبتوں اور پریشانیوں میں ایمان کیسے لڑکھڑاتے، ڈولتے، ڈگمگاتے اور کیسے بنتے، سنورتے اور مضبوط ہوتے ہیں
یہ آزمائشیں تو ہوتی ہی پرکھنے کے لیے ہیں
الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ
وہ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا، تاکہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے اور وہی سب پر غالب، بے حد بخشنے والا ہے۔
الملك : 2
*آزمائش کا سامنا کرنے والے لوگ دو طرح کے ہوتے ایک وہ جو صبر شکر کرتے ہوئے اپنے ایمان و یقین کو مضبوط کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے رب العزت کو ناراض کرنے والی باتیں کرتے ہیں*
*غزوہ احزاب کی آزمائش اور لوگوں کی دو مختلف آراء*
احزاب کے حالات ہمارے سامنے ہیں اتنی سخت آزمائش تھی کہ خود اللہ رب العزت نے اس کو یوں بیان کیا
إِذْ جَاءُوكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا
جب وہ تم پر تمھارے اوپر سے اور تمھارے نیچے سے آگئے اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل گلوں تک پہنچ گئے اور تم اللہ کے بارے میں گمان کرتے تھے، کئی طرح کے گمان۔
الأحزاب : 10
هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا
اس موقع پر ایمان والے آزمائے گئے اور ہلائے گئے، سخت ہلایا جانا۔
الأحزاب : 11
اس آزمائش کا سامنا کرنے والے بے صبرے، بے شکرے اور منافق لوگ کہنے لگے
مَا وَعَدَنَا اللہُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا
اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے محض دھوکا دینے کے لیے وعدہ کیا تھا۔
الأحزاب : 12
جبکہ اسی آزمائش کا سامنا کرنے والے صابر وشاکر مومن لوگ کہنے لگے
هَذَا مَا وَعَدَنَا اللہُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللہُ وَرَسُولُهُ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيمَانًا وَتَسْلِيمًا
یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور اللہ اوراس کے رسول نے سچ کہا، اور اس چیز نے ان کو ایمان اور فرماں برداری ہی میں زیادہ کیا۔
الأحزاب : 22
*مومن ہر حال میں صبر شکر کرتا ہے*
صحيح مسلم میں روائت ہے صہیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ
:"مومن کا معاملہ عجیب ہے۔اس کا ہرمعاملہ اس کے لیے بھلائی کا ہے۔اور یہ بات مومن کے سوا کسی اور کومیسر نہیں۔اسے خوشی اور خوشحالی ملے توشکر کرتا ہے۔اور یہ اس کے لیے اچھا ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی نقصان پہنچے تو(اللہ کی رضا کے لیے) صبر کر تا ہے ،یہ(بھی) اس کے لیے بھلائی ہوتی ہے ۔"
*صبر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ خوشخبری سناتے ہیں*
فرماتے ہیں
وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ
اور یقینا ہم تمھیں خوف اور بھوک اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی میں سے کسی نہ کسی چیز کے ساتھ ضرور آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری دے دے۔
البقرة : 155
ایسے حالات میں صبر و صلوۃ سے کام لینے والے کو نصرت و ثبات کا مژدہ سنایا گیا ہے
جیسا کہ اللہ نے سورۃ البقرہ آیت (٤٥) میں فرمایا ہے : (واستعینوا بالصبر والصلوۃ) کہ اے مسلمانو ! تم لوگ صبر اور نماز کے ذریعہ اللہ سے مدد مانگو
*خوف ہراس کا ماحول مت بنائیں*
گلی محلے میں
یا اعزہ واقربہ میں
یا دوست و احباب میں کرونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی دو چار اموات سے گھبرا جاتے ہیں
جھٹ سے معاشرے میں ایسی ایسی سنسنی خیز خبریں پھیلا دی جاتی ہیں کہ ہر کوئی ڈرا سہما محسوس ہونے لگتا ہے
اسلامی تعلیمات سے عاری میڈیا جلتی پر تیل کا کام کرتا ہے جھوٹی خبریں پھیلا پھیلا کر پوائنٹ سکورنگ کی دوڑ میں شامل ہے جس کے نتیجے میں معاشرے میں خوف و ہراس پھیل جاتا ہے
یہی وجہ ہے کہ کرونا کا مریض اچھوت بن کر رہ گیا ہے اسے کوئی ڈاکٹر ہاتھ لگاتا ہے نہ کوئی رضا کار
بیمار ہوتے ہی ہر شخص اپنے آپ کو مایوسی کے عالم میں موت کے منہ میں دیکھتا ہے
*کثرت اموات اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا اسوہءحسنہ*
ہم نے شاید آج تک اپنی آنکھوں سے اکٹھی اموات اتنی تعداد میں نہیں دیکھی جتنی صحابہ دیکھ چکے ہیں
غزوہ احد میں آنا فانا 70 صحابہ شہید ہوگئے اور اتنے ہی زخمی بھی ہوئے لیکن وہ کمال جواں حوصلہ لوگ تھے کہ چہروں پر اطمینان اور مسکراہٹ بدستور جاری تھی محال ہے کہ ان میں سے کسی کے قریب سے بھی موت کا خوف گزرا ہو، ان کی صفوں میں کوئی کھلبلی مچی ہو یا خوف و ہراس میں حواس باختہ ہوئے ہوں
اسی شام کا واقعہ ہے، ابھی راستے میں ہیں، اپنے گھروں کو واپس بھی نہیں آئے خبر ملتی ہے کہ دشمن پلٹ کر حملہ کرنا چاہتا ہے زبانِ حال و مقال سے فرمانے لگے حسبنا اللہ ونعم الوكيل نعم المولى ونعم النصير
*بئر معونہ کا دعوتی مشن*
70 صحابہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دعوتی مشن پر روانہ کیا راستے میں دشمن نے غدر کرتے ہوئے دھوکے سے سب کو شہید کر دیا خبر مدینہ میں پہنچی بہت بڑی تعداد تھی بیک وقت اتنے ساتھیوں کا بچھڑ جانا بہت بڑا صدمہ تھا
لیکن پہاڑ کی طرح مضبوط حوصلوں کو سلام، ایمان لرزے نہ ہی جذبات ماند پڑے ساتھیوں کے بچھڑنے کا غم ضرور تھا لیکن مدینہ کی فضاء حوصلے سے یوں کی توں بھری رہی اس کے بعد بھی دعوتی و جہادی قافلے مشکًَل ہوتے رہے
رکے نہ تھمے،
بکے نہ جھکے،
ڈرے نہ سہمے
کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ موت کا وقت مقرر ہے وہ آگے ہوگا نہ پیچھے
*جنگ یمامہ کا سانحہ اور صحابہ کی فکر*
جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے 700 سے زائد صحابہ شہید ہو گئے سب کے سب قرآن کے حافظ، عالم وقاری تھے 700 قیمتی لاشیں آنکھوں کے سامنے پڑی ہوئی تھیں حقیقت تھی کوئی پوائنٹ سکورنگ یا میڈیا ریٹنگ نہیں تھی
مگر اس سب کے باوجود کسی پر موت کا خوف طاری نہ ہوا اس کے بعد بھی جنگیں ہوئیں کبھی کسی نے پست ہمت نہیں دکھائی
ہاں کثیر تعداد میں اموات دیکھ کر صحابہ کو ایک فکر لاحق ہوئی تھی اور وہ ہماری فکر سے بالکل جدا فکر تھی
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ امیرالمومنین ابو بكر الصديق رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے عرض کیا اے امیر
إِنَّ الْقَتْلَ قَدْ اسْتَحَرَّ يَوْمَ الْيَمَامَةِ بِالنَّاسِ وَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِالْقُرَّاءِ فِي الْمَوَاطِنِ فَيَذْهَبَ كَثِيرٌ مِنْ الْقُرْآنِ إِلَّا أَنْ تَجْمَعُوهُ وَإِنِّي لَأَرَى أَنْ تَجْمَعَ الْقُرْآنَ
جنگ یمامہ میں بہت سے قراء شہید ہو گئے ہیں اور مجھے ڈر لگتا ہے کہ اگر مزید جگہوں میں ایسا ہوا تو قرآن کا بہت سا حصہ ضائع ہو جائے گا لہذا آپ قرآن کو جمع کرنے کا اھتمام کریں
ابوبکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے
كَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
میں وہ کام کیسے کروں جو نبی علیہ السلام نے نہیں کیا
تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا
هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ
قسم اللہ کی یہ خیر ھے
ابو بکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ يُرَاجِعُنِي فِيهِ حَتَّى شَرَحَ اللَّهُ لِذَلِكَ صَدْرِي وَرَأَيْتُ الَّذِي رَأَى عُمَرُ
عمر مسلسل میرے ساتھ تکرار کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرا سینہ کھول دیا اور میں نے وہی سمجھا جو عمر کہہ رہے تھے
بخاري
*موت کا وقت مقرر ہے*
یہ یقین کرلیں کہ موت کا وقت مقرر ہے اور یہ آگے پیچھے نہیں ہوسکتا
اور یہ بھی یقین کرلیں کہ کرونا وائرس کا موت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اس کے بغیر بھی موت آ سکتی ہے
کتنے لوگ ایسے ہیں جو کرونا وائرس کا شکار ہوئے اور پھر صحت مند بھی ہوگئے اور کتنے ایسے ہیں جو کرونا کے بغیر ہی فوت ہو گئے
*زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے*
سنن ترمذی کی 2516 نمبر روایت ہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا کہ آپ نے مجھے فرمایا
يَا غُلَامُ إِنِّي أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْكَ احْفَظْ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلْ اللَّهَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوْ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ وَلَوْ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ رُفِعَتْ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتْ الصُّحُفُ
اے لڑکے! بیشک میں تمہیں چنداہم باتیں بتلارہاہوں: تم اللہ کے احکام کی حفاظت کرو،وہ تمہاری حفاظت فرمائے گا، تم اللہ کے حقوق کا خیال رکھو اسے تم اپنے سامنے پاؤ گے، جب تم کوئی چیز مانگو توصرف اللہ سے مانگو، جب تو مدد چاہو توصرف اللہ سے مدد طلب کرو، اور یہ بات جان لو کہ اگر ساری امت بھی جمع ہوکرتمہیں کچھ نفع پہنچانا چاہے تو وہ تمہیں اس سے زیادہ کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ تمہیں کچھ نقصان پہنچانے کے لئے جمع ہوجائے تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچاسکتی جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے، قلم اٹھالیے گئے اور (تقدیر کے)صحیفے خشک ہوگئے ہیں '
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
*کراچی میں کریش ہونے والے جہاز کی مثال*
کرونا وائرس سے احتیاط کرتے ہوئے 150 کی بجائے 90 افراد کو سوار کیا گیا لیکن رب العالمین کے فیصلے کچھ اور تھے لینڈ کرنے سے صرف ایک دو منٹ پہلے جہاز کریش کرگیا ساری دنیا نے دیکھا خوفناک وڈیو مناظر سامنے آئے ایک لمحے میں سب مسافر ہلاک ہوگئے صرف دو کو بچا کر رب العالمین نے دنیا کو پیغام دیا کہ زندگی اور موت کا مالک کرونا وائرس نہیں بلکہ وہ ذات ہے جس کے ہاتھ میں کرونا سمیت ہر چیز کا کنٹرول ہے
*یونس علیہ السلام کی مثال*
مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے زندگی کی سانسیں بحال رکھنے کے لیے بظاہر کوئی سبب موجود نہیں ہے
خوراک نہیں ہے
ہوا نہیں ہے
پانی نہیں ہے
اندھیرا ہے
قید ہے کوئی پرسان حال نہیں ہے
موت ہی موت نظر آرہی ہے
یقینی موت
مگر اللہ تعالیٰ بچانا چاہتے ہیں جس کے ہاتھ میں موت ہے وہ ابھی مارنا نہیں چاہتا
یونس علیہ السلام نے اس حالت میں اپنے رب کو پکارا پھر اللہ تعالیٰ نے بچا کر دکھایا اور دنیا نے دیکھا
*عیسی علیہ السلام کی مثال*
لوگ آپ کے قتل کے درپے ہو گئے گھر کا محاصرہ کر لیا گیا سب مارنے والے کوئی مددگار نہیں سب دشمن کوئی دوست نہیں
مگر اللہ تعالیٰ جوکہ فعال لما یرید اور علی کل شیئ قدیر ہے، عیسی علیہ السلام کو بچانا چاہتے تھے لوگوں کے بیچوں بیچ زندہ آسمان کی طرف اٹھا لیا
*موسی علیہ السلام کی مثال*
جن دنوں موسی علیہ السلام پیدا ہوئے اس وقت فرعون بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کر رہا تھا موسی علیہ السلام پیدا ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی والدہ محترمہ کو حکم دیا کہ اس بچے کو سمندر میں پھینک دے والدہ نے بحکم الہی بچے کو صندوق میں بند کیا اور سمندر میں پھینک دیا
اب عقل کی کروڑ دلیلیں یہی کہتی ہیں کہ ممکن ہی نہیں کہ ایسی کیفیت میں نومولود زندہ بچ سکے
بھوک
پیاس
بند صندوق میں آکسیجن کی کمی
پانی کے ہچکولے
سورج کی دھوپ
پانی کی ٹھنڈک
ڈوبنا
دشمن کا تیرتے پانی سے پکڑ کر قتل کر دینا
الغرض کتنے اسباب تھے جو موسی علیہ السلام کو موت کی نیند سلا سکتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ تھے کہ موسی علیہ السلام کو بچانا چاہتے تھے پھر ایسا ہی ہوا جس فرعون نے ایک موسی کے ڈر سے ہزاروں بچے قتل کروائے تھے اسی فرعون کے گھر میں اللہ تعالیٰ نے موسی کی پرورش کا ساماں کردیا
وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
يوسف : 21
*یوسف علیہ السلام کی مثال*
دس بھائی اکٹھے ہو کر نہتے یوسف کو قتل کرنے کے لیے لے گئے
جنگل ہے
یوسف اکیلے ہیں
کوئی مددگار نہیں ہے
مقابلے میں دس گھبرو جوان ہیں
کنویں میں پھینک دیتے ہیں
کنواں گہرا ہے
باہر نکلنے کا کوئی چارہ نہیں ہے
خوراک، رہائش، سیفٹی، سیکیورٹی کچھ بھی نہیں
بظاہر یقینی موت ہے
لیکن
جس کے ہاتھ میں موت ہے اسے کچھ اور منظور ہے
گہرے کنویں سے، جہاں ہرطرف موت کے آثار نظر آرہے تھے، بچا لیا
اور شاہی تخت پر جہاں موت دور دور نظر نہیں آرہی تھی موت کی نیند سلا دیا
یہ میرا رب ہے
لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ
اس سے نہیں پوچھا جاتا اس کے متعلق جو وہ کرے اور ان سے پوچھاجاتا ہے۔
الأنبياء : 23
*سلیمان علیہ السلام کی وفات*
اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام کی موت کا تذکرہ فرمایا ہے، یہ بتانے کے لیے کہ موت سے کوئی نہیں بچ سکتا، اگر اس سے کوئی بچتا تو سلیمان علیہ السلام ضرور بچ جاتے، جن کے پاس بہت عظیم قوتیں تھیں۔
سلیمان علیہ السلام کی وفات اس حال میں ہوئی کہ وہ اپنی لاٹھی پر ٹیک لگا کر کھڑے تھے۔ جنّات ان کاموں میں مصروف تھے جن کا حکم انھیں سلیمان علیہ السلام نے دے رکھا تھا، انھیں معلوم نہیں ہو سکا کہ سلیمان علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور وہ بدستور کام میں جتے رہے۔ دیمک ان کی لاٹھی کو اندر سے کھاتی رہی، جب لاٹھی اندر سے کھوکھلی ہو گئی اور سلیمان علیہ السلام کا بوجھ برداشت نہ کر سکی تو وہ گر پڑے۔ تب جا کر لوگوں اور جنّوں کو ان کی وفات کا پتا چلا۔
فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَى مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنْسَأَتَهُ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ أَنْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ
پھر جب ہم نے اس پر موت کا فیصلہ کیا تو انھیں اس کی موت کا پتا نہیں دیا مگر زمین کے کیڑے (دیمک) نے جو اس کی لاٹھی کھاتا رہا، پھر جب وہ گرا تو جنوں کی حقیقت کھل گئی کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلیل کرنے والے عذاب میں نہ رہتے۔
سبأ : 14
*سبحان اللہ، یہ کرونا وائرس کیا چیز ہے اللہ تعالیٰ چاہیں تو جلتی آگ سے ابراہیم علیہ السلام کو زندہ بچا لیں اور چاہیں تو سکون سے لاٹھی کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑے سلیمان علیہ السلام کو موت کی آغوش میں لے لیں*
*نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور زہریلا گوشت*
ایک یہودی عورت نے زہریلے گوشت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی آپ اس کی دعوت پر تشریف لے گئے آپ نے بھی کھایا آپ کے اصحاب نے بھی کھایا آپ کا ایک ساتھی موقعہ پر فوت بھی ہوگیا
*غور کریں ایک ہی زہر ہے کھانے والوں نے بیک وقت کھایا ہے لیکن موت اسی کو آئی ہے جس کا وقت آگیا ہےمعلوم ہوا جس طرح ہر زہر کھانے والے کو ضروری نہیں کہ موت ہی آئے اسی طرح ہر کرونا کے مرض میں مبتلا ہونے والا لازم نہیں کہ ضرور مر کر ہی رہے گا*
*2005 کا زلزلہ کسے یاد نہیں ہے*
کیا قیامت خیز منظر تھا
آنا فانا ایک منٹ سے کم وقت صرف 52 سیکنڈ میں ایک لاکھ انسانوں کی موت واقع ہوئی تھی
دنیا کی تاریخ میں اتنی تھوڑی مدت میں اتنی بڑی تعداد میں اموات کا شائد ہی پہلے کوئی واقعہ گزرا ہو
ذرا سوچیں کیا کبھی انہوں نے کرونا وائرس کا سوچا بھی ہوگا شاید کہ ان میں سے کسی نے زندگی بھر کبھی اس وبا کا نام بھی نہیں سنا ہوگا
لیکن وہ مرگئے سب کے سب مرگئے ہم نے بھی مرنا ہے آج نہیں تو کل ہماری بھی باری آ رہی ہے کرونا تو ایک معمولی سی چیز ہے اللہ تعالیٰ کے پاس موت کے ہزارہا طریقے ہیں
*ہمارا کام ہے اس موت کی تیاری کریں*
ہمیں موت کیسے آنی ہے یہ اللہ کے علم میں ہے
جیسے بھی آنی ہے یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے
ہمارا کام یہ ہے کہ اسلام اور ایمان کی حالت میں موت آنی چاہیے
فرمایا
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو، جیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تم ہرگز نہ مرو، مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔
آل عمران : 102
چونکہ موت کا علم ہی نہیں کب آ جائے، اس لیے موت آنے تک ہر وقت اللہ تعالیٰ سے اسی طرح ڈرتے رہو۔
*بیرون ملک مقیم لوگوں کی مثال*
کبھی آپ نے کاروبار اور کام کی غرض سے بیرون ملک جانے والے لوگوں کا مشاہدہ کیا ہو ایسے لوگ دیار غیر میں ٹھاٹھ باٹھ کی زندگی نہیں جیتے
وہاں لگژری گاڑیاں نہیں خریدتے
پرتکلف رہائش گاہیں نہیں تعمیرتے
دوچار نوجوان مل کر ہلکا سا کوئی کمرہ رینٹ پر لیتے ہیں روکھی سوکھی کھا کر گزارا کرتے ہیں پیسہ کماتے ہیں پیسہ بچاتے ہیں اور پھر اس پیسے سے اپنے آبائی وطن میں اچھا گھر اچھی گاڑی اچھی اشیاء خریدتے ہیں
ایسا کیوں
اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں یہ ہمارا عارضی ملک ہے
اور وہ ہمارا مستقل ملک ہے لہذا ہم اپنا پیسہ وہاں خرچ کریں جہاں ہم نے مستقل رہنا ہے
*ہمارا مستقل ٹھکانہ کیا ہے*
لیکن
اگر اس سے تھوڑا آگے سوچا جائے تو معلوم ہوگا کہ دیار غیر ہو یا آبائی وطن ہو، درحقیقت یہ دونوں ہی عارضی ہیں ہمارا مستقل ٹھکانہ مرنے کے بعد والا ہے ہمارا کام یہ ہے کہ اپنا پیسہ وہاں انویسٹ کریں
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرو، یقینا اللہ اس سے پور ی طرح باخبر ہے جو تم کر رہے ہو۔
الحشر : 18
سنن ابن ماجہ میں 4195 نمبر روایت ہے
سیدنابراء ؓ نے فرمایا:
كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ فَجَلَسَ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ فَبَكَى حَتَّى بَلَّ الثَّرَى ثُمَّ قَالَ يَا إِخْوَانِي لِمِثْلِ هَذَا فَأَعِدُّوا
ہم ایک جنازے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ رسول اللہ ﷺ ایک قبر کے کنارے پر بیٹھ گئے اور اتنا روئے کہ مٹی تر ہو گئی۔ پھر فرمایا: ‘‘بھائیو! ایسی چیز (قبر) کے لئے تیاری کر لو
*نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک صحابی سے قیامت کی تیاری کے متعلق پوچھتے ہیں*
انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا
بَيْنَمَا أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجَانِ مِنْ الْمَسْجِدِ فَلَقِيَنَا رَجُلٌ عِنْدَ سُدَّةِ الْمَسْجِدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْدَدْتَ لَهَا فَكَأَنَّ الرَّجُلَ اسْتَكَانَ ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ صِيَامٍ وَلَا صَلَاةٍ وَلَا صَدَقَةٍ وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ
میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے نکل رہے تھے کہ ایک شخص مسجد کی چوکھٹ پر آکر ہم سے ملا اور دریافت کیا یا رسول اللہ! قیامت کب ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تم نے قیامت کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ اس پر وہ شخص خاموش سا ہوگیا، پھر اس نے کہا یا رسول اللہ! میں نے بہت زیادہ روزے، نماز اور صدقہ قیامت کے لیے نہیں تیار کئے ہیں لیکن میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت رکھتے ہو۔
بخاري 7153
*لمحہ فکریہ*
آج ہم کرونا وائرس سے بہت خوفزدہ ہیں حالانکہ اس کا زیادہ سے زیادہ انجام ہماری موت کی صورت میں ہو سکتا ہے جبکہ موت تو ایک ایسی حقیقت ہے کہ جسے آنا ہی آنا ہے اگر کرونا کے ذریعے نہ بھی آئی تو کسی نہ کسی اور ذریعے سے آ جائے گی
اصل ہمیں جس چیز سے خوفزدہ ہونا چاہئے تھا وہ ہم نے اپنے دل سے نکال دی ہے اور غفلت میں ڈوب چکے ہیں
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ
لوگوں کے لیے ان کا حساب بہت قریب آگیا اور وہ بڑی غفلت میں منہ موڑنے والے ہیں۔
الأنبياء : 1
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جب ہندوستان کے آخری شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کو میکنن میکنزی بحری جہاز میں بٹھا دیا گیا‘
یہ جہاز17 اکتوبر 1858ء کو رنگون پہنچ گیا‘
شاہی خاندان کے 35 مرد اور خواتین بھی تاج دار ہند کے ساتھ تھیں‘
کیپٹن نیلسن ڈیوس رنگون کا انچارج تھا‘
وہ بندر گاہ پہنچا‘
اس نے بادشاہ اور اس کے حواریوں کو وصول کیا‘
رسید لکھ کر دی اور دنیا کی تیسری بڑی سلطنت کے آخری فرمانروا کو ساتھ لے کر اپنی رہائش گاہ پر آ گیا‘
نیلسن پریشان تھا‘
بہادر شاہ ظفر قیدی ہونے کے باوجود بادشاہ تھا اور نیلسن کا ضمیر گوارہ نہیں کر رہا تھا وہ بیمار اور بوڑھے بادشاہ کو جیل میں پھینک دے مگر رنگون میں کوئی ایسا مقام نہیں تھا جہاں بہادر شاہ ظفر کو رکھا جا سکتا‘
وہ رنگون میں پہلا جلا وطن بادشاہ تھا‘
نیلسن ڈیوس نے چند لمحے سوچا اور مسئلے کا دلچسپ حل نکال لیا‘
نیلسن نے اپنے گھر کا گیراج خالی کرایا اور تاجدار ہند‘ ظِلّ سُبحانی اور تیموری لہو کے آخری چشم و چراغ کو اپنے گیراج میں قید کر دیا‘
بہادر شاہ ظفر17 اکتوبر 1858ء کو اس گیراج میں پہنچا اور 7 نومبر 1862ء تک چار سال وہاں رہا‘
بہادر شاہ ظفر نے اپنی مشہور زمانہ غزل
"لگتا نہیں ہے دل میرا اجڑے دیار میں‘
"کس کی بنی ہے عالمِ ناپائیدار میں"
اور
"کتنا بدنصیب ہے ظفردفن کے لیے‘
"دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں،
اسی گیراج میں لکھی تھی‘
یہ 7 نومبر کا خُنَک دن تھا اور سن تھا 1862ء۔
بدنصیب بادشاہ کی خادمہ نے شدید پریشانی میں کیپٹن نیلسن ڈیوس کے دروازے پر دستک دی‘ اندر سے اردلی نے بَرمی زُبان میں اس بدتمیزی کی وجہ پوچھی‘
خادمہ نے ٹوٹی پھوٹی بَرمی میں جواب دیا‘
ظِلّ سُبحانی کا سانس اُکھڑ رہا ہے‘
اردلی نے جواب دیا‘
صاحب کتے کو کنگھی کر رہے ہیں‘ میں انھیں ڈسٹرب نہیں کر سکتا‘
خادمہ نے اونچی آواز میں رونا شروع کر دیا‘
اردلی اسے چپ کرانے لگا مگر آواز نیلسن تک پہنچ گئی‘
وہ غصے میں باہر نکلا‘
خادمہ نے نیلسن کو دیکھا تو وہ اس کے پاؤں میں گر گئی‘ وہ مرتے ہوئے بادشاہ کے لیے گیراج کی کھڑکی کُھلوانا چاہتی تھی‘
بادشاہ موت سے پہلے آزاد اور کھُلی ہوا کا ایک گھونٹ بھرنا چاہتا تھا‘
نیلسن نے اپنا پسٹل اٹھایا‘ گارڈز کو ساتھ لیا‘
گیراج میں داخل ہو گیا۔
بادشاہ کی آخری آرام گاہ کے اندر بَدبُو‘ موت کا سکوت اور اندھیرا تھا‘
اردلی لیمپ لے کر بادشاہ کے سرہانے کھڑا ہو گیا‘
نیلسن آگے بڑھا‘
بادشاہ کا کمبل آدھا بستر پر تھا اور آدھا فرش پر‘
اُس کا ننگا سر تکیے پر تھا لیکن گردن ڈھلکی ہوئی تھی‘ آنکھوں کے ڈھیلے پپوٹوں کی حدوں سے باہر اُبل رہے تھے‘ گردن کی رگیں پھولی ہوئی تھیں اور خشک زرد ہونٹوں پر مکھّیاں بِھنبھِنا رہی تھیں‘ نیلسن نے زندگی میں ہزاروں چہرے دیکھے تھے لیکن اس نے کسی چہرے پر اتنی بے چارگی‘ اتنی غریب الوطنی نہیں دیکھی تھی‘
وہ کسی بادشاہ کا چہرہ نہیں تھا‘
وہ دنیا کے سب سے بڑے بھکاری کا چہرہ تھا اور اس چہرے پر ایک آزاد سانس,
جی ہاں.......
صرف ایک آزاد سانس کی اپیل تحریر تھی اور یہ اپیل پرانے کنوئیں کی دیوار سے لپٹی کائی کی طرح ہر دیکھنے والی آنکھ کو اپنی گرفت میں لے لیتی تھی‘
کیپٹن نیلسن نے بادشاہ کی گردن پر ہاتھ رکھا‘
زندگی کے قافلے کو رگوں کے جنگل سے گزرے مدت ہو چکی تھی‘
ہندوستان کا آخری بادشاہ زندگی کی حد عبور کر چکا تھا‘
نیلسن نے لواحقین کو بلانے کا حکم دیا‘
لواحقین تھے ہی کتنے ایک شہزادہ جوان بخت اور دوسرا اس کا استاد حافظ محمد ابراہیم دہلوی‘ وہ دونوں آئے۔
•
انھوں نے بادشاہ کو غسل دیا‘ کفن پہنایا اور جیسے تیسے بادشاہ کی نمازِ جنازہ پڑھی‘ قبر کا مرحلہ آیا تو پورے رنگون شہر میں آخری تاجدار ہند کے لیے دوگز زمین دستیاب نہیں تھی‘
نیلسن نے سرکاری رہائش گاہ کے احاطے میں قبر کھدوائی اور بادشاہ کو خیرات میں ملی ہوئی مٹی میں دفن کر دیا‘
قبر پر پانی کا چھڑکاؤ ہورہا تھا ‘
گلاب کی پتیاں بکھیری جا رہی تھیں تو استاد حافظ ابراہیم دہلوی کے خزاں رسیدہ ذہن میں 30 ستمبر 1837ء کے وہ مناظر دوڑنے بھاگنے لگے
جب دہلی کے لال قلعے میں 62 برس کے بہادر شاہ ظفر کو تاج پہنایاگیا‘
ہندوستان کے نئے بادشاہ کو سلامی دینے کے لیے پورے ملک سے لاکھ لوگ دلی آئے تھے اور بادشاہ جب لباس فاخرہ پہن کر‘ تاج شاہی سَر پر سَجَا کر اور نادر شاہی اور جہانگیری تلواریں لٹکا کر دربار عام میں آیا تو پورا دلی تحسین تحسین کے نعروں سے گونج اٹھا‘
نقارچی نقارے بجانے لگے‘ گویے ہواؤں میں تانیں اڑانے لگے‘
فوجی سالار تلواریں بجانے لگے
اور
رقاصائیں رقص کرنے لگیں‘ استاد حافظ محمد ابرہیم دہلوی کو یاد تھا بہادر شاہ ظفر کی تاج پوشی کا جشن سات دن جاری رہا اور ان سات دنوں میں دِلّی کے لوگوں کو شاہی محل سے کھانا کھلایا گیا مگر سات نومبر 1862ء کی اس ٹھنڈی اور بے مہر صُبح بادشاہ کی قبر کو ایک خوش الحان قاری تک نصیب نہیں تھا۔
استاد حافظ محمد ابراہیم دہلوی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘
اس نے جوتے اتارے‘
بادشاہ کی قبر کی پائینتی میں کھڑا ہوا
اور
سورۃ توبہ کی تلاوت شروع کر دی‘
حافظ ابراہیم دہلوی کے گلے سے سوز کے دریا بہنے لگے‘
یہ قرآن مجید کی تلاوت کا اعجاز تھا یا پھر استاد ابراہیم دہلوی کے گلے کا سوز,
کیپٹن نیلسن ڈیوس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘
اس نے ہاتھ اٹھایا اور اس غریبُ الوطن قبر کو سیلوٹ پیش کر دیا اور اس آخری سیلوٹ کے ساتھ ہی مغل سلطنت کا سورج ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا‘
آپ اگر کبھی رنگون جائیں تو آپ کو ڈیگن ٹاؤن شِپ کی کچّی گلیوں کی بَدبُودار جُھگّیوں میں آج بھی بہادر شاہ ظفر کی نسل کے خاندان مل جائیں گے‘
یہ آخری مُغل شاہ کی اصل اولاد ہیں مگر یہ اولاد آج سرکار کے وظیفے پر چل رہی ہے‘
یہ کچی زمین پر سوتی ہے‘ ننگے پاؤں پھرتی ہے‘ مانگ کر کھاتی ہے اور ٹین کے کنستروں میں سرکاری نل سے پانی بھرتی ہے,
مگر یہ لوگ اس کَسمَپُرسی کے باوجود خود کو شہزادے اور شہزادیاں کہتے ہیں‘
یہ لوگوں کو عہد رفتہ کی داستانیں سناتے ہیں اور لوگ قہقہے لگا کر رنگون کی گلیوں میں گم ہو جاتے ہیں۔
یہ لوگ‘
یہ شہزادے اور شہزادیاں کون ہیں؟
یہ ہندوستان کے آخری بادشاہ کی سیاسی غلطیاں ہیں‘ بادشاہ نے اپنے گرد نااہل‘ خوشامدی اور کرپٹ لوگوں کا لشکر جمع کر لیا تھا‘
یہ لوگ بادشاہ کی آنکھیں بھی تھے‘
اس کے کان بھی اور اس کا ضمیر بھی‘
بادشاہ کے دو بیٹوں نے سلطنت آپس میں تقسیم کر لی تھی‘
ایک شہزادہ داخلی امور کا مالک تھا
اور دوسرا خارجی امور کا مختار‘
دونوں کے درمیان لڑائی بھی چلتی رہتی تھی اور بادشاہ ان دونوں کی ہر غلطی‘ ہر کوتاہی معاف کر دیتا تھا‘
عوام کی حالت انتہائی ناگُفتہ بہ تھی‘
مہنگائی آسمان کو چھو رہی تھی‘
خوراک منڈیوں سے کٹائی کے موسموں میں غائب ہو جاتی تھی‘
سوداگر منہ مانگی قیمت پر لوگوں کو گندم‘ گڑ اور ترکاری بیچتے تھے‘
ٹیکسوں میں روز اضافہ ہوتا تھا‘
شہزادوں نے دلی شہر میں کبوتروں کے دانے تک پر ٹیکس لگا دیا تھا‘
طوائفوں کی کمائی تک کا ایک حصہ شہزادوں کی جیب میں چلا جاتا تھا۔
•
شاہی خاندان کے لوگ قتل بھی کر دیتے تھے تو کوئی ان سے پوچھ نہیں سکتا تھا‘ ریاست شاہی دربار کے ہاتھ سے نکل چکی تھی‘ نواب‘ صوبیدار‘ امیر اور سلطان آزاد ہو چکے تھے اور یہ مغل سلطنت کو ماننے تک سے انکاری تھے‘ فوج تلوار کی نوک پر بادشاہ سے جو چاہتی تھی منوا لیتی تھی‘
عوام بادشاہ اور اس کے خاندان سے بیزار ہو چکے تھے‘ یہ گلیوں اور بازاروں میں بادشاہ کو ننگی گالیاں دیتے تھے اور کوتوال چپ چاپ ان کے قریب سے گزر جاتے تھے جب کہ انگریز مضبوط ہوتے جا رہے تھے‘
یہ روز معاہدہ توڑتے تھے اور شاہی خاندان وسیع تر قومی مفاد میں انگریزوں کے ساتھ نیا معاہدہ کر لیتا تھا۔
انگریز بادشاہ کے وفاداروں کو قتل کر دیتے تھے اور شاہی خاندان جب احتجاج کرتا تھا تو انگریز بادشاہ کو یہ بتا کر حیران کر دیتا تھا ’’ظل الٰہی وہ شخص آپ کا وفادار نہیں تھا‘ وہ ننگ انسانیت آپ کے خلاف سازش کر رہا تھا‘‘ اور بادشاہ اس پر یقین کر لیتا تھا‘ بادشاہ نے طویل عرصے تک اپنی فوج بھی ٹیسٹ نہیں کی تھی چنانچہ جب لڑنے کا وقت آیا تو فوجیوں سے تلواریں تک نہ اٹھائی گئیں‘
ان حالات میں جب آزادی کی جنگ شروع ہوئی اور بادشاہ گرتا پڑتا شاہی ہاتھی پر چڑھا تو عوام نے لاتعلق رہنے کا اعلان کر دیا‘
لوگ کہتے تھے ہمارے لیے بہادر شاہ ظفر یا الیگزینڈرا وکٹوریا دونوں برابر ہیں‘
مجاہدین جذبے سے لبریز تھے لیکن ان کے پاس قیادت نہیں تھی۔
بادشاہ ڈبل مائینڈڈ تھا‘ یہ انگریز سے لڑنا بھی چاہتا تھا اور اپنی مدت شاہی بھی پوری کرنا چاہتا تھا چنانچہ اس جنگ کا وہی نتیجہ نکلا جو ڈبل مائینڈ ہو کر لڑی جانے والی جنگوں کا نکلتا ہے‘ شاہی خاندان کو دلی میں ذبح کر دیا گیا جب کہ بادشاہ جلاوطن ہو گیا‘
بادشاہ کیپٹن نیلسن ڈیوس کے گیراج میں قید رہا‘ گھر کے احاطہ میں دفن ہوا اور اس کی اولاد آج تک اپنی عظمت رفتہ کا ٹوکرا سر پر اٹھا کر رنگون کی گلیوں میں پھر رہی ہے‘
یہ لوگ شہر میں نکلتے ہیں تو ان کے چہروں پر صاف لکھا ہوتا ہے‘
جو بادشاہ اپنی سلطنت‘ اپنے مینڈیٹ کی حفاظت نہیں کرتے‘ جو عوام کا اعتماد کھو بیٹھتے ہیں‘ ان کی اولادیں اسی طرح گلیوں میں خوار ہوتی ہیں‘
یہ عبرت کا کشکول بن کر اسی طرح تاریخ کے چوک میں بھیک مانگتی ہیں
لیکن ہمارے حکمرانوں کو یہ حقیقت سمجھ نہیں آتی‘
یہ خود کو بہادر شاہ ظفر سے بڑا بادشاہ سمجھتے ہیں !!
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Culinary Team
Attire
Website
Address
Rana Street
Sheikhupura