07/05/2026
Ashraf Ul Uloom Academy
Ashraf Ul Uloom Academy
Join me on this educational journey, a Quran teacher who teaches the Ho
07/05/2026
08/12/2025
Assalam o AlaikumBrothers And Sistersi,am Online Quran teacher Good news for Muslims living inAmerica🇺🇸Canada🇨🇦Australia 🇦🇺London🇦🇮and around the world❤️❤️You and your family's children can learn
1... Nazra Quran with tajweed
2... Hifz ul Quran with tajweed
3... masnon Prayers online
4... Namaz & Kalmy
📞 Contcat us whtsapp
+92 300 4408264
24 hours available.
28/10/2025
آج کے روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والاکالم:”معاف کریں آگے بڑھیں۔”
اگر کامیاب افراد کی زندگی کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے وہ سب خیر تقسیم کرنے والے، لوگوں کی بھلائیاں چاہنے والے، درگزر کرنے والے، معاف کرنے والے اور صبر و تحمل سے کام لینے والے تھے۔ اس کے دو پہلو ہیں۔ پہلا مذہبی پہلوہے۔ دوسرا معاشرتی پہلوہے۔ دونوں پہلوﺅں سے ہی اس کی بڑی اہمیت ہے۔اگر ہم مذہبی اعتبار سے دیکھیں تو ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ اچھائیاں پھیلائیں اور برائیوں سے منع کریں۔ خیر کے کام کریں اور شر کے کاموں سے بچیں۔ قرآن کی سورئہ آل عمران کی آیت نمبر 110 ہے: ”تم نیکی کی تلقین کرتے ہو، برائی سے روکتے ہو ۔“ آپ ﷺنے بھی ہمیں تعلیم دی ہے کہ لوگوں کے بارے میں اچھا سوچیں۔ آسانیاں پیدا کریں۔ مشکلات پیدا نہ کریں۔ لوگوں کو خوشخبریاں دیں اور نفرت والے کاموں سے دور رہیں۔یاد کریں جب آپ ﷺنے حضرت معاذ بن جبلؓ اور حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کو یمن کا گورنر اور قاضی بناکر بھیجا تو آپ ﷺنے ان کو کیا نصیحتیں کی تھیں؟بخاری شریف کی روایت ہے کہ ان دونوں کو رخصت کرتے وقت آپ ﷺنے انہیں فرمایا: ”لوگوں کو خوشخبریاں سنانا اور نفرتیں نہ دلانا۔ لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا اور ان کے لیے مشکلات پیدا نہ کرنا۔“ گویا ہمیں مذہبی اعتبار سے حکم ملتا ہے کہ لوگوں کے لیے آسانیاں اور سہولتیں پیدا کریں۔ ایسے کام نہ کریں جن سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے، چنانچہ ہمیں محبتیں بانٹنی چاہییں۔ نفرتوں کے سوداگر نہیں بننا چاہیے۔ لوگوں کے لیے اچھا سوچیں۔ ان کے لیے بھلائیاں کریں۔ ان کے چہروں پر خوشیاں بکھیریں۔ کوشش کریں کہ نوجوانوں اور زندگی سے مایوس لوگوں کے لیے امیدیں بنیں۔ کمزوروں کو سہارا دیں۔ غریبوں کے لیے مخلص بنیں۔ مایوسی کے اندھیرے سے انہیں باہر نکالیں۔ امیدوں کے چراغ جلائیں۔اگر ہم معاشرتی پہلو سے دیکھیں تو ہرمعاشرے میںاس شخص کو پسند کیا جاتا ہے جو لوگو ںکی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتا ہے۔ جو غریبوں کی مدد کرتا ہے۔ جو معاشرے کو بہتر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جو مایوس لوگوں کو امیدیں دلاتا ہے۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ آج ہر دوسرا شخص نفرتوں کا سوداگر بن چکا ہے۔ اشتعال انگیزی ہے۔ غصہ ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف نفرتیں ہیں۔ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچی جارہی ہیں۔ کوئی کسی دوسرے کو خوشحال دیکھ کر راضی نہیں۔ آپ عالمی سطح سے لے کر ملکی سطح تک اور پھر اداروں سے لے کر افراد تک باریک بینی سے جائزہ لے کر دیکھ لیں کہ کیا ہورہا ہے؟خدا کے لیے ایک دوسرے کو برداشت کرنا سیکھیں۔ ایک دوسرے کو معاف کرنا سیکھیں۔ یاد رکھیں! انتقام سے مسائل حل نہیں ہوتے ہیں۔ انتقام در انتقام سے ملک و قوم ترقی نہیں کرسکتے۔ ہمیں ایک دوسرے کو اسی طرح معاف کرنا چاہیے جس طرح رحمتِ دو عالم ﷺنے معاف کیا تھا۔آپ فتح مکہ کا واقعہ تو دیکھیںکس طرح رواداری، بھائی چارگی اور امن وسلامتی کا پیغام دیا گیا ہے۔ رہبر اعظم ﷺنے ان لوگوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے جو ساری زندگی آپ کے راستے میں کانٹے بچھاتے اور سنگ باری کرتے رہے۔ دنیا نے ایسا فاتح نہیں دیکھا ہوگا جس نے اپنے دشمنوں کے لیے ایسی فراخدلی کا ثبوت دیا ہو۔ آپ نے فرمایا: ”جو شخص ہتھیار پھینک دے، جو شخص توبہ کرلے، معافی مانگ لے، گھر کی کواڑ بند کرلے سب کو امان ہے۔“فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺنے اعلان کیا تھا: آج سب کو معاف کردیا گیا ہے۔ اپنی جان کے پیاسوں تک کو معاف کردیا۔ ہندہ، جس نے آپ ﷺکے چچا حضرت امیر حمزہ ؓکا کلیجہ چبایا تھا، آپ نے اس کو بھی معاف کردیا۔ وحشی، جو پیارے رسول کے چچا امیر حمزہ کا قاتل تھا، جب مسجد میں داخل ہوا تو صحابہ کرامؓ نے اسے قتل کرنے کے لیے تلوار سونت لی۔ آپ نے فرمایا: ”چھوڑدو!“آپ نے ان کو معاف کرنے کے بعد صرف اتنا کہا: میرے سامنے نہ آیا کرےں کیونکہ مجھے میرے چچا یاد آجاتے ہیں۔یہ اسلام ہی تو ہے جس نے غیروں کی بھی حفاظت کا نہ صرف حکم دیا بلکہ عمل کرکے بھی دکھایا۔ فارس جب فتح ہوا تو بادشاہ نوشیروان کی بیٹی بھی مالِ غنیمت کے ساتھ گرفتار کرکے لائی گئی۔ اسے جب دربارِ نبوی میں پیش کیا گیا تو ان کے سر پر ڈوپٹہ نہیں تھا۔ آپ نے حکم دیا: ”ان کے سر پر ڈوپٹہ رکھا جائے۔ “عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! یہ تو مسلمان نہیں ہے۔ آپ فرمایا: ”بیٹی تو بیٹی ہوتی ہے خواہ کسی کی بھی ہو۔“ انسان تو انسان حیوانوں کے ساتھ بھی اسلام نے اعلیٰ برتاﺅ کیا۔ وہ واقعہ تو سب کو یاد ہوگا ایک اونٹ نے آپ ﷺکے قدموں میں سر رکھ کر اپنے مالک کی شکایت کی۔ آپ ﷺنے فرمایا: ”اس کا مالک اس سے کام زیادہ لیتا ہے اور اسے گھاس کم دیتا ہے۔“ اس کے بعد آپ نے جانوروں کے حقوق بھی بیان فرمائے۔ دوسروں کو معاف کرنا بڑے دل گردوں کا کام ہوتا ہے۔ یہ کام وہی کرسکتا ہے جو شخض قوم کے ساتھ مخلص ہو۔ جو خدمت کے جذبے سے سرشار ہو۔ جو خیرخواہ ہو۔ جو ہمدرد ہو۔ معاف کرنے سے ہی قومیں آگے بڑھتی ہیں۔ ترقی کرتی ہیں۔اب میں ماضی قریب کی اور غیرمسلم معاشرے کی بھی ایک مثال دیتا ہوں۔ دیکھیں! نیلسن منڈیلا نے اپنی قوم کی آزادی کے لیے طویل اور صبرآزما جدوجہد کی۔ 20 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہے۔ قید تنہائی کاٹی، لیکن جب اقتدار میں آئے تو سب کو معاف کردیا۔آج ہمارے سیاسی حکمران بڑی اہمیت سے نیلسن منڈیلا کا نام لیتے ہیں کہ انہوں نے اقتدار میں آکر ان لوگوں کو بھی معاف کردیا تھا جنہوں نے انہیں 20 سال تک قیدِ تنہائی میں رکھا تھا، لیکن ہمارے یہ حکمران نجانے کیوں خود اقتدار میں آکر انتقامی کاروائیاں کررہے ہیں۔ یہ کیوں معاف نہیں کردیتے؟ کیا معاف کردینے سے ان کی ناک کٹ جائے گی؟ نہیں بلکہ ان کی قدر و منزلت میں اضافہ ہوگا، ان کا قد کاٹھ اور بڑھ جائے گا۔ جب تک ہمارے حکمران انتقامی کاروائیوں سے باز نہیں آتے، ذاتی عناد کو ختم نہیں کرتے، پسند اور ناپسند کے کلچر سے نہیں نکلتے ہیں اس وقت تک اس ملک پر خوف اور آسیب کے سائے چھائے رہیں گے۔ایک دوسرے کو معاف کریں۔ ایک دوسرے کی غلطیوں کو درگزر کریں۔ دوسرے پر کیچڑ اُچھالنے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکنے کی کوشش کریں۔ ہر شخص اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھے کہ اللہ نے کیسے کیسے ان کے عیوب پر پردہ ڈالا ہوا ہے۔ہم مسلمان ہیں۔ دینِ اسلام نے ہمیں پردہ پوشی کا حکم دیا ہے کہ دوسروں کے عیبوں پر پردہ ڈالیں۔خدارا! ہم آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہیں کہ گندی مکھی نہ بنیں جس کی سینکڑوں آنکھیں ہوتی ہیں، اس کے باوجود وہ گندگی اور پھوڑے پھنسی پر ہی بیٹھتی ہے۔ آپ وہ بلبل بنیں جسے خوشبودار پھولوں کی تلاش ہوتی ہے۔آپ ”خُذ مَاصَفٰی وَدَع مَاکَدِر“ پر عمل کریں کہ لوگوں میں جو آپ کو اچھا لگے وہ لے لیں۔ جو ناپسند آئے وہ چھوڑ دیں۔ لوگوں کی غلطیوں کو نظرانداز کریں۔اگر ہم کامیاب افراد کی زندگی کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے وہ سب درگزر کرنے اور معاف کردینے کی صفات رکھنے والے تھے۔ یہی حکم ہمیں قرآن مجید بھی دیتا ہے، چنانچہ چوتھے پارے کی سورئہ آل عمران کی آیت نمبر 134 ہے: ”اور جو غصے کو پی جانے اور لوگوں کو معاف کردینے کے عادی ہیں۔ اللہ ایسے نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔“لہٰذا آپ بھی معاف کریں۔ غصے پر قابو رکھیں۔ پیچھے مڑکر نہ دیکھیں۔ شیخ سعدیؒ شہر میں کہیں جارہے تھے کہ کسی نے پیچھے سے پتھر مارا، لیکن شیخ سعدیؒ چلتے رہے۔ ساتھیوں نے پوچھا کہ آپ نے پیچھے مڑکر بھی نہیں دیکھا۔ شیخ سعدیؒ نے کہا: ”اگر میں پیچھے مڑ کر لوگوں کو جواب دینے لگ جاﺅں تو اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکوں گا۔“ آپ بھی آگے ہی بڑھتے رہیں۔ معاف کریں۔ انتقام سے ترقی نہیں ہوتی۔ معاف کردینے سے کامیابی ملتی ہے۔ آپ بھی کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو آج ہی سے معاف کردینے کی عادت اپنائیں۔ کامیابی آپ کے بھی قدم چومے گی۔
(کارزار/ انور غازی)
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Sargodha