05/01/2025
گلے ملا نہ کبھی چاند بخت ایسا تھا
ہرا بھرا بدن اپنا درخت ایسا تھا
ستارے سسکیاں بھرتے تھے اوس روتی تھی
فسانۂ جگر لخت لخت ایسا تھا
ذرا نہ موم ہوا پیار کی حرارت سے
چٹخ کے ٹوٹ گیا دل کا سخت ایسا تھا
یہ اور بات کہ وہ لب تھے پھول سے نازک
کوئی نہ سہہ سکے لہجہ کرخت ایسا تھا
کہاں کی سیر نہ کی توسن تخیل پر
ہمیں تو یہ بھی سلیماں کے تخت ایسا تھا
ادھر سے گزرا تھا ملک سخن کا شہزادہ
کوئی نہ جان سکا ساز و رخت ایسا تھا
شکیب جلالی
05/01/2025
یہ لوگ بات ہی کرتے ہیں غم شناسی کی
کوئی بھی جان نہ پایا گھٹن اداسی کی
ترے سلام کے پیچھے مفاد جانتا ہوں
ذرا سی داد مجھے گفتگو شناسی کی؟
میں اپنے خواب میں ٹکرا رہا تھا گاڑی سے
سو میری نیند علامت ہے بد حواسی کی
ہم اس کے واسطے بدلے میں نفل پڑھتے ہیں
دعا ہمارے لیے جس نے بھی ذرا سی کی
یقین مان اکیلا نہیں ہوں برسوں سے
یہ چوتھی نسل مرے ساتھ ہے اداسی کی
معاشرے نے مرے دونوں ہونٹ سی ڈالے
میں بات کر رہا تھا بےگنہ کی پھانسی کی
مرے حواس پہ رہتا ہے روز طاری کوئی
کسی کی یاد میں ہر شام چائے باسی کی
چھپانا پڑ گیا تھا درد فیضی لوگوں سے
سسک کے روتے ہوئے ساتھ ساتھ کھانسی کی
فیضان احمد فیضی۔
05/01/2025
بہت فرسودہ لگتے ہیں مجھے اب پیار کے قصے
گل و گلزار کی باتیں، لب و رخسار کے قصے
یہاں سب کے مقدر میں فقط زخمِ جدائی ہے
سبھی جھوٹے فسانے ہیں وصالِ یار کے قصے
بھلا عشق و محبت سے کسی کا پیٹ بھرتا ہے
سنو تم کو سناتا ہوں میں کاروبار کے قصے
مرے احباب کہتے ہیں یہی اک عیب ہے مجھ میں
سرِ دیوار لکھتا ہوں پسِ دیوار کے قصے
کہانی قیس و لیلیٰ کی بہت ہی خوب ہے لیکن
مرے دل کو لبھاتے ہیں رسن و دار کے قصے
میں کیسے خون روتا ہوں وطن کی داستانوں پر
کبھی تم بھی تو سُن جاؤ مرے آزار کے قصے
عاصم اکثر میں لوگوں سے اسی کارن نہیں ملتا
وہی بے کار کی باتیں وہی بے کار کے قصے.
عاصم
05/01/2025
اُونچی جگہ سے گِر کر ____میں بے نشان ٹوٹا
تیرے بھی ہاتھ خالی ,میرا بھی مان ٹوٹا __!
خستہ دلی کا دُکھ بھی __ اپنی جگہ ہے لیکن
بستی میں سب سے پہلے میرا مکان ٹوٹا __!
پہلے میں سوچتا تھا زندہ ہُوں میں پھر اِک شب
ایسا گمان ٹوٹا _____ایسا گمان ٹوٹا __!
اک کہکشاں تھی مُجھ میں قوسِ قزح تھی ہر سُو
پھر سر پہ آکے میرے ____ اِک آسمان ٹوٹا __!
05/01/2025
تجھے نہ آئیں گی مفلس کی مشکلات سمجھ،
میں چھوٹے لوگوں کے گھر کا بڑا ہوں، بات سمجھ
میرے علاوہ ہیں چھے لوگ منحصر مجھ پر
میری ہر ایک مصیبت کو ضرب سات سمجھ
فلک سے کٹ کے زمیں پر گری پتنگیں دیکھ
تُو ہجر کاٹنے والوں کی نفسیات سمجھ
شروع دن سے اُدھیڑا گیا ہے میرا وجود
جو دِکھ رہا ہے اسے میری باقیات سمجھ
کتابِ عشق میں ہر آہ ، ایک آیت ہے
اور آنسوؤں کو حروفِ مقطعات سمجھ
کریں یہ کام تو کنبے کا دن گزرتا ہے
ہمارے ہاتھوں کو گھر کی گھڑی کے ہاتھ سمجھ
دل و دماغ ضروری ہیں زندگی کے لئے
یہ ہاتھ پاؤں اضافی سہولیات سمجھ
(عمیر نجمی)
05/01/2025
مکمل دو ہی دانوں پر یہ تسبیحِ محبت ہے
جو آئے تیسرا دانہ تو ڈوری ٹوٹ جاتی ہے
مقرر وقت ہوتا ہے محبت کی نمازوں کا
ادا جن کی نکل جائے قضا بھی چھوٹ جاتی ہے
محبت کی نمازوں میں امامت ایک کو سونپو
اسے تکنے، اُسے تکنے سے نیت ٹوٹ جاتی ہے
محبت دل کا سجدہ ہے جو ہے توحید پر قائم
نظر کے شرک والوں سے محبت روٹھ جاتی ہے
بتِ محبوب پانا ہے تو پھر اللہ سے مانگو
کہ پوجا بت کی کرنے میں تو قسمت پھوٹ جاتی ہے
شاعر: زبیر راج
کتاب: زمانے بیت جاتے ہیں
05/01/2025
پرانا گھر نئے نقشے میں اچھا بن گیا ہے
مگر اک باپ بچوں کا تماشہ بن گیا ہے
بہت اچھا ہوا ہم اک قبیلے کے نکل آئے
چلو اب ہاتھ تھامو اب تو رشتہ بن گیا ہے
خدایا اب ذرا تیری توجہ اس طرف بھی
ہمارا ہاتھ پھیلے پھیلے کاسہ بن گیا ہے
ادھورا گھر سہی سر ڈھانپنے کو چھت تو ہے ناں
بہت ہے یار، اب تک جو بھی، جیسا بن گیا ہے
وہ ڈھابہ یاد ہے جس پر کبھی مل بیٹھتے تھے
وہ ڈھابہ گر چکا ہے اور پلازہ بن گیا ہے
یہ دیوانہ جسے سب لوگ پاگل کہہ رہے ہیں
کسی کا ناز تھا دیکھو تو اب کیا بن گیا ہے
نزر حسین ناز
06/12/2024
رہے گا عشق ترا خاک میں ملا کے مجھے
کہ ابتدا میں ہوئے رنج انتہا کے مجھے
دیئے ہیں ہجر میں دکھ درد کس بلا کے مجھے
شبِ فراق نے مارا لٹا لٹا کے مجھے
بغیر موت کے کس طرح کوئی مرتا ہے
یقیں نہ آئے تو وہ دیکھ جائیں آ کے مجھے
بلائے عشق تو دشمن کو بھی نصیب نہ ہو
مرا رقیب بھی رویا گلے لگا کے مجھے
کہا یہ دل نے چلو آج کوئے قاتل میں
اجل کہاں سے کہاں لے گئی لگا کے مجھے
ہر ایک شخص کو حاصل جدا ہے کیفیت
جفا کے لطف تجھے ہیں ، مزے وفا کے مجھے
غضب ہے آہ میری داغؔ نام ہے میرا
تمام شہر جلاؤ گے کیا جلا کے مجھے
داغ دہلوی
06/12/2024
ہاتھ خالی ہیں ترے شہر سے جاتے جاتے
جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے
اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہمیں پہچانتا ہے
عمر گزری ہے ترے شہر میں آتے جاتے
اب کے مایوس ہوا یاروں کو رخصت کر کے
جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے
رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ورنہ
ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے
میں تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا
تم تو دریا تھے مری پیاس بجھاتے جاتے
مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید
لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے
ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے
کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
راحت اندوری
06/12/2024
جن کے دل جوڑتے اک عُمر بِتا دی مَیں نے
جب مَروں گا تو وہ اَحباب اکٹّھے ہوں گے
عمیر نجمی
06/12/2024
ہمارے دل میں کہیں درد ہے !!........ نہیں ہے نا !!!!
ہمارا چہرہ بَھلا زرد ہے!!!! .......... نہیں ہے نا !!!!
سُنا ہے' آدمی مر سکتا ہے.............. بچھڑتے ہوئے
ہمـارا ہاتھ چُھوؤ ' سرد ہے !!!....... نہیں ہے نا !!!!
سُنا ہے ہجر میں چہروں پہ............ دھول اڑتی ہے
ہمارے رخ پہ کہِیں گرد ہے !!!!۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ہے نا !!!!
تمہاری راہ کبھی دیکھی نہیں............ قسم لے لو
میری پلکوں پہ کَرب ہے !!..... نہیں ہے نا!!!!!
وہی ہے درد وہی درد کا.................. درماں بھی ہے!!
کہیں قریب وہ بیدرد ہے...!!!!.......... نہیں ہے نا ۔۔۔!!!