10/05/2026
Writing
خواجہ نعیم کپور، جنرل سیکرٹری مرکزی انجمن تاجران سرگودھا، جو آج فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے سفرِ سعادت پر روانہ ہو رہے ہیں، اللہ تعالیٰ اُن کے اس مقدس سفر کو اپنی رحمت، سلامتی، صحت، قبولیتِ عبادات اور بے شمار برکتوں سے مالا مال فرمائے۔ اللہ پاک اُن کا حج مقبول و مبرور بنائے اور یہ مبارک سفر اُن کے لیے اور اُن کے اہلِ خانہ کے لیے روحانی سکون، خوشحالی اور بلندیِ درجات کا سبب بنے۔ آمین۔
نیک تمناؤں اور دعاؤں کے ساتھ:
محمد خالد شیخ
فیڈرل صدر NPCIH
راجہ محمد اقبال ایڈووکیٹ
محمد عمران
سی ای او شالیمار کمپنی
10/04/2026
غازی علم الدین شہید مکمل داستان
غازی علم الدین شہید 1908 میں لاہور میں ایک نہایت غریب بڑھئی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ایک محنت کش کاریگر تھے اور علم الدین بھی بچپن سے ہی ان کے ساتھ دکان پر کام کرتے تھے۔ وہ رسمی تعلیم سے محروم رہے، تاہم مسجد سے بنیادی دینی تعلیم حاصل کی اور ایک سادہ مگر دیندار زندگی گزارتے رہے۔
اسی زمانے میں برصغیر میں ایک متنازع کتاب “رنگیلا رسول” شائع ہوئی، جسے مسلمانوں نے حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی قرار دیا۔ اس واقعے نے مسلمانوں کے جذبات کو شدید مجروح کیا اور ہر طرف احتجاج شروع ہو گیا۔
انہی حالات میں عطاء اللہ شاہ بخاری کے پرجوش خطبات نے مسلمانوں کے دلوں میں غیرتِ ایمانی کو مزید ابھارا۔ علم الدین بھی ان خطبات سے بے حد متاثر ہوئے اور ان کے اندر عشقِ رسول ﷺ کا جذبہ شدت اختیار کر گیا۔
6 اپریل 1929 کو انہوں نے مہاشے راج پال کی دکان پر جا کر اسے قتل کر دیا۔ اس واقعے کے فوراً بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
مقدمہ اور عدالتی کاروائی
علم الدین پر برطانوی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔ پہلے نچلی عدالت اور پھر ہائی کورٹ میں کیس پیش ہوا۔ ان کے دفاع کے لیے محمد علی جناح بطور وکیل سامنے آئے۔
انہوں نے عدالت میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ ملزم کم عمر اور جذباتی کیفیت میں تھا، اس لیے سزا میں نرمی کی جائے۔ لیکن عدالت نے یہ اپیل مسترد کر دی اور سزائے موت برقرار رکھی۔
استقامت اور آخری کلمات
جیل میں انہیں مختلف طریقوں سے قائل کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ اپنے بیان میں نرمی لائیں یا ندامت ظاہر کریں، مگر انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا:
“یہ میری زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ ہے، میں نے یہ کام پورے ارادے سے کیا ہے۔”
یہ الفاظ ان کے عزم اور یقین کی عکاسی کرتے ہیں۔
جیل کی مشہور روحانی روایت
عوامی روایات میں بیان کیا جاتا ہے کہ پھانسی سے ایک رات قبل ایک جیل وارڈن (عبداللہ) نے دیکھا کہ ان کے کمرے سے روشنی اور خوشبو آ رہی ہے۔ جب اس نے اندر جا کر دیکھا تو علم الدین عبادت میں مصروف اور گریہ کر رہے تھے۔
کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بتایا کہ
نبی کریم ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف لائے، اور انہیں تسلی دی۔ بعض روایات میں حضرت علی کا ذکر بھی آتا ہے، اور یہ کہ انہیں حوضِ کوثر پر ملاقات کی بشارت دی گئی۔
اہم وضاحت:
یہ تمام واقعات روحانی اور عوامی روایات ہیں، ان کی مستند تاریخی تصدیق نہیں ملتی۔ انہیں عقیدت کے تناظر میں ہی بیان کیا جاتا ہے۔
شہادت
31 اکتوبر 1929 کو میانوالی جیل میں انہیں پھانسی دے دی گئی۔ اس وقت ان کی عمر تقریباً 20 سال تھی۔
جنازہ اور تدفین
بعد ازاں ان کی میت لاہور منتقل کی گئی جہاں ایک عظیم الشان جنازہ ہوا۔
روایت کے مطابق جنازہ کی نماز مولانا سید دیدار علی شاہ نے پڑھائی
جنازے میں لاکھوں افراد (تقریباً 6 لاکھ) شریک ہوئے
علامہ محمد اقبال جنازے میں شریک ہوئے اور ان سے منسوب مشہور جملہ کہا جاتا ہے:
“ہم باتیں ہی کرتے رہے، ایک بڑھئی کا بیٹا ہم سے آگے نکل گیا”
بعض روایات کے مطابق علامہ اقبال نے تدفین میں بھی حصہ لیا۔
تدفین
غازی علم الدین شہید کو میانی صاحب قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔
جنازے کے دوران “اللہ اکبر” کے نعرے گونجتے رہے اور یہ منظر برصغیر کی تاریخ کے بڑے اجتماعات میں شمار ہوتا ہے۔
تاریخی اہمیت
یہ واقعہ برصغیر میں مذہبی جذبات کی شدت کو ظاہر کرتا ہے
توہینِ مذہب کے قانون (295-A) کو مضبوط بنانے میں کردار ادا کیا
مذہب، قانون اور معاشرت کے تعلق پر ایک اہم بحث کو جنم دیا
اختتامیہ
غازی علم الدین شہید کی داستان ایک سادہ مگر پُرعزم نوجوان کی کہانی ہے جس نے اپنے عقیدے کے لیے ایک ایسا قدم اٹھایا جو تاریخ کا حصہ بن گیا۔ یہ واقعہ آج بھی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ معاشرے میں جذبات، عقیدہ اور قانون کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے۔
تحریر راجہ محمد اقبال ایڈووکیٹ (بمزمیڈیا)
07/04/2026
سعودی عرب اور ایران کے ساتھ پاکستان کے تعلقات: توازن اور اتحاد کی ضرورت
پاکستان کے سعودی عرب اور ایران دونوں کے ساتھ گہرے مذہبی، ثقافتی اور تاریخی تعلقات ہیں۔ پاکستانی عوام کے لیے سعودی عرب کو خاص روحانی اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ مقدس مقامات کی سرزمین ہے جہاں ہر سال لاکھوں مسلمان حج اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے جاتے ہیں۔ یہ تعلق ایک مضبوط جذباتی اور مذہبی وابستگی کو جنم دیتا ہے۔
اسی طرح ایران، عراق اور شام بھی ایسے مقدس مقامات کے حامل ہیں جو مسلمانوں کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں، خصوصاً تاریخی اور روحانی حوالے سے۔ یہ تعلقات سنی اور شیعہ دونوں مکاتبِ فکر کے درمیان مشترکہ ورثے کو اجاگر کرتے ہیں اور اتحاد کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
اس تناظر میں پاکستان ایک اہم ملک کے طور پر سامنے آتا ہے جو سعودی عرب اور ایران دونوں کے ساتھ متوازن اور باعزت تعلقات برقرار رکھتا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی عمومی طور پر غیر جانبداری، تعاون اور خطے میں امن کے فروغ پر مبنی رہی ہے، نہ کہ تصادم پر۔
تاہم بعض اوقات اندرونی اور بیرونی عناصر فرقہ وارانہ بنیادوں پر غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو قومی یکجہتی اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ عوام ہوشیار رہیں اور ایسے بیانیے یا اقدامات سے گریز کریں جو انتشار کو ہوا دیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ہم آہنگی، باہمی احترام اور قومی اتحاد کو فروغ دیں۔ پاکستان کے تمام طبقات کو مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ قومی اداروں کو مضبوط بنایا جا سکے اور تفرقہ ڈالنے والی قوتوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔
ایک مضبوط اور متحد پاکستان نہ صرف اپنے داخلی استحکام کو برقرار رکھ سکتا ہے بلکہ خطے میں امن اور تعاون کے فروغ میں بھی مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔
تحریر:
راجہ محمد اقبال ایڈووکیٹ (پمز میڈیا)**
30/03/2026
مارکیٹ کی حساسیت اور قیادت کی ذمہ داری
آج کی باہم مربوط عالمی معیشت میں سربراہانِ مملکت کے بیانات اسٹاک ایکسچینج اور ڈیجیٹل ٹریڈنگ پلیٹ فارمز پر فوری اور دور رس اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ مالیاتی منڈیاں سیاسی اشاروں، پالیسی اعلانات اور عوامی بیانات کے لیے انتہائی حساس ہوتی ہیں، جو سرمایہ کاروں کے رویے کو متاثر کر کے مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ پیدا کر سکتی ہیں۔
ناقدین کے مطابق بعض اوقات سیاسی بیانات دانستہ یا غیر دانستہ طور پر مارکیٹ کے رجحانات کو متاثر کرتے ہیں، جس سے باخبر حلقوں کو فائدہ اٹھانے کے مواقع مل جاتے ہیں۔ ایسی صورتحال انصاف، شفافیت اور قیادت کی اخلاقی ذمہ داریوں کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے۔
عالمی معیشت گہرے طور پر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے، اور کسی ایک خطے میں تبدیلی کے اثرات دوسرے علاقوں تک بھی پہنچتے ہیں، جن کا سب سے زیادہ بوجھ عام سرمایہ کار اور کمزور طبقے اٹھاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ قیادت ذمہ دارانہ طرزِ گفتگو اختیار کرے، مؤثر ضابطہ کاری کو یقینی بنایا جائے اور اخلاقی اصولوں کی پاسداری کی جائے۔
کاروباری شخصیات اور پالیسی سازوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشی نظام کو دیانتداری اور شفافیت کے ساتھ چلائیں۔ مالیاتی منڈیوں کو ایسا میدان نہیں بننا چاہیے جہاں دوسروں کی محنت سے کمائی گئی دولت کو نقصان پہنچا کر ناجائز فائدہ حاصل کیا جائے۔
ایک مستحکم اور منصفانہ معاشی نظام اعتماد، احتساب اور انصاف کے اصولوں پر قائم ہوتا ہے، اور یہی اصول سیاسی و معاشی رویوں کی رہنمائی کرنے چاہئیں۔
تحریر:
راجہ محمد اقبال ایڈووکیٹ (پمز میڈیا)**
29/03/2026
جدید تنازعات میں پراکسی جنگ کا کردار
جدید جغرافیائی و سیاسی تنازعات میں پراکسی گروپس کا استعمال ایک نہایت متنازع اور زیرِ بحث موضوع بن چکا ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں مختلف تجزیہ کاروں کا مؤقف ہے کہ بعض ریاستیں اپنے اسٹریٹجک مفادات کے حصول کے لیے غیر ریاستی عناصر کی حمایت یا اثراندازی کا سہارا لیتی رہی ہیں۔
ایران کو اکثر بین الاقوامی دباؤ کا سامنا رہا ہے کہ وہ حزب اللہ اور حماس جیسے گروہوں کے حوالے سے اپنے کردار کی وضاحت کرے، جنہیں بعض ممالک خطے میں عدم استحکام، حملوں اور سرحدی کشیدگی سے جوڑتے ہیں۔ تاہم ایران نے ان میں سے کئی الزامات کو مسترد یا متنازع قرار دیا ہے۔
اسی طرح تاریخ میں ایسے واقعات بھی ملتے ہیں جہاں عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ، کو افغانستان کی جنگ کے دوران بعض مقامی گروہوں کی حمایت سے منسلک کیا جاتا ہے، خاص طور پر سرد جنگ کے تناظر میں۔ اسرائیل کے حوالے سے بھی علاقائی سلامتی کی حکمتِ عملی اور اتحادوں کے بارے میں مختلف تجزیے سامنے آتے رہتے ہیں۔
یہ تمام مباحث اس وسیع تر رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں جس میں ریاستیں بعض اوقات اپنے مقاصد کے حصول کے لیے بالواسطہ طریقوں کا استعمال کرتی ہیں۔ ناقدین کے مطابق اس طرح کی پالیسیاں طویل تنازعات، عدم استحکام اور انسانی مسائل کو جنم دیتی ہیں، جو بین الاقوامی قانون اور اخلاقی اصولوں کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھاتی ہیں۔
مجموعی طور پر، پراکسی کردار کا مسئلہ اس بات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے کہ شفافیت، احتساب اور پرامن حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جائیں تاکہ خطے اور دنیا میں پائیدار امن و استحکام قائم ہو سکے۔
تحریر:
راجہ محمد اقبال ایڈووکیٹ (پمز میڈیا)**
26/03/2026
جس کی لاٹھی اُس کی بھینس: طاقت کی سیاست پر ایک تنقیدی نظر
بین الاقوامی تعلقات میں اکثر اصولوں کے مقابلے میں طاقت کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ “جس کی لاٹھی اُس کی بھینس” کا تصور اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ فیصلے اکثر دباؤ، مراعات، اسٹریٹجک مفادات اور حتیٰ کہ تباہی کے خوف کے تحت کیے جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں احتساب کا عمل عالمی سطح پر یکساں نہیں رہتا۔
یہ مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ جب کمزور ممالک کسی غلطی، معاہدے کی خلاف ورزی یا کوتاہی کے مرتکب ہوتے ہیں تو انہیں فوری طور پر تنقید، پابندیوں یا سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس جب طاقتور ممالک اسی نوعیت کے اقدامات کرتے ہیں تو اکثر ان کے اعمال کو نظرانداز، جواز فراہم یا بعض اوقات سراہا بھی جاتا ہے، کیونکہ ان کا اثر و رسوخ زیادہ ہوتا ہے۔
موجودہ جغرافیائی و سیاسی کشیدگی، خصوصاً ایران، اسرائیل اور امریکہ سے متعلق تنازعات، کو بعض ناقدین اس عدم توازن کی مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق طاقتور ممالک کو ہمیشہ یکساں معیار پر نہیں پرکھا جاتا، جس سے عالمی سطح پر انصاف کے تقاضے متاثر ہوتے ہیں۔
یہ صورتحال بین الاقوامی قانون، انصاف اور عالمی اداروں کی ساکھ کے حوالے سے اہم سوالات کو جنم دیتی ہے۔ ایک مستحکم اور منصفانہ عالمی نظام کے لیے ضروری ہے کہ قوانین کا اطلاق طاقت یا حیثیت سے بالاتر ہو کر یکساں طور پر کیا جائے تاکہ اقوام کے درمیان اعتماد اور توازن برقرار رہ سکے۔
تحریر:
راجہ محمد اقبال ایڈووکیٹ (پمز میڈیا)**
25/03/2026
تنازعات کے دوران امریکی اور اسرائیلی قیادت کے بارے میں تاثرات
کچھ ناقدین کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی قیادت کو بین الاقوامی وعدوں اور معاہدوں کے حوالے سے غیر مستقل اور غیر قابلِ اعتماد سمجھا جاتا ہے۔ اس نقطۂ نظر کے تحت یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ آیا ان کے وعدے، یقین دہانیاں اور سفارتی اعلانات عملی طور پر کس حد تک پورے کیے جاتے ہیں۔
ایسے حلقوں کا کہنا ہے کہ جنگی حالات میں جنگ بندی (سیز فائر) کے اعلانات کے باوجود بعض اوقات زمینی حقائق ان دعوؤں کے برعکس نظر آتے ہیں، جس کے باعث عالمی سطح پر اعتماد کا فقدان پیدا ہوتا ہے۔ ناقدین کے مطابق ایک طرف جنگ بندی کا اعلان کیا جاتا ہے اور دوسری طرف عملی طور پر کشیدگی جاری رہتی ہے، جو بین الاقوامی تعلقات میں شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے۔
یہ آراء زیادہ تر سیاسی اور تجزیاتی مباحث کا حصہ ہیں، جو عالمی سطح پر احتساب، شفافیت اور انسانی حقوق کی پاسداری جیسے اہم موضوعات کو اجاگر کرتی ہیں۔ آج کی باہم مربوط دنیا میں قیادت کی ساکھ اور پالیسیوں میں تسلسل عالمی اعتماد اور استحکام کے لیے نہایت اہم ہے۔
بالآخر پائیدار امن اور تعاون کا دارومدار خلوص، باہمی احترام اور معاہدوں کی حقیقی پاسداری پر ہوتا ہے۔ ان عناصر کے بغیر سفارتی کوششیں اپنی مؤثریت اور اعتبار کھو دیتی ہیں۔
تحریر:
راجہ محمد اقبال ایڈووکیٹ (پمز میڈیا)**