05/01/2023
موبائل فون کو اپنی کامیابی کا آلہ کار کیسے بنائیں؟
از ڈاکٹر شاہزیب خان، پنجاب یونیورسٹی۔
ہر زمانے کے اپنے چیلنجز ہوتے ہیں۔ آج کا چیلنج موبائل فون کے استعمال کے نتیجے میں وقت کا ضیاع ہے۔ میرے اپنے موبائل کے استعمال کے تجربہ، اور پچھلے بیس سال کے تدریسی تجربے نے کچھ باتیں سکھائی ہیں جو میں اپنے آج کے طلباء سے کرتا ہوں۔ ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔
اساتذہ یا بڑوں کا یہ کہنا کے فون کا استعمال چھوڑ دیں یہ بے نتیجہ تجویز ہے۔ نہ وہ خود ایسا کر پاتے ہیں نہ ہی انکے طلباء۔ فون اور واٹس ایپ و دیگر کا استعمال ناگزیر ہے۔ بجائے اس لاحاصل تجویز کے مشورہ یہ بنتا ہے نوجوان فون کو اپنی کامیابی کے آلہ کار کے طور پر استعمال کریں۔ درج ذیل تجاویز پیش خدمت ہیں۔
1. فون میں reader ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔ اور اسکے ذریعہ کتابیں اور آرٹیکلز سنیں۔ www.z-lib.is یا libgen.is کے ذریعے کتابیں ڈاؤن لوڈ کر کے اس ایپ سے پلے کریں اور پیدل چلتے، وین، یا بس میں جاتے، جاگنگ کرتے، ڈرائیونگ کرتے اپنے وقت کو قیمتی بنائیں۔
2. اپنے فون میں Lithium ایپ انسٹال کریں اور EPub ورژن کتابیں اس میں رکھیں اور فارغ وقت میں مطالعہ کریں۔
3. اپنے فون میں TED TALKS کی ایپ انسٹال کریں اور دنیا بھر کے چوٹی کے مفکرین کی مختصر TED Talks سنیں اور دنیا بھر، خاص طور پر مغرب، میں پیش کئے جانے والے آئیڈیاز کے بارے میں جانیں۔
4. اپنے فون میں Google Podcast انسٹال کریں اور اپنے پسندیدہ، معلوماتی پروگرامز کو سبسکرائب کریں اور آتے جاتے انکو سنیں۔ آپ فلسفہ، سیاست، حالاتِ حاضرہ، ادب، سائنس، ہر موضوع پر پروگرام تلاش کر کے انکو سن سکتے ہیں۔
5. فیس بک، انسٹا گرام، ٹوئٹر پر اپنے ڈسپلن کے مشاہرین کو فالو کریں ان کی پوسٹس دیکھیں۔ اپنے تعلیمی و تحقیقی دلچسپی کے موضوعات پر مبنی فورمز اور گروپس کو جائن کریں۔ ایسا کرنے سے آپ ان سوشل میڈیا ایپس کو جب بھی کھولیں گے تو آپ کو کچھ نیا سیکھنے کو ملے گا۔
درج بالا تمام تجاویز کے نتیجے میں آپ معلومات حاصل کر پائیں گے۔لیکن یاد رکھیئے صرف معلومات کا حصول علم نہیں بن جاتا۔ علم نام ہے ترتیبِ معلومات کا، معلومات میں ایک منطقی ربط قائم کرنے کا۔ یہ ترتیب اور منطقی ربط بنتا ہے جب انسان مقصدِ زندگی بناتا ہے۔ ہمارے مشرق کے علماء و صوفیاء نے اس کو خوب سمجھایا ہے۔ یہ مقصد خدا پرستی و انسان دوستی ہے۔
اگر اس پر پختہ یقین ہو تو انسان کے سامنے دو احداف سامنے آ جاتے ہیں۔ اول اپنے نفس کو مہذب بنانا اور دوئم اپنے معاشرے و سماج و انسانیت کی تعمیر و تشکیل کی جدو جہد کا حصہ بننا۔ انہی دو مقاصد کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے معلومات کا حصول، انکا تجزیہ اور انکی عملی اطلاقیات کی ڈائنامکس کو سمجھنا۔
جب خدا پرستی و انسان دوستی کے کنٹینؤم کو بندہ سمجھ جائے تو وہ اپنی انسان دوستی کے رستہ کو تلاش کرے کہ کیا وہ فزیسسٹ بن کر یہ خدمت کرے گا، یا مورخ بن کر، یا ماہرِ شماریات بن کر، یا سوشل سائنٹسٹ بن کر درست خطوط پر علم تخلیق کرے گا، یا ادب سے وابستہ ہو کر کچھ کرے گا یا پلینر و مینیجر بن کر یا صحافی یا ماہر نفسیات بن کر یا ریاضی کا ماہر بن کر تعمیرِ وطن و انسانیت کی ذمہ داری نبھائے گا۔ اس تناظر میں اسکو تعمیر معاشرہ و انسانیت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا ادراک ہوگا اور وہ انکو ختم کرنے کی تدبیر کے حوالے سے بھی سوچنے پر آمادہ ہوگا۔
مختصر یہ کہ طلباء اپنی زندگی کے مقصد کا تعین کر کے، آج کی ایجاد موبائل فون کو اپنا آلہ کار بناتے ہوئے معلومات حاصل کریں، ان معلومات کو علم میں ڈھالیں اور اجتماعی انسان دوست عمل کو ایک تحریک کی شکل دیں۔ اسی میں ہمارے وطنِ عزیز میں بسنے والی انسانیت کی اور ہماری ذاتی فلاح ہے۔ دنیا کی حسنہ ہے اور آخرت کی حسنہ ہے۔ جیسے میرے ایک استادِ گرامی فرمایا کرتے تھے کہ آخرت میں جنت کا اعلی سماج ان لوگوں کے حصہ میں آئے گا جو اس دنیا کو جنت بنانے کی جستجو میں لگیں گے۔ اللہ تبارک تعالیٰ ہم سب کو اس دنیا کو جنت سا سماج بنانے کی جدو جہد میں لگا دیں۔ آمین۔
Z-Library. The world's largest ebook library | Ebooks library. Find books Download Free Online books store on Z-Library.