Shahdadpur society of science

Shahdadpur society of science

Share

To understand the importance of science

14/09/2024

اپوریلی برازیل کا ایک جرنلسٹ تھا. بچپن میں سکول کلاس روم میں استاد نے اس سے پوچھا " ہمارے کتنے گردے ہوتے ہیں" اپوریلی نے سکون سے کہا چار گردے. استاد کا قہقہہ نکل گیا. کلاس روم سے کہا دیکھو ہمارے درمیان ایک گدھا بھی موجود ہے. اگے بیٹھے ایک طالب علم سے کہا جاو گھاس لے کر آو. آج گدھے کو گھاس کھلاتے ہیں.بچہ جب باہر نکلنے لگا تو اپوریلی نے اسے کہا دیکھو گدھے کیلئے گھاس لاتے میرے لئے کافی کا کپ لیتے آنا. استاد یکدم غصے سے بھڑک گیا. کہا نکلو میری کلاس سے ایک تو گردوں کا پتہ نہیں دوسرا مجھے ہی گدھا کہہ رہے ہو. کلاس سے نکلتے نکلتے اپوریلی نے کہا سر آپ نے پوچھا تھا ہمارے کتنے گردے ہوتے ہیں. تو ہم دونوں کے ملا کر چار ہی گردے بنتے ہیں. اگر آپ کو میرا جواب سمجھ نہیں آیا تو پلیز اپنے سوال کو ضرور چیک کر لیں.ایک چیز علم یعنی knowledge ہوتی ہے. ایک سمجھ یعنی understanding ہوتی ہے. ہم میں اکثریت کا مسئلہ علم نہیں یہی understanding ہے. یہی سمجھ کبھی ہم سے بلاوجہ قہقہے لگواتی ہے. کبھی یکدم آپے سے باہر کروا دیتی ہے. کیوں...؟ اس کیوں پر ہم کیونکہ سوچتے کم ہیں. اور یہی کیوں انسان کی understanding بناتی ہے ـ،ـمنقول

14/01/2022

جمع مبارک

19/11/2021

جمع مبارڪ

01/08/2021

زمین پر تیز ترین جانور

01/08/2021
30/07/2021

جانوروں کا بھی خیال رکہیں یہ بھی اللہ کی مخلوق ہیں
جمع مبارک

25/07/2021

کچھ فاٸدے انسانیت کے

22/07/2021

Every reader must Know

19/07/2021

{سپر ہیومین}

آپ گوگل سے کوئی سوال کرتے ہیں.
وہ سوال کے جواب سے پہلے آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کے سوال کے دو کروڑ پانچ لاکھ بیس ہزار جواب صفر اعشاریہ چھ پانچ سیکنڈز میں حاضر ہیں.
اس وقت کو جو گوگل جواب کی تلاش میں استعمال کرتا ہے سرور رسپانس ٹائم کہتے ہیں.

گوگل دنیا کے جدید ترین زی اون سرور اور جدید ترین لینکس ویب سرور آپریٹنگ سسٹم استعمال کرتا ہے.
اس سسٹم نے صرف موجود معلومات کو جواب کی مناسبت سے میچ کر کے آپ کیلئے لائن اپ کرنا ہوتا ہے.
اور وہ اس کام کیلئے آدھے سیکنڈ سے ایک سیکنڈ کا وقت استعمال کرتا ہے اور بڑے فخر سے جواب سے پہلے آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کیلئے میں نے یہ جواب چھ سو پچاس ملی سیکنڈز میں تلاش کیا ہے.

اب ہم کمپیوٹر کی سکرین سے کرکٹ کے میدان میں چلتے ہیں.

شعیب اختر یا برٹ لی باؤلنگ کروا رہے ہیں.
گیند ایک سو پچاس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پھینکی گئی ہے.
وکٹ کی لمبائی بیس اعشاریہ ایک دو میٹر ہے.
ایک اینڈ سے دوسرے اینڈ تک پہنچنے میں بال کو چار سو اسی ملی سیکنڈز لگیں گے.
جبکہ جہاں بیٹسمین کھڑا ہے انیس میٹر کے فاصلے پر ، چار سو پچاس ملی سیکنڈز لگتے ہیں.

اب فرض کریں کہ گنید شارٹ آف لینگتھ ہے تو وکٹ کے نصف کے قریب ٹپہ دیا گیا ہے.
جب بیٹسمین کو احساس ہوتا ہے کہ یہ باؤنسر ہے اور وہ بیٹھ جاتا ہے
تا کہ باؤنسر سر کے اوپر سے گزر جائے.
اس وقت اس کے پاس صرف دو سو پچیس ملی سیکنڈز یعنی ایک سیکنڈ کا قریب ایک چوتھائی وقت بچتا ہے.

اس ایک چوتھائی سیکنڈ سے بھی کم وقت میں انسانی جسم کیا کیا افعال سر انجام دیتا ہے،
آئیے اس کا ہلکا سا اندازہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں.

سب سے پہلے آنکھ نے ابھرتے ہوئے گیند کی پردہ بصارت پر شبیہ بنائی جو کہ الٹی ہے یعنی اپ سائیڈ ڈاون.
دماغ نے سب سے پہلے اس شبیہ کو سیدھا کر کے سمجھا کہ باؤنسر آ رہا ہے.
پھر اس نے فیصلہ کیا کہ اس باؤنسر کی سمت شاٹ لگانے کیلئے درست نہیں لہذا مجھے بیٹھ جانا چاہیے.
اس فیصلے کے بعد دماغ کے چھیاسی ارب نیورونز میں سے ایک حصے میں موجود لاکھوں نیورونز نے اپر موٹر نیورونز کو پروپریوسیپشن کا حکم دیا.
پروپریوسیپشن وہ عمل ہے جس میں انسانی ذہن جسم کے عضلات کو حرکت دینے سے پہلے ان کی درست جگہ کا تعین کرتا ہے کہ کون سا مسل کس پوزیشن پر اور کتنے کھچاؤ میں ہے.

جسم کے سارے چھ سو مسلز کے کروڑوں مسل فائبرز کی درست جگہ اور کھچاؤ کی معلومات دماغ کو پہنچا دی گئیں.
تب اس نے ساڑھے چار سو کے قریب عضلات کی لاکھوں مسل فائبر کو اپنی جگہ سے سکڑنے یا پھیلنے کیلئے کروڑوں سگنلز اپر موٹر نیورونز کو فراہم کیے.
اپر موٹر نیورونز نے یہ سارے سگنلز حرام مغز کو پہنچا دیے.
حرام مغز نے لوئر موٹر نیورونز کے ذریعے ساڑھے چار سو مسلز کے لاکھوں مسل فائبرز کو علیحدہ علیحدہ ھدایت جاری کیں
جو سارے سسٹم سے ہوتے ہوئے آخری سرے ایکسون پر پہنچی جس نے ایک کیمکل acetylcholine. ایسی ٹائیلکولین پیدا کیا.
جس نے مسل نیورونز جنکشن پر عمل کر کے مسلز کو مطلوب کھچاؤ فراہم کر دیا.

یاد رہے کہ لاکھوں میں سے ہر مسل فائبر کے مسل نیورونز جنکشن پر ایسی ٹائیلکولین کی مقدار طلب کے حساب سے مختلف پیدا کی گئی.

ایک بار کے سگنلز کے بعد دوبارہ
"سینسری فیڈ بیک" لی گئی کہ جسم غیر متوازن ہو کر گر نہ جائے.
پھر اس فیڈ بیک کی روشنی میں نئے سرے سے "پاسچورل ایڈجسٹمنٹ" کی گئی۔۔۔
اس سارے عمل کو جانے کتنی بار دہرایا گیا
جب بیٹسمین بیٹنگ پوزیشن سے بیٹھی ہوئی حالت میں پہنچا.
اور یہ سارے کروڑوں نہیں اربوں عوامل ایک سیکنڈ کے ایک چوتھائی سے بھی کم عرصے میں بخیر انجام پائے.

خدائے بزرگ و برتر کی قسم آپ خود کو ٹھیک سے نہیں جانتے.
آپ ہومین نہیں سپر ہیومین ہیں.

اس کائنات کے سب سے ارفع خالق کی سب سے احسن تقویم….

اپنی صلاحیتوں کا درست ادراک کیجیے…
اٹھیے اپنی توانائیوں کو درست سمت میں استعمال کرتے ہوئے اپنی محرومیاں مٹا دیجئے.
اپنے حصے کی خوشحالی چھین لیجیے.
خدا کی قسم آپ کر سکتے ہیں.

(ابن فاضل)

Want your school to be the top-listed School/college in Shahdadpur?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Nabiha Town
Shahdadpur