محمد اسامہ قاسم علی

محمد اسامہ قاسم علی

Share

محمدی حسینی سلسلہ خلق کو خالق حقیقی تک جانے والے راستے ?

12/01/2025

*انبیا کے بعد بارگاہ الہی تک پہنچنے کا ذریعہ حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی رح کی نظر میں:*

انبیائے کرام کے بعد بارگاہِ الہی میں پہنچانے والا دوسرا راستہ ولایت ہے، تمام قطب و ابدال اور اوتاد و اولیا اسی راہ سے واصل ہوئے ہیں، راہِ سلوک بھی اسی راہ سے ہے۔ واصلین کی اس راہ کے امام، پیش رو اور مشائخ کے فیض کا منبع و سرچشمہ سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم ہیں اور یہ مقام و مرتبہ آپ سے ہی متعلق ہے۔ اس راہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدمَین مبارک حضرت علی المرتضی کے سر انور پر ہیں۔ سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا، سیدنا حسن اور سیدنا حسین علیہا السلام بھی اس مقام میں آپ کے ساتھ شریک ہیں۔ حضرت علی المرتضی جس طرح ولادت کے بعد اس مقام پر ہیں اسی طرح پیدائش سے پہلے بھی اسی مقام پر تھے اور اس راستے سے جس کو بھی فیض پہنچتا ہے، حضرت علی المرتضی کے وسیلے سے ہی پہنچتا ہے کیوں کہ اس راہ کا نقطہ اختتام آپ ہی ہیں اور اس راہ کا مرکز بھی آپ سے تعلق رکھتا ہے۔

مکتوبات حضرت مجدد الف ثانی، حصہ سوم، مکتوب نمبر ١٢٣

ترجمہ و تلخیص:
سید صبغت اللہ سہروردی
٢٤۔ جون ٢٠٢٤ء
١٨۔ ذوالحجہ ١٤٤٥ھ
یومِ غدیر

13/01/2024

فضائل مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم

قبول اسلام اور نماز پڑھنے میں اول
احادیث میں کثرت کے ساتھ یہ روایات موجود ہیں کہ مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم سب سے پہلے ایمان لائے، اور حضور کے ساتھ نماز ادا فرمائی.
1. ایک انصاری شخص ابو حمزہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ ایمان لائے۔‘‘
( جامع ترمذی، معجم الکبیر، مجمع الزوائد)

2. حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں۔
’’ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سب سے پہلے اسلام لانے والے حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں۔‘‘
( مسند احمد، مستدرک الحاکم، مصنف ابن ابی شیبہ، المعجم الکبیر)

3. حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ پیر کے دن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت ہوئی اور منگل کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی۔‘
(جامع ترمذی ، مستدرک الحاکم، فیض القدیر)

4. حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی۔ اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ بعض نے کہا : سب سے پہلے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اسلام لائے اور بعض نے کہا : سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ اسلام لائے جبکہ بعض محدثین کا کہنا ہے کہ مردوں میں سب سے پہلے اسلام لانے والے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں اور بچوں میں سب سے پہلے اسلام لانے والے حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں کیونکہ وہ آٹھ برس کی عمر میں اسلام لائے اور عورتوں میں سب سے پہلے مشرف بہ اسلام ہونے والی حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اﷲ عنہا ہیں۔‘‘
( جامع ترمذی)

5. حضرت عمرو بن میمون رضی اللہ عنہ حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے ایک طویل حدیث میں روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا : حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہا کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ لوگوں میں سب سے پہلے اسلام لائے۔‘‘
( مسند احمد، مجمع الزوائد، طبقات الکبریٰ)

02/12/2023

❤️

28/09/2023

"مولا علی علیہ السلام کی عظیم نصیحتیں"

ایک شخص نے آپ (علیہ السلام) سے پند و موعظت (واعظ و نصیحت) کی درخواست کی، تو فرمایا:
تم کوان لوگوں میں سے نہ ہونا چاہیئے کہ جو عمل کے بغیر حسن انجام کی امید رکھتے ہیں اور امیدیں بڑھا کر توبہ کو تاخیر میں ڈال دیتے ہیں جو دنیا کے بارے میں زاہدوں کی سی باتیں کرتے ہیں مگر ان کے اعمال دنیا طلبوں کے سے ہوتے ہیں۔
اگر دنیا انہیں ملے تو وہ سیر نہیں ہوتے اور اگر نہ ملے تو قناعت نہیں کرتے جو انہیں ملاہے اس پر شکر سے قاصر رہتے ہیں اور جو بچ رہا اس کے اضافہ کے خواہشمند رہتے ہیں دوسروں کو منع کرتے ہیں اور خود باز نہیں آتے اور دوسروں کو حکم دیتے ہیں ایسی باتوں کا جنہیں خود بجا نہیں لاتے۔
نیکوں کو دوست رکھتے ہیں مگر ان کے سے اعمال نہیں کرتے اور گنہگاروں سے نفرت و عناد رکھتے ہیں حالانکہ وہ خود انہی میں داخل ہیں۔
اپنے گناہوں کی کثرت کے باعث موت کو برا سمجھتے ہیں مگر جن گناہوں کی وجہ سے موت کو ناپسند کرتے ہیں انہی پر قائم ہیں۔
اگر بیمار پڑتے ہیں تو پشیمان ہوتے ہیں۔ اور تندرست ھوتے ھیں تو مطمئن ھوکر کھیل کود میں پڑ جاتے ھیں جب بیماری سے چھٹکارا پاتے ہیں تواترانے لگتے ہیں .اور مبتلا ہوتے ہیں تو ان پر مایوسی چھا جاتی ہے۔
جب کسی سختی و ابتلا میں پڑتے ہیں تو لاچار و بے بس ہوکر دعائیں مانگتے ہیں اور جب فراخ دستی نصیب ہوتی ہے تو فریب میں مبتلا ہو کر منہ پھیر لیتے ہیں۔
ان کا نفس خیالی باتوں پر انہیں قابو میں لے آتا ہے اور وہ یقینی باتوں پر اسے نہیں دبالیتے۔ دوسروں کے لیے ان کے گناہ سے زیادہ خطرہ محسوس کرتے ہیں اور اپنے لیے اپنے اعمال سے زیادہ جزا کے متوقع رہتے ہیں۔
اگر مالدار ہوجاتے ہیں تو اترانے لگتے ہیں اور اگر فقیر ہوجاتے ہیں تو ناامید ہوجاتے ہیں اور سستی کرنے لگتے ہیں۔
جب عمل کرتے ہیں تو اس میں سستی کرتے ہیں اور جب مانگنے پرآتے ہیں تو اصرار میں حد سے بڑھ جاتے ہیں۔
اگر ان پر خواہش نفسانی کا غلبہ ہوتا ہے تو گناہ جلد سے جلد کرتے ہیں، اور توبہ کو تعویق میں ڈالتے رہتے ہیں، اگر کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے تو اسلام کی جماعت کے خصوصی امتیازات سے الگ ہوجاتے ہیں۔
عبرت کے واقعات بیان کرتے ہیں مگر خود عبرت حاصل نہیں کرتے اور وعظ و نصیحت میں زور باندھتے ہیں مگر خود اس نصیحت کا اثر نہیں لیتے چنانچہ وہ بات کرنے میں تو اونچے رہتے ہیں .مگر عمل میں کم ہی کم رہتے ہیں۔
فانی چیزوں میں نفسی نفسی کرتے ہیں اور باقی رہنے والی چیزوں میں سہل انگاری سے کام لیتے ہیں وہ نفع کو نقصان اور نقصا ن کو نفع خیال کرتے ہیں۔
موت سے ڈرتے ہیں .مگر فرصت کا موقع نکل جانے سے پہلے اعمال میں جلدی نہیں کرتے۔ دوسرے کے ایسے گناہ کو بہت بڑا سمجھتے ہیں جس سے بڑے گناہ کو خود اپنے لیے چھوٹا خیال کرتے ہیں۔
اور اپنی ایسی اطاعت کو زیادہ سمجھتے ہیں جسے دوسرے سے کم سمجھتے ہیں، لہٰذا وہ لوگوں پر معترض ہوتے ہیں اور اپنے نفس کی چکنی چپڑی باتوں سے تعریف کرتے ہیں۔
دولتمندوں کے ساتھ طرب و نشاط میں مشغول رہنا انہیں غریبوں کے ساتھ محفل ذکر میں شرکت سے زیادہ پسند ہے اپنے حق میں دوسرے کے خلاف حکم لگاتے ہیں لیکن کبھی یہ نہیں کرتے کہ دوسرے کے حق میں اپنے خلاف حکم لگائیں۔
اوروں کو ہدایت کرتے ہیں اور اپنے کو گمراہی کی راہ پر لگا تے ہیں وہ اطاعت لیتے ہیں اور خود نافرمانی کرتے ہیں اور حق پورا پورا وصول کرلیتے ہیں مگر خود ادا نہیں کرتے۔
وہ اپنے پروردگار کو نظر انداز کر کے مخلوق سے خوف کھاتے ہیں اور مخلوقات کے بارے میں اپنے پروردگار سے نہیں ڈرتے۔
۔۔۔
(نہج البلاغہ،)

29/07/2023

حضرت عبداللہ بن مبارک روایت کرتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ جب مدینہ گئے تو سیدنا امام محمد الباقر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے عرض کیا:
فَاِنَّ لَکَ عِنْدِی حُرْمَةً کَحُرْمَةِ جَدِّکَ صلیٰ الله عليه وآله وسلم فِيْ حَيَاتِهِ عَلٰی اَصْحَابِهِ.

’’آپ کی حرمت اور تعظیم و تکریم میرے اوپر اس طرح واجب ہے جس طرح صحابہ کرام پر تاجدار کائنات صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم و تکریم واجب تھی‘‘۔
یعنی جو تعظیم و تکریم صحابہ کرام آقا صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کیا کرتے تھے، میں اسی طرح وہ تعظیم آپ کی کرتا ہوں چونکہ آپ کی حرمت و تعظیم اور محبت اور مؤدت میں مجھے حرمت و تعظیم اور مؤدت و محبتِ مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلمنظر آتی ہے۔
(المناقب للموفق المکی صفحہ 168)

06/07/2023

18th of Dhu Al Hijjah marks Ghadeer Khum when the splendid Coronation of Sayyidina Imam Ali's Wilayah (A.S) occured in a gathering of thousands of Sahabas.

The Prophet of Allah (Saws) mentioned "Allah is my Mawla, and I am the Mawla of my Ummah, and whomsoever I am the Mawla of, Ali is his Mawla".

مَنْ کُنْتُ مَوْلاهُ، فَهذا عَلِىٌّ مَوْلاهُ-

26/06/2023
09/06/2023

محمدی حسینی مختصر درود پاک

●اَلَّلھُمَّ صَلَّ عَلَی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍﷺ وٍّ عَلَی اَلِهِ وَ اَولَادِهِ وَ اَهلِ بَیْتِهِ وَ ذُرَّیَّتِهِ وَ اَزْوَاجِهِ وَ اَخْفَادِهِ وَ اَصْحَابِهِ وَ اَحْبَابِهِ وَ اَنْصَارِهِ وَ اَشْیَاعِهِ وَ اَصْھَارِہِ وَ اَتْبَاعِهِ وَ وَارِثِیْهِ وَ مُحِبِّیْهِ وَ اُمَّتِهِ وَ اَوْلِیَاءِ اٌمَّتِهِ وَ اَهْلِ طَاعَتِكَ اَجْمَعِینَ وَ عَلَی جَمِیْعِ اِخْوَانِهِ مِنَ النَّبِیِّیْنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وً الشُّھَدَاءِ وَ الصَّالِحِیْنَ وٍّ عَلَی اَلِهِ وَ عَلَی آَدَمَ وَ نُوْحٍ وَ اِبْرَاھِیْمَ وَ مُوْسَی وَ عِیْسَی وَمَا بَیْنَھُمْ مِنَ النَّبِیِّیْنَ وَ الْمّرْسَلِیْنَ وَ عَلَی جِبْرِیْلَ وَ مِیْکاَئِیْلَ وَ اِسْرَافِیْلَ وَ عِزْرَائِیْلَ وَ مُنْکَرٍ وَّ نَکِیْرِ وَّ عَلَی حَمَلَةِ الْعَرْشِ وَ الْکِرَامِ الْکاَتٍبِیْنَ وَ عَلَی الْمَلَائِکََةِ الْمُقًرِّبِیْنَ وَ عَلَی الْمُومِنِیْنَ وَ الْمُوْمِنَاتِ وَ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمَاتِ وَ بَارِك وَ سَلِّمْ وَ الْحَمْدُ لِلہ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔۔

01/06/2023

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبيری
کہ فَقر ِخانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگيری
ترے دين و ادب سے آ رہی ہے بوئے رہبانی
يہی ہے مرنے والی اُمتوں کا عالمِ پيری

Come out of the monastery and play the role of Shabbir,
For monastery’s faqr is but grief and affliction.
Thy religion and literature both smell of renunciation:
Symbol of old age of dying nations.

17/04/2023

فقیری اور فقیر کا منصبی تقاضہ

مافوق الفطرت واقعات کی بنا پر انسانی شعور کو مختل کر کے کسی کے لا شعور میں اپنی سحر انگیز شخصیت ثبت کرنے کو فقیری نہیں کہتے بلکہ بقدر وسعت و استطاعت اپنے ہمعصروں کی فکری رہنمائی کرتے ہوئے انہیں شعوری رہبری دیتے ہوئے بتدریج لطافتوں کے قریب لے جانے کو فقیری کہتے ہیں
فقیر کا منصبی تقاضا اعلائے کلمہ الحق ہے کبھی مخلوق کی بات خالق تک تو کبھی خالق کی بات مخلوق تک
خالق کی بات مخلوق تک پہنچائے تو اسے رشد کہتے ہیں اور مخلوق کی خالق تک پہنچائے تو اس کیفیت کو دعا کہتے ہیں۔ 🖤

محمد اسامہ قاسم علی

11/04/2023

سیدنا علی المرتضٰی کرم اللہ وجہہ الکریم کی شہادت کے بعد سیدنا امام حسن علیہ السلام نے ایک دردناک خطبہ دیا جس سے جم غفیر مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو یاد کر کے روتا رہا۔۔

اے عراق والو! کل تم میں ایک ایسے مرد کامل تھے جن کو رات شہید کر دیا گیا اور آج اللہ تعالٰی کے پاس پہنچ گئے جس سے پہلوں نے نہ سبقت کی اور نہ پچھلے پہنچ سکتے ہیں۔
جب سرور کونین ﷺ ان کو کسی فوج کی سرداری پر بھیجتے تو جبرائیل اور میکائیل ان کے دائیں بائیں جانب ہوتے جب تک اللہ تعالٰی ان کو فتح نہ دیتا وہ واپس نہ لوٹتے۔

طبقات ابن سعد ج 3 صفحہ 138

Want your school to be the top-listed School/college in Sargodha?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Sargodha
40100