27/09/2023
🌟 Start your religious journey with Our Online Quran Tutor! 📖
We here to guide and teach you and your children on journey of spiritual growth and understanding.
🔹 Personalized one-on-one sessions
🔹 Flexible scheduling to fit your life
🔹 Learn at your own pace
🔹 Expert guidance and tajweed instruction
Start your Quranic journey today! Visit our page and contact us to book your free trail 🌙
📞 +92 3000908345
25/09/2023
"Online Quran Tutor Page" is a dedicated platform that offers convenient and accessible Quranic education through virtual lessons. Our platform connects students of all ages and backgrounds with qualified Quran tutors who provide personalized instruction in the recitation, memorization, and understanding of the Holy Quran. With flexible scheduling and interactive teaching methods, our goal is to make learning the Quran accessible to anyone, anywhere in the world. Join us on this spiritual journey of knowledge and deepen your understanding of the Quran from the comfort of your home.
28/07/2023
" کچھ مغربی ممالک کی عادات میں سے ایک قصہ "
ایک ائرپورٹ پر اترا تو اپنا بیگ لگیج لائونج سے لینے گیا(جس دوست نے پک کرنا تھا وہ کچھ لیٹ تھا)
میں نے بیگ لیا اور وہیں قریب انتظار کرنے لگا۔
قریب ہی ایک گوری فیملی بیٹھی تھی۔ ایک ماں اور دو بچے۔
ایک لڑکے کی عمر شاید تیرہ چودہ سال کی ہوگی۔اسے ایک کتاب میں غرق پایا۔ اسے اپنے اردگرد کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔
قریب سے گزرا تو اس کے ہاتھ میں بھاری بھرکم کتاب دیکھ کر اندازہ لگایا وہ فکشن کی کتاب تھی(اس عمر کے بچے ویسے ہی سنجیدہ کتب یا نان فکشن نہیں پڑھتے) میں کچھ دور وہیں بیٹھ گیا
جتنا محو ہو کر وہ لڑکا کتاب پڑھتا رہا اسے رشک سے دیکھتا رہا
مجھے یاد نہیں پڑتا میں نے پاکستان میں کسی ائرپورٹ پر اس عمر کے لڑکے کے ہاتھ میں کبھی کوئی کتاب دیکھی ہو۔
ہمارے ہاں فون بچوں کےہاتھ میں ہیں۔ یقینا اس بچے کے پاس بھی فون ہوگا لیکن وہ فون کی بجائے فکشن پڑھ رہا ہے۔
اب پوچھیں گے وہ فون کیوں استمعال نہیں کررہا اور کتاب پڑھ رہا ہے؟؟؟
کیسے ۔۔؟؟.. کیوں ۔۔؟؟
اس کی بڑی سادہ سی وجہ ہے۔
اسے عادت کہہ لیں جس کا نام "بیڈ ٹائم اسٹوریز" ہے جو اس کے والدین نے تین چار سال کی عمر میں اسے ڈال دی تھی۔
مجھے خود بچپن میں اماں سے بیڈ ٹائم اسٹوریز سننے کا بہت شوق تھا۔ رات کو گائوں کے گھر کے برآمدے میں چارپائی پر لیٹے لیٹے اماں کہانی قصہ سناتے سناتے سو جاتی تو میں انہیں ہلا کر پوچھتا اماں پھر کیا ہوا۔ اماں آنکھیں کھولے بغیر پھر وہیں سے سوئے سوئے کہانی شروع کر دیتیں۔
( خیر اب اس عمر میں پہنچ کر دن بھر کی تھکی ہاری اماں کی نیند خراب کرنے کا دکھ ہوتا ہے)
ان بیرون ممالک میں بچوں کو بیڈ ٹائم اسٹوری سنانے کا بہت پرانا رواج ہے۔
یاد رہے ہر انسان قصہ سننا یا پڑھنا چاہتا ہے۔ یہاں ان بچوں کو سکول کہانیوں کی کتاب دیتے ہیں جو بچوں نے گھر رات کو سونے سے پہلے پڑھنی ہوتی ہے۔ وہ نہ پڑھ سکتے ہوں تو ماں باپ میں سے کسی ایک کو ہر صورت وہ اسٹوری اس بچے کو بیڈ پر ضرور سنانی ہوتی ہے اور پھر اس کہانی پر انہوں نے ایکٹنگ بھی کرنی ہوتی ہے تاکہ بچہ انجوائے کرے اور اگلی رات کا انتظار کرے۔
ماں باپ پھر ان بچوں کو اپنے ساتھ بک اسٹورز پر بھی لے جانا شروع کرتے ہیں۔ وہ بچے کتابوں کے درمیان پھرتے رہیں گے۔ ان کے ماں باپ بھی ان کے سامنے کتابیں خریدیں گے پھر وہ بچے جب گھر جا کر اپنے ماں باپ کو یہ کتابیں پڑھتے دیکھتے ہیں تو انہیں لگتا ہے یہ واقعی بہت بڑا اہم کام ہے جو ان کےوالدین کرتے ہیں لہذا وہ بھی اس کام کو بہت اہم سمجھ کر شروع کرتے ہیں۔
وہ بچے کتاب ہاتھ میں لے کر پڑھنے کی کوشش کریں گے یا پڑھنے کی اداکاری کریں گے کیونکہ ان کے والدین یہ کام کررہے ہیں۔
سادہ سی وجہ یہ بھی ہے کہ
ایک چیز ہوتی ہے " عادت "جس سے چھٹکارا حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔
نئی اسٹڈیز کا کہنا ہے آپ کوئی نئی عادت کا خود کو عادی کرنا چاہتے ہیں تو 21 دن وہ کام مسلسل کرتے رہیں چاہے دل چاہے یا نہ چاہے۔ خود کو مجبور کریں وہ کام کرنے پر۔ اکیس دن بعد وہ عادت عمر بھر نہیں چھوٹے گی۔
بالکل اسی طرح اگر آپ کوئی عادت ترک چاہتے ہیں تو بھی اکیس دن لگے رہیں۔ وہ عادت چھوٹ جائے گی۔
اب یہ آپ پرہے کہ آپ اکیس دن نئی عادت خود کو لگانا چاہتے ہیں یا کوئی پرانی عادت چھوڑنا چاہتے ہیں۔
یقیناً وہ ائیرپورٹ والا بچہ اپنی عادت کے ہاتھوں مجبور ہے کہ وہ نہ فون استمعال کررہا ہے نہ ہی میری طرح آنے جانے والوں کو دیکھ کر وقت پاس کررہا ہے۔
کتاب کی بچپن سے لگی عادت/لت نے اس لڑکے کی باقی سب عادتیں “بگاڑ” دی ہیں جو ہمارے ہاں اس عمر کے باقی بچوں کو لگ جاتی ہیں۔
اب وہ ہے، کتاب ہے۔ لیکن وہ کتاب کی دنیا میں ایسا گم ہے کہ اسے اپنے اردگرد شو ر شرابے اور ہجوم کی بھی پرواہ نہیں۔
یہ وہ کام ہے جو صرف ایک کتاب ہی کرسکتی ہے کہ آپ کو پوری دنیا سے لاپرواہ کر دے۔ آپ کو اپنی دنیا میں گم کردے۔ ایک ایسی دنیا ، ایک ایسی خوبصورت خوابوں کی دنیا جس سے آپ واپس لوٹنا نہیں چاہتے—
تربیت روز اول سے کریں بچہ کا ابتدائی رول ماڈل آپ والدین ہی ہوتے ہیں
(سوشل میڈیا پر موجود"رؤف کلاسرا" کی دلنشین تحریر)
28/07/2023
میٹر ریڈرز کا شافی علاج۔۔۔۔۔
آپ کے بجلی کے بل پر تاریخ ریڈنگ کے خانے میں تاریخ لکھی ھوتی ھے کہ جس تاریخ کو آپ کے میٹر کی ریڈنگ لی گئی اور بل کے نیچے میٹر ریڈر نے آپ کی میٹر ریڈنگ کی جو تصویر لی ھوتی ھے وہ پرنٹ ھوتی ھے اور وہ تصویر بل پر لکھی گئی میٹر ریڈنگ کی تاریخ سے 10/15 دن ذائد یونٹس کی ھوتی ھے۔ عموماً ھر بل میں ریڈنگ کی ایک ھی تاریخ ھوتی ھے آپ نے کرنا یہ ھے کہ ریڈنگ والے دن اس تاریخ کا تازہ اخبار لینا ھے اور اس اخبار پر جہاں تاریخ لکھی ھوتی ھو اس اخبار کے حصے کو میٹر کے ساتھ لگا کر ایسے تصویر بنانی ھے کہ میٹر کی ریڈنگ اور اخبار کی تاریخ ایک ھی تصویر میں شو ھو سکیں۔ یا ایک ویڈیو بنانی ھے جس میں اپنی اور اہل محلہ کے 5/7 گھروں کی میٹر ریڈنگ لیکر اہل محلہ کو ساتھ کھڑا کرکے ان سے آج کی تاریخ اور ٹائم ریکارڈ کرلیں، اس کے بعد اس ثبوت کو محفوظ کرلیں جیسے ھی بجلی کا بل آئے جو لازمی اس تصویر یا ویڈیو والی ریڈنگ سے 100/150 یونٹ زیادہ کا ھوگا۔ اس بل کو لیکر اپنی قریب ترین عدالت سے رجوع کریں اور میٹر ریڈر پر اندراج مقدمہ کی درخواست دائر کردیں۔ آپ کی صرف ایک دن کی تکلیف اس پورے محکمہ کے میٹر ریڈروں کو تیر کی طرح سیدھا کردے گی اور آئندہ کے لئے آپ کے بجلی کے بل آدھی قیمت پر آجائیں گے۔ یاد رکھیں آپ کا حق آپ کو کبھی بھی بستر پر لیٹ کر نہیں ملے گا اسے لینے کے لئے آپ کو تھوڑی تکلیف ضرور اٹھانی پڑے گی ورنہ ساری زندگی حکومتوں کو گالیاں نکالتے گزر جائے گی
26/07/2023
سقراط نے جب زہر کا پیالہ پیا تو ایتھنز کے حکمرانوں نے سکھ کا سانس لیا کہ اُن کے نوجوانوں کو گمراہ کرنے والا جہنم رسید ہوا،
یونان کی اشرافیہ جیت گئی،
سقراط کی دانش ہار گئی۔
وقت گزر گیا۔
اسکاٹ لینڈ کی جنگ آزادی لڑنے والے دلاور ولیم والس کو جب انگلینڈ کے بادشاہ ایڈورڈ اوّل نے گرفتار کیا تو اُس پر غداری کا مقدمہ قائم کیا،
اسے برہنہ کرکے گھوڑوں کے سموں کے ساتھ باندھ کر لندن کی گلیوں میں گھسیٹا گیا اور پھر ناقابل بیان تشدد کے بعد اُسے پھانسی دے کر لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے گئے۔
اُس وقت کا بادشاہ جیت گیا،
ولیم والس ہار گیا۔
وقت گزر گیا۔
گلیلیو نے ثابت کیا کہ زمین اور دیگر سیارے سورج کے گرد گھومتے ہیں تو یہ کیتھولک عقائد کی خلاف ورزی تھی، چرچ نے گلیلیو پر کفر کا فتویٰ لگایا اور اسے غیرمعینہ مدت تک کے لئے قید کی سزا سنا دی،
یہ سزا 1633میں سنائی گئی۔ گلیلیو اپنے گھر میں ہی قید رہا اور 1642میں وہیں اُس کی وفات ہوئی،
پادری جیت گئے،
سائنس ہار گئی۔
وقت گزر گیا۔
جیو رڈانو برونو پر بھی چرچ کے عقائد سے انحراف کرنے کا مقدمہ بنایا گیا۔
برونو نے اپنے دفاع میں کہا کہ اس کی تحقیق عیسائیت کے عقیدہ خدا اور اُس کی تخلیق سے متصادم نہیں،
مگر اُس کی بات نہیں سنی گئی اور اسے اپنے نظریات سے مکمل طور پر تائب ہونے کے لئے کہا گیا،
برونو نے انکار کر دیا، پوپ نے برونو کو کافر قرار دے دیا۔ 8فروری1600کو جب اسے فیصلہ پڑھ کر سنایا گیا
تو برونو نے تاریخی جملہ کہا
’’میں یہ فیصلہ سنتے ہوئے اتنا خوفزدہ نہیں ہوں
جتنا تم یہ فیصلہ سناتے ہوئے خوفزدہ ہو۔‘‘
برونو کی زبان کاٹ دی گئی اور اسے زندہ جلا دیا گیا۔
پوپ جیت گیا،
برونو ہار گیا۔
وقت گزر گیا۔
حجاج بن یوسف جب خانہ کعبہ پر آگ کے گولے پھینک رہا تھا تو اُس وقت ابن زبیرؓ نے جوانمردی کی تاریخ رقم کی، انہیں مسلسل ہتھیار پھینکنے کے پیغامات موصول ہوئے
مگر آپ ؓ نے انکار کر دیا،
اپنی والدہ حضرت اسماؓ سے مشورہ کیا،
انہوں نے کہا کہ اہل حق اس بات کی فکر نہیں کیا کرتے کہ ان کے پاس کتنے مددگار اور ساتھی ہیں، جاؤ تنہا لڑو اور اطاعت کا تصور بھی ذہن میں نہ لانا،
ابن زبیر ؓ نے سفاک حجاج بن یوسف کا مقابلہ کیا اور شہادت نوش فرمائی،
حجاج نے آپؓ کا سر کاٹ کر خلیفہ عبدالمالک کو بھجوا دیا اور لاش لٹکا دی،
خود حضرت اسماؓ کے پاس پہنچا اور کہا تم نے بیٹے کا انجام دیکھ لیا،
آپؓ نے جواب دیا ہاں تو نے اس کی دنیا خراب کر دی اور اُس نے تیری عقبیٰ بگاڑ دی۔
حجاج جیت گیا،
ابن زبیر ؓ ہار گئے۔
وقت گزر گیا۔
ابو جعفر منصور نے کئی مرتبہ امام ابو حنیفہ ؒکو قاضی القضاۃ بننے کی پیشکش کی مگر آپ نے ہر مرتبہ انکار کیا، ایک موقع پر دونوں کے درمیان تلخی اس قدر بڑھ گئی کہ منصور کھلم کھلا ظلم کرنے پر اتر آیا،
اُس نے انہیں بغداد میں دیواریں بنانے کے کام کی نگرانی اور اینٹیں گننے پر مامور کر دیا، مقصد اُن کی ہتک کرنا تھا،
بعد ازاں منصور نے امام ابوحنیفہ کو کوڑے مارے اور اذیت ناک قید میں رکھا،
بالآخر قید میں ہی انہیں زہر دے کر مروا دیا گیا،
سجدے کی حالت میں آپ کا انتقال ہوا،
نماز جنازہ میں مجمع کا حال یہ تھا کہ پچاس ہزار لوگ امڈ آئے، چھ مرتبہ نماز جنازہ پڑھی گئی۔
منصور جیت گیا،
امام ابو حنیفہ ہار گئے۔
وقت گزر گیا۔
تاریخ میں ہار جیت کا فیصلہ طاقت کی بنیاد پر نہیں ہوتا،
یونان کی اشرافیہ سقراط سے زیادہ طاقتور تھی
مگر تاریخ نے ثابت کیا کہ سقراط کا سچ زیادہ طاقتور تھا۔
ولیم والس کی دردناک موت کے بعد اس کا نام لیوا بھی نہیں ہونا چاہئے تھا مگر آج ابیرڈین سے لے کر ایڈنبرا تک ولیم والس کے مجسمے اور یادگاریں ہیں،
تاریخ میں ولیم والس امر ہو چکا ہے۔
گلیلیو پر کفر کے فتوے لگانے والے چرچ اپنے تمام فتوے واپس لے چکے ہیں،
رومن کیتھولک چرچ نے ساڑھے تین سو سال بعد تسلیم کیا کہ گلیلیو درست تھا اور اُس وقت کے پادری غلط تھے ۔
برونو کو زندہ جلانے والے بھی آج یہ بات مانتے ہیں کہ برونو کا علم اور نظریہ درست تھا اور اسے اذیت ناک موت دینے والے تاریخ کے غلط دوراہے پر کھڑے تھے۔
تاریخ میں حجاج بن یوسف کو آج ایک ظالم اور جابر حکمران کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جس کی گردن پر ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کا خون ہے
جبکہ حضرت عبداللہ ابن زبیرؓ شجاعت اور دلیری کا استعارہ ہیں، حجاج کو شکست ہو چکی ہے ابن زبیرؓ فاتح ہیں۔
جس ابو جعفر منصور نے امام ابوحنیفہ کو قید میں زہر دے کر مروایا
اس کے مرنے کے بعد ایک جیسی سو قبریں کھودی گئیں اور کسی ایک قبر میں اسے دفن کر دیا گیا تاکہ لوگوں کو یہ پتہ نہ چل سکے کہ وہ کس قبر میں دفن ہے،
یہ اہتمام اس خوف کی وجہ سے کیا گیا کہ کہیں لوگ اُس کی قبر کی بےحرمتی نہ کریں۔
گویا تاریخ کا فیصلہ بہت جلد آ گیا۔
آج سے ایک سو سال بعد ہم میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا،
تاریخ ہمیں روندتی ہوئی آگے نکل جائے گی۔
آج یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ ہم میں سے کون تاریخ کی صحیح سمت میں کھڑا ہے اور کون تاریخ کے غلط دوراہے پر ہے۔
کون حق کا ساتھی ہے اور کون باطل کے ساتھ کندھا ملائے ہوئے ہے۔
کون سچائی کا علمبردار ہے اور کون جھوٹ کی ترویج کر رہا ہے۔
کون دیانت دار ہے اور کون بے ایمان۔
کون ظالم ہے اور کون مظلوم۔
ہم میں سے ہر کوئی خود کو حق سچ کا راہی کہتا ہے
مگر ہم سب جانتے ہیں کہ یہ بات دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔
کیونکہ اگر ہر شخص نے حق کا علم تھام لیا ہے تو پھر اس دھرتی سے ظلم اور ناانصافی کو اپنے آپ ختم ہو جانا چاہئے
لیکن سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم اُس منزل سے کہیں دور بھٹک رہے ہیں۔
آج سے سو برس بعد البتہ جب کوئی مورخ ہمارا احوال لکھے گا تو وہ ایک ہی کسوٹی پر ہم سب کو پرکھے گا،
مگر افسوس کہ اُس وقت تاریخ کا بےرحم فیصلہ سننے کے لئے ہم میں سے کوئی بھی زندہ نہیں ہو گا۔
سو آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں کیوں نہ خود کو ہم ایک بےرحم کسوٹی پر پرکھ لیں اور دیکھ لیں کہ کہیں ہم یونانی اشرافیہ کے ساتھ تو نہیں کھڑے جنہوں نے سقراط کو زہر کا پیالہ تھما دیا تھا،
کہیں ہم برونو کو زندہ جلانے والے پادریوں کے ساتھ تو نہیں کھڑے،
کہیں ہم حجاج کی طرح ظالموں کے ساتھ تو نہیں کھڑے،
کہیں ہم امام ابوحنیفہ اور امام مالک پر کوڑے برسانے والوں کے ساتھ تو نہیں کھڑے،
کہیں ہم ابن رشد کے خلاف فتویٰ دینے والوں کے ساتھ تو نہیں کھڑے.....
کہیں ہم تاریخ کی غلط سمت میں تو نہیں کھڑے؟
اس سوال کا جواب تلاش کرکے خود کو غلطی پر تسلیم کرنا بڑے ظرف کا کام ہے جس کی آج کل شدید کمی ہے۔
وقت تو گزر ہی جاتا ہے،
دیکھنا صرف یہ ہوتا ہے کہ کس باضمیر نے وہ وقت کیسے گزارا.... ؟
اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق دکھائے اور اس کی پیروی کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور باطل کو باطل دکھائے اور اس سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے
آمین ثم آمین یا رب العالمین..
19/06/2023
رمضان کی آخری دس راتیں افضل ہیں، اور ذوالحجۃ کے پہلے دس دن ✨
امام ابن القیم🌸
02/04/2023
"خُوشی"
اُس عینک کی طرح ہے جیسے ایک بڑھیا بڑی دیر تک تلاش کرتی رہے اور آخر میں اُس کو اپنی آنکھوں پر ہی لگی مِلے