Superior Science College Sargodha (Pakistan)

Superior Science College Sargodha (Pakistan)

Share

This page is for Superiorians

15/08/2017

Like / follow amazing guy and great comedian. He is in Pakistan these days.

Jeremy McLellan Comedy Official fan page for Catholic standup comedian Jeremy McLellan. Bookings: [email protected]

15/04/2016

Hi everyone - Share your thoughts on how to make this page more useful and active. Admin.

01/01/2016

Happy new year everyone. Have a safe and prosperous 2016.

05/06/2015

I see quite a few new members joined this page... Feel free to introduce or at least let everyone know where are you and what are you doing?

25/03/2015

Looking for any genuine student, who is interested in managing this page... Leave comments below..

01/01/2015

Happy New Year everyone!

30/09/2014

Who is still in Sargodha?

02/07/2014

We have a lot of new likes. Would be a good idea if people introduce themselves and if they can briefly let everyone know where they are and what they are doing.

28/04/2014

So one more questionaire ready for all the superiors. Are you all ready for answer?? Ok.

Anybody remember the place where we go mostly on bunk from our college??

22/04/2014

Friends agar aap logon ko koi post visit karain aur woh aap ko pasand bhi aye tu meray bhayo us k neechay aik like ka tag bhi hota hai. Usay press krnay say mouse ko koi masla nai hota blkay us ki clicking quality check ho jaty hai. Is lye yh aap logon ka apna page hai. Please zyada say zyada likes kr k hosla afzai kr dya krain takay mzeed achi posts aap ko provide ki ja sakain.
Thanx

22/04/2014

میں نے کھانے کی ٹرے کھولی‘ کانٹے سے گوشت کا ٹکڑا اٹھایا‘ ہونٹوں کے قریب لے کر آیا مگر منہ میں ڈالنے سے قبل رک گیا‘ مجھے محسوس ہوا یہ گوشت شاید حلال نہ ہو‘ میں نے یہ خیال آتے ہی کانٹا ٹرے میں رکھ دیا اور دائیں بائیں دیکھنے لگا‘ غیر ملکی ائیر لائینز میں یہ معاملہ روٹین ہے‘ یہ لوگ حلال حرام کی تمیز نہیں رکھتے چنانچہ ان کی خوراک بالخصوص گوشت میں حرام کی گنجائش موجود ہوتی ہے‘ میں نے ٹرے آگے کھسکائی اور سیٹ کے ساتھ پشت لگا کر لیٹ گیا‘ میرے ساتھ درمیانی عمر کا ایک خوبصورت امریکی بیٹھا تھا‘ وہ مزے سے کھانا کھا رہا تھا‘ ہم نیویارک سے شکاگو جا رہے تھے‘ میں نے ایک دن شکاگو میں رک کر آگے نکل جانا تھا‘ آپ کو انٹرنیٹ پر مختلف ’’پے اینگ‘‘ میزبان مل جاتے ہیں‘ آپ ویب سائیٹس پر جائیں اور کسی منزل کا نام ڈالیں‘ آپ سے مختلف فیملیز رابطہ کریں گی‘ یہ لوگ معمولی رقم لے کر آپ کو چند دنوں کے لیے اپنے گھر میں ٹھہرا لیتے ہیں‘ آپ کو ان ویب سائیٹس پر ایسی فیملیز بھی مل جاتی ہیں جو آپ کو اپنے پاس فری ٹھہرا لیتی ہیں‘ ان کا مقصد اجنبی لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے‘ یہ لوگ اجنبیوں کو اپنا گھر‘ اپنا ٹائون دکھانا چاہتی ہیں۔
چنانچہ یہ لوگ اپنا گھر سال میں چند دنوں کے لیے اجنبیوں کے لیے کھول دیتے ہیں‘ میں نے شکاگو سے دو گھنٹے کی مسافت پر ایک گائوں میں ایسا ہی خاندان تلاش کیا تھا‘ یہ لوگ مکئی کاشت کرتے تھے اور سال میں ایک بار کسی ایشیائی باشندے کو اپنا مہمان بناتے تھے‘ میں نے انٹر نیٹ پر اس خاندان کو تلاش کیا اور اب میں نیویارک سے ان کے پاس ٹھہرنے اور شکاگو کی دیہاتی زندگی کو انجوائے کرنے جا رہا تھا لیکن جہاز میں حلال خوراک کا ایشو بن گیا‘ میں نے لمبی سانس لی اور آنکھیں بند کر لیں ’’ برادر یہ کھانا حلال ہے‘ آپ کھا سکتے ہیں‘‘ یہ فقرہ اچانک میری سماعت سے ٹکرایا‘ میں نے گھبرا کر آنکھیں کھولیں‘ میرا ہم سفر امریکی مسکراتی نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا‘ اس نے میری آنکھوں میں حیرت پڑھ لی‘ وہ دوبارہ بولا ’’آپ کا کھانا حلال ہے‘ آپ اطمینان سے کھا سکتے ہیں‘‘ میں نے اس سے پوچھا ’’ آپ یہ دعوے سے کیسے کہہ سکتے ہیں‘‘ اس نے اپنا کانٹا نیچے رکھا‘ میری ٹرے سے کھانے کا ریپر اٹھایا اور اس کے کونے پر انگلی رکھ دی‘ ریپر پر سبز لفظوں میں حلال لکھا تھا‘ میں حیران ہوگیا۔
میں نے اطمینان سے کھانا شروع کر دیا‘ کھانے کے دوران میں نے اس سے اس کے وطن کے بارے میں پوچھا‘ اس نے جواب دیا ’’ میں امریکی ہوں‘ آرلینڈو میں رہتا ہوں‘‘ میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا ’’ کیا آپ مسلمان ہیں‘‘ اس نے بلند آواز میں ’’الحمد اللہ‘‘ کہا اور پھر بولا ’’ میں نے سات سال قبل اسلام قبول کیا تھا‘ میں آج کل عربی سیکھ رہا ہوں‘‘ میری حیرت میں اضافہ ہو گیا‘ میں نے اس سے پوچھا ’’لیکن امریکن ائیر لائین میں حلال کھانا کیسے آ گیا‘‘ وہ مسکرایا اور نرم آواز میں بولا ’’میں جب بھی ہوائی سفر پر نکلتا ہوں‘ میں ائیر لائین کے کچن میں فون کر کے پانچ حلال کھانوں کا آرڈر کر دیتا ہوں‘‘ میں نے پوچھا ’’ پانچ کیوں؟‘‘ اس کا جواب بہت دلچسپ تھا‘ اس کا کہنا تھا ’’ امریکن ائیر لائین میں عموماً چار پانچ مسلمان مسافر ہوتے ہیں‘ میں مسلمان ہونے کی وجہ سے ان کا مسئلہ سمجھتا ہوں‘ میں جہاز میں سوار ہو کر عملے کی مدد سے مسلمان مسافروں کو تلاش کرتا ہوں اور بعد ازاں یہ حلال کھانا انھیں پہنچا دیتا ہوں‘ میں جب فلائیٹ میں سوار ہوا تو میں نے لسٹ میں آپ کا نام پڑھ لیا چنانچہ میں نے آپ کے لیے حلال خوراک کی درخواست کر دی اور یوں آپ کو بھی حلال کھانا فراہم کر دیا گیا‘‘ میں نے اس سے پوچھا ’’لیکن جہاز کا عملہ آپ کو مسافروں کی لسٹ کیوں دے دیتا ہے‘‘ اس نے قہقہہ لگایا اور بتایا ’’ میں ایف بی آئی میں کام کرتا ہوں‘ میرا سروس کارڈ یہ مرحلہ آسان بنا دیتا ہے‘‘۔
وہ عبداللہ تھا‘ اس کا پرانا نام ایڈم تھا‘ وہ آرلینڈو کا رہنے والا تھا مگر ان دنوں وہ نیویارک میں کام کر رہا تھا‘ ٹریننگ کے لیے شکاگو جا رہا تھا‘ اس کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ بھی اس کی شخصیت کی طرح حیران کن تھا‘ اس نے بتایا‘ وہ ٹیلی کام انجینئر تھا‘ وہ ایک پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا تھا‘ اس کی والدہ کا انتقال ہو چکا تھا‘ والد دہریہ تھا‘ وہ بوڑھا ہو کر اولڈ پیپل ہوم میں پڑا تھا‘ اس کا اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ جھگڑا ہوا‘ یہ جھگڑا طول پکڑ گیا‘ وہ شدید ڈپریشن کا شکار ہوا اور اس ڈپریشن نے اسے شراب‘ کوکین اور چرس کا عادی بنا دیا‘ وہ چوبیس گھنٹے نشے میں ڈوبا رہتا‘ اس کی راتیں شراب خانوں میں گزرتیں‘ وہ دھت ہو کر شراب خانے میں گر جاتا اور شراب خانے کے ملازمین اسے اٹھا کر فٹ پاتھ پر پھینک جاتے‘ وہ اگلے دن اٹھتا تو گرتا پڑتا گھر پہنچتا‘ اس کی نوکری چلی گئی‘ اس کے سارے اثاثے بک گئے‘ اس پر دوست احباب کا قرض چڑھ گیا اور وہ پوری دنیا میں تنہا رہ گیا۔
وہ بری طرح برباد ہو چکا تھا لیکن پھر اس کے ساتھ ایک عجیب واقعہ پیش آیا‘ وہ ایک رات نشے میں دھت ہو کر شراب خانے میں گرا‘ شراب خانے کے اسٹاف نے اسے اٹھایا اور فٹ پاتھ پر لٹا دیا‘ وہاں سے ایک نوجوان گزرا‘ اس نے اسے اٹھایا‘ وہ اسے اپنے فلیٹ میں لے آیا‘ گرم تولیے سے اس کا جسم صاف کیا‘ صاف سلیپنگ سوٹ پہنایا اور اسے صاف بستر پر لٹا دیا‘ صبح اس کی آنکھ کھلی تو اس نوجوان نے اسے ناشتہ کرایا‘ اپنے کپڑے پہنائے اور اسے اس کے فلیٹ پر چھوڑ آیا‘ وہ اس رات دوبارہ شراب خانے گیا‘ اسے اس رات بھی حسب معمول فٹ پاتھ پر لٹا دیا گیا‘ وہ نوجوان دوبارہ آیا‘ اسے اٹھایا اور اپنے فلیٹ پر لے گیا اور اس کے بعد یہ معمول بن گیا‘ وہ روز رات کے آخری پہر فٹ پاتھ پر گرا دیا جاتا‘ وہ نوجوان آتا اور اسے اٹھا کر لے جاتا‘ یہ اس اجنبی نوجوان کے ساتھ بدتمیزی بھی کرتا لیکن وہ ہٹ کا پکا تھا‘ وہ مسکراتا رہتا اور اس کی خدمت کرتا رہتا‘ اس سارے عمل کے دوران معلوم ہوا‘ وہ نوجوان فلسطینی مسلمان ہے‘ وہ پیزا ہٹ پر کام کرتا ہے اور فارغ وقت میں اس بگڑے ہوئے امریکی کی خدمت کرتا ہے‘ یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ وہ دونوں دوست بن گئے‘ ایڈم فلسطینی نوجوان عبداللہ کے رویئے اور خدمت سے متاثر ہوا اور آہستہ آہستہ اسلام کے حلقے میں داخل ہونے لگا اور پھر ایک دن اس نے اسلام قبول کر لیا‘ یہ اس کہانی کا ایک باب تھا‘ کہانی کا اگلا باب اس سے بھی زیادہ حیران کن تھا۔
ایڈم نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام عبداللہ رکھا اور اسلام کا مطالعہ شروع کر دیا‘ مطالعے کے دوران اسے معلوم ہوا اسلام میں والدین کا بہت مقام ہے‘ والدین کی خدمت کرنے والے لوگ جنتی ہوتے ہیں‘ یہ معلوم ہونے کے بعد عبداللہ سیدھا اولڈ پیپل ہوم گیا اور اپنے والد کو اپنے گھر لے آیا‘ اس کا والد کینسر کے مرض میں مبتلا ہو چکا تھا‘ وہ دہریہ تھا‘ وہ کسی مذہب اور خدا پر یقین نہیں رکھتا تھا‘ اس نے پوری زندگی کوئی عبادت کی اور نہ ہی کسی مذہب کا مطالعہ۔ اس نے بس گستاخی میں پوری عمر گزار دی‘ عبداللہ ایڈم والد کو گھر لے آیا اور اس نے والد کی خدمت شروع کر دی‘ وہ ایک اسٹور میں چار گھنٹے کام کرتا اور اس کے بعد گھر آ کر اپنے فلسطینی دوست کے ساتھ مل کر والد کو نہلاتا تھا‘ وہ اسے اپنے ہاتھوں سے کھانا بھی کھلاتا تھا‘ اسے ویل چیئر پر بٹھا کر سیر کے لیے بھی لے جاتا تھا‘ وہ اسے کتابیں پڑھ کر سناتا تھا اور اس کی باتیں سنتا تھا‘ والد کے لیے یہ رویہ عجیب تھا۔
امریکا میں بچے اپنے والدین کے ساتھ یہ سلوک نہیں کرتے‘ وہاں والدین کی آخری عمر ہمیشہ تنہائی اور اولڈ پیپل ہوم میں گزرتی ہے لیکن نو مسلم عبداللہ نے یہ روایت بدل دی‘ اس نے والد اور والد کے دوستوں کو حیران کر دیا‘ یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ والد کینسر کی آخری پر پہنچ کر اسپتال داخل ہو گیا‘ عبداللہ اسپتال میں بھی والد کی خدمت کرتا رہا‘ اس خدمت کا یہ نتیجہ نکلا اس کا وہ والد جس نے زندگی بھر اللہ کے سامنے سر نہیں جھکایا تھا‘ اس نے انتقال سے چھ ماہ قبل اسلام قبول کر لیا‘ وہ ایمان کی حالت مین دنیا سے رخصت ہوا‘ والد کے انتقال کے بعد عبداللہ نے مختلف جابز کیں‘ وہ ان نوکریوں سے ہوتا ہوا ایف بی آئی میں پہنچ گیا۔
وہ اس وقت میرے ساتھ بیٹھا تھا‘ وہ مسلمان تھا مگر اس کا حلیہ مسلمانوں جیسا نہیں تھا‘ وہ حلیئے سے امریکی لگتا تھا‘ میں نے اس سے پوچھا ’’آپ نے داڑھی کیوں نہیں رکھی‘‘ اس نے اس سوال پر ایک عجیب انکشاف کیا‘ اس نے بتایا ’’ہم نے امریکا میں تبلیغ کا ایک نیٹ ورک بنا رکھا ہے‘ ہم لوگ اپنا حلیہ نہیں بدلتے‘ ہم امریکا میں امریکی بن کر زندگی گزارتے ہیں‘ ہم غیر مسلموں کو صرف اپنے رویئے‘ خدمت اور محبت سے مسلمان بناتے ہیں‘‘ میں نے اس سے عرض کیا ’’لیکن آپ یہ کام داڑھی رکھ کر بھی کر سکتے ہیں‘‘ عبداللہ نے قہقہہ لگایا اور جواب دیا ’’ہاں لیکن ہمارا خیال ہے ہم نے اگر اسلامی حلیہ اپنا لیا تو شاید امریکی لوگ ہمارے قریب نہ آئیں اور تبلیغ کے لیے دوسرے فریق کا آپ کے قریب آنا ضروری ہوتا ہے‘‘ میں نے اس سے پوچھا ’’آپ کی یہ تکنیک کس حد تک کامیاب ہوئی‘‘ اس نے ہنس کر جواب دیا ’’ہم الحمداللہ اس تکنیک سے سیکڑوں لوگوں کو مسلمان بنا چکے ہیں‘ یہ سب نو مسلم میری طرح ہیں‘ باہر سے ایڈم اور اندر سے عبداللہ‘‘۔

از، جاوید چوھدری

22/04/2014

وہ سادہ سا عام معصوم بچوں کی طرح ایک ہونہار بچہ تھا اس کی عمر نو سال رہی ہوگی
ایک دفعہ اپنی ماں کے ساتھ کسی گارڈن میں گھومنے گیا ہوا تھااسے اس کی ماں نے ایک شیشے کی بوتل دکھائی جس کے اندر ایک بڑا سنترہ رکھا ہوا تھا
ماں کے بتانے پر بچے نے تعجب و حیرت سے اپنی ماں سے پوچھا کہ یہ اتنا بڑاسنترہ اس شیشے کی بوتل میں کس طرح داخل ہوگیا اور یہ اب وہ اس بوتل سے کس طرح نکلے گا؟؟
اس کی ماں نے بچے کو گھر کے باغیچے میں لایا اور اس کے سامنے ایک خالی بوتل لائی اور اسے سنترے کے درخت کی نئی ٹہنی سے باندھ دیا جس سے نئے نئے سنترے نکل رہے تھےاور کچھ دنوں بعد اس بوتل میں ایک چھوٹا سا سنترہ داخل کرکے رکھ دیاہوا کا گزر جاری رہا اور سنترہ کی فطری نشو نما ہوتی رہی سنترہ کو اپنی ضرورت کے لئے جس کھاد و خوراک کی ضرورت تھی وہ پہنچایا جاتا رہا-
دن گزرتے گئے سنترہ بڑا ہوتا گیا بڑا ہوتا گیا یہان تک کہ اس کا بوتل سے نکالنا دشوار ہوگیا
بچے کو راز سمجھ آگیا کہ مشکل سے مشکل جگہ پر کسی چیز کو کیسے رکھ کر بسایا جاتا ہے اور جب وہ چیز بس جاتی ہے تو اسکا نکلانا کتنا مشکل ہوجاتا ہے
لیکن اس کے باوجود ماں نے موقع مناسب دیکھ کر بچے کی تربیت کرتے ہوئے بچے کو سمجھایا کہ
بیٹے"-ہمارا دین کا معاملہ بھی بھی کچھ اسی طرح کا ہے کہ اگر ہم اس کے ابتدائی باتیں اور بنیادی قوانین بچوں کو بچپن میں صحیح طرز پر پڑھادیں تو وہ پتھر کی طرح بچوں کے ذہن میں نقش ہوجاتا ہےاور وہ کتنا بھی بڑا ہوجائے اسے نکلانا دشوار ہوجاتا ہے-"
بالکل اس سنترہ کی طرح کہ جسے نکالنے کی کوئی صورت اس کے سوا نہیں کہ شیشے کی بوتل توڑدی جائے--

Want your school to be the top-listed School/college in Sargodha?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Faisalabad Raod
Sargodha
40100