The Pakistan national high school G M Abad Faisalabad

The Pakistan national high school G M Abad Faisalabad

Share

It is the school of Faisalabad... Join us...
We give your child a quality of education ..

19/11/2016

Pride is concerned with WHO is right. Humility is concerned with WHAT is right. Stay humble and earn the love of Allah.

Photos 29/08/2016
29/07/2016

واہ رے انسانی فطرت تیرے کیا کہنے ....
یہ مندر اور مسجد بھی کیا عجیب جگہیں ہیں
جہاں غریب باہر اور امیر اندر 'بھیک' مانگتا ہے ..
بارات میں دولہے پیچھے اور دنیا آگے چلتی ہے جبکہ میت میں جنازہ آگے اور دنیا پیچھے چلتی ہے ..
یعنی دنیا خوشی میں آگے اور غم میں پیچھے ہو جاتی ہے ..!
موم بتی جلا کر مُردوں کو یاد کرنا
اور موم بتی بجھا کر سالگرہ منانا ..!
عمر بھربوجھ ایک کیل اٹھاتا ہے ...
اور لوگ تعریف تصویر کی کرتے رہتے ہیں ..
ایک دریچہ میں رکھے قرآن اور گیتا آپس میں کبھی نہیں لڑتے،
اور
جو ان کے لئے لڑتے ہیں وہ کبھی انھیں نہیں پڑھتے ....
میٹھی بات کرنے والے تو چاپلوس بھی ہوتے ہیں.
اچھے راستے پر کم لوگ چلتے ہیں لیکن برے راستے پر اکثریت چلتی ہے ......
اسی لیے شراب بیچنے والا کہیں نہیں جاتا،
پر دودھ بیچنے والے کو گھر گھر اور گلی کوچے بھٹکنا پڑتا ہے.
دودھ والے سے بار بار پوچھا جاتا ہے کہ دودھ میں پانی تو نہیں ڈالا؟
جبکہ شراب میں خود ہاتھوں سے پانی ملا ملا کر پیتے ہے.
واہ رے انسانی فطرت تیرے کیا کہنے....

23/07/2016

پرانے وقتوں میں لوگوں کو بیوقوف بنا کر مال بٹورنے کے لیے ایک گروہ ہوا کرتا تھا
اس گروہ سے وابستہ لوگ ٹھگ کہلاتے تھے، انہی ٹھگوں کا ایک واقعہ ہے کہ ....!
"ایک دیہاتی بکرا خرید کر اپنے گھر جا رہا تھا کہ چار ٹھگوں نے اسے دیکھ لیا اور ٹھگنے کا پروگرام بنایا۔ چاروں ٹھگ اس کے راستے پر کچھ فاصلے سے کھڑے ہو گئے۔ وہ دیہاتی کچھ آگے بڑھا تو پہلا ٹھگ اس سے آکر ملا اور بولا ’’بھائی یہ کتا کہاں لے کر جارہے ہو؟
‘‘دیہاتی نے اسے گھور کر دیکھا اور بولا ’’بیوقوف تجھے نظر نہیں آرہا کہ یہ بکرا ہے کتا نہیں‘‘۔
دیہاتی کچھ اورآگے بڑھا تو دوسرا ٹھگ ٹکرایا۔ اس نے کہا ’’یار یہ کتا تو بڑا شاندار ہے کتنے کاخریدا؟
‘‘ دیہاتی نے اسے بھی جھڑک دیا۔ اب دیہاتی تیز قدموں سے اپنے گھر کی جانب بڑھنے لگا مگر آگے تیسرا ٹھگ تاک میں بیٹھا تھا جس نے پروگرام کے مطابق کہا ’’جناب یہ کتا کہاں سے لیا؟
اب دیہاتی تشویش میں مبتلا ہو گیا کہ کہیں واقعی کتا تو نہیں۔ اسی شش و پنج میں مبتلا وہ باقی ماندہ راستہ کاٹنے لگا۔بالآخر چوتھے ٹھگ سے ٹکراؤ ہوگیا جس نے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی اور بولا: جناب کیا اس کتے کو گھاس کھلاؤ گے؟
اب تو دیہاتی کے اوسان خطا ہو گئے اوراس کا شک یقین میں بدل گیا کہ "یہ واقعی کتا ہے۔" وہ اس بکرے کوچھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا یوں ان چاروں ٹھگوں نے بکرا ٹھگ لیا...
آج ہمارا معاشرہ بھی دوسری نوعیت کے ٹھگوں کی یلغار میں ہے۔ یہ ٹھگ دراصل ہمارے ایمان کے ٹھگ ہیں، یہ نہیں چاہتے کہ لوگ سچائی کی راہ پر چلیں، یہ ایمانداری کے خلاف اتنی دلیلیں دیتے ہیں کہ ایک ایماندار شخص مصلحت پسندی کا شکار ہو جاتا ہے...
یہ ناجائز منافع خوری کو حق ثابت کر کے دوسرے لوگوں کو بھی اس قبیح فعل پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ عبادات کو رسومات بنا کر لوگوں کو خدا سے دور کرتے ہیں۔ یہ نکاح کو زنا کے مترادف قرار دے کر خاندانی نظام کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ یہ ہوس کو محبت کا نام دے کر نوجوان نسل کو گمراہ کرتے ہیں۔ یہ مذہب کو کلچر سے تعبیر دے کر لوگوں کو اس سے متنفر کرتے ہیں۔ غرض یہ ٹھگ اس جدید دنیا کے ماڈرن شیطان ہیں۔ یہ ہمارے پاس اپنی قبیح شکل میں نہیں آتے بلکہ یہ سوٹ بوٹ میں ملبوس ہو کر ہمار ے ہمدرد بن کر یہ ساری کارروائی کرتے ہیں۔....
اس پوری صورتحال سے بچنے کے لیے ایک صالح مومن کو دو تدابیر اختیار کرنی ہیں۔ "ایک تو یہ کہ وہ حق وباطل کے میعار کو عوام الناس کی رائے سے اخذ کرنے کی بجائے وحی اور مسلمہ اخلاقی اصولوں سے اخذ کرے۔"
"دوسرا یہ کہ وہ ان شیطانوں کو پہچانے اور ان کی باتوں کو اہمیت نہ دے ورنہ اس کاحشر اس دیہاتی کی طرح ہوگا جو بکرے کو کتا سمجھ بیٹھا تھا۔"

13/07/2016

ایک مرتبہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو سنت سکھا رہے تھے کہ پانی ہمیشہ دیکھ کر پینا چاہیے اور تین سانسوں میں پیﺅ، اتفاق سے ایک یہودی بھی چھپ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ باتیں سن رہا تھا ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ہماری جانیں، ہمارا مال سب کچھ قربان، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں تاثیر ہی ایسی تھی کہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے متاثر ضرور ہوتے۔
رات کو سوتے سوتے اس یہودی کو جو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سن رہا تھا، پیاس لگی، بہت زور کی پیاس محسوس ہوئی، جب اس یہودی کو پیاس لگی تو وہ اپنی بیوی سے بولا کہ مجھے اچھی طرح دیکھ کر پانی پلاﺅ۔ بیوی بولی: آپ کیسی باتیں کرتے ہیں، چراغ بجھا چکی ہوں،رات کا وقت ہے کیا دیکھ کے پانی پلاﺅں؟ ایسے ہی پی لیجیے، پانی تو صاف ستھرا ہوتا ہے گھر کا ہمارے۔“
یہودی کو بڑا غصہ آیا، بیوی سے بولا کہ ”چراغ جلاﺅ“ اور روشنی میں مجھے پانی دیکھ کر پلاﺅ، بیوی بک جھک کرتی اٹھی، سمجھی کہ شوہر پاگل ہوگیا ہے۔ آخر یہودی خود اٹھا اور چراغ روشن کیا، چراغ کی روشنی میں اس کی بیوی نے دیکھا کہ اندھیرے میں وہ جو پانی اپنے شوہر کے پینے کے لیے لائی تھی اس میں ایک سیاہ بچھو (عقرب) تیر رہا ہے، یہودی بھی دیکھ کر حیران رہ گیا، اس پانی میں سیاہ بچھو تیر رہا تھا۔
بیوی کو اس نے تمام ماجرا کہہ سنایا کہ کس طرح اس نے چھپ کر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنی تھیں کہ ”پانی ہمیشہ دیکھ کر پینا چاہیے“۔ صبح کو وہ یہودی ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور رات کا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنادیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا۔ یہودی بولا: ”اے اللہ کے رسول! جس مذہب کی احتیاط انسان کی جان بچالے تو وہ مذہب خود پورے انسان کو دوزخ کی آگ سے کیوں کر نہ بچائے گا“۔ اتنا کہا اور وہ یہودی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیا۔
Mond

Photos from The Pakistan national high school G M Abad Faisalabad's post 29/04/2016
Photos from The Pakistan national high school G M Abad Faisalabad's post 29/04/2016

To day the flavour day of lemon biscuits.

Want your school to be the top-listed School/college in Shah Faisalabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Glam Muhammad Abad Faisalabad
Shah Faisalabad