26/09/2026
*مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ —*
تمہارے رب نے نہ تمہیں چھوڑا ہے اور نہ وہ بیزار ہوا ہے
سورۃ الضحٰی کی یہ آیات دل کو امید، تسلی اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کی ایک بہت خوبصورت یاد دہانی کراتی ہیں۔
زندگی میں خوشی اور غم، آسانی اور مشکل کا آنا جانا دن اور رات کی طرح اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ نظام کا حصہ ہے۔ کبھی حالات ہمارے حق میں ہوتے ہیں اور کبھی آزمائشیں ہمیں گھیر لیتی ہیں، لیکن مومن کے لیے سب سے بڑی تسلی یہ ہے کہ اللہ اپنے بندے کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مشکل وقت اللہ کی ناراضی یا ہمارے ساتھ اس کے تعلق کے ختم ہونے کی علامت نہیں۔ بعض اوقات آزمائش کا وقت لمبا محسوس ہوتا ہے، مگر اللہ کی رحمت اور مدد ہمارے ساتھ ہوتی ہے۔ موجودہ حالات خواہ کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، اللہ کے ہاں آنے والا وقت بہتر ہو سکتا ہے، اور آخرت تو یقیناً کہیں زیادہ بہتر اور دائمی ہے۔
اس لیے مومن نعمت میں شکر اور آزمائش میں صبر اختیار کرتا ہے۔ جب اللہ ہمیں کچھ عطا کرے تو شکر کریں، اور جب کوئی چیز ہم سے چھن جائے یا حالات ہماری مرضی کے مطابق نہ ہوں تو اللہ سے بدگمان ہونے کے بجائے اس کی رحمت پر یقین رکھیں۔
سورۃ الضحٰی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ جس دل نے اللہ کی نعمت اور اپنی بے بسی کو محسوس کیا ہو، وہ دوسروں کے لیے بھی رحمت بنے؛ یتیم، بے سہارا اور ضرورت مند کے ساتھ نرمی اور حسنِ سلوک اختیار کرے۔
*آج کے کرنے کے کام:*
آج کسی ایک مشکل یا پریشانی کے بارے میں دل میں یہ یقین تازہ کریں: “میرا رب مجھے مشکل میں اکیلا نہیں چھوڑے گا۔”
آج اللہ کی کم از کم تین نعمتوں پر شعوری طور پر شکر ادا کریں اور کسی ایک ضرورت مند کے ساتھ بھلائی کریں۔
یا اللہ! ہمارے دلوں کو اپنی رحمت سے مایوس نہ ہونے دے، ہمیں ہر حال میں تجھ پر بھروسہ، نعمت میں شکر اور آزمائش میں صبر عطا فرما۔
آمین۔🤲🏻
🎙️ *Shehzad Ali