Ikhlas International School 66 Feet Bazar near Ever Green Marriage Hall Opposite to Juma Bazar Ground Mansoorabad Faisalabad
The Direction Academy
A perfect institute for the students of Matric & Intermediate in their own locality, with the expert
نویں اور دسویں کا امتحان تین اختیاری اور ریاضی کے مضمون کا ہو گا (کل 4 مضامین)
اور گیارھویں اور بارھویں کا صرف اختیاری مضامین کا امتحان ہو گا (کل 3 مضامین)
پہلے بارھویں اور دسویں جماعت کا امتحان 10 جولائی کے بعد ہو گا
اس کے بعد گیارھویں اور نویں جماعت کا امتحان ہوگا
تیر اندازی کے مشہور استاد نے اپنے زیر تربیت شاگردوں سے کہا، سامنے درخت پر آپ کو چڑیا نظر آرہی ہے. اس کی آنکھ کو نشانہ مارو. لیکن نشانہ باندھ کر تیر تب تک نہ چھوڑنا جب تک میں حکم نہ دوں. شاگردوں نے کمان پر تیر چڑھا کر کمانیں کھینچ کر تان لیں.
استاد نے پہلے شاگرد سے پوچھا بتاو کیا نظر آرہا ہے.؟ شاگرد نے کہا درخت اور اس پر بیٹھی چڑیا، دوسرے سے پوچھا اس نے کہا ایک بڑی شاخ پتے اور چڑیا تیسرے نے کہا مجھے بس ایک چڑیا نظر آرہی ہے. چوتھے نے کہا استاد مجھے بس ایک آنکھ نظر آرہی ہے. یہ چوتھا طالب علم جسے اتنے بڑے درخت میں صرف ایک آنکھ نظر آرہی تھی یہ اشوکا تھا. جو بعد میں اشوکا اعظم کے نام سے ہندوستان کا مشہور بادشاہ بنا.
کوئی کارخانہ تین ستونوں پر کھڑا ہوتا ہے. وقت، لاگت اور معیار. پیداور وقت پر بروقت کارخانے سے نکلے اس کیلئے پروڈکشن ٹیم وقت کے خلاف لڑ رہی ہوتی ہے. اس جنگ میں معیار پر سمجھوتہ نہ ہو اس کیلئے کوالٹی کنٹرول پروڈکشن والوں سے لڑ رہا ہوتا ہے. پروڈکشن اور کوالٹی کی اس جنگ میں لاگت قیمت فروخت سے نہ بڑھ جائے اس کیلئے انوئنٹری ڈیپارٹمنٹ دونوں سے حالت جنگ میں رہتا ہے.
ہم اپنی ذات میں خود ایک کارخانہ ہوتے ہیں. ہمارے اندر بھی اپنے خوابوں کے حصول کیلئے وقت معیار اور لاگت کی یہی جنگ چل رہی ہوتی ہے. لیکن اس جنگ کو جب ٹارگٹ کا ایسا فوکس مل جائے جو ہمیں کسی اور طرف دیکھنے نہ دے تو خوابوں کے تخت کا حصول ممکن ہو جاتا ہے. ورنہ خواب تو سب ہی دیکھتے ہیں.
ریاض علی خٹک
23/02/2021
چین کے بانس کا بیج آج اگر آپ بو دیں تو آپ کی آنکھیں ترس جائیں گی اس کی پہلی کونپل کو دیکھنے کیلئے. کیونکہ اس بیج اور اس کی پہلی کونپل کے درمیان دن ہفتے مہینے نہیں بلکہ سال لگتے ہیں. پانچ سال انتظار کے بعد یہ زمین سے سر اٹھائے گا.
لیکن یہ بانس جب ایک بار زمین سے سر نکال دے تو آپ کو ہی کیا دُنیا کو حیران کردیتا ہے. کیونکہ یہ پھر پانچ ہفتوں میں 80 فٹ بلند ہوجاتا ہے. یہ ایسی رفتار ہے آپ اسے باقاعدہ بلند ہوتے روزانہ دیکھ سکیں گے.
مختلف انسانوں پر ہوئی تحقیقات اور مشاہدات بتاتے ہیں کہ کسی ہنر میں انسان بہترین تب ہوتا ہے جب وہ اسے دس ہزار گھنٹے ( تقریباً 14 ماہ ) دے چکا ہو. راتوں رات کامیابی دیواروں پر راتوں میں اشتہارات چسپاں کرنے والے مداری صرف اپنے تماشے کا بندر ڈھونڈنے کیلئے لگاتے ہیں.
چین کے بانس کا بیج پانچ سال زیر زمین کیا کرتا ہے..؟ ایک ہنر سیکھنے کا طالب علم دس ہزار گھنٹے کیا کرتا ہے.؟ یہ اپنی جڑیں مضبوط کر رہے ہوتے ہیں. وہ جڑیں جن کی طاقت پر جب یہ کل سر اٹھائیں گے تو دنیا حیرت سے تماشا دیکھ رہی ہوگی. دوست! کامیابی کی بلند عمارت میں کوئی لفٹ نہیں ہوتی۔۔ یہ سیڑھیاں چڑھنے کا سفر ہے.
ساری بات ویلیو ایڈیشن کی ہے. ایک سادہ کینوس میں کیا خاص ہونا لیکن ایک مصور کا برش اسے شہرہ آفاق پہچان دے دیتا ہے. لکڑی کے کچھ ٹکڑوں کو کاریگر شکل دے تو دوسرا اسے اپنی زندگی میں روزانہ استعمال کا فرنیچر بنا لیتا ہے. ویلیو ایڈیشن ایک سوچ ہے.
کچھ لوگ قیمت کا حساب کرتے ہیں. کچھ قدر کو دیکھتے ہیں. یہ قدر یعنی value دیکھنے والے بہت قدردان لوگ ہوتے ہیں. یہ ہر چیز کی قدر بنا دیتے ہیں. ہمارے ہاں بطخ بس شوقیہ پالی جاتی ہے. تھائی لینڈ میں ایک شخص نے اس کی فارمنگ کی. چاول کے کسانوں کو بوائی کے وقت اپنی بطخوں کو کرائے پر دینا شروع کیا. ہزاروں بطخیں کسان اپنے پانی میں ڈوبے کھیت میں چھوڑتا ہے اور وہ کچھ ہی دیر میں سارے کیڑے سونڈیاں کھا جاتی ہیں. فارمنگ والے کو نہ صرف کرایہ بلکہ مفت کی فیڈ مل گئی. کسان قسم قسم کی دوائیوں اور کھادوں سے بچ گیا.
آپ بھی value addition سیکھیں. آج کے دن کی اتنی قدر ضرور کریں جو کل کے دن کو اج سے بہتر بنا دے. نیا سیکھیں نیا کچھ کریں. جب آپ خود کی اور وقت کی قدر سیکھ جائیں گے تو وقت بھی آپ کی قدر شروع کردے گا. ویلیو ایڈیشن تو ایک سوچ ہے بطخ کی طرح نہیں ایک قدردان اشرف المخلوقات انسان کی طرح سوچیں.
🔸 *۔۔۔ ضرور پڑھیے ۔۔۔* 🔸
🔘 *میں تمہیں آگے بڑھنے نہیں دوں گا۔۔*
یہ وہ خفیہ آواز اور کوشش ہے جو کامیابی اور خیر کے ہر کام کرنے والے انسان کو برداشت کرنا پڑتی ہے۔۔
ہمارے ہاں ہمارے معاشرے میں اپنی طرف سے پورا زور لگایا جاتا ہے کہ کوئی کہیں کوئی اچھا کام نہ کر دے، ترقی نہ کر جائے اور کہیں کامیاب نہ ہو جائے۔۔
لوگوں میں جلد بازی کا عنصر بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔
اگر کوئی اچھائی یا کسی نیکی کے کام کا آغاز کر بھی دے تو انسان کی اپنی زات سے زیادہ لوگ یہ تجزیہ کر رہے ہوتے ہیں کہ ابھی تک تبدیلی نہیں آئی، ابھی تک بہتری نہیں آئی اور ابھی تک کامیابی نہیں ملی۔۔
لوگ شاید یہ بات نہیں جانتے کہ کامیابی چند دنوں، ہفتوں یا مہینوں کا کام نہیں ہے بلکہ اس میں کسی ایک کام یا شعبے کو منتخب کر کے اسے کئی سالوں تک کرنا پڑتا ہے۔۔
کم سے کم دس سال تو آپ اپنے ذہن میں رکھیں۔۔
پھر کامیابی کے ساتھ ساتھ کسی انسان کی سیلف ڈسکوری یعنی خود شناسی بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔۔
یہ سیلف ڈسکوری یعنی خود شناسی کیا ہے اور کسی انسان کی کامیابی کے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے ؟؟
خود شناسی کے متعلق دنیا کے بہت سے ماہرین نے اس کی مختلف تعریفیں کیں لیکن ایک تعریف میری نظر سے جو گزری وہ میں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔۔
کتاب کا نام ہے
*Seven steps to lasting happiness*
By
*Azim Jamal*
عظیم جمال صاحب کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو دوسرے انسان سے منفرد بنایا ہے اور اسے کئی ایک خوبیوں اور صلاحیتوں کے ساتھ نوازا ہے۔۔
خود شناسی کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی انہی خوبیوں اور صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے آپ اپنے اللہ کے لیے کون سا کام کرنا چاہیں گے۔۔
زرا تصور کریں کہ جب آپ اپنے رب کے ساتھ ملاقات کریں گے تو آپ اپنی خوبیوں اور صلاحیتوں کی بدلے اپنے رب کے سامنے کیا جواب دیں گے یا کیا پیش کرنا چاہیں گے۔۔
آپ اپنی زندگی میں کوئی کام بھی کریں اگر آپ اپنے ضروری کاموں کے ساتھ اس چیز کو شامل کر لیتے ہیں تو اس سے آپ کے سامنے آپ کی زندگی کا ایک واضح مقصد آپ کے سامنے آ جائے گا۔۔
اپنے اس مقصد سے متعلق اپنے کچھ اہداف طے کر لیں اور روزانہ، ہفتہ وار یا ماہوار انہیں اپنا کچھ وقت دے دیں۔۔
ایسا کرنے سے آپ کو قوت و جرات ملے گی اور آپ کو طمانیت کا گہرا احساس ہو گا۔۔
اگر آپ اپنی خود شناسی پر کام کرتے ہیں اور اسی کام یا شعبے کو اپنا ذریعہ روزگار بنا لیتے ہیں تو یہ تو آپ کے لیے بہت ہی بہتر ہے۔۔
ایسا کرنے سے انسان ایک کام کو اپنی پوری توجہ دے پاتا ہے، پورے دل، توانائی اور انرجی کے ساتھ کام کرتا ہے۔
انسان کو نہ صرف خوشی کا احساس رہتا ہے بلکہ ایسا کرنے سے انسان کی ترقی کی رفتار بھی بہت تیز ہو جاتی ہے۔۔
دنیا میں بعض کام یا شعبے ایسے ہوتے ہیں شاید جن سے ہم مالی طور پر زیادہ فائدہ نہیں اٹھا سکتے لیکن یاد رکھیے کہ اخلاص کے ساتھ کیا جانے والا کوئی کام بھی انسان کو زندگی میں پے بیک ضرور کرتا ہے۔۔
اپنے آپ سے آپ بھی خود یہ پوچھیں کہ کیا آپ واقعی زیادہ دولت حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں تو پھر آپ اپنا رخ کاروبار کی طرف کریں۔۔
اس میں کوئی شک نہیں اپنی دریافت، اپنی خود شناسی کے بعد انسان اپنے کام کو ڈوب کر کرنا چاہتا ہے۔۔
انسان اپنے وقت، اپنی انرجی اور اپنے وسائل کا بھرپور طریقے سے اسی کام یا شعبے میں استعمال کرنا چاہتا ہے لیکن یہ بھی ایک بہت بڑی حقیقت ہے ہر انسان کو اپنی زندگی کے دیگر معاملات کو چلانے کے لیے توازن کی ضرورت رہتی ہے۔۔
یکطرفہ کام اور توجہ انسان کو مالی مشکلات اور اس کی پریشانیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔۔
عظیم جمال صاحب نے خود شناسی کی خوبصورت تعریف تو کر دی لیکن میرے نزدیک اس میں کوئی شک نہیں ایک باشعور، سچا اور کھرا انسان مسلمان اپنے کاموں کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش تو کرتا ہی ہے لیکن خود شناسی یہ ہے کہ انسان کسی اور کے لیے اپنی زندگی گزارنے کے بجائے انسان اپنے آپ کے لیے زندگی گزارے۔۔
جس بات، جس رجہان، جس شدید خواہش، جس بات پر انسان کا دل اور اس کا دماغ مطمئن ہو، وہ اس کام یا شعبے کا اپنے لیے انتخاب کرے۔۔
اب آتے ہیں اصل عنوان کی طرف جب دنیا اپنی پوری کوشش کرے کہ آپ کامیاب نہ ہوں تو ایسے حالات میں ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟؟
اس سوال کا جواب بہت سادہ ہے اور میں نے کافی غور و فکر کے بعد اس کا حل صرف دو چیزوں میں پایا ہے۔۔
*1)- سیلف امپروومنٹ۔۔*
اپنے آپ کو اپنی زندگی کے ہر شعبے میں پہلے سے بہتر بنائیں اور روزانہ کی بنیاد پر اس پر کام کریں۔۔
میں نے کافی لوگوں سے زندگی کے کسی ایک شعبے کے بارے میں یہ سوال پوچھا ہے کہ آپ نے اپنے پچھلے پانچ سالوں میں فرض کریں کہ اپنے تعلقات کو بہتر کرنے پر کیا کام کیا ہے ؟؟
تو مجھے جواب صفر میں ملا ہے۔۔
آپ خود سوچیں کہ جب انسان اپنی زندگی کے کسی بھی ایک شعبے میں اس پر کام نہیں کرے گا تو اس میں بہتری کیسے ممکن ہے۔۔
وہ شعبہ علم کا ہو سکتا ہے، صحت کا ہو سکتا ہے، اپنے لباس کا ہو سکتا ہے، تعلقات کا ہو سکتا ہے، دوستوں اور خاندان کا ہو سکتا ہے، دین اسلام اور روحانیت کا ہو سکتا ہے، عادتیں، کریکٹر یا شخصیت سازی کا ہو سکتا ہے، معاشرتی اصلاح کا ہو سکتا ہے، اولاد کی تربیت کا ہو سکتا ہے یا خدمت کا ہو سکتا ہے۔۔
*2)- اپنے آپ پر توجہ دینا۔۔*
دنیا جو مرضی کرے آپ اپنے آپ پر توجہ دیں۔۔
باہر کی آوازوں پر توجہ دینے کے بجائے آپ اپنے اندر کی آوازوں پر توجہ دیں۔۔
دوسروں کی بات کو، مثبت تنقید کو ضرور سنیں اور اسے قبول کریں لیکن اپنی زندگی کے فیصلے آپ اپنی سوچ، اپنی سمجھ، اپنی ترجیہات اور اپنے اہداف کے مطابق کریں۔۔
کچھ لوگ Conventional ہوتے ہیں۔۔
اس میں ان کا اپنا کوئی قصور نہیں ہوتا بلکہ یہ انسانی شخصیت کی ایک قسم ہوتے ہیں۔۔
یہ محدود سوچ کے حامل ہوتے ہیں، انہیں عموماً لگے بندھے اور روایتی طریقوں پر کام کرنا پسند ہوتا ہے۔۔
ذہنی طور پر ایسے لوگوں کا مقابلہ کرنے کے لیے آپ پہلے سے تیار رہیں اور آپ بس دو کام کرتے چلے جائیں۔۔
پہلا سیلف امپروومنٹ اور دوسرا اپنے آپ پر توجہ دینا، اپنے اہداف، اپنے کام، اپنے مشن پر توجہ دینا۔۔
اگر آپ اسی طرح دس بیس سال لگے رہے اور اپنا کام کرتے رہے تو ایک دن آپ کی زندگی میں ایسا ضرور آئے گا جب لوگ آپ کے ہاتھ چومیں گے، آپ پر رشک کریں گے، حیران بھی ہوں گے اور اپنے رویے پر اپنے دل میں افسوس بھی کریں گے۔۔
بہترین ٹیم پلیئر کون ؟
(قاسم علی شاہ)
’’ایک اور ایک گیارہ ‘‘ کا محاورہ تو آپ نے سنا ہوگا ، دراصل یہ ایک نکتے کی طرف اشارہ کرتا ہے. وہ نکتہ ہے:
’’دی پاور آف ٹیم‘‘ یا’’ اجتماعیت کی طاقت‘‘۔
کوئی بھی ادارہ ، تنظیم اور امپائر اس وقت تک کھڑی نہیں ہوسکتی جب تک اس کے پاس ایک بہترین ٹیم نہ ہو۔جو بھی ٹیم اجتماعی طور پر اپنے مقصد کو پہچان لے اور شاندار ٹیم ورک کا مظاہرہ کرلے تو پھر اسے اعلیٰ مقام تک پہنچنے میں دیر نہیں لگتی۔
تنکا تنکا جڑتا ہے اور ایک مضبوط آشیانہ بنتا ہے۔ایسے ہی جب قابل اور اچھے لوگ مل جائیں تو ایک مثالی ٹیم وجود میں آتی ہے ۔ادارے کی مثال گاڑی کی طرح ہوتی ہے اور ٹیم ممبرز اس کے پہیے. اب اگر ایک پہیہ بھی کام چھوڑدے تو گاڑی کے لیے آگے بڑھنا مشکل ہوجاتا ہے لیکن اگر تمام پہیے مضبوط ہوں اور بہترین انداز میں کام کررہے ہوں تو نہ صرف گاڑی کے لیے سفر جاری رکھنا آسان ہوگا بلکہ وہ کم وقت میں اپنی منزلِ مقصود پر بھی پہنچ پائے گی۔
آج کا بچہ کل کا باپ ہے ۔اسی طرح آج کا بہترین ٹیم پلیئر کل کا باس اور کپتان ہے ۔جو بھی انسان اپنے آج کو بہترین بنالے تو اس کا ’’کل‘‘ شاندار ہوتا ہے۔زندگی کے تمام شعبوں میں خود کو ایک بہترین ٹیم پلیئر ثابت کرنا بہت ضروری ہوتا ہے ۔بعض لوگ ایک اچھے گھر ، اچھے خاندان اور اچھے والدین کی اولا د ہونے کے باوجودبھی ایک اچھا ٹیم پلیئر نہیں ہوتے۔بعض لوگ انتہائی شریف ہوتے ہیں لیکن اچھے ٹیم پلیئر نہیں ہوتے اور یہ بھی دیکھا گیا کہ ایک انسان انتہائی نیک ہے ، کوئی نماز بھی نہیں چھوڑتا لیکن ٹیم پلیئر اچھا نہیں ہے، حالانکہ ایسے انسان کو تو سب سے بہترین ٹیم پلیئر ہونا چاہیے۔
▪️بہترین ٹیم پلیئر :پہلی چیز
جو بھی انسان خود غرض ہوتا ہے وہ اچھا ٹیم پلیئر نہیں ہوسکتا۔ کچھ لوگ اتنے خود پرست ہوتے ہیں کہ ان کے لیے فائدے کا لفظ صرف اپنی ذات تک ہوتا ہے۔ وہ اپنی ٹیم اور ادارے کے فائدے کو بالکل بھی خاطر میں نہیں لاتے ۔یاد رکھیں! ایک اچھا ٹیم پلیئر ان کے برعکس صفات کا حامل ہوگا، یعنی وہ خود غرض نہیں ہوگا۔وہ اجتماعی نفع و نقصان کو ہمیشہ مقدم رکھے گا۔وہ ٹیم کی طاقت کو جانتا ہوگا۔اسے معلوم ہوگا کہ ٹیم میں موجود کوئی انسان بھی بے کار نہیں ہے بلکہ ہر ایک اپنی جگہ پر اہمیت رکھتا ہے اور اسی وجہ سے وہ ہر ایک کو عزت دے گا۔اس کی نظر میں ڈرائیور ، مالی اور سیکورٹی گارڈ کی بھرپور عزت اور اہمیت ہوتی ہے۔اس کو معلوم ہوتا ہے کہ سب سلامت تو ہم سلامت ،کیونکہ انسان اکیلا کچھ نہیں ہے ۔انسان دنیا میں آتے ہی محتاج ہوتا ہے ۔اسے کئی سالوں تک پالا جاتا ہے اور پالنے میں سب سے قریبی تعلق ماں کے ساتھ بن جاتا ہے اسی وجہ سے انسان کے منہ سے سب سے زیادہ بولا جانے والا لفظ ’’ماں‘‘ کا ہوتا ہے ۔وہ جب بھی کسی مشکل ، بیماری میں گرفتا رہوتا ہے تو ماں کو ہی پکارتا ہے۔انسان کی یہ محتاجی قبر تک رہتی ہے حتی کہ مرنے کے بعد بھی وہ غسل دینے اور کفنانے دفنانے کے لیے لوگوں کا محتا ج ہوتا ہے۔
بڑے انسان کی نشانی یہ ہے کہ وہ چھوٹے کا احترام کرتا ہے ،کیونکہ تگڑے انسان کا احترام توسب کرتے ہیں ۔میں جب بھی کسی انسان کو جاننا اورپرکھنا چاہتا ہوں تو اس معاملے سے اُس کو نہیں پرکھتا جو وہ میرے ساتھ کرتا ہے بلکہ میں یہ دیکھتا ہوں کہ وہ ایک کمزور انسان کے ساتھ کیسا معاملہ اور رویہ اختیار کرتا ہے۔
▪️دوطرح کی سوچیں
انسان دو طرح کی سوچوں میں مبتلا ہوتا ہے۔آپ نے اگر اچھا ٹیم پلیئر بننا ہے تو ان دونوں سوچوں سے بچنا ہے۔ایک سوچ ہے:
’’یہ انسان مجھ سے کس قدر بہتر ہے۔‘‘اور دوسری سوچ ہے:
’’میں اس انسان سے کس قدر بہتر ہوں۔‘‘
یادرکھیے! اچھے لوگ اپنی جگہ پرہیں ، کمزور لوگ اپنی جگہ پر ہیں ۔آپ جو ہیں بس اس پر اعتماد کیجیے۔کچھ لوگوں میں اگر خامیاںہیں تو کچھ میں خوبیاں بھی ہوسکتی ہیں،لیکن آپ میں جو ہے ،وہ بہت بڑی قوت ہے،جس پر آپ کو بھروسا کرنے کی ضرورت ہے۔
▪️دوسری صفت :اعتماد
ایک اچھے ٹیم پلیئر کو اپنی ٹیم پر، اپنے باس اور اپنے سسٹم پر اعتماد کرنا چاہیے ۔یہ بات بھی یادر کھیں کہ اعتماد صرف زبان سے نہیں ہوتا بلکہ آپ کو عملی طورپر ثابت کرنا پڑتا ہے۔آپ کے رویے ، احساسِ ذمہ داری اور اعتبار کرنے سے اعتبار پیدا ہوگا۔گن پوائنٹ پر کبھی اعتبار نہیں کروایا جاسکتا۔کسی کو خوار کرکے ، ذلیل کرکے آ پ کسی کو بااعتماد نہیں بناسکتے ۔یہ تب ہی ممکن ہوتا ہے جب آ پ اعتبار کریں۔یہ دوطرفہ عمل ہے ۔میں نے بڑے بڑے اداروں میں ایک کمی دیکھی ہے کہ ان کے ہاں اعتماد کا رواج ہی نہیں ہوتا۔
ایسا کیوں ہوتا ہے؟اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹیم ممبرز نے اپنے ادارے میں لوگوں کی تقرری اور تنزلی (Hiring & Firing) بڑے خطرناک طریقے سے دیکھی ہوتی ہے۔وہ دیکھتے ہیں یہاں کسی کو رکھنے یا نکالنے کا فیصلہ عقل و منطق نہیں بلکہ ذاتی پسند یا نا پسند کی بنیاد پرہوتا ہے اور یہی چیز ان کے دِل میں ادارے پر اعتماد کو ختم کردیتی ہے۔
▪️تیسری صفت: مددگار
ایک اچھا ٹیم پلیئر اپنی ذات تک کچھ نہیں رکھتا، وہ دوسروں کے ساتھ اپنی چیزیں بانٹتا ہے اور ان کی مدد کرتا ہے۔جب انسان اپنی مہارت کو بڑھالے اور اس کے ساتھ اپنے کولیگز کے کام بھی آتارہے تو اس کی قدر ومنزلت میں بھرپور اضافہ ہوتا ہے ۔جو اس کے لیے ترقی کی راہیں کھولتا ہے۔
▪️چوتھی صفت:وعدے کا پابند
بہترین ٹیم پلیئر وعدے کو نبھانے والا ہوتا ہے۔یہ اتنی بڑ ی خوبی ہے کہ جس کی کوئی قیمت نہیں ۔انسان کے پاس اگر ایک ارب روپے ہوں ، یہ اتنا بڑاکمال نہیں۔البتہ اگر دنیا اس کے بارے میں یہ رائے رکھے کہ یہ قابل اعتماد اور وعدے کا پابند ہے تو یہ کمال ہے۔اس خاصیت کی بدولت لوگ کیا پوری انڈسٹری آپ پر اعتماد کرسکتی ہے۔
▪️پانچویں صفت:مسائل حل کرنے والا
دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں ۔ مسئلہ حل کرنے والے اور مسئلہ بڑھانے والے۔ایک اچھا ٹیم پلیئر وہ ہے جو مسائل کو حل کرتا ہے۔ساری زندگی انسانی دماغ کی یہ پریکٹس ہورہی ہوتی ہے کہ وہ مسئلے کو دیکھتا ہے اور سوچ سوچ کر اس کو بڑا کرتا ہے لیکن اس کی جگہ اگر وہ اس کے حل پرکچھ توجہ دے دے تو یقینا وہ بڑے سے بڑا مسئلہ بھی حل کرناسیکھ لے گا۔مسائل حل کرنے والا وہ ہے جو مواقع(Opportunities) دیکھتا ہے اور مواقع یہ ہیں کہ یہاں محنتی،تخلیقی ، خوش اخلاق اورعزت افزائی کرنے والے انسان کے لیے ترقی کرنے کی بڑی گنجائش ہے۔مواقع یہ ہیں کہ آج آپ ایک خواب دیکھیں اور اللہ کی ذات پر کامل یقین رکھیں تو ایک دِن وہ ضرور شرمندۂ تعبیر ہوگا۔
▪️چھٹی صفت:قابل اعتبار
انسان بس میں بیٹھا ہو اور اس کو شک پڑجائے کہ ساتھ والی سواری جیب کاٹنا چاہتی ہے تو پورے سفر میں اس کا ہاتھ اپنی جیب پر ہوگا،کیونکہ وہ جس انسان کے ساتھ بیٹھا ہے ،وہ قابل اعتبار نہیں ہے۔ایک ناقابل اعتبار انسان کی وجہ سے اس کے ایک گھنٹے کاسفر برباد ہوجاتا ہے لیکن سوچیے! جس انسان کے ساتھ کام کرنا ہے اور زندگی کا ایک حصہ گزارنا ہے وہ اگر ناقابل اعتبار ہو تو پھر یہ سفر کیسے چلے گا؟
▪️ساتویں صفت:ابلاغ میں ماہر
ایک اچھا ٹیم پلیئر ہر چیز کو وضاحت کے ساتھ کرتا ہے۔وہ مبہم باتیں نہیں کرتاکیونکہ ابہام سے بہت سارے مسائل بن جاتے ہیں جو اس کی ذات اور ادارے کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔جب بھی انسان اپنے مخاطب کو یہ محسوس کراتا ہے کہ وہ اس کی با ت توجہ سے سن رہا ہے تو اس سے وہ مطمئن ہوتا ہے لیکن اگر وہ بات کرے اور سننے والا موبائل میں مصروف نظر آئے تو اس کو وہ اپنی توہین سمجھتا ہے۔اسی وجہ سے ایک اچھا ٹیم پلیئر واضح بات کرتا اور واضح سنتا ہے ۔
▪️ہیومن ریسورسز ہیڈکے لیے میرے چند مشورے
تقرر ی سے پہلے لسٹ بنائیں
ہیومن ریسورسز کے سی ای اوز کو میرا مشورہ ہے کہ جب آپ اپنے ادارے کے لیے سٹاف بھرتی کرنا چاہیں تو اس سے پہلے باقاعدہ ایک لسٹ بنائیں کہ آپ کو کس طرح کا پروفیشنل انسان چاہیے اور پھر اس معیار کے مطابق سٹاف کی تقرری کریں۔ اسی طرح جب کسی کو ٹیم سے نکالنا ہو تب بھی اس اصول کو سامنے رکھیں ۔عموماً غلطی یہ ہوتی ہے کہ نئے انسان کو ٹیم میں شامل کرتے وقت ہم اس سے بڑے متاثر ہوجاتے ہیں لیکن جب نکالنا ہو تو اس کے کسی رشتے دار کے قصور کو بھی جواز بناکر نکال دیتے ہیں۔
▪️ڈائری بنائیں
اپنی ٹیم میں موجود لوگوں کی خوبیوں اور ان کے مسائل کو اپنی ڈائری میں نوٹ کرلیا کریں۔اس بات کو ذرا سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ ہمارا دماغ کسی بھی صورت حال میں ،اس حالت کے مطابق ردِعمل دیتا ہے وہ یہ نہیں دیکھتا کہ اچھا کیا ہے اور بر اکیا ہے؟کتے کو ہڈی ڈالی جاتی ہے لیکن وہ اس کوکھا نہیں سکتابلکہ فقط چباتا رہتا ہے۔ہمارا ذہن بھی یہ غلطی کرتا ہے ۔وہ بھی مسئلے کو چباتا رہتا ہے ۔ہم نے جس کو نکالنا ہو اس کی ایک غلطی کو پکڑ تے ہیں اور اس کو فارغ کرڈالتے ہیں ، حالانکہ اس کی بہت ساری خوبیاں بھی ہوتی ہیں۔جب ایک ممبر کو فائر کیا جارہا ہو تو اس کے اردگرد کے لوگوں کو معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص میں اچھائیاں بھی ہیں اور برائیاں بھی، آپ کا یہ رویہ دیکھ کر ان کا آپ کے اوپر اعتما د ختم ہوجاتا ہے۔یادرکھیں! اعتماد صرف ایک لفظ نہیں بلکہ یہ ایک تہذیب ہے ۔جس گروپ میں اعتماد ہے وہ ترقی کرجاتا ہے اور جس میں اعتماد کی کمی ہے اس کی ترقی رُک جاتی ہے۔آپ کی ٹیم میں اچھے ٹیم پلیئر تب بنیں گے جب وہاں اعتماد ہوگا ۔ٹیم ممبرز کا خود پر اعتماد، لیڈر پر اعتماد اور آپس میں ایک دوسرے پر اعتماد۔یہ تینوں مل کر اعتماد کی فضا قائم کرتے ہیں۔
▪️فوری فیصلہ نہ کریں
پروفیشنل زندگی میں جب بھی کوئی مسئلہ آئے تو کبھی ایک انسان کی نہ سنیں، بلکہ سب کو سنیں اورکسی بھی تنازع کی حالت میں فوری فیصلہ نہ کریں،بلکہ فیصلے کو کچھ وقت تک کے لیے موخر کردیں۔مسئلے کی صورت میں اگر دو ممبرز کو سامنے بٹھاکر بات کرنے کی ضرور ت ہو تو انہیں آمنے سامنے لائیں اور ان کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنی ٹیم کو یہ بھی سکھائیں کہ بہت ساری باتیں درگزر کرنے والی ہوتی ہیں،کیونکہ ایک اچھی ٹیم تب بنتی ہے جب اس میں درگزر ہو ۔
▪️ڈانٹ نہیں کائونسلنگ
اکثر اوقات بہت سارے لوگوں کو ڈانٹنے کی نہیں بلکہ کائونسلنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔کائونسلنگ کا مطلب یہ ہے کہ اس انسان کو بٹھاکر سنا جائے اورمسئلے کی اصل جڑ تک پہنچاجائے۔آپ اس سے پوچھیں کہ بھائی ! آپ روزلیٹ آتے ہیں ،کوئی مسئلہ ہے؟وہ شاید آپ کو بتائے کہ میری والدہ بیمار ہے ، ہر صبح مجھے انہیں دیکھنا پڑتا ہے اس لیے مجھے تاخیر ہوجاتی ہے۔‘‘جب آپ اصل حقیقت کو پالیں گے تو پھر بجائے غصہ کے آپ اس سے ہمدردی محسوس کریں گے۔عقل مند انسان ایسی صورت حال کو ہینڈل کرلیتا ہے اور اس کو بتادیتا ہے کہ ٹھیک ہے۔ آپ لیٹ آتے ہیں لیکن ا س کے بدلے کچھ اضافی وقت آپ ادارے کو دیں اور کاموں کو پورا کریں۔یوں دونوں طرف سے مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔
لیکن اگرآپ بغیر سنے اور بغیر جانے کوئی سخت ردِعمل دیں گے تو پھر آپ کااعتمادخراب ہو گااور وہ آپ کی عزت نہیں کرے گا۔بحیثیت ٹیم لیڈر ایک عادت اپنائیں کہ اپنی ٹیم ممبرز کی اچھائیوں اور برائیوں کو اپنی ڈائری میں لکھ لیا کریں اور جب کبھی فیصلہ کرنا ہو تو ڈائری نکال کر ان کی خوبیاں اور خامیاں دونوں دیکھ لیں۔تب آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ اگرچہ اس سے ایک غلطی ہوئی ہے لیکن اس نے بہت کچھ اچھا بھی کیا ہے۔
▪️اچھے ناموں سے پکاریں
ہمیشہ لوگوں کو اچھے نام سے پکاریں ۔یہ اتنی طاقت ور چیز ہے جو انسان کے گرد میلا لگادیتی ہے ، اس کی بدولت لوگ آپ کے لیے مرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔یہ واحد چیز ہے جو آپ دیتے رہیں تو خود آپ کی بڑھنا شروع ہوجاتی ہے۔لیڈر سمجھتا ہے کہ میں سینئر ہوں اور یہ میرا حق ہے کہ لوگ میری عزت کریں، حالانکہ ایسا ہوتا نہیں ہے ۔جو لیڈر ہے اس کو سوچنا چاہیے کہ کیا اس کا اخلا ق بھی سینئر جیسا ہے؟
کیا اس کے اندرسخاوت ہے؟
کیا اس کی سوچ اتنی اعلیٰ ہے جو اس مقام کے مطابق ہے؟
یاد رکھیں! سینئر ہونا پوزیشن سے نہیں بلکہ شخصیت کی بدولت ہوتا ہے اور جو بھی لیڈر اپنی شخصیت کو بھی لیڈر والی بنادیتا ہے تو پھر ٹیم ممبر ز اس کی عزت کریں گے اور ادارے کے مفاد کے لیے خود کو ایک بہترین ٹیم پلیئر ثابت کریں گے۔
🔸 *۔۔۔ ضرور پڑھیے ۔۔۔* 🔸
🔘 *شان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم زندہ باد*
*حضور آئے تو سر آفرینش پا گئی دنیا*
*اندھیروں سے نکل کر روشنی میں آ گئی دنیا*
*بجھے چہروں کا زنگ اترا، ستے چہروں پہ نور آیا*
*حضور آئے تو انسانوں کو جینے کا شعور آیا*
ایک وقت تھا جب ملک عرب میں چاروں طرف جہالت کا راج تھا، سود خوری کا رواج عام تھا، لوگوں کے پاس وقت گزاری کیلئے شراب وکباب اور جُوا تھا، جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون تھا، صحیح اور غلط کا تصور ختم ہوچکا تھا، بیوہ عورتوں، یتیموں اور کمزوروں کا کوئی حق نہیں تھا، باشندگان عرب اللہ کے نام سے ضرور واقف تھے، لیکن اللہ کی ذات کو یکسر فراموش کر بیٹھے تھے، اپنی حاجت روائی کیلئے ہر قبیلہ نے اپنا ایک خدا بنا لیا تھا، ذرا ذرا سی بات پر تلواریں نیام سے باہر آجاتی اور اس وقت تک اندر نہیں جاتی تھی جب تک کہ اپنے مخالفین سے وہ اسے رنگین نہ کرلیتے۔۔
غرضیکہ ہر وہ برائی جس کا تصور کیا جاسکتا ہے وہ ان کی عادت مستمرہ بن چکی تھی۔
ایسے پرآشوب اور نفرت کے ماحول میں خدائے واحد نے ایک یتیم اور ان پڑھ بچے کو اپنا آخری رسول بناکر مبعوث فرمایا۔۔
مشیت یہ تھی کہ اسی بے کس و ناتواں کے ذریعہ ایک قبیلہ یا قوم کی نہیں بلکہ ساری انسانیت کیلئے رحمۃ للعالمین جیسا نمونہ سامنے آئے۔۔
رسول اللہ کا پورا بچپن اور جوانی اسی ماحول میں گزرا۔۔
اس نفرت کے ماحول میں بھی آپ نے محبت کی شمع جلائی،اس ڈاکہ زنی اور لوٹ کھسوٹ کے زمانے میں آپ اپنی صداقت و عدالت کے معاملے میں بے نظیر رہے، بے حیائی و بے غیرتی کی دلدل میں آپ سب سے زیادہ باحیا اور غیرت مند انسان کی حیثیت سے جانے گئے، یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے انہیں لوگوں کے ذریعہ آپ کو،، الصادق الامین،، کے لقب سے ملقب کیا گیا تھا.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی کا مشکل مرحلہ وہ تھا جب آپ نے لوگوں کو خدائے واحد کی طرف بلایا اور برسوں سے ظلم و ستم کی چکی میں پس رہے مظلوم اور بیواؤں کیلئے آواز بلند کی، آپ کا مقصد کسی ایک شخص یا ایک خاندان کی فطرت تبدیل کرنا نہیں تھا بلکہ پورے عرب کی عادات کو بدلنا تھا۔۔
جو راہزن تھے انہیں راہبر بنانا تھا، زندگی کے صرف ایک شعبہ میں نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں ایک واضح تبدیلی کی ضرورت تھی، آپ نے خدائی پیغام کو پہونچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، لوگوں کی مخالفت اور دشمنی کے باوجود آپ اپنے کام میں لگے رہے، آپ پر ایمان لانے والوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے لیکن آپ نے ہمیشہ انہیں صبر کی تلقین کی، آپ کے راستے میں کانٹے بچھائے گئے، آپ کے رخ انور پر تھوکا گیا، آپ کی دو دو بیٹیوں کو طلاق کا صدمہ برداشت کرنا پڑا، آپ کی پشت پر اونٹ کی اوجھ رکھی گئی، آپ کو پاگل، دیوانہ، مجنوں کہا گیا، آپ کو ساحر اور شاعر بولا گیا، یہ سارے ستم ڈھانے والے کوئی غیر نہیں بلکہ اپنے تھے، جنہوں نے آپ کو،، الصادق الامین،، کہا تھا وہ آپ کو ساحر کہنے لگے، جو پوری انسانیت کیلئے روشنی لیکر آیا تھا اس کی زندگی کو شعب ابی طالب میں تاریک کردیا گیا، جو امن و سلامتی کا گہوارہ تھا اُحد کی پہاڑی پر اس کے دندان مبارک شہید ہوئے، جو پورے عالم کو ایک سمجھ کر بلا کسی تفریق کے ہر کسی کیلئے رحمت تھا اس پر پورا عرب چیل کوؤں کی مانند احزاب کے موقع سے جھپٹا مارنے کو تیار تھا، جو لوگوں کو ایک خدا کی عبادت کیلئے پکار رہا تھا لوگ یکجا ہو کر اس کے قتل کی منصوبہ بندی کررہے تھے، جو ساری انسانیت کو پیغام امن سکھا رہا تھا اسے اس کے اپنے ہی شہر سے مایوس ہوکر جانا پڑا، وہ ذات جو عورتوں کیلئے رحمت تھی انہیں عورتوں میں سے ایک بدبخت عورت اس کے کھانے میں زہرملارہی تھی، وہ ذات گرامی جس کے منہ سے یہ خوبصورت جملہ ادا ہو کہ سارے انسان بھائی بھائی ہیں، جس نے یہ تعلیم دی ہو کہ نسل،جلد، رنگ، یا وطنی تقسیم کی بنا پر جنگ کرنا یا کسی کو ذلیل و حقیر سمجھنا حماقت ہے، جس نے یہ اعلان کیا ہو کہ،، الخلق عیال اللہ، مخلوق تو ساری اللہ کا کنبہ ہے۔
مہر و محبت کے اس پیامبر کو، شفقت و الفت، ہمدردی و انسانیت کے اس سچے پیام رساں کو رحمت عالم نہ کہیے تو آخر کیا کہا جائے، جس نے فتح مکہ کے موقع سے اخلاق حسنہ اور عفو و درگزر کی وہ مثال قائم کی ہے جسے تاریخ انسانیت کبھی فراموش نہیں کرسکتی ہے، آپ کی ذات گرامی میں قول و فعل کا وہ حسین سنگم تھا جس میں کبھی کوئی تضاد یا اس کا شائبہ بھی نظر نہیں آیا، آپ کا دربار وہ دربار تھا جہاں سے سائل کبھی محروم نہیں لوٹا، آپ کو اللہ نے ساری دنیا کیلئے رحمت بناکر مبعوث کیا تھا، آپ کی رحمت صرف انسانوں کیلئے نہیں تھی بلکہ ساری مخلوق خدا کیلئے تھی جس میں چرندے، پرندے اور درندے سب شامل ہیں۔۔
آپ کی تعلیم یہ تھی کہ خدا کسی خاص قبیلہ یا قوم کا نہیں ہے وہ کسی رنگ و نسل، سردار اور غریب، شاہ و گدا اس طرح کی تمام باتوں سے مبرا اور منزہ ہے۔۔
آپ کے بیان کردہ احکامات میں اس قدر جامعیت تھی کہ ہر شخص اسے پیش نظر رکھے اور جہاں تک ممکن ہو ان کے نقش قدم پر چلے۔۔
آج دنیا کی سب سے بڑی شامت یہی ہے کہ اس نے سب سے کامل و مکمل نمونہ کی طرف سے قطع نظر کرلیا ہے، خود ہم کلمہ گویان اسلام نے آفتاب ہدایت کی طرف سے آنکھیں بند کر کے خود کو اندھیرے میں ڈال رکھا ہے، یا اگر روشنی کی طلب بھی ہے تو ٹمٹماتے ہوئے چراغوں پر قناعت ہے.۔
میں پوری دنیا کے غیر مسلموں اور بالخصوص حالیہ گستاخانہ خاکوں کے شائع کرنے والے اس لعین فرد، اس ملک اور اس قوم کے باشندوں کو یہ چیلنج کرتا ہوں کہ اگر تم میں جرات ہے، اگر تمہارے پاس علم ہے، اگر تمہارے تاریخ انسانی کا علم ہے تو آؤ لے آؤ رویے زمین پر اس انسان کو، آؤ لے آؤ اس شخصیت کو، آؤ لے آؤ اس ہستی کو، آؤ لے آؤ اس لیڈر کو، آؤ لے آؤ اس رہبر و رہنما کو، جس انسان، جس ہستی، جس شخصیت، جس لیڈر اور جس رہنما نے پوری دنیا کی انسانی تاریخ کو بدلا ہو، جس شخصیت نے سب سے زیادہ انسانی تاریخ میں اپنا اثر و رسوخ کو چھوڑا ہو، جس شخصیت کے پیروکار آج ساڑھے چودہ سو سال کے بعد بھی موجود ہوں، جس شخصیت کے پیروکار آج بھی امن، محبت، بھائی چارے اور نظام عدل پر یقین رکھتے ہوں۔۔
اگر تمہارے پاس کوئی شخصیت ہے، کوئی ہستی ہے، کوئی لیڈر ہے تو سامنے لاؤ، آؤ مقابلے میں آؤ۔
لیکن اگر تمہارے پاس ایسی کوئی شخصیت نہیں ہے تو میری پہلی بات یہ ہے کہ کائنات کی اس عظیم شخصیت کے بارے میں مطالعہ کرو، دنیا کی تاریخ کو پڑھو، دنیا کے جتنے بھی بڑے دانشور گزرے ہیں ان کے جناب عزت مآب کے بارے میں نظریات کو پڑھو۔۔
پہلے پڑھو پھر فیصلہ کرو۔۔
دوسروں بات امن کی بات کرو، ہم بھی امن کی بات کریں گے۔۔ پیار کی بات کرو، ہم بھی پیار کی بات کریں گے۔۔
محبت کی بات کرو، ہم بھی محبت کی بات کریں گے۔۔
عزت اور احترام کی بات کرو، ہم بھی عزت اور احترام کی بات کریں گے۔۔
لیکن اگر تم ایسا نہیں کرو گے، تو پھر تم گلہ نہیں کرنا،
تم ہمارا رویہ بھی مختلف دیکھو گے۔۔
اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام، ان کے دوست، ان کے ساتھی، ان کے جانشین، ان کے پیروکار، ان کے جانثار آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے ان کی عزت، ان کی ناموس، ان کی پاکدامنی، ان کی حیا، ان کی عزت و وقار اور دین اسلام کی عظمت، اسکی سربلندی کے لیے اپنی جانیں قربان کر سکتے ہیں تو بھول نہ جانا، نظر انداز نہ کرنا اور جان لینا کہ ان کے پیروکار، ان کے ساتھی، ان کے دوست، ان کے امتی، ان کے چاہنے والے، ان سے محبت کرنے والے آج بھی اسی عزت، اسی شان، اسی عزت و وقار، اسی احترام اور اسی محبت و عشق کے جذبے کے ساتھ اپنی جانیں قربان کرنے کے لیےاج بھی تیار ہیں۔۔
اے ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سنو،
اے گستاخانہ خاکے بنانے والو سنو،
اے فرانس والوں سنو
سنو ہمارا نعرہ، سنو ہمارا سلوگن
کشا قاتل تو مجھے قتل کر نام محمد پر
کشا قاتل تو مجھے قتل کر نام محمد پر
کہ سرخرو ہو کر آقا کے قدموں میں جاؤں گا۔۔
19/10/2020
🔸 *۔۔۔ ضرور پڑھیے ۔۔۔* 🔸
🔘 *کامیابی کے مراحل*
کامیابی جیسا کہ میرے پسندیدہ موضوعات میں سے ایک موضوع ہے، اس لیے میں اپنے اس موضوع پر مسلسل ریسرچ کرتا رہتا ہوں اور میری یہ کوشش ہوتی ہے کہ اہم معلومات کو میں آپ کے ساتھ بھی شیئر کرتا رہوں۔۔
کامیابی Success کی تعریف اگر آپ تلاش کریں گے تو آپ کو مختلف شخصیات کے حوالے سے مختلف تعریفیں ملیں گی۔۔
اسی طرح ہر انسان کو اپنی سوچ اور سمجھ کے ساتھ اپنے نزدیک کامیابی کی کوئی نہ کوئی تعریف متعین ضرور کر لینی چاہیے تاکہ وہ اپنی زندگی کسی اصول، ضابطے یا نظریے کے مطابق گزار سکے۔۔
اسی طرح کافی عرصے سے اسی موضوع کے ساتھ جڑے رہنے سے اور خصوصاً مختلف طرح کے لوگوں کے حالات زندگی کا مشاہدہ کرتے ہوئے میں نے بھی کامیابی کے متعلق کچھ نتیجہ اخذ کیا ہے اور اپنے ذہن کے مطابق اپنے لیے ایک تعریف بنائی ہے جس میں دین، دنیا دونوں کی بھلائی بھی شامل ہو جائے۔۔
اس لیے میرے نزدیک کامیابی
*اعلیٰ Values اقدار کے ساتھ صحیح راستے( قرآن و سنت ) پر قائم رہنا اور کبھی بھی ہمت نہ ہارنا کامیابی ہے۔۔*
کامیابی ایک Broder term ہے۔اس میں کئی ایک چیزوں کو شامل کیا جا سکتا ہے لیکن میرے نزدیک کامیابی کی یہ کم سے کم تعریف ہے جس میں ہم زیادہ سے زیادہ اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔۔
اگر آپ کامیابی کے متعلق غور کریں گے، مطالعہ کریں اور مشاہدہ کریں گے تو مجھے پوری امید ہے کہ آپ بھی تقریباً ان جیسے حقائق تک ہی پہنچیں گے۔۔
لغت کے اعتبار سے کامیابی کسی ہدف یا مقصد کے پانے کو کہتے ہیں۔۔
اس ہدف یا مقصد تک پہنچنے کے کچھ مراحل ہوتے ہیں۔۔
اس لیے کسی انسان کی کامیابی کو میں چار مراحل میں تقسیم کرتا ہوں۔۔
یاد رکھیے کہ یہ صرف مراحل ہیں۔
انسان اپنی بھرپور کوشش تو کر سکتا ہے لیکن اس کے بعد نتیجہ یقیناً کسی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا۔۔
*پہلا مرحلہ*
*فیصلہ سازی*
لوگ اپنی زندگی میں اچانک سے کامیاب نہیں ہو جاتے۔۔
اگر آپ غور کریں گے تو دنیا کے ہر کامیاب انسان کی زندگی میں آپ کو ایک وقت ایسا ضرور ملے گا جس وقت اس انسان نے اپنے اس کام، اپنی اس کامیابی کے متعلق فیصلہ کیا ہوگا۔۔
*دوسرا مرحلہ*
*آغاز کرنا*
سوچنے، تجزیہ کرنے اور فیصلہ کرنے کے بعد اگلا مرحلہ آتا ہے
آغاز کرنا۔۔
اچھی سے اچھی سوچ، اچھے سے اچھے تجزیے اور اچھے سے اچھا فیصلہ کر لینے کے بعد یہ تمام محنت بے سود ہے جب تک کہ کوئی انسان اس کام کا آغاز نہیں کر لیتا۔۔
اس لیے مارک ٹوئن کہتے ہیں کہ
*کامیابی کا راز شروعات آغاز کرنے میں ہے*
اور پھر
*شروعات کا راز بڑے کاموں کو چھوٹے کاموں میں تقسیم کرنے سے ہے۔۔*
*تیسرا مرحلہ*
*اپنے آپ کو تیار کرنا اور نکھارنا*
کافی سوچنے، فیصلہ کرنے، آغاز کی پلاننگ کرنے اور آغاز کرنے کے بعد اگلا مرحلہ اب آتا ہے اپنے آپ کو تیار کرنا اور اپنے آپ کو مزید نکھارنا۔۔
دنیا میں کوئی انسان بھی پہلے دن میں دنیا کے کسی بھی فیلڈ میں پرفیکٹ نہیں ہوتا بلکہ اپنے کام کے ساتھ ساتھ وہ اپنے آپ کو مزید بہتر بناتا ہے۔۔
اپنے آپ کو مزید بہتر بنانے کے لیے وہ مختلف طرح کے آپشنز کو استعمال کرتا ہے۔
کبھی کتابوں سے، کبھی استادوں سے، کبھی کورسز سے، کبھی ٹرینگ سے، کبھی کوچنگ سے، کبھی مشاہدے سے، کبھی احتساب سے، کبھی پریکٹس سے اور کبھی تخلیق نیا سوچنے سے وہ اپنے آپ کو پہلے سے بہتر بناتا ہے، اپنے آپ کو نکھارتا ہے، اپنے آپ کو پالش کرتا ہے۔۔
*چوتھا مرحلہ*
*اپنے آپ کو پیش کرنا یا مارکیٹ کرنا*
دنیا میں کوئی چیز بھی اس وقت تک اپنے عروج کو نہیں پہنچتی جب تک اس کے بارے میں لوگوں کو خبر نہ ہو، لوگ اس کے بارے میں جانتے نہ ہوں اور جب تک لوگوں کے سامنے وہ پیش نہ ہو۔۔
اگر آپ تیسرے مرحلے تک پہنچ گئے ہیں تو اب وقت ہے کہ آپ اپنے آپ کو، اپنے کام کو، اپنے کاروبار کو، اپنی پراڈکٹ کو دوسروں کے سامنے پیش کریں۔۔
ان چار مرحلوں سے گزرنے والے انسان کے بارے میں اپنے پورے یقین کے ساتھ یہ بات کہتا ہوں کہ ایسا انسان اپنی کامیابی کو ضرور پا لے گا یا ایسا انسان اپنی زندگی میں کسی بڑی منزل یا مقام تک ضرور پہنچ جائے گا لیکن شرط یہ ہے کہ وہ ان چار مراحل کو عبور کرے۔۔
دنیا میں جتنے لوگ بھی کامیاب ہوئے ہیں میں نے یہ دیکھا ہے کہ وہ ان چار مراحل سے نکل کر کامیاب ہوئے ہیں۔۔
کامیابی کی خواہش تقریباً ہر انسان میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہتی ہے۔۔
میں اپنی معلومات آپ کے ساتھ شیئر کرتا رہتا ہوں لیکن کوئی ایسی کتاب جس ایک کتاب کے زریعے آپ کامیابی کے زیادہ قریب پہنچ جائیں
میں آپ تمام دوستوں کو یہ رائے دوں گا کہ آپ اس کتاب
*کامیابی کے 100 فلسفے*
جسے بڑی محنت سے ٹیم قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن نے تیار کیا ہے
آپ اس کتاب کو ایک بار ضرور پڑھیں تاکہ آپ کو سوچنے، سمجھنے، اپنی زندگی کے اہم فیصلے کرنے اور مزید آگے بڑھنے کے بارے میں آسانی ہو۔۔
* 🔸۔۔۔ ضرور پڑھیے ۔۔۔ 🔸*
*🔘 ہمارے کام کی ہماری زندگی میں اہمیت*
ہم اپنی زندگی میں مسائل اور مشکلات کا مقابلہ اس لیے نہیں کر پاتے کیونکہ ہم عموماً وہ کام کر رہے ہوتے ہیں جس کام میں ہماری ذاتی دلچسپی یا ہمارا اپنا شوق نہیں ہوتا۔۔
ہماری تربیت ہی کچھ اس انداز سے ہوتی ہے کہ ہمیں خود سے سوچنے اور فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں دیا جاتا، نہ اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔۔
جبکہ کسی انسان کی ترقی، کامیابی، خوشحالی اور خوشی کا انحصار اس کے کام یا اس کے اختیار کردہ شعبے پر ہی ہوتا ہے۔۔
زندگی میں دو فیصلے کسی بھی انسان کے لیے بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں
ان میں سے ایک فیصلہ کسی انسان کے لیے اس کے کام یا اس کے شعبے کا انتخاب ہے۔۔
ہمیں اپنے کام یا شعبے کے زریعے کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔۔
ہم اپنے کام کے زریعے اپنا رزق حاصل کرتے ہیں۔۔
ہماری پہچان یا شناخت بنتی ہے۔
ہمارے تعلقات بنتے ہیں۔۔
ہمیں عزت ملتی ہے۔۔
ہمیں خوشی، اطمینان اور سکون ملتا ہے۔۔
ہم کنڑی بیوٹ کر سکتے ہیں۔۔
ہم اپنے ملک اور قوم کی خدمت کر سکتے ہیں۔۔
ہم اپنا ذاتی کوئی مقصد اور مشن بنا سکتے ہیں۔۔
ہم اپنے کام کے زریعے دوسروں میں اچھائی کی ترغیب کو پیدا کر سکتے ہیں۔۔
ہم اپنے شعبے کی بہتری کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔۔
غرض اگر سمجھیں تو ایک کام یا شعبے کے صحیح انتخاب کے زریعے ہم بہت سے فوائد کو حاصل کر سکتا ہے۔۔
اپنے کام کے صحیح انتخاب کے ساتھ ساتھ اپنے لیے اہداف کو مقرر کرنا، اپنے آپ کو مزید بہتر بنانا، اپنے مینٹور بنانا، مسلسل سیکھنا، اپنے وقت کا صحیح استعمال کرنا، مستقل مزاجی کے ساتھ کام کرنا، اپنے کام کو عبادت سمجھ کر کرنا اور اپنے رب کے ساتھ اپنا تعلق بنانا سب سے اہم ہے۔۔
انسان کامیاب تب ہی ہوتا ہے جب وہ کسی ایک کام، ایک شعبے، one thing پہ فوکس کرتا ہے۔۔
دنیا میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس سے قطع نظر کامیاب انسان وہی ہوتا ہے جو صرف اپنے گولز پر فوکس کرتا ہے۔۔
آپ اپنے کام کی عزت کریں، آپ اپنے کام کو دل لگا کر ڈوب کر کریں تو پھر آپ کا کام آپ کو عزت بھی دلائے گا اور وہ سب کچھ عطا کرے گا جس چیز کی آپ تمنا رکھتے ہیں۔۔
یہ کسی انسان کی وہ واحد چیز اس کا کام ہی ہے جو اسے کئی ایک مسائل اور مشکلات پر قابو پانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔۔
کام سے کسی ایک انسان کی پہچان بنتی ہے اور پھر یہی پہچان انسان کو 100 اور جگہوں پر کام آتی ہے۔۔
اس لیے میرے استاد محترم جناب قاسم علی شاہ صاحب کا اس موقع پر بہترین جملہ ہے کہ
*" زندگی میں اس کام کو تلاش کریں جس کام کے ساتھ آپ کو مرنا پسند ہو "*
اور اپنے کام کو اپنے ٹیلنٹ، اپنی صلاحیتوں کے ساتھ ضرور میچ کریں۔۔
زندگی میں وہ کام کریں جو آپ آسانی کے ساتھ کر سکتے ہیں یا دوسرے لفظوں میں جس کام کے لیے آپ بنے ہیں۔۔
زیر نظر تصویر میں انسان کی زندگی میں اس کے کام کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے۔۔
یعنی ایک طرف ہمارا کام ہوتا ہے اور دوسری طرف ہماری زندگی کی باقی تمام مصروفیات ہوتی ہیں۔۔
آپ اپنے کام میں کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں زندگی میں باقی معاملات بھی انسان کے لیے اہم ہوتے ہیں
اور آپ اپنی زندگی کے کاموں میں کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں آپ کے لیے آپ کا شعبہ ورانہ کام آپ کے لیے اتنا ہی ضروری ہے۔۔
انسان کی ساری زندگی اس کے پیشہ ورانہ کام اور اس کی زندگی کی دیگر مصروفیات کے گرد گزرتی ہے
کبھی کام زیادہ اور کبھی زندگی کی دوسری مصروفیات زیادہ،
کسی ایک کو بھی اگنور کرنا یا کم اہمیت دینا ہمارے لیے ممکن نہیں ہے۔۔
*بہرحال زندگی کا حسن توازن کے ساتھ ہے*
ہمیں کبھی کبھی اپنی زندگی میں رک کر سوچنا چاہیے کہ ہم کہیں one way تو نہیں چل رہے کیونکہ یہ وہ غلطی ہے جس سے انسان بے تحاشا نقصان اٹھاتا ہے اور اس کی Recovery ممکن نہیں۔۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
66 Feet Bazar, Opposite To Ever Green Marriage Hall
Shah Faisalabad
Opening Hours
| Monday | 16:00 - 20:00 |
| Tuesday | 16:00 - 20:00 |
| Wednesday | 16:00 - 20:00 |
| Thursday | 16:00 - 20:00 |
| Friday | 16:00 - 20:00 |
| Saturday | 16:00 - 20:00 |