DHQadri

DHQadri ASSALAM O ALAIKUM ! I am Hafiz Dilshad,Welcome to my page:DHQadri:. I am uploading Islamic voices Tilawat,Naat stories etc.

I show the real face of Islam for the people of all over the world. So follow my page please

11/08/2025

یہ بات واضح کرتا ہوں کہ میں اپنی ذاتی معلومات اور تصاویر کے استعمال کے لیے فیس بک یا میٹا کو کوئی اجازت نہیں دیتا۔
کل ایک اہم دن ہے جس پر رات 9:20 بجے باضابطہ مہر لگائی گئی ہے اور یہ خبر ٹی وی پر نشر کی گئی ہے۔ فیس بک کے نئے قوانین کل سے نافذ ہوں گے جو آپ کی تصاویر کے استعمال کی اجازت دیتے ہیں۔
مدت آج ختم ہو رہی ہے۔ براہِ کرم اس پیغام کو کاپی کریں اور اپنے پروفائل پر ایک نیا پوسٹ بنا کر پیسٹ کریں۔ جو لوگ ایسا نہیں کریں گے، انہیں اجازت دینے والا سمجھا جائے گا۔
پرائیویسی کی خلاف ورزی پر قانونی نتائج ہو سکتے ہیں۔
میں اپنی ذاتی معلومات اور تصاویر کے استعمال کے لیے فیس بک یا میٹا کو کوئی اجازت نہیں دیتا

07/08/2025

حضور ضیاء الامت کی اہل علم کو نصیحتیں۔
*عزت نفس کی حفاظت* ۔
حضور ضیاءالامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمہ اللہ تعالیٰ اپنی عزت نفس کا بہت لحاظ رکھتے اور اپنے شاگردوں کو بھی اپنی عزت نفس کی حفاظت کی تلقین فرماتے۔ آپ کے ابتدائی شاگردوں میں سے ،استاذالعلماء،شیخ الحدیث حافظ محمد خان نوری رحمۃ اللّٰہ علیہ بیان کرتے ہیں:" کہ آپ فرمایا کرتے تھے عزت نفس انسان کا سرمایہ حیات ہے جس کام سے عزت نفس مجروح ہو، اس کام کو ترک کردینا چاہئے۔ آپ فرماتے دوکاندار سے سودا سلف لیتے ہوئے جھگڑنا، کوچوان[ تانگے والا] اور کنڈیکٹر کو کرایہ ادا کرنے پر بحث و مباحثہ کرنا،قلی ،موچی کو مزدوری ادا کرنے میں قیل وقال کرنا، عزت نفس مجروح کردیتے ہیں اور یہ ایک عالم کے شایان شان نہیں"
*ذوق ذکر و مطالعہ*
"آپ ہمیں کھانا کھلانے، پانی پلانے کے طریقے سکھاتے اور خود بنفس نفیس عملی نمونے پیش کرتے۔۱۹۵۷ء میں سہ ماہی امتحان سے فراغت کے بعد حضور ضیاء الامت نے اپنے بنگلہ پر ہماری شانداردعوت فرمائی۔ اس میں دستر خوان بچھانے، برتن سجانے، کھانا لگانے اور کھانے کے آداب سے آگاہ فرمایا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ حضور ضیاءالامت نے ہمارے ہاتھ خود دھلائے اور ہمارے ساتھ مل کر کھانا تناول فرمایا۔۔۔۔ آپ فرمایا کرتے: کہ اللّٰہ جل شانہ کے ذکر سے روحانی قوتوں کو جلاء اور نور پیدا ہوتا ہے اور دل میں طہارت اور پاکیزگی آ جاتی ہے ۔اسی طرح دینی کتب کا کثرت سے مطالعہ کرنا بھی روحانی قوتوں میں نکھار پیدا کرتا ہے۔ اس لئے آپ کثرت سے ذکر کرواتے اور کثرت سے مطالعہ کا حکم دیتے۔ اور فرماتے:
"ذکر سے انسان کے دل کو اطمینان نصیب ہوتا ہے اور کثرت مطالعہ سے علم میں اضافہ ہوتا ہے۔"
اکثر مطالعہ کی ترغیب دینے کےلئےحضور سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللّہ تعالیٰ کا یہ ارشاد گرامی سناتے
" درست العلم حتی صرت قطبا" میں علم پڑھتا رہا یہاں تک کہ مجھے قطب کے درجے پر فائز کردیا گیا"
آپ فرماتے میری زندگی کی بہت سی راتیں ایسی آئی ہیں کہ جب میں نماز عشاء سے فارغ ہوکر مطالعہ مین مصروف ہوتا، کتابیں اپنے اسرار ورموز مجھ پر منکشف کرتی جاتیں۔اسی محویت کے عالم میں صبح کےموذن کی آواز مجھے رات کی تنگ دامانی کا احساس دلاتی۔
*حسن تدبیر اور امانت داری*
آپ اپنے حلقہ تربیت میں بیٹھنے والوں کو نصیحت فرماتے: لوگ تمہارے اوپر اعتماد کرتے ہوئے بغیر حساب وکتاب کے مساجد ومدارس کے فنڈز جمع کرائیں گے، اگر آپ اسے حسن تدبیر اور اور دیانتداری کے ساتھ استعمال کرتے رہے، تو تمہارے مشن کو بھی ترقی ملے گی اور تمہاری عزت ووقار میں بھی اضافہ ہوگا۔کائنات کا رب تمہارے اس دیانتدارانہ رویہ پر تمہیں اجر بھی عطاء فرمائے گا، لیکن اگر اس مال میں خیانت کی، تو اس کی سزا صرف تمہیں ہی نہیں بلکہ تمہاری سات پشتوں کو بھی بھگتنی پڑے گی۔حسن تدبیر کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے:
" کہ اس پیسے کو پورے حسن انتظام کے ساتھ خرچ کرنا"
جہاں ایک روپیہ خرچ ہونا ہے، وہاں آپ لوگ کوشش کریں کہ چودہ آنے خرچ ہوں۔اگر آپ اس طرح خرچ کریں گے تو تمہارے منصوبوں میں برکت ہوگی، تمہارے امور دن بدن ترقی کرتے جائیں گے۔[سید محمد اقبال شاہ گیلانی،ضیائے حرم، ضیاءالامت نمبر]
*توکل واستغناء*
حضور ضیاء الامت رحمہ اللّہ تعالی کو اللہ جل شانہ نے اپنی ذات پر توکل اور استغناء کی دولت وافر عطاء فرمائی تھی۔آپ کسی اور کی طرف دیکھنے کے بھی روادار نہیں تھے۔
آپ کے کسی انٹرویو میں یہ بات پڑھی تھی کہ الازہر سے واپسی پر،جب آپ نے بے سروسامانی کے عالم میں ادارے کا کام شروع کیا تو میں اپنے ایک سرمایہ دار دوست کے پاس معاونت کی درخواست کےلئے گیا۔ مجھے اس پر اتنا مان تھا کہ میں جب اس سے بات کروں گا ،تو وہ مجھے بلینک چیک دے دےگا کہ آپ جتنی مرضی رقم لکھ لیں لیکن جب میں اس کے پاس گیاتو اس نے کاروباری مسائل کا دکھڑا سناکے ہاتھ کھڑے کردیئے۔مجھے اندازہ ہوگیا کہ یہ تازیانہ عبرت ہے۔ تب میرے مالک نے میرے دل میں یہ بات ڈالی،تم کام ہمارا کرنا چاہتے ہو اور امیدیں لوگوں سے وابستہ رکھتے ہو۔
شیخ الحدیث سید محمد اقبال شاہ گیلانی مدظلہ العالی بیان کرتے ہیں:
آپ نے ایک دن ہمیں سبق کے دوران بتایا [صدر پاکستان ]جنرل ضیاء الحق مرحوم نے مجھ سے کہا کہ میں آپ کے ادارہ کی کوئی خدمت کروں ؟ تو میں نے کہا، میں کسی انسان سے نہیں کہتا کہ وہ میرے ادارے کی خدمت کرے ۔میں تو صرف اپنے غنی و مغنی پروردگار کی بارگاہ میں سوال کرتا ہوں۔یہ اس کریم کی مرضی ہے جس سے اپنے دین کی خدمت لے لے۔آپ نے فرمایا وہ مرحوم خواہش ہی کرتے رہ گئے، مگر ہمارے ادارے کی خدمت نہ کرسکے۔
اسی طرح آپ کی زبان سے یہ واقعہ بھی میں نے خود سنا ہے۔ فرمایا:
وزیر اعظم پاکستان جناب محمد نواز شریف صاحب ۱۹۹۲ء کے سیلاب کے موقع پر بھیرہ شریف آئے ،تو میرے اسی کمرے میں پورے خلوص کے ساتھ پیشکش کی کہ آپ مجھے کسی منصوبے کو مکمل کرنے کاحکم فرمائیں گے ، تو میں تعمیل کروں گا۔میں نے کہا آپ ملک وقوم کی خدمت کریں ہم درویشوں کا کام ہمارا پروردگار خود چلا رہا ہے۔پھر آپ نے فرمایا خدا کاشکر ہے کہ میری زبان سے کوئی دوسرا کلمہ اس وقت نہ نکلا ،ورنہ پھر میرا رب فرماتا جاؤ اب نواز شریف سے مانگو مجھ سے کیا مانگتے ہو؟ اللّٰہ اکبر کبیرا!
*دعوت وتبلیغ میں حکمت* .
دعوت دین کی ذمہ داری کی حامل یہ امت ، اپنے ادبار کے اس دور میں اپنی بنیادی ذمہ داریوں کو چھوڑ بیٹھی ہے۔ دعوت دین کا کام تقریبا ترک کردیا ہے الا ماشاء اللہ! بہت سارے لوگ اپنے علاوہ دیگر ادیان ،مذاہب، یا نظریاتی و فکری گروہوں یا عام آدمی کی دینی و اخلاقی تربیت کی ذمہ داری سے یہ کہہ کے انحراف کرلیتے ہیں
'' چھڈو جی ایناں نئیں ٹھیک ہونا، ایناں دے دلاں تے مہراں لگ گیاں نیں''
[انہوں نے درست نہیں ہونا ان کی اصلاح اور ان پر محنت کرنے کی ضرورت نہیں ہے]
حضور ضیاء الامت کے شاگرد رشید، علامہ رضا الدین صدیقی رحمۃ اللّٰہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ نے فرمایا:
ابو جہل مزاج کم لوگ ہوتے ہیں کہ جن کی اصلاح کی امید ہی نہ ہو۔انسانوں کی اکثریت سلیم الطبع ہوتی ہے ان تک حقائق پہنچانے کی کوشش ترک نہیں کرنی چاہئے۔
دوسری طرف دعوت دینے والوں میں سے بہت سے ہر وقت اپنے کندھے پر لٹھ لئے پھرتے ہیں۔ مخالفین کے نام لےلے کے للکارنا، گالم گلوچ ، تکفیر و تفسیق، اوئے توئے، ان کا مزاج ہے اور وہ اپنے تئیں اسے دین کی بہت بڑی خدمت اور حق گوئی سمجھتے ہیں ۔سورہ النحل آیت نمبر ۱۲۵ میں لکھتے ہیں:
"ایک نادان اورغیر تربیت یافتہ مبلغ اپنی دعوت کےلئے اس دعوت کے دشمنوں سے بھی زیادہ ضرر رساں ہوسکتا ہے اگر ا سکے پیش کئے ہوئے دلائل بودے اور کمزور ہوں گے اگر اس کا اندازخطابت درشت اور معاندانہ ہوگا۔ اگر اس کی تبلیغ اخلاص و للہیت کے نور سے محروم ہوگی تو وہ اپنے سامعین کو اپنی دعوت سے متنفر کردے گا"۔
"تمہارا انداز خطابت ایسا ہونا چاہیےجس کے لفظ لفظ سے اخلاص و محبت کے چشمے پھوٹ رہے ہوں،آواز کا زیر وبم،شفقت و محبت کا آئینہ دار ہو،اگر بھٹکا ہوا، راہی آمادہ پیکار ہو جائےبحث و مناظرہ تک نوبت جاپہنچے تو تم، احسن اور عمدہ طریقے سے مناظرہ کرو، اپنی علمی برتری کے گھمنڈ میں تہذیب اور شائستگی کا دامن مت چھوڑو،فریق مخالف کو ہر قیمت پر نیچا دکھانے کی کوشش نہ کرو،تمہارے پیش نظر صرف حق کی سربلندی ہو،جب تک کوئی مبلغ ، ان خوبیوں سے متصف نہ ہو اسے اس میدان میں قدم نہ رکھنا چاہئے۔ اس معیار پر پورا اترنے کےلئے علم و آگہی کی وسعتوں کے علاوہ، مکارم اخلاق اور محاسن خصائل سے متصف ہونا بھی ضروری ہے۔ اور یہ نعمت کسی صاحب دل کی صحبت سے حاصل ہوسکتی ہے"۔
آپ اپنے تلامذہ کو فرماتے تھے کہ آپ اپنے موقف و مسلک کو مدلل انداز میں بیان کریں اس سے ان لوگوں کی تردید خود بخود ہوجائے گی جن کاموقف آپ سے مختلف ہے،کسی کے موقف کی تردید کےلئے آپ کو کچھ اور کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
*جہد مسلسل* .
انسانوں کا عمومی مزاج یہ ہے کہ وہ راتوں رات ،کوئی بڑا کارنامہ، بڑا چھکا مارنا چاہتے ہیں حالانکہ بڑے کارنامے خون جگر اور جہد مسلسل مانگتے ہیں۔ اس بڑے کام کے چکر میں ہمیں کام کرنے کے جو چھوٹےچھوٹے موقع ملتے ہیں، انہیں ضائع کردیتے ہیں حالانکہ یہی چھوٹے چھوٹے کام مل کے بڑے بڑے کام بن جاتے ہیں اور کئی دفعہ انہی چھوٹے چھوٹے کاموں میں ہماری توقعات سے کہیں بڑے بڑے مواقع اورامکانات چھپے ہوتے ہیں ۔آپ کو بہت دفعہ اتفاق ہوا ہوگا کہ آپ کسی گاڑی یا بائیک پر سوار ہوکے جارہے ہوں۔ آپ کسی پیدل چلتے بندے کو چھوڑ کے آگے پہنچ گئے ہوں ،آپ کو تھوڑی دیر کہیں رکنا پڑ جائے تو وہ بندہ، جسے ہم کافی پیچھے چھوڑ آئے ہوتے ہیں، وہ ہم سے کہیں آگے نکل گیا ہوتا ہے۔ اس لئے سرور عالم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"لا تحقرن من المعروف شیئا ولو ان تلقی اخاک بوجہ طلق"
کسی نیکی کو حقیر نہ سمجھو اگر چہ تمہارا اپنے بھائی سے مسکرا کے ملنا ہی کیوں نہ ہو۔
ہمارے استاذگرامی ڈاکٹر طاہر مسعود قاضی [سابق صدر شعبہ اسلامیات لاہور گیریژن یونیورسٹی ]اپنے کسی دوست کی حضور ضیاء الامت سے ملاقات کا احوال بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے آپ سے عرض کی کہ دعا فرمائیں کہ میں کوئی بہت بڑا کام کرسکوں آ پ نے ارشاد فرمایا کہ جہاں بھی بیٹھے ہو نیک نیتی، لگن، دلجمعی اور استقامت سے کام کرتے رہو۔ پیچھے مڑ کے دیکھو گے تو خود ہی بڑا کام سرانجام پا جائے گا۔
*ادب و عشق*
آپ کی ادب و عشق کا مرقع تھی۔ آپ کو علامہ اقبال کا یہ شعر بہت پسند تھا:
دین سراپا سوختن اندر طلب انتہایش عشق آغازش ادب
آپ فرمایا کرتے تھے۔:
بے ادبی محرومی کا باعث ہوا کرتی ہے۔ادب سے ابتدا ہوتی ہے، آپ اسے حرز جاں بنائیں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کو عشق کے مقام سے مشرف فرمائے گا۔ اور یہی انسان کا ذروہ سنام ہے کہ دل میں اس کے عشق کی آگ بھڑک رہی ہو۔
"بے ادب محروم ماند از فضل رب"
مولائے کریم اپنے محبوب بندوں کے نقش قدم پر عمل پیرا ہونے کی توفیق نصیب فرمائے۔
آمین یارب العالمین
حافظ غلام علی اعوان
لاہور۔بدھ، 11 صفر المظفر 1447ھ بمطابق 6 اگست 2025ء

11/05/2025

شکریہ مودی ، شکریہ بھارت!

شاید آپ کو اندازہ ہی نہ ہو کہ آپ نے ہمیں کیا دے دیا ہے!
شکریہ کہ آپ نے ہمیں طویل محرومیوں کے بعد ایسی سرشار کر دینے والی خوشی دی، جس کے لیے یہ قوم مدتوں سے ترس رہی تھی۔

شکریہ کہ آپ نے اس قوم کے سینے میں پھر سے جذبۂ جہاد اور حب الوطنی کا وہ الاؤ روشن کر دیا، جس پر برسوں سے راکھ جمی تھی۔ ہمارے دلوں کی تپش ماند پڑتی جا رہی تھی، نظریات کمزور ہو رہے تھے، اور یہ جذبات خطرناک حد تک سمتِ مخالف کی طرف بڑھ رہے تھے۔ آپ نے ایک لمحے میں انھیں بیدار کر دیا۔

شکریہ کہ آپ نے ہمیں موقع فراہم کیا کہ پوری قوم نسل، زبان، مسلک، فرقے اور سیاست سے بالاتر ہو کر بنیان مرصوص بن گئی۔

شکریہ کہ آپ نے ایک عام پاکستانی اور پاک فوج کے درمیان پیدا ہونے والے فاصلوں کو مٹا کر، انہیں پھر سے محبت، اعتماد اور وفاداری کے رشتے میں جوڑ دیا۔ یہی رشتہ ہے جو دشمن کے سامنے ہمیں ناقابلِ شکست بناتا ہے۔

شکریہ کہ ہماری فضائیہ کو بھی طویل عرصے کے بعد پلٹنے جھپٹنے اور لہو گرمانے کا عملی موقع فراہم کیا کہ پاک آرمی تو ہمیشہ انگیج رہتی ہے لیکن فضائیہ کو موقع تم نے ہی دیا.

شکریہ کہ آپ نے ہمیں ہزیمت، مایوسی، اور احساسِ کمتری کی نفسیات سے نکال کر عزت، وقار اور سربلندی کا راستہ دکھایا۔ آج ہم اقوامِ عالم کے سامنے سینہ تان کر، سرفراز ہو کر کھڑے ہیں۔ اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند ہے، اور اس کا سہرا آپ کے سر ہے!

اور سب سے بڑھ کر
شکریہ کہ آپ نے ہمارے ایمان کو جگایا، ہمارے اللہ پر یقین کو فولاد کی مانند مضبوط کر دیا۔ یہ جوش، یہ ولولہ، یہ دعائیں، یہ سجدے، سب اسی یقین کی علامت ہیں۔ یہ سب وہ تحفے ہیں، جو اب کوئی چاہ کر بھی ہم سے نہیں چھین سکتا۔
دل کی گہرائیوں سے شکریہ

(منقول)

*پاک فوج زندہ باد پاکستان پائندہ باد ✌️✨ 🇵🇰 🇵🇰 🇵🇰*

بھارتی فوج کے چھکے چھڑانے والےیہ پاکستان ائیر فورس کے شہزادے
10/05/2025

بھارتی فوج کے چھکے چھڑانے والےیہ پاکستان ائیر فورس کے شہزادے

جانے والے تم ہمیں بہت یاد آئے۔شکریہ عبد القدیر خان
10/05/2025

جانے والے تم ہمیں بہت یاد آئے۔
شکریہ عبد القدیر خان

10/05/2025

ہم تو چائنہ کے مال کو ایسے ہی سمجھتے رہے یہ تو بڑے کام کا نکلا 🤩👍💯

10/05/2025

الحمدللہ فرزندان اسلام نے اسلام کی ایک اور روایت کو زندہ رکھا کہ رات کی تاریکی میں حملہ کرنے کے بجائے دن کی روشنی میں حملہ کیا اور دشمن کو بتا دیا ہے کہ ہم تمہاری طرح بزدلی سے حملہ کرنے والے نہیں ہیں

10/05/2025

بھٹنڈہ ائیر فیلڈ بھی تباہ کر دی گئی
الحمدللہ رب العالمین

10/05/2025

جیسے ہی چھتر پڑنے شروع ہوئے ، اور بھارت کی چیخیں بلند ہوئیں تو اپنے لے پالکوں کو بچانے کے لیئے فوری طور پر پر امریکہ کود پڑا،
ابھی ابھی خبر نشر ہوئی ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کا جنرل عاصم منیر کو فون ۔

29/09/2024

گورنمنٹ سکول میں ہونے والے نعتیہ مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والا بچہ کیا کمال انداز سے نعت رسول مقبول پڑھ رہا ہے

12/08/2024

Address

Shahbazwala

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when DHQadri posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share