05/01/2025
گلے ملا نہ کبھی چاند بخت ایسا تھا
ہرا بھرا بدن اپنا درخت ایسا تھا
ستارے سسکیاں بھرتے تھے اوس روتی تھی
فسانۂ جگر لخت لخت ایسا تھا
ذرا نہ موم ہوا پیار کی حرارت سے
چٹخ کے ٹوٹ گیا دل کا سخت ایسا تھا
یہ اور بات کہ وہ لب تھے پھول سے نازک
کوئی نہ سہہ سکے لہجہ کرخت ایسا تھا
کہاں کی سیر نہ کی توسن تخیل پر
ہمیں تو یہ بھی سلیماں کے تخت ایسا تھا
ادھر سے گزرا تھا ملک سخن کا شہزادہ
کوئی نہ جان سکا ساز و رخت ایسا تھا
شکیب جلالی