Learn Quran By Hafiz Fahad

Learn Quran By Hafiz Fahad Learn Quran with Tajweed, Tajweed Rules, Daily Prayers, the method to offer prayer etc...

20/01/2022

حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’ہر چیز کے لئے قلب ہے اور قرآن کا قلب سورۂ یٰسٓ ہے اور جس نے سورۂ یٰسٓ پڑھی تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے دس بار قرآن پڑھنے کا ثواب لکھتا ہے۔( ترمذی، کتاب فضائل القرآن، باب ما جاء فی فضل یس، ۴ / ۴۰۶، الحدیث: ۲۸۹۶)

12/12/2021

سورۃُ النّاس کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۃُ النّاس زیادہ صحیح قول کے مطابق مدنی ہے ۔ (خازن، تفسیر سورۃ النّاس، ۴ / ۴۳۰)
رکوع اور آیات کی تعداد:
اس سورت میں 1رکوع اور 6 آیتیں ہیں ۔
’’اَلنَّاسْ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
عربی میں انسانوں کو ’’اَلنَّاسْ‘‘ کہتے ہیں ،اور اس سورت کی پہلی آیت میں یہ لفظ موجود ہے اس مناسبت سے اسے ’’سورۃُالنّاس‘‘ کہتے ہیں ۔

داياتها ؟ ۱۳) سورة الناس مكية (۲۱)
بسم الله الرحمن الرحيم
قل أعوذ برب الناس ملك الناس *
إله الناس و من شر الوسواس الخناس -
الذي يوسوس في صدور الناس من و
الجنة والناس في ع

سورۂ واقعہ کا تعارفمقامِ نزول:سورۂ واقعہ اس آیت’’ اَفَبِهٰذَا الْحَدِیْثِ‘‘ اوراس آیت’’ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ‘‘...
11/12/2021

سورۂ واقعہ کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ واقعہ اس آیت’’ اَفَبِهٰذَا الْحَدِیْثِ‘‘ اوراس آیت’’ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ‘‘کے علاوہ مکیہ ہے۔( جلالین، تفسیر سورۃ الواقعۃ، ص۴۴۵-۴۴۶)
رکوع اورآیات کی تعداد:
اس سورت میں 3رکوع اور 96آیتیں ہیں ۔
’’ واقعہ ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
’’واقعہ‘‘ قیامت کا ایک نام ہے اور اس سورت کا نام ’’واقعہ‘‘ اس کی پہلی آیت میں مذکور لفظ’’اَلْوَاقِعَةُ ‘‘کی مناسبت سے رکھا گیا ہے۔
سورۂ واقعہ کے فضائل:
(1) …حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ جو شخص روزانہ رات کے وقت سورہ ٔواقعہ پڑھے تو وہ فاقے سے ہمیشہ محفوظ رہے گا۔( شعب الایمان،التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔الخ،۲ / ۴۹۲،الحدیث: ۲۵۰۰)
(2) …حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’اپنی عورتوں کو سورۂ واقعہ سکھاؤ کیونکہ یہ سورۃُ الغنٰی( یعنی محتاجی دور کرنے والی سورت)ہے۔( مسند الفردوس، باب العین، ۳ / ۱۰، الحدیث: ۴۰۰۵)
(3) …مروی ہے کہ حضرت عثمان بن عفان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس اس وقت تشریف لائے جب وہ مرضِ وفات میں مبتلا تھے۔حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے ان سے فرمایا’’آپ کس چیز کی تکلیف محسوس کر رہے ہیں ؟حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے جواب دیا :اپنے گناہوں کی تکلیف محسوس کر رہا ہوں ۔حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا’’آپ کو کس چیز کی آرزو ہے؟حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے جواب دیا’’مجھے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی رحمت کی آرزو ہے۔حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا’’آپ کسی طبیب کو کیوں نہیں بلوا لیتے ۔حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے جواب دیا ’’طبیب ہی نے تو مجھے مرض میں مبتلا کیا ہے۔ حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا’’کیا ہم آپ کو کچھ(مال) عطا کرنے کا حکم نہ کریں !حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے جواب دیا’’مجھے ا س کی کوئی حاجت نہیں ۔حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا’’ہم وہ مال آپ کی بیٹیوں کو دے دیتے ہیں ۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے جواب دیا’’انہیں بھی ا س مال کی کوئی ضرورت نہیں ، میں نے انہیں حکم دیا ہے کہ وہ سورۂ واقعہ پڑھا کریں کیونکہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ ’’جو شخص روزانہ رات کے وقت سورہ ٔواقعہ پڑھے تو وہ فاقے سے ہمیشہ محفوظ رہے گا۔( مدارک، الواقعۃ، تحت الآیۃ:۹۶،ص۱۲۰۵)
(4) …حضرت مسروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’جسے یہ بات خوش کرے کہ وہ اَوّلین و آخِرین کا علم اور دنیا و آخرت کا علم جان جائے تو اسے چاہئے کہ سورۂ واقعہ پڑھ لے۔(مصنف ابن ابی شیبہ،کتاب الزہد،کلام مسروق، ۸ / ۲۱۱، روایت نمبر: ۹)

سورۂ اِخلاص کا تعارفمقامِ نزول:سورۂ اِخلاص ایک قول کے مطابق مکی اور ایک قول کے مطابق مدنی ہے ۔( خازن، تفسیر سورۃ الاخل...
11/12/2021

سورۂ اِخلاص کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ اِخلاص ایک قول کے مطابق مکی اور ایک قول کے مطابق مدنی ہے ۔( خازن، تفسیر سورۃ الاخلاص، ۴ / ۴۲۵)
رکوع اور آیات کی تعداد:
اس سورت میں 1رکوع اور 4 آیتیں ہیں ۔
’’سورۂ اِخلاص ‘‘ کے اَسماء اور ان کی وجہِ تَسْمِیَہ :
مفسرین نے اس سور ت کے تقریباً20نام ذکر کئے ہیں ان میں سے 4 نام یہاں ذکر کئے جاتے ہیں :
(1)… اس سورت میں اللّٰہ تعالیٰ کی خالص توحید کا بیان ہے، اس وجہ سے اسے ’’سورۂ اِخلاص‘‘ کہتے ہیں ۔
(2)… اس سورت میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ہر نقص و عیب سے بری اور ہر شریک سے پاک ہے،اس مناسبت سے اسے ’’سورۂ تنزیہہ‘‘ کہتے ہیں۔
(3)…جس نے اس سورت سے تعلق رکھا وہ غیروں سے الگ ہو جاتا ہے اس لئے اسے’’سورۂ تجرید‘‘ کہتے ہیں ۔
(4)…اسے پڑھنے والا جہنم سے نجات پا جاتا ہے اس بنا پر اسے ’’سورۂ نجات‘‘ کہتے ہیں ۔( صاوی، سورۃ الاخلاص، ۶ / ۲۴۴۹-۲۴۵۰، ملتقطاً)
سورۂ اِخلاص کے فضائل:
اَحادیث میں اس سورت کی بہت فضیلتیں وارد ہوئی ہیں ،ان میں سے تین اَحادیث اور ایک وظیفہ یہاں درج ذیل ہے۔
(1) …حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’کیا تم میں سے کوئی اس سے عاجز ہے کہ وہ رات میں قرآن مجید کا تہائی حصہ پڑھ لے؟صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو یہ بات مشکل معلوم ہوئی اور انہوں نے عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، ہم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’سورۂ اخلاص تہائی قرآن کے برابر ہے۔( بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب فضل قل ہو اللّٰہ احد، ۳ / ۴۰۷، الحدیث: ۵۰۱۵)
(2) …حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں :حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ایک شخص کو ایک لشکر میں روانہ کیا،وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تو (سورۂ فاتحہ کے ساتھ سورت ملانے کے بعد)سورۂ اخلاص پڑھتے تھے۔جب لشکر واپس آیا تو لوگوں نے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے یہ بات ذکر کی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان سے ارشاد فرمایا: ’’اس سے پوچھو کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو؟جب لوگوں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا:یہ سورت رحمٰن کی صفت ہے اس وجہ سے میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں۔تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’اسے بتا دو کہ اللّٰہ تعالیٰ اس سے محبت فرماتا ہے۔( بخاری، کتاب التّوحید، باب ماجاء فی دعاء النّبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم... الخ، ۴ / ۵۳۱، الحدیث: ۷۳۷۵)
(3) …حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،ایک شخص نے سیّدِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے عرض کی کہ’’ مجھے اس سورت سے بہت محبت ہے۔ارشاد فرمایا’’ اس کی محبت تجھے جنت میں داخل کردے گی۔( ترمذی، کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء فی سورۃ الاخلاص، ۴ / ۴۱۳، الحدیث: ۲۹۱۰)
(4) …تفسیر صاوی میں لکھا ہے کہ جو شخص گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرے اور اگر گھر خالی ہو تو حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو سلام کرے اور ایک بار قُلْ هُوَ اللّٰهُ پڑھ لیا کرے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ فقر و فاقہ سے محفوظ رہے گا (صاوی، سورۃ الاخلاص، ۶ / ۲۴۵۰، ملخصاً) اور یہ بہت مُجَرّب عمل ہے۔
سورۂ اخلاص کا شانِ نزول:
اس سورت کا شانِ نزول یہ ہے کہ کفار نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے اللّٰہ رَبُّ الْعزّت کے متعلق طرح طرح کے سوال کئے، کوئی کہتا تھا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا نسب کیا ہے ؟کوئی کہتا تھا کہ وہ سونے کا ہے یا چاندی کا ہے یا لوہے کا ہے یا لکڑی کا ہے؟ کس چیز کا ہے؟ کسی نے کہا، وہ کیا کھاتا ہے؟ کیا پیتا ہے ؟رَبُوبِیَّت اس نے کس سے ورثہ میں پائی؟ اور اس کا کون وارث ہوگا؟ ان کے جواب میں اللّٰہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی اور اپنی ذات و صفات کا بیان فرما کر معرفت کی راہ واضح کی اور جاہلانہ خیالات و اَوہام کی تاریکیوں کو جن میں وہ لوگ گرفتار تھے اپنی ذات وصفات کے اَنوار کے بیان سے مَحْو کردیا۔( خازن، الاخلاص، تحت الآیۃ: ۱، ۴ / ۴۲۶، ملخصاً)

سورۂ نبا کا تعارفمقامِ نزول:سورۂ نَبا مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ النّبأ، ۴ / ۳۴۵)رکوع اور آیات کی...
11/12/2021

سورۂ نبا کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ نَبا مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ النّبأ، ۴ / ۳۴۵)
رکوع اور آیات کی تعداد:
اس سورت میں 2رکوع اور 40 آیتیں ہیں ۔
’’نبا ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
عربی میں خبرکو ’’نَبا‘‘ کہتے ہیں اور اس سورت کی دوسری آیت میں یہ لفظ موجودہے جس کی مناسبت سے اسے ’’سورہ ٔنبا‘‘ کہتے ہیں ۔نیزاس سورت کو سورۂ تَساؤل اور سورۂ عَمَّ یَتَسَآءَلُوْنَ بھی کہتے ہیں ،اور یہ دونوں نام اس کی پہلی آیت سے ماخوذ ہیں ۔

سورۂ ملک کا تعارفمقامِ نزول:سورۂ ملک مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ الملک، ۴ / ۲۸۹)رکوع اور آیات کی تع...
11/12/2021

سورۂ ملک کا تعارف

مقامِ نزول:

سورۂ ملک مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ الملک، ۴ / ۲۸۹)

رکوع اور آیات کی تعداد:

اس سورت میں 2 رکوع اور 30 آیتیں ہیں ۔

سورۂ ملک کے اَسماء اور ان کی وجہِ تَسْمِیَہ :

اس سورت کے متعددنام ہیں جیسے اس کی پہلی آیت میں ملک یعنی سلطنت اور بادشاہت کا ذکر ہے ا س مناسبت سے اسے سورۂ ملک کہتے ہیں ۔اس کی پہلی آیت کے شروع میں لفظ ’’تَبٰرَكَ‘‘ ہے ا س مناسبت سے اسے سورۂ تبارک کہتے ہیں ۔یہ سورت عذابِ قبر سے نجات دینے والی، عذاب سے بچانے والی اور عذاب کو روکنے والی ہے اس لئے اسے سورۂ مُنْجِیَہْ،سورۂ وَاقِیَہْ اورسورۂ مَانِعَہْ کہتے ہیں ۔یہ سور ت اپنے پڑھنے والے کے بارے میں جھگڑا کرے گی ا س لئے اسے سورۂ مُجَادِلَہْ کہتے ہیں اور یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والے کی شفاعت کرے گی اس لئے اسے سورۂ شَافِعَہْ کہتے ہیں ۔

سورۂ ملک کے فضائل:

اَحادیث میں سورۂ ملک کے بکثرت فضائل بیان ہوئے ہیں اوران میں سے 4فضائل درج ذیل ہیں ۔
(1) …حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’ رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے کسی صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک جگہ خیمہ نَصب کیا ،وہاں ایک قبر تھی اور انہیں معلوم نہ تھا کہ یہاں قبر ہے۔ اچانک انہیں پتا چلاکہ یہ ایک قبر ہے اور اس میں ایک آدمی سورۂ ملک پڑھ رہا ہے یہاں تک کہ اس نے سورۂ ملک مکمل کر لی۔وہ صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ (جب)نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، میں نے نادانستہ ایک قبر پر خیمہ لگا لیا،اچانک مجھے معلوم ہو اکہ یہ ایک قبر ہے اور اس میں ایک آدمی سورۂ ملک پڑھ رہا ہے یہاں تک کہ اس نے سورت مکمل کر لی۔تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، نے ارشاد فرمایا’’ یہ سورت عذابِ قبر کوروکنے والی اور ا س سے نجات دینے والی ہے۔( ترمذی، کتاب فضائل القرآن، باب ما جاء فی فضل سورۃ الملک، ۴ / ۴۰۷، الحدیث: ۲۸۹۹)
(2) …حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’قرآن پاک میں تیس آیتوں کی ایک سورت ہے،وہ اپنی تلاوت کرنے والے کی شفاعت کرے گی یہاں تک کہ اسے بخش دیا جائے گا۔وہ سورت’’تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ‘‘ ہے۔( ابوداود، کتاب شہر رمضان، باب فی عدد الآی، ۲ / ۸۱، الحدیث: ۱۴۰۰)
(3) …حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ سورۂ تبارک اپنے پڑھنے والے کی طرف سے جھگڑا کرے گی یہاں تک کہ اسے جنت میں داخل کر دے گی۔( شعب الایمان، التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی فضائل السور والآیات، ۲ / ۴۹۴، الحدیث: ۲۵۰۸)
(4) … حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’بے شک میں کتابُ اللّٰہ میں ایک ایسی سورت پاتا ہوں جس کی تیس آیتیں ہیں ۔جو شخص سوتے وقت اس کی تلاوت کرے گا تو اس کے لئے تیس نیکیاں لکھی جائیں گی،اس کے تیس گناہ مٹا دئیے جائیں گے اور اس کے تیس درجات بلند کر دئیے جائیں گے اور اللّٰہ تعالیٰ اس کی طرف فرشتوں میں سے ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس پر اپنے پر پھیلا دیتا ہے اور وہ اس آدمی کے بیدار ہونے تک ہر چیز سے ا س کی حفاظت کرتا ہے ،وہ سورت ’’مُجادلہ‘‘ (یعنی بحث کرنے والی)ہے جو اپنی تلاوت کرنے والے کے لئے قبر میں بحث کرتی ہے اور وہ سورت ’’ تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ‘‘ ہے۔ (مسند الفردوس، باب الالف، ۱ / ۶۲، الحدیث: ۱۷۹)

سورۂ یٰسٓ    کا  تعارفمقامِ نزول:سورۂ  یٰسٓ   مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔(خازن، سورۃ یس، ۴ / ۲)رکوع اورآیات کی تعداد:...
11/12/2021

سورۂ یٰسٓ کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ یٰسٓ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔(خازن، سورۃ یس، ۴ / ۲)
رکوع اورآیات کی تعداد:
اس میں 5رکوع اور 83 آیتیں ہیں ۔
’’یٰسٓ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
یٰسٓ حروفِ مُقَطَّعات میں سے ہے ، اور چونکہ ا س سورت کی پہلی آیت میں لفظ ’’یٰسٓ‘‘ ہے اس وجہ سے اس سورت کا نام ’’سورۂ یٰسٓ‘‘ رکھا گیا۔
سورۂ یٰسٓ کے فضائل:
اَحادیث میں سورۂ یٰسٓ کے بہت فضائل بیان کئے گئے ہیں ،ان میں سے 4فضائل درج ذیل ہیں :
(1)…حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’ہر چیز کے لئے قلب ہے اور قرآن کا قلب سورۂ یٰسٓ ہے اور جس نے سورۂ یٰسٓ پڑھی تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے دس بار قرآن پڑھنے کا ثواب لکھتا ہے۔( ترمذی، کتاب فضائل القرآن، باب ما جاء فی فضل یس، ۴ / ۴۰۶، الحدیث: ۲۸۹۶)
(2)…حضرت معقل بن یسار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے سورۂ یٰسٓ پڑھے گا تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے لہٰذا اسے مرنے والے کے پاس پڑھا کرو۔( شعب الایمان، التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی فضائل السور والآیات، ۲ / ۴۷۹، الحدیث: ۲۴۵۸)
(3)…حضرت عطاء بن ابی رباح رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’مجھے خبر ملی ہے کہ حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جو دن کے شروع میں سورۂ یٰسٓ پڑھ لے تو اس کی تمام ضرورتیں پوری ہوں گی۔( دارمی، کتاب فضائل القرآن، باب فی فضل یس، ۲ / ۵۴۹، الحدیث: ۳۴۱۸)
(4)…حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’ جو شخص ہر رات سورۂ یٰسٓ پڑھنے پر ہمیشگی اختیار کرے،پھر وہ مر جائے تو شہادت کی موت مرے گا۔(معجم الاوسط، باب المیم، من اسمہ: محمد، ۵ / ۱۸۸، الحدیث: ۷۰۱۸)

سورۂ رحمٰن کا تعارفمقامِ نزول:سورۂ رحمٰن مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ الرحمٰن، ۴ / ۲۰۸)رکوع اورآیات ...
11/12/2021

سورۂ رحمٰن کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ رحمٰن مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ الرحمٰن، ۴ / ۲۰۸)
رکوع اورآیات کی تعداد:
اس سورت میں 3رکوع اور78آیتیں ہیں ۔
’’رحمٰن ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
اس سورت کا نام ’’سورۂ رحمٰن ‘‘ اس لئے رکھا گیا کہ ا س کی ابتداء اللہ تعالیٰ کے اَسماء ِحُسنیٰ میں سے ایک اسم ’’اَلرَّحْمٰنُ‘‘ سے کی گئی ہے۔
سورۂ رحمٰن کے فضائل:
(1)…حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’ہر چیز کی ایک زینت ہے اور قرآن کی زینت سورۂ رحمٰن ہے۔( شعب الایمان، التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی فضائل السور والآیات، ۲ / ۴۹۰، الحدیث: ۲۴۹۴)
مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’چند وجہ سے سورۂ رحمٰن کو قرآن کی دلہن،زینت فرمایا گیا۔ اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کاذکر ہے اور ذات و صفات پر اعتقاد ایمان کی زینت ہے۔اس سورت میں جنت کی حوروں ،ان کے حسن و جمال،ان کے زیورات کا ذکر ہے (اور) یہ چیزیں جنت کی زینت ہیں ۔اس سورت میں آیت ِمبارکہ ’’فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ‘‘ 31 جگہ ارشاد ہواا س سے سورت کی زینت زیادہ ہوگئی۔( مرأۃ المناجیح، کتاب فضائل القرآن، الفصل الثالث، ۳ / ۲۸۱-۲۸۲، تحت الحدیث: ۲۰۷۴)
(2)…حضرت فاطمہ زہراء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’سورۂ حدید،سورۂ واقعہ اور سورۂ رحمٰن کی تلاوت کرنے والے کو زمین و آسمان کی بادشاہت میں جنتُ الفردوس کا مکین پکارا جاتا ہے۔( شعب الایمان، التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی فضائل السور والآیات، ۲ / ۴۹۰، الحدیث: ۲۴۹۶)
(3)…اس سورت کی آیات اگرچہ چھوٹی چھوٹی ہیں لیکن ان کی تاثیر بہت مضبوط ہے۔مروی ہے کہ حضرت قیس بن عاصم مِنْقری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے (اسلام قبول کرنے سے پہلے) سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے عرض کی: جو کچھ آپ پر نازل کیا گیا ہے میرے سامنے اس کی تلاوت کیجئے۔آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس کے سامنے سورۂ رحمٰن پڑھی تو ا س نے عرض کی:اسے دوبارہ پڑھئے،حتّٰی کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے (اس کے کہنے پر) تین مرتبہ سورۂ رحمٰن کو پڑھا۔ (سورۂ رحمٰن سن کر) اس نے عرض کی :خدا کی قسم!یہ سورت بہت ہی خوبصورت ہے،اس میں بہت حلاوت ہے،اس کا نیچے والا حصہ سرسبز ہے اور اوپر والا حصہ پھل دار ہے اور یہ کسی انسان کا کلام ہی نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور بے شک آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ۔( تفسیر قرطبی، تفسیر سورۃ الرحمٰن، ۹ / ۱۱۳، الجزء السابع عشر)

Address

Sharaqpur Sharif District. Sheikhupura
Sharqpur
39460

Telephone

+923064032830

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Learn Quran By Hafiz Fahad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share