Sun Rise English Grammar Higher Secondary School Shahadadpur

Sun Rise English Grammar Higher Secondary School Shahadadpur Official page

13/08/2026
خبردار ہوشیار!یہ میٹھی گولیاں نہیں ، بلکہ خطرناک اور غلیظ نشّے یعنی آئس کی گولیاں ہیں،جو پاکستان اور اسلام دُشمن اسمگلرز...
05/08/2026

خبردار ہوشیار!
یہ میٹھی گولیاں نہیں ، بلکہ خطرناک اور غلیظ نشّے یعنی آئس کی گولیاں ہیں،جو پاکستان اور اسلام دُشمن اسمگلرز ہمارے بچوں تک پہنچانے کے چکر میں ہیں۔
اپنے بچوں اور بڑوں سب کو بتادو، کہ کہیں بھی اور کبھی بھی کسی ایسی میٹھی چیز کو کھانے کا سوچھیں بھی نہی، جو آپ نے پہلے نہیں دیکھی ہو، یا جسے آپکو پیش کرنے والے کو آپ اچھی طرح جانتے نہ ہو۔

ہمارے بچوں اور ہماری مستقبل کے دُشمن اس طرح یا اس سے ملتے جلتے شکل کی گولیاں آپکی گلیوں، محلّوں اور جنگلوں میں بھی پھینک کر پھیلا سکتے ہیں۔
ظلم کی حد یہ ہے، کہ صرف ایک بار کھانے سے آپ اس بدترین نشے کے عادی ہوسکتے ہیں۔جو انسان کو زندہ درگور کرنے کیلیۓ کافی ہے۔
برائے مہرُبانی اس میسیج کو ذیادہ سے ذیادہ پھیلائیں۔ اور اپنی مستقبل کو محفوظ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

*ﷲ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو*

دعاؤں کا طلبگار
ڈاکٹر وحکیم عبدالباسط خان
فاضل طب و جراحت(نیشنل کونسل فار طب اسلام آباد)
ڈاکٹر آف فلاسفی (Ph.D) منیجمنٹ سائنسز

یہ پچھلے مہینے کا واقعہ ہے کہ سترہ سال کا برطانوی نوجوان تھا۔ ویپ پیتا تھا ، جس طرح آج کے سارے ہی نوجوان شوق سے پیتے ہیں...
04/08/2026

یہ پچھلے مہینے کا واقعہ ہے کہ سترہ سال کا برطانوی نوجوان تھا۔ ویپ پیتا تھا ، جس طرح آج کے سارے ہی نوجوان شوق سے پیتے ہیں۔ اس ویپ کے اندر خاص قسم کا تیل بھرتے ہیں، پھر اسے منہ سے لگا کر سگریٹ کی طرح پینے لگتے ہیں۔ منہ سے دھویں کا بادل چھوڑتے ہوئے شائد انھیں طمانیت مخصوص ہوتی ہے یا کسی قسم کی تسلی، یا نفسیاتی تسکین میسر آتی ہے۔

وہ نوجوان بھی ایسے ہی ویپ کا شوق رکھتا تھا۔ اپنے والدین کے ساتھ گرمیوں کی چھٹیوں میں سیر و سیاحت پہ نکلا ہوا تھا۔ اسی دوران کہیں سے نیا ویپ خریدا اور معمول کی طرح پینے لگا۔

اس ویپ میں موجود کسی شے سے اس کو اچانک ری ایکشن ہوا اور اس کی طبیعت بگڑنے لگی۔ ری ایکشن کی وجہ سے اس کی سانس کی نالی سکڑ گئی اور اس کے لئے سانس لینا بھی مشکل ہو گیا۔ اسی دوران اس نے الٹیاں بھی کیں۔ اسے ہسپتال لے جایا گیا لیکن اس نوجوان کی جان نہیں بچائی جا سکی اور وہ دم توڑ گیا۔

یہ یوکے کا واقعہ ہے۔ یہاں ہر طرح کی چیز کو مکمل معیاری پیمانے پہ پرکھنے کے بعد ہی دکانوں پہ بیچنے کی اجازت ہوتی ہے۔ اگر اس کے باوجود یہاں ویپ سے کسی نوجوان کی جان جا سکتی ہے تو ہمارے پاکستان میں کتنا نقصان ہو سکتا ہے؟

وہاں تو معیاری پیمانے پہ تسلی شدہ پرکھ ہوتی ہی نہیں، وہاں تو کھانے پینے کی مضر صحت اشیأ بھی عام دستیاب ہیں۔ وہاں تو دکان پہ بکتے پاپڑ کھانے سے بچے مر جاتے ہیں اور کسی کو فرق نہیں پڑتا، وہاں موجود ویپ اور ان کے اندر کے اجزا کا کیا معیار ہو گا؟

ہمارے نوجوانوں میں یہ ویپ والی بیماری بہت تیزی سے پھیل رہی ہے۔ سکولوں کالجوں کے نوجوان بہت تیزی سے اس کا شکار ہو رہے ہیں اور اسے فیشن کے طور پہ اپنایا جا رہا ہے۔ منہ سے دھویں کے بڑے بڑے بگولے نکال کر انھیں ایسا لگتا ہے جیسے ان کا قد کاٹھ بڑا ہو گیا ہو، انھیں کوئی کامیابی مل گئی ہو، تفسیاتی تسکین مل گئی ہو۔ اب تو یہ رواج شہروں سے نکل کر قصبوں دیہاتوں کا رخ بھی کر رہا ہے۔ لیکن یہ کتنا نقصان دہ ہو سکتا ہے، اس کا اندازہ صرف اس ایک واقعہ سے لگا لیجیے۔

اپنے نوجوانوں کو اس کا شکار ہونے سے بچائیے، انھیں سمجھائیے کہ ان کے پاس نفسیاتی تسکین حاصل کرنے کے اور کئی طریقے ہیں، اور کئی رستے ہیں، انھیں ویپ کا استعمال کرنے کی ضرورت نہیں۔ غصے سے نہیں، پیار سے تحمل سے ان کے جذبات کو سمجھتے ہوئے، ان کی سوچ کو دیکھتے ہوئے انھیں بتائیے کہ انھیں اس سے دور رہنا ہے اور اپنی زندگی کسی مثبت سرگرمی ، کسی بہتر کام میں لگانی ہے، ورنہ خدانخواستہ ایسا نہ ہو کہ آپ بعد میں ہاتھ ملتے ہی رہ جائیں۔۔۔۔

۔۔۔۔۔ ڈاکٹر نوید خالد تارڑ ۔۔۔۔۔

Address

Shahdadpur

Telephone

+923368508510

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sun Rise English Grammar Higher Secondary School Shahadadpur posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Sun Rise English Grammar Higher Secondary School Shahadadpur:

Shortcuts

Share

Category