The Bright Way Public School and Evening Academy

The Bright Way Public School and Evening Academy Visitors can collect information about The Bright Way Public School and Evening Academy

12/01/2026
11/01/2026

‏نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیئے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے ۔
‏سنن ابی داؤد جلد ۳ ۱۴۰۵

Visitors can collect information about The Bright Way Public School and Evening Academy

10/01/2026

جنگ کی تیاری کیجئے:

میں یہ بات 2010 سے لکھتا آ رہا ہوں کہ امریکہ اور یورپ اپنی موجودہ معاشی مشکلات سے جنگ کے بغیر نہیں نکل سکتے۔ وقت نے اس بات کو صحیح ثابت کیا، بلکہ ہر سال اس کی تصدیق کی ہے۔

سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد مغرب کے سامنے ایک واضح موقع تھا۔ دنیا میں کوئی بڑی رکاوٹ باقی نہیں رہی تھی۔ اب سوال یہ تھا کہ کن طاقتوں کو ختم کیا جائے تاکہ مکمل عالمی غلبہ قائم ہو سکے۔ یورپ چاہتا تھا کہ سب سے پہلے روس کو مکمل طور پر تابع کیا جائے۔ امریکہ نے اس کے بجائے ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ روس کو براہ راست چھیڑنے کے بجائے نیٹو کو مشرق کی طرف بڑھایا گیا۔ آہستہ آہستہ روس کے گرد گھیرا تنگ کیا گیا۔

اسی دوران مسلمانوں کے خلاف کھلی جنگ شروع کی گئی۔ دہشت گردی کے نام پر پورے خطے تباہ کیے گئے۔ اس پالیسی کے پیچھے اسرائیل مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔ بینکرز کی اسٹیبلشمنٹ کے لیے اسرائیل ایک کلیدی ستون ہے، اس لیے اس کی ترجیحات کو سب سے پہلے مانا گیا۔ امریکہ اور اسرائیل ایک ہی لائن پر چلتے رہے۔

چین کو اس وقت سنجیدہ خطرہ نہیں سمجھا گیا۔ وہ معاشی اور عسکری لحاظ سے کمزور تھا۔ مغرب کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔ دنیا کی پیداوار چین میں ہو رہی تھی اور اس کا کوئی متبادل نہیں تھا۔ یہی سب سے بڑی غلطی تھی۔ چین کو نظر انداز کیا گیا۔

مسلمانوں کے خلاف جنگ میں مغرب کو غیر معمولی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ افغانستان، عراق، شام اور دیگر علاقوں میں سخت مقابلہ ہوا۔ اس مزاحمت کے پیچھے ایران اور پاکستان جیسے ممالک کا کردار بھی تھا۔ اس جنگ نے امریکہ کو اندر سے کھوکھلا کیا۔ اخراجات بڑھتے گئے۔ نظام دباؤ میں آتا گیا۔

2008 کا معاشی بحران ایک موڑ تھا۔ بینکاری نظام کی لوٹ مار کھل کر سامنے آ گئی۔ اسی کے بعد چین نے تیزی سے ترقی کی۔ پروڈکشن امریکہ اور یورپ کے ہاتھ سے نکل گئی۔ مینوفیکچرنگ واپس لانے کا کوئی راستہ باقی نہ رہا۔

اب مغرب کے پاس ایک ہی آپشن بچا۔ جنگ۔ روس اور چین کو شکست دے کر پرانے قرضے مٹا دینا، نئے اصول بنانا، اور ایک بار پھر دنیا پر اپنی شرائط مسلط کرنا۔ اسی لیے میں کہتا ہوں کہ ہم اس وقت ورلڈ وار تھری میں ہیں۔ یہ صرف ہتھیاروں کی جنگ نہیں۔ یہ غلبے کی جنگ ہے۔ پوری دنیا کو کنٹرول کرنے کی جنگ۔

اس نظام کی جڑ بینکاری ہے۔ چند طاقتور خاندان۔ پیسہ چھاپنے کا اختیار۔ میڈیا ان کے ہاتھ میں۔ سیاست ان کے کنٹرول میں۔ قانون، عدلیہ، فوج، سب اسی ڈھانچے کے اندر کام کر رہے ہیں۔ بڑے ممالک کے ذریعے چھوٹے ممالک کو تابع رکھا جاتا ہے۔

جسے آج نیا ری سیٹ کہا جا رہا ہے، وہ دراصل اسی کنٹرول کو مستقل بنانے کی کوشش ہے۔ مخالفت کو دبانا، متبادل آوازوں کو ختم کرنا، اور پوری دنیا کو ایک نئے نوآبادیاتی نظام میں دھکیلنا۔

ہمارا ملک بھی اس جنگ کا ایک اہم محاذ ہے۔ میں یہ بھی بار بار کہتا آیا ہوں کہ اگر ہم۔نے سب کچھ بھلا کر مکمل اتحاد سے اس جنگ کا سامنا نہ کیا تو ہمیں بھی عراق، شام اور لیبیا جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ کبھی مت بھولئے کہ ہم حالت جنگ میں ہیں۔ یہ کوئی معمولی جنگ نہیں ہے، یہ تیسری عالمی جنگ ہے۔ محاذ ایک ایک کر کے کھل رہے ہیں۔ امریکہ کے پاس جنگ کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا۔

راجہ مبین اللہ خان

Address

Shah Sadar Din

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Bright Way Public School and Evening Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category