Islamic School System

Islamic School System Islamic School System is located in the heart of Shabqadar Bazar, ISS is the only educational institute which integrate Religious and Modern Education.

We provide the best Religious and Modern education to our student.

07/05/2026

Fareeha
Class prep

01/05/2026

Muhammad Saad
Class prep

📢 Islamic School System Shabqadar – Admissions OpenAdmissions are currently open at Islamic School System Shabqadar for ...
09/04/2026

📢 Islamic School System Shabqadar – Admissions Open
Admissions are currently open at Islamic School System Shabqadar for the new academic session 2026-27
🏫 School Location Peshawar road near DSP office opposite MCB bank
Shabqadar, District Charsadda, Khyber Pakhtunkhwa, Pakistan. �

📞 Contact Number
0333-9595914
0333-9317003 �

English-medium education
Islamic & moral training alongside modern subjects
Focus on character building and discipline
Friendly learning environment

Admissions open
25/03/2026

Admissions open

15/03/2026
Annual examination result 2026Some images highlights
15/03/2026

Annual examination result 2026
Some images highlights

15/03/2026

Topper of the school
Muhammad hamza class 7th

13/03/2026
26/01/2026

ایک بہترین استاد کی پہچان 👩‍🏫
بہترین استاد وہ نہیں ہوتا
جس کی آواز سب سے بلند ہو…
بلکہ وہ ہوتا ہے
جس کی باتیں برسوں بعد بھی
طلبہ کی زندگی میں گونجتی رہتی ہیں۔
✔️ وہ غلطیوں پر ہنستا نہیں — محبت سے درست کرتا ہے۔
✔️ وہ بچوں کو “نالائق” نہیں کہتا — ان میں چھپے ستارے تلاش کرتا ہے۔
✔️ وہ سبق جلدی میں ختم نہیں کرتا — سب کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔
✔️ وہ صرف مضامین نہیں پڑھاتا — اعتماد سکھاتا ہے۔
✔️ وہ حوصلے نہیں توڑتا — ذہن تعمیر کرتا ہے۔
ایک بہترین استاد ہی وہ وجہ ہوتا ہے
جس کی بدولت کچھ بچے ہمت نہیں ہارتے۔
ایک بہترین استاد ہی وہ سبب ہوتا ہے
جس کی وجہ سے کچھ خواب اسکول میں زندہ رہ جاتے ہیں۔
📌 اگر آج بھی کسی استاد کا نام سن کر
آپ کے چہرے پر مسکراہٹ آ جائے…
تو یقین جانیے، وہ استاد واقعی بہترین تھا۔
👇 اُس استاد کو ٹیگ کریں جو اس تعریف کا حقدار ہے

17/01/2026

والدین سکول کو قصوروار کیوں سمجھتے ہیں؟

ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں بچہ ہمارا ہوتا ہے، مگر ذمہ داری دوسروں کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہے۔ جیسے ہی بچہ صبح اسکول کے دروازے میں داخل ہوتا ہے، کئی والدین ذہنی طور پر خود کو فارغ سمجھ لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اب فیس ادا ہو چکی ہے، لہٰذا باقی تمام فرائض بھی ادا ہو گئے۔
اب یہ اسکول کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کو تعلیم بھی دے، اخلاق بھی سکھائے، تربیت بھی کرے، تمیز بھی دے، ہنر بھی دے، اور اگر ممکن ہو تو ایک مکمل “اچھا انسان” پیک کر کے شام کو واپس کر دے۔ یہ سوچ نہ صرف غلط ہے بلکہ خطرناک بھی ہے، کیونکہ یہ سوچ والدین کو اپنی اصل ذمہ داری سے بری الذمہ کر دیتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسکول کے پاس بچے کے دن کے صرف چند گھنٹے ہوتے ہیں، اور وہ بھی ایک محدود دائرے میں، ایک طے شدہ نظام کے تحت۔ اسکول نصاب پڑھا سکتا ہے، کچھ عادات سکھا سکتا ہے، کچھ حدود متعین کر سکتا ہے، مگر وہ بچے کی پوری شخصیت نہیں بنا سکتا۔ انسان کی تعمیر کوئی ایک جگہ، ایک ادارہ یا ایک فرد نہیں کرتا، بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے جس میں بچے کے اردگرد موجود ہر چیز شامل ہوتی ہے۔ بچہ جو کچھ دیکھتا ہے، جو سنتا ہے، جس ماحول میں سانس لیتا ہے، وہ سب اس کے اندر جمع ہوتا رہتا ہے۔
بچہ اصل میں گھر میں بنتا ہے۔ ماں باپ کے رویّے، ان کی گفتگو، ان کا غصہ، ان کی برداشت، ان کا سچ، ان کا جھوٹ، یہ سب لاشعوری طور پر بچے کے اندر منتقل ہوتا ہے۔ بہن بھائیوں کا لہجہ، رشتہ داروں کا انداز، گھر کا مجموعی ماحول، یہ سب بچے کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ اس کے بعد گلی محلہ آتا ہے، جہاں وہ مختلف لوگوں کو دیکھتا ہے، مختلف زبانیں سنتا ہے، مختلف رویّے سیکھتا ہے۔ بازار سے گزرتے ہوئے، ٹرانسپورٹ میں بیٹھتے ہوئے، دکانوں کے سامنے رکتے ہوئے، وہ ایسی آوازیں اور مناظر دیکھتا ہے جو اس کے ذہن پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔
پھر ہمارے دور کا سب سے طاقتور استاد آتا ہے: اسکرین۔ موبائل فون، ٹی وی، کارٹون، یوٹیوب اور سوشل میڈیا۔ یہ سب وہ عوامل ہیں جو دن کے کئی گھنٹے بچے کی سوچ، زبان، ردعمل اور رویّے کو شکل دیتے ہیں۔ ایک بچہ جب موبائل کے سامنے بیٹھتا ہے تو وہ صرف وقت ضائع نہیں کر رہا ہوتا، وہ ایک خاص قسم کی دنیا اپنے اندر اتار رہا ہوتا ہے۔ وہ دنیا جس میں چیخ ہے، جلدی ہے، ضد ہے، غصہ ہے اور غیر ضروری خواہشات ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر بچہ یہ سب کچھ چوبیس گھنٹوں میں جذب کر رہا ہے تو کیا صرف چھ گھنٹے کا اسکول اس سب کا توڑ کر سکتا ہے؟
یہاں ذرا انصاف سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ اگر گھر کا ماحول خراب ہو، گفتگو تلخ ہو، والدین خود موبائل میں گم ہوں، بچے کو وقت نہ دیا جائے، اس کے سوال نہ سنے جائیں، اس کے احساسات کو نظر انداز کیا جائے، اور پھر یہ توقع رکھی جائے کہ اسکول جا کر وہ خودبخود سدھر جائے گا، تو یہ ایک فریب ہے۔
اسکول ذمہ دار ضرور ہے، مگر وہ والدین کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ استاد بچے کو راستہ دکھا سکتا ہے، مگر اس راستے پر چلانا والدین کا کام ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ یہ بچہ اسکول کا نہیں، آپ کا ہے۔ اس کا مستقبل فیس سے نہیں بنتا، ماحول سے بنتا ہے۔ اس کی زبان، اس کی سوچ، اس کا رویّہ، اس کا اخلاق — یہ سب کچھ اس وقت بنتا ہے جب وہ اسکول سے باہر ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے ہر کمی، ہر خرابی اور ہر ناکامی کا الزام صرف اسکول پر ڈال دیں گے تو نہ بچہ سنورے گا، نہ نظام بہتر ہو گا، اور نہ ہی معاشرہ آگے بڑھے گا۔
یاد رکھئے، تعلیم اسکول دیتا ہے، مگر انسان گھر بناتا ہے۔ جب تک والدین یہ حقیقت تسلیم نہیں کریں گے، تب تک ہم اسکول کو کٹہرے میں کھڑا کرتے رہیں گے اور خود بری الذمہ بنتے رہیں گے۔ اور یہ رویّہ سب سے زیادہ نقصان اسی بچے کو پہنچاتا ہے، جس کے نام پر ہم سب ایک دوسرے پر الزام ڈال رہے ہوتے ہیں۔

Address

Shabqadar

Telephone

+923339317003

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic School System posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Islamic School System:

Shortcuts

Share