Alnoor Online Quran Academy

Alnoor Online Quran Academy

Share

Assalamualaikum I'm a Quran teacher with the experience of 06 years and I'll teach with best tajweed

01/02/2026

محترم والدین اپنے بچوں کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کی تعلیم بھی لازمی دلوائیں جس میں بچوں کو
(ابتدائی قاعدہ،
ناظرہ قرآن کریم،
زبانی سورتیں یاد کروانا،
بے شمار دعائیں زبانی یاد کروانا،
ایمان کی صفات زبانی یاد کروانا،
چھ کلمےزبانی یاد کروانا،
نماز زبانی یاد کروانا،
نماز کا ترجمہ زبانی یاد کروانا،
نماز کےمسائل،
وضوکے مسائل،
غسل کے مسائل،)
اور دیگر بہت کچھ سیکھنے سکھانے کے لئے رابطہ کریں
آن لائن بھی سہولت موجود ہے
رابطہ نمبر محترم والدین اپنے بچوں کو دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کی تعلیم بھی لازمی دلوائیں جس میں بچوں کو
(ابتدائی قاعدہ،
ناظرہ قرآن کریم،
زبانی سورتیں یاد کروانا،
بے شمار دعائیں زبانی یاد کروانا،
ایمان کی صفات زبانی یاد کروانا،
چھ کلمےزبانی یاد کروانا،
نماز زبانی یاد کروانا،
نماز کا ترجمہ زبانی یاد کروانا،
نماز کےمسائل،
وضوکے مسائل،
غسل کے مسائل،)
اور دیگر بہت کچھ سیکھنے سکھانے کے لئے رابطہ کریں
آن لائن بھی سہولت موجود ہے
رابطہ نمبر:واٹس ایپ میسج+923166184030

05/09/2025
31/08/2025

قرآن کریم کو تجوید سے پڑھنا کیوں ضروری ہے؟

قرآن کریم اللہ عز وجل کا کلام ہے اس کے حقوق میں ایک اہم ترین اور اولین حق یہ ہے کہ صحت الفاظی اور ضروری قواعد تجوید کی رعایت کرتے ہوئے اس کی تلاوت کی جائے۔

قران میں اللہ عزوجل کا ارشاد ہے:

وَرَتَّلْنَاہُ تَرْتِیْلًا "۔
(المزمل:۴)

(ہم نے اسے ترتیل کے ساتھ نازل کیا ہے)۔
سے واضح ہے اور ترتیل ہی کہ ساتھ پڑھنے کا حکم فرمایا ہے؛ چنانچہ دوسری جگہ ارشاد ہے:
"وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیْلًا"۔
اور قرآن کی تلاوت اطمینان سے صاف صاف کیا کرو۔
(المزمل:۴)

ترتیل کی تفسیر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ارشاد کے مطابق حروف کو تجوید کے ساتھ پڑھنا اور وقفوں کی معرفت ہے تو ترتیل سے قرآن کریم پڑھا جائے گا تب ہی اس کی تلاوت کا حق ادا ہوگا اور ایسی ہی تلاوت پر حسنات اور انعامات خدا وندی کا وعدہ ہے؛ لیکن اگر تلاوت تجوید کی رعایت کے ساتھ نہیں؛بلکہ اس کے خلاف ہے تو اس سے تلاوت کا حق ادا نہیں ہوسکتا،

حدیث میں ہے

"زَیِّنُوالْقُرْاٰنَ بِاَصْوَاتِکُمْ"۔
(ابو داؤد،استحباب الترتیل فی القرأت،حدیث نمبر:۱۲۵۶)
اپنی آواز سے قرآن کو مزین کرو ۔

"حَسِّنُو الْقُرْآنَ بِاَصْوَاتِکُمْ فَاِنَّ الصَّوْتَ الْحَسَنَ یَزِیْدُالْقُرْاٰنَ حُسْنًا"۔
(شعب الایمان،
اچھی آواز سے قرآن کوپڑھو کیونکہ اچھی آواز قرآن کریم کے حسن کو بڑھا دیتی ہے۔

"اِقْرَؤُالْقُرْاٰٰنَ بِلُحُوْنِ الْعَرَبِ وَاَصْوَاتَھَا"۔
(شعب الایمان،حدیث نمبر:۲۵۴۱)
قرآن کریم کو عربی لحن میں پڑھو۔

محقیقین علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ بغیر تجوید قرآن پڑھنے والامستحق ثواب نہیں ہوتا؛ بلکہ گناہ گار ہوتا ہے، علامہ محقق جزری فرماتے ہیں۔
وَالْاَخْذُ بِالتَّجْوِیْدِ لَازِمٌ
مَنْ لَّمْ یُجَوِّدِ الْقُرْآنَ اٰٰ ثْمٌ
لِاَنَّہُ بِہِ الْاِلٰہُ اَنْزَلاَ وَھٰکَذَا امِنْہُ اِلَیْنَا وَصَلَا
ترجمہ:تجوید کا حاصل کرنا ضروری ولازم ہے۔
جو شخص تجوید سے قرآن نہ پڑھے گناہگار ہے ۔

اس لیے کہ اللہ تعالی نے تجوید ہی کے ساتھ اس کو نازل فرمایا ہے۔
اور اسی طرح اللہ تعالی سے ہم تک پہنچا ہے۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا قول ہے: رب تال للقرآن والقرآن یلعنہ،
(احیاءعلوم الدین،الباب وھی عشرۃ،:۱/۲۸۴)

(مجلۃ المنار،الحکمۃ فی انزال القرآن:۸/۲۵۸)

یعنی بہت سے لوگ قرآن کی تلاوت اس حالت میں کرتے ہیں کہ قرآن ان پر لعنت کرتا جاتا ہے، یہ حدیث عام ہے جو ذیل کے تین جماعتوں کو شامل ہے:

(۱)وہ جو حروف کو غلط پڑھیں
(۲)وہ جو قرآن پر عمل نہ کریں
(۳)وہ جو قرآن کریم کے معنی اور تفسیر میں رد وبدل کریں

حضرت عبدا للہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک مرفوع روایت ہے کہ وہ خود کسی شخص کو قرآن شریف پڑھارہے تھے اس نے اِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَآء،کو مد کے بغیر پڑھا تو آپ نے اس کو ٹوکا اور فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس طرح نہیں پڑھایا ہے،
تو اس نے دریافت کیا کہ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کس طرح پڑھایا ہے
تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی اور لِلْفُقَرَآءپر مد کیا

غور کرنے کا مقام ہے کہ حرف یا حرکت کے چھوٹنے یا بدلنے پر نہیں صرف مد کے چھوٹنے پر شاگرد کو ٹوکا جارہا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کے مطابق پڑھ کر سنایا جارہا ہے؛ تاکہ وہ حرف کو کھینچ کر پڑھنے میں بھی خلاف سنت کا مرتکب نہ ہو۔
اسلئے قرآن کریم کو اسی طرح پڑھاجائے جس طرح وہ نازل ہوا ہے یعنی حروف کو ان کا حق اسی طرح دیا جائے کہ مخارج وصفات اور دیگر قواعد کے اعتبار سے ان کی ادائیگی درست ہو اور بے موقعہ وبے طریقہ وقف نہ کیا جائے۔

ہم عجمی لوگ اپنے انداز گفتگو اور اپنے تلفظ کے مطابق قرآن کو پڑھتے ہیں جیسا کہ ہماری اردو زبان میں بہت سے الفاظ ایسے ہیں جن کا تلفظ ان کے رسم الخط سے مختلف ہے مثلا ظاہر کو زاہر، مطلب کو متلب، فضل کو فزل، صورت کو سورت، مثال کو مسال بولتے ہیں اور اس کو غلطی شمار نہیں کیاجاتا اور نہ ہی عیب سمجھا جاتا ہے ؛لیکن قرآن کریم میں "ض،ظ" کو "ز ،ط" کو "ت، ص" کو "ث ،ع" کو "ء، ح" کو "ہ" پڑھنا زبردست غلطی ہے ،جس کو علماء نے لحنِ جلی سے تعبیر کیا ہے اس قسم کی غلطیوں سے معنی بدلتے ہیں ۔

لیکن اگر کوئی شخص حتی الوسع کوشش کے باوجود بھی صحیح تلاوت پر قادر نہ ہوسکے تو معذور ہے، اللہ جل شانہ کی شان کریمی سے امید ہے کہ اس کوشش کا بھی اجر ملے گا اور تلاوت کا بھی؛ جہاں تک ہوسکے اچھی آواز اور بہتر انداز سے تلاوت کرنا بے شک مستحب اور مستحسن ہے؛ لیکن شرط یہ ہے کہ تجوید کے دائرے سے باہر نہ ہو ،

تجوید کے خلاف قرآن مجید پڑھنے کو لحن کہتے ہیں لحن دو قسم کی ہوتی ہے(۱)لحن جلی(۲)لحن خفی
لحن جلی بڑی غلطی کو کہتے ہیں یعنی صفات لازمہ ومخارج وغیرہ میں غلطی کرنا اور یہ پانچ طرح کی ہیں۔
(۱)حرفوں میں تبدیلی کرنا،جیسے اَلْحَمْدُ کی جگہ اَلْھَمْدُ پڑھنا۔
(۲)حرکتوں کے اندر تبدیلی کرنا جیسے اَنْعَمْتَ کی جگہ اَنْعَمْتُ پڑھنا۔
(۳)متحرک کی جگہ ساکن ،جیسے اَنْشَاَھَا کی جگہ اَنْشَاْھَا پڑھنا یا ساکن کی جگہ متحرک مثلا خَلْقًا کی جگہ خَلَقًا پڑھنا۔
(۴)حرفوں کو گھٹا دیناجیسے لَمْ یُوْلَدْ کو لَمْ یُلَدْ یا حر فوں کو بڑھادیناجیسے لَمْ یَلِدْ کی جگہ لَمْ یَلِیْدْ پڑھنا۔
(۵)مشدد حرفوں کو مخفف جیسے اِیَّاکَ کی جگہ اِیَاک پڑھنا یا مخفف کی جگہ مشدد کرکے پڑھنا جیسے اَظْلَمَ کو اَظَّلَمَ وغیرہ۔
لحن جلی کرکے قرآن شریف پڑھنا حرام ہے بسا اوقات اس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے اس لیے اس سے بچنا نہایت ضروری ہے ۔

لحن خفی چھوٹی غلطی کو کہتے ہیں ،یعنی صفات محسنہ(وہ صفات جو اچھی سمجھی جاتی ہیں )میں غلطی کرنا اور یہ کئی جگہ ہیں جن میں سے چند مثالیں یہ ہیں۔
(۱)پر کی جگہ باریک پڑھنا جیسے رَبَّکَ میں را کو باریک پڑھنا یا باریک کی جگہ پر پڑھنا جیسے بِاللّٰہِ میں اللہ کے لام کوپُر(موٹا) پڑھنا
(۲)اظہار کی جگہ غنہ کرنا جیسے عذابٌ الیم کے تنوین میں غنہ کرنا یا اخفا کی جگہ اظہار کرنا جیسے یتیماً فاوی کے تنوین میں اظہار کرنا
(۳)مد فرعی کی جگہ مد نہ کرناجیسےوَالسَّمَآءََکو بغیر مد کے پڑھنا
لحن خفی سے قرآن شریف پڑھنا مکروہ ہے، اس لیے اس سے بھی بچنا ضروری ہے ۔

مراتب تجوید
تجوید کے ساتھ قرآن شریف پڑھنے کے تین درجے ہیں
(۱)ترتیل:نہایت آہستہ اور کسی قدر اطمینان سے پڑھنا،جیسے جلسوں میں پڑھا جاتا ہے
(۲)تدویر: نہ بہت تیز نہ بہت آہستہ متوسط طریقے سے پڑھنا ،جیسے عموما ًنمازوں میں پڑھا جاتا ہے
(۳)حدر:تیزی کے ساتھ پڑھنا ؛لیکن تجوید کے خلاف نہ ہو جیسے عام طور پر تراویح میں پڑ ھاجائے

تجوید کا حکم
تجوید کے مطلقاً تمام قواعد کا پڑھنا فرض کفایہ ہے اور قرآن مجید صحیح پڑھنے کے لیے جس قدر قواعد ضروری ہیں کہ اس کے بغیر نماز درست نہیں ہوسکتی ان کا جاننا فرض عین ہے ۔
(منقول)

06/08/2024

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
اپنے بچوں کو تجوید کے ساتھ قرآن پاک پڑھانے کے لیے رابطہ کریں
واٹس ایپ اونلی 00923166184030

28/12/2023

وعلیکم السلام

اذان کا جواب دینا چاہیے اسکا بہت بہت زیادہ اجر و ثواب ہے اور اذان میں جو مؤذن جو کہے وہ آپ بھی انکے ساتھ ساتھ کہا کریں البتہ جب وہ حی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح کہے تو اسوقت آپ لا حول ولا قوۃ الا باللہ کہا کریں.
اور نماز فجر کی اذان میں جب مؤذن الصلوۃ خیر من النوم کہے تو آپ بھی یہی الفاظ کہہ دیا کریں.

پھر اذان کے ختم ہونے کے بعد خاموشی سے درود شریف پڑھ کر اذان کے بعد والی مسنون دعا پڑھیں جو کہ یہ ہے
اَللّٰھُمَّ رَبَّ ھٰذِہِ الدَّعْوَۃِ التَّآمَّہِّ وَالصَّلوٰۃِ الْقَآءِمَہِّ اٰتِ مُحَمَّدَا نِ الْوَسِیْلَۃِ وَالْفَضِیْلَۃِ وَابْعَثْہُ مَقَامًا مَّحْمُوْدَا نِ الَّذِیْ وَعَدَتَّہٗ اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ.

پھر اپنی حاجت کے لیے دعا مانگے کیونکہ اسوقت دعا بہت جلد قبول ہوتی ہے.

بس یہی اصل سنت طریقہ ہے.

Want your school to be the top-listed School/college in Sargodha?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Sargodha
40100