ہمیں ایران کی طرح دیر سے نہیں جاگنا، وقت پر بیدار ہونا ہے۔ایران میں موساد او سی آئی اے کے ایجنٹوں نے نہ صرف اعلیٰ فوجی افسران اور انکی بیگمات کو جال میں پھنسایا، بلکہ ایران کے نیوکلیئر راز تک حاصل کر لیے۔۔۔نتیجہ یہ ہوا کہ سائنسدانوں کا قتل، سسٹمز کی ہیکنگ، اور دفاعی انفراسٹرکچر کی کمزوری ساری دنیا نے دیکھ لی ۔
لہذا پاکستا ن میں تمام NGOs، یوٹیوب وی لاگرز، سیاح ،صحافی ،نام نہاد امن مشن ، تحقیق یا انسانی حقوق کے نام پرآنیوالے غیر ملکیوں پر سیکیورٹی ادارے نظر رکھیں۔ نوجوان غیر ملکی لڑکیوں سے شادی سے پہلے سو بار سوچیں ۔غیر ملکی لڑکیاں سوشل میڈیا پر دوستی کر کے پاکستان آتی ہیں، اکثر سادہ دل، کم پڑھے لکھے، عاشق مزاج یا غربت سے مجبور نوجوانوں کو اپنا شکار بناتی ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ وہ لڑکیاں اپنے ملک واپس نہیں جانا چاہے گی اگر نہیں تو کیوں ؟؟؟ وہ لڑکا کیا صرف گرین کارڈ کی راہ تلاش کر رہا ہے یا خود بھی دشمن کے اسی کھیل کا حصہ تو نہیں ؟؟؟ جب لڑکی پاکستان چھوڑنے سے انکار کرے گی، تو کہا جائے گا کہ وہ یہاں سوشل ورکر ہے، یا اسلام سے متاثر ہو گئی ہے۔ اور اسی بہانے وہ سیکیورٹی اداروں، مدارس، مساجد اور اہم شخصیات تک رسائی حاصل کرے گی ۔ نکاح کے بعد غیر ملکیوں کے قیام، ان کے رابطوں، اور انٹرنیٹ سرگرمیوں کی مکمل نگرانی ہونی چاہیے ۔ ہمیں اب سنجیدہ تفتیش کی ضرورت ہے ۔ ہمارا ملک، ہماری ذمہ داری۔ کسی بھی شخص کا ماضی، مقصد اور تعلقات جانے بغیر اسے اپنی زندگی اور ملک کے قریب نہ آنے دیں۔سیکیورٹی ادارے مشکوک سرگرمی کی باقاعدہ رپورٹنگ اور تفتیش کے نظام کو مضبوط بنائیں
۔
FIA Cyber Secure Pakistan Pakistan Defence PAK ARMY
NTS/ FPSC Past Papers & Guidance
The whole purpose of education is to turn mirrors into windows.
19/03/2025
https://vm.tiktok.com/ZNddHdAor/
TikTok · Qtutor Check out Qtutor’s video.
ہمارے پاس دو معاشرتی نظام ہیں۔
پہلا اسلامی معاشرتی نظام ہے جس میں کمانے کی مکمل ذمہ داری صرف اور صرف مرد پر ہے اور گھر سنبھالنے کی ذمہ داری عورت پر ہے۔ مرد باہر کے سارے کام کرتا ہے اور عورت گھر کے۔گھر کے سارے کام کرنے بعد بچ جانے والے وقت میں عورت کچھ کماتی ہے تو اس پر صرف اس کا ہی حق ہے۔
دوسرا مغربی معاشرتی نظام ہے جس میں مرد اور عورت دونوں مل کر کماتے ہیں اور گھر کے اخراجات میں دونوں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ گھر کے کام بھی دونوں مل کر کرتے ہیں۔ اس میں جو کچھ بھی بنتا ہے وہ دونوں کا مشترکہ ہوتا ہے اور طلاق کی صورت میں سب کچھ برابر تقسیم ہو جاتا ہے۔
اب ہمارے معاشرے میں ہو یہ رہا ہے کہ ان دونوں معاشرتی نظاموں میں سے اپنی پسند کی چیزیں ہر کوئی منتخب کرتا ہے یعنی اپنے حقوق لے لیتا ہے اور فرائض چھوڑ دیتا ہے۔
اگر کوئی مرد اسلامی معاشرتی نظام کو اپنانا چاہتا ہے تو پھر وہ جاب والی لڑکی سے شادی کیوں کرتا ہے؟ جاب والی لڑکی سے شادی کرنا اور پھر شادی کے بعد چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالنا سراسر زیادتی ہے۔ پہلے ہی ایسی لڑکی سے شادی کریں جو جاب نہ کرتی ہو اور جاب کرنے کی ضد بھی نہ کرتی ہو۔
اگر آپ جاب والی لڑکی سے شادی کر رہے ہیں تو پھر مغربی معاشرتی نظام کو اپنائیں اور پہلے ہی بتائیں کہ گھر کے اخراجات آدھے مرد کے ذمہ ہونگے اور آدھے عورت کے۔ گھر کے کام کاج بھی دونوں مل جل کر کریں گے۔ اس نظام میں جوائنٹ فیملی سسٹم تو بالکل نہیں چل سکے گا کیونکہ لڑکے کی ماں اور بہنیں اس پر شور مچاتی رہیں گی۔ (جوائنٹ فیملی سسٹم کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، یہ ہندوانہ رواج ہے لیکن یہ بحث یہاں مناسب نہیں)۔
اگر جاب والی لڑکی سے شادی کر رہے ہیں تو پھر یقیناً وہ جاب کو ٹائم دے گی اور گھر کے کام کاج نہیں کر سکے گی۔ بچوں کو ڈے کئیر میں چھوڑنا پڑے گا۔ تو ایسے میں یہ کہنا کہ عورت جو کما رہی ہے اس پر اس کا حق ہے کسی صورت درست نہیں۔ وہ اسی وقت کو لگا کر کما رہی ہے جو اس نے گھر کو دینا تھا۔ اگر وہ وقت گھر کو نہیں دے رہی تو پھر اس کمائی پر صرف اس کا حق کیسے ہوگیا؟
اب اس سارے معاملے کا کوئی حل ہے؟
جی اس کا حل یہی ہے کہ میاں بیوی مل بیٹھ کر بات چیت کریں اور کسی ایک نظام پر متفق ہو جائیں۔ اگر مغربی نظام پر متفق ہوتے ہیں تو عورت گھریلو اخراجات میں آدھا حصہ ڈالے جتنا مرد ڈال رہا ہے۔ اگر اسلامی نظام پر متفق ہوں تو عورت کو جاب چھوڑ کر گھر سنبھالنا ہوگا۔
آدھا تیتر آدھا بٹیر بننے سے یہ مسائل ایسے ہی رہیں گے۔
آپ اپنی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں۔
ذاکر نائیک کے پاس "علمیت و حکمت" تو ہے نہیں۔
وہ تو صرف قران و حدیث میں سے آیات کوٹ کرتا جاتا ہے۔
سورہ نمبر فلاں، چیپٹر نمبر فلاں، آیت نمبر فلاں ۔ ۔
یہ کیا بات ہوئی۔
علما تو پاکستان میں ہیں۔
قران و حدیث سے کوٹ کرتے ہیں۔ پھر اپنی منطق و دلیل، اپنی علمیت اور اپنی ساحرانہ لفاظی سے اسکی ایسی ایسی تشریح کرتے ہیں کہ دل مطمئن ہو جاتا ہے۔
بالکل ٹھیک ہے۔
پاکستان میں سب اچھے بھلے "اسلام کے مطابق" رہ رہے تھے۔
تو یہ ذاکر نائیک ، کھل نائیک بن کر آ گیا۔
ہم نے "اسلام کے مطابق" تھوڑا بہت سود لینے دینے کو جائز منوا لیا تھا۔
ہم نے "اسلام کے مطابق" تھوڑی سی رشوت دینے اور لینے کی گنجائش پید اکر لی تھی۔
ہم حرام کمائی کے پیسوں سے مسجد کے ٹائلٹ بنانے کی ٹیکنیک سے واقف ہو چکے تھے۔
ہم نے المدینہ ملک شاپ نام رکھ کر کیمیکل والا دودھ بیچنا جائز سمجھ لیا تھا۔
ہم ناجائز منافع خوری کے بعد عمرہ کر کے "خدا کو راضی" کرنے کے ہنر میں یکتا ہو چکے تھے۔
ہم نے متعہ کے فتووں سے جسم فروشی کے لائسنس حاصل کیے اور دف بجانے کی اجازت والی حدیث سے میوزک انڈسٹری بنا ڈالی۔
ہم گھٹیا ترین فلموں کے مہورت میں دعا کر نے لگے تھے، اور فلموں کی کامیابیوں کو خدا کی طرف سے عطا کامیابی کہنے لگے تھے۔
ہماری اداکارائیں اپنی فلموں کی کامیابی پر انشاءاللہ کہنا سیکھ گئی تھیں۔
ہم بہن بیٹیوں مرضی کے بنا اپنی مرضی سے انکی شادیاں کروانے والے
ہم جائیداد بچانے کے لیے بیٹیوں کی شادی کسی درخت کی بجائے نعوذ بااللہ، قران سے کرنے لگے تھے۔
ہماری عورتیں دل و نگاہ کا پردہ کرنے لگی تھیں، اور ہمارے مرد ان "دل و نگاہ" کا پردہ کرنے والیوں کو نگاہوں سے سنگسار کرنا سیکھ گئے تھے۔
ہم میں سے اکثر نماز کی بجائے "حقوق العباد" پر زور دینا سیکھ گئے تھے ۔ اور نماز کی معافی لے چکے تھے۔
جبکہ ہمارے نمازی حقوق العباد کو بھی اللہ سے معاف کروا لینے کا فتوی ایجاد کر چکے تھے۔ گویا جس نے اصول بنایا اسی سے اصول توڑنے کی دعا کرتے تھے۔
لسٹ بہت لمبی ہے ۔ ۔ ۔
ہم اپنی ساری زندگی "اسلام کے مطابق" کر چکے تھے ۔
پھر یہ کھل نائیک آ گیا ۔
اور اس نے چیپٹر نمبر دس ، سورہ نمبر بیس، آیت نمبر تیس بتا بتا کر ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔
نہ۔جانے یہ کونسا اسلام بتاتا رہا ہے ساری دنیا کو؟
اسلام وہ ہے جو ہم نے پاکستان میں بڑی مشکل سے تفسیر کیا ہے۔
اور یہ کھل نائیک ہمیں بتانے آ گیا کہ ہم اسلام کے مطابق نہیں ہیں۔
یہ کون ہوتا ہے ہمیں بتانے والا؟
ہم اس سے بہتر اسلام جانتے ہیں۔
ہمارے پاس "دین" بھی پورا ہے،
اور ۔ ۔ ۔ ہماری دنیا بھی جیب میں ہے۔..
تنخواہوں، پینشن کو خزانے پر بوجھ تو بتاتے ھیں. IPP's کو مفت اربوں سالانہ ادائیگی کا ذکر تک نہیں کرتے کیونکہ یہ خود اس میں ملوث ہیں
22/07/2024
پرو راٹا سسٹم کیا ہے ؟
اگر میٹر ریڈر مقررہ تاریخ سے تین دن قبل ریڈنگ کے لئے آگیا ہے تو وہ 30 کی بجائے 27 دن کی ریڈنگ لے گا ۔
فرض کریں میٹر پر 189 یونٹ کی ریڈنگ چل رہی ہے تو وہ اسے 27 پر تقسیم کرکے ایک دن کی اوسط نکالے گا جو 7 یونٹ بنے گی اس اوسط کو 3 دن سے ضرب دی جائے تو 21 بنتا ہے میٹر ریڈر 21 یونٹ کو 189 میں جمع کرکے 30 دن کے یونٹ بنائے گا
21 + 189 = 210
اس طرح بل پر لگی تصویر پر 189 پرنٹ ہوگا لیکن بل پر 210 یونٹ لکھا ہوگا چاہے صارف نے بقیہ تین دن بجلی کے استعمال میں احتیاط کی ہو تاکہ 200 یونٹ سے کم استعمال ہو
اگلے ماہ اسی طرح اوسط کے حساب سے تین دن کے یونٹ کم کر دئیے جائیں گے لیکن صارف اگلے 6 ماہ تک پروٹیکٹڈ کیٹیگری سے نکل جائے گا ۔
بجلی کمپنیوں نے پرو راٹا سسٹم کے تحت لاکھوں صارفین کو پروٹیکٹڈ کیٹیگری سے نان پروٹیکٹڈ کیٹیگری میں شامل کر دیا ہے
ہور کوئی خدمت ؟
گناہوں سے نادم ہوکر حق تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کا نام توبہ ہے۔انسان اپنی خلقت کے اعتبار سے نہ فرشتہ اورنہ شیطان۔ اپنی تخلیق کی ابتداءسے گناہوں سے کنارہ کش رہنا اورہمہ وقت اطاعت الٰہی میں مشغول رہنا ، فرشتوں کا خاصہ ہے ، دائمی سرکشی ، بغاوت اورمخالفتِ حق ،کار شیطان ہے۔ انسان سے غلطی کا صدور ہوجاتا ہے ، لیکن اسے گناہوں کو ترک کرنے، توبہ کرنے اوررجوع الی الحق کی صلاحیت سے نواز اگیا ہے۔ توبہ کرنا شیوہ آدمیت ہے ، جو شخص توبہ کرتا ہے وہ گویا کہ اپنے جدا مجد حضرت آدم علیہ السلام سے اپنی نسبت کودرست کرلیتا ہے۔ لیکن اگر کوئی بدقسمت انسان ہمیشہ گناہوں پر اصرار کرے تو گویا، اس نے اپنا تعلق شیطان سے استوار کرلیا ہے ، ایک عام انسان کے لیے ایسا بھی ممکن نہیں ہوتا کہ اس کی زندگی کا ہر لمحہ غفلت سے پاک ،عبادت وریاضت اوراطاعت وبندگی سے معمور ہوجائے اوروہ دنیا میں رہتے ہوئے فرشتوں کی سی زندگی بسرکرے۔ انسان کے وجود میںلغزش ونسیان اورنفسیانی خواہشات کامادہ بھی موجود ہے، امام غزالی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ انسان کے وجود میں پہلے شہوت وخواہشات کو پیداکیاگیا ہے اورجب یہ اس کے وجود میں رچ بس گئی تو اسے جو ہرِ عقل سے نوازا گیا، عقل کوشہوت کا دشمن بنایا گیا اوریہ خالص فرشتوں کا جوہر ہے ، عقل کو یہ ہدف دیاگیا کہ وہ اپنی خداداد صلاحیت سے کام لے کر خواہش وشہوت کے اس قلعہ میں رخنہ ڈالے اورتو بہ اورمجاہدہ کی قوت سے اسے فتح کرے اوراسے شیطان کی غلامی اورنفس کی بالادستی سے نجات دلائے ۔
گویا کہ توبہ ہر شخص کی ضرورت ہے اوراللہ رب العزت کی معرفت کے جویاں افراد کے لیے قدمِ اولین ہے۔جب انسان کو توبہ کی توفیق نصیب ہوجائے تو پھر انسان شرح سے اکتساب کرتے ہوئے اوراپنی فراست مومنانہ کو استعمال کرتے ہوئے، صحیح راستے کا تعین کرسکتا ہے ، گویا توبہ ایک ایسا اہم ترین فریضہ ہے، جو تمام فرائض وواجبات کی جان ہے، اس لیے کہ اس کا مطلب ہی گمراہی کو ترک کرکے سیدھے راستے کو اختیار کرنا ہے۔ یاد رہے کہ اللہ رب العزت نے اپنے ہر بندے کو توبہ کرنے کا حکم دیا ہے ،
سورة نور میں ارشاد ربانی ہوتا ہے ۔”اے ایمان والو! تم سب اللہ کے حضور میں توبہ کرو تاکہ تم فلاح پاجاﺅ“۔(النور : ۳۱)
سورة ہود میں ارشاد ہوتاہے ”اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو اورپھر اس کی طرف رجو ع کرو“(ہود : ۳)
سورة التحریم میں حکم ہوا ”اے ایمان والو! اللہ کی جناب میں سچے دل سے توبہ کرو“(التحریم :۸)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، حضور علیہ الصلوٰة والسلام نے ارشادفرمایا سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے پہلے جو شخص توبہ کرے گا اس کی توبہ قبول کرلی جائےگی۔(صحیح مسلم)
جوخواتین کہتی ہیں کہ انکے شوہر ظالم ہیں وہ اپنے بیٹوں کی تربیت اسطرح کریں کہ انکی بہوؤں کو یہ بات نہ کرنی پڑے۔
27/03/2024
Rashid Latif has his say on Imad Wasim's latest controversy on smoking in the dressing room in the , do you agree with him?
| | | | | | |
27/03/2024
Number of Posts =202
Senior Computer Teacher at FDE
Golden Chance For Computer Science Degree holder .
﷽
السلام علیکم!
*حدیث نبویﷺ *
حضور پرُنور تاجدار مدینہ حَضرت مُحمد مُصطفٰےﷺ نے اِرشاد فرمایا،
کہ تم مُسلمانوں کے عیبوں کو تلاش نہ کرو، کیونکہ جو شخص اپنے (مُسلمان) بھائی کے عیبوں کو تلاش کرتا ھے،
تو اللٌٰہ اُس کے عیبوں کا پیچھا کرتا ھے، اور جس کے عیبوں کا اللٌٰہ پیچھا کرتا ھے، تو وہ اُسے رسوا کر دیتا ھے، خواہ وہ اپنے گھر میں بیٹھا ہو۔
(سَنن التِرمزی،حدیث:٢٠٣٢)
”صبح بخیر
جب کوئی ہاتھ پکڑائے تو صرف ہاتھ پکڑا کریں، پورا بازو نہ کھینچا کریں۔
کوئی لاکھ کہے کہ"آپ ہمیں اچھے لگتے ہیں"شکریہ کہہ کر بات ختم کر دیں۔اسکی بات کا دل پر اثر مت لیا کریں۔
لوگ آپ سے نہیں، اس تجسس سے متاثر ہو جاتے ہیں،،
جو انھیں آپ کو کھوجنے کا ہوتا ہے___
وہ آپ کی ذات میں تب تک دلچسپی لیتے ہیں،
جب تک وہ آپ کو مکمل جان نہیں لیتے۔
سو اس لئے آپ خود کو کسی پر بھی آشکار مت کریں۔
راز بن کر رہیں، جب تک راز بن کر رہیں گے، تب تک اہم رہیں گے___جیسے ہی لوگ آپ کو مکمل جان لیں گے، وہ آپ کی قیمت گھٹا دیں گے،اپکی قدر کرنا چھوڑ دیں گے،
اور کسی نئی چیز کی کھوج میں نکل جائیں گے۔
یہ ہی سچ ہے۔ جو ہم لوگ قبول نہیں کر پاتے۔۔۔!
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
NST SGD
Sargodha
4044