Ràh e Raāśť راہ راست

Ràh e Raāśť  راہ راست

Share

�اے میرے رب !
همیں ان هدایت یافتہ لوگوں میں شامل فرما ،

25/10/2025
16/10/2025

16/10/2025

قیامت کا سماں
قیامت سے پہلے انتہائی آخری وقت میں جنوب کی طرف سے ایک نہایت فرحت افزا ہوا چلے گی جس کے سبب ہر صاحب ایمان شخص کی بغل میں ایک درد اٹھے گا اور وہ اپنی فضیلت کے حساب سے مرنا شروع ہوجائیں گے، یعنی جو جتنا زیادہ نیک ہوگا وہ اتنی جلدی فوت ہوجائے گا۔ جب تمام اہل ایمان اس دنیا سے ختم ہوجائیں گے تو اس وقت دنیا پر حبشہ والوں کا غلبہ ہوجائے گا اور پوری دنیا پر ان کی ہی حکومت ہوگی۔ صحیح بخاری و مسلم میں روایت ہے کہ حبشہ والوں کی جب حکومت آئے گی تو وہ خانہ کعبہ کو گرادیں گے اور حج موقوف ہوجائے گا، اس وقت قرآن مجید فرقان حمید دلوں، زبانوں اور کاغذوں سے اٹھالیا جائے گا، خدا ترسی، حق شناسی، خوفِ آخرت لوگوں کے دلوں سے ختم ہوجائے گا۔ اور شرم و حیا جاتی رہے گی، لوگ راستوں پر گدھوں اور کتوں کی طرح زنا کریں گے۔ اس وقت حکام کا ظلم اور ان کی جہالت ، رعایا کی ایک دوسرے پر دست درازی بڑھ جائے گی ، پھر دیہات ویران ہوجائیں گے، بڑے بڑے قصبے گاؤں کی طرح اور بڑے بڑے شہر معمولی قصبوں کی طرح ہوجائیں گے، قحط، وبا اور غارت گری کی آفتیں ایک کے بعد ایک نازل ہوں گی۔
اس وقت میں ج**ع یعنی جسمانی تعلق بہت زیادہ قائم ہوگا لیکن اس کے مقابلے میں اولاد پیدا ہونے کی شرح انتہائی کم ہوگی ۔جہالت اتنی زیادہ ہوجائے گی کہ کوئی شخص اللہ کا نام لینے والا نہیں ہوگا، یعنی کسی شخص کی زبان پر اللہ کا لفظ ہی نہیں ہوگا، پوری دنیا میں فتنے بڑھ جائیں گے جس کے بعد بہت سے لوگ آفتوں سے تنگ آکر اپنے اہل و عیال کے ساتھ شام کی طرف چلنے لگیں گے۔ اس دوران جنوب سے ایک آگ نمودار ہوگی اور لوگوں کی طرف بڑھنا شروع ہوجائے گی، لوگ اس آگ سے خوف کھا کر بے تحاشہ بھاگیں گے، بھاگنے والے لوگ دوپہر کو تھک جائیں گے اور اپنی عاجزی کا اظہار کردیں گے تو یہ آگ بھی ٹھہر جائے گی جس کے بعد یہ لوگ آرام کریں گے، صبح ہوتے ہی آگ پھر ان لوگوں کا پیچھا کرے گی ، انسان اس سے بھاگیں گے ، یہ آگ انہیں اسی طرح پیچھا کرتے کرتے ملکِ شام تک پہنچادے گی اور پھر غائب ہوجائے گی۔ جب آگ غائب ہوگی تو بعض لوگ اپنے اپنے وطن کی طرف واپس لوٹ جائیں گے لیکن بہت سے لوگ شام میں ہی موجود رہیں گے۔
قیامت کے قریب جب سورج مغرب سے طلوع ہو گا تو شیطان یہ منظر دیکھ کر کہے گا کہ ہاے میری ہلاکت! شیطان کے چیلے یہ منظر دیکھ کر کہیں گے کہ ہم نے آج تک آپ کو اس حالت میں نہیں دیکھا، وہ کہے کہ بالآخر سورج مغرب سے طلوع ہو گیا یہ میری موت کی نشانی ہے ۔اس کے بعد لوگ تین یا چار سال تک غفلت میں پڑے رہیں گے اور دنیاوی نعمتیں،دولت اور شہوت رانی بکثرت ہوجائے گی، اسی دوران جمعہ کے روز دسویں محرم کو صور پھونکا جائے گا اور مسلسل 6ماہ تک صور پھونکا جاتا رہے گا ۔ یہ ایک باریک اور لمبی آواز ہوگی جو ہر طرف کے لوگوں کو یکساں سنائی دے گی اور لوگ حیران ہوں گے کہ یہ کیسی آواز ہے، آہستہ آہستہ صور کی آواز بجلی کی کڑ کی طرح سخت اور اونچی ہوجائے گی ، اس شدید آواز سے انسان بے قرار ہوجائیں گے ، جب صور کی آواز پوری طرح سخت ہوجائے گی لوگ ہیبت کی وجہ سے مرنا شروع ہوجائیں گے، زمین میں زلزلہ آجائے گا اور اس کے خوف سے لوگ گھروں کو چھوڑ کر میدانوں میں بھاگ کھڑے ہوں گے ، زمین جگہ جگہ سے پھٹ جائے گی ، سمندر ابل کر قرب و جوار کی بستیوں پر چڑھ جائیں گے، وحشی جانور انسانوں کی طرف بڑھیں گے، آگ بجھ جائے گی ، بلندو بالا پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر تیز ہوا کے چلنے سے ریت کی طرح اڑتے پھریں گے گردو غبار کے اٹھنے اور آندھیوں کے آنے کی وجہ سے پوری دنیا تاریک لگنے لگے گی۔
اس دوران صور کی آواز مزید سخت ہوجائے گی حتیٰ کہ اس کے ہولناک ہونے پر آسمان بھی پھٹ جائیں گے اور ستاڑے ٹوٹ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ صور کی وجہ سے سب انسان ہلاک ہوجائیں گے تو ملک الموت شیاطین کی روح قبض کرنے کی طرف متوجہ ہوں گے، شیطان ملعون چاروں طرف دوڑتا پھرے گا مگر فرشتے اسے پکڑیں گے اور پھر اس کی روح اس طرح قبض کی جائے گی کہ احنف بن قیسؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓ سے ملا قات کے لئے ایک مرتبہ مدینہ منورہ جانا ہوا۔ ایک مجمع میں حضرت کعب احبارؓ کو تقریر کرتے ہوئے دیکھا تو میں بھی بیٹھ گیا وہ فرما رہے تھے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے وفات کے وقت اللہ تعالیٰ سے عرض کیا یا اللہ میری موت سے میرا ازلی دشمن ابلیس بہت خوش ہو گا، اس کو تو قیامت تک زندہ رہنا ہے، جواب ملا آدم تم انتقال کے بعد جنت میں چلے جاؤگے اور وہ ملعون قیامت تک دنیا ہی میں رہے گا، آخر میں اس کو موت آئے گی تاکہ ساری دنیا کے لوگوں کے برابر موت کی تکلیف اٹھائے۔ آدم علیہ السلام نے ملک الموت سے فرمایا، ابلیس کی موت کا منظر مجھے بھی کچھ بتاؤ۔ فرشتہ نے سنانا شروع کیا تو وہ اتنا درد ناک تھا کہ آدم علیہ السلام سن نہ سکے۔ فرمایا بس کرو اب نہیں سنا جاتا۔ اتنا فرما کر حضرت کعبؓ خاموش ہوگئے۔ لوگوں نے کہا حضرت کچھ ہمارے سامنے بھی اس کی موت کا منظر بیان فرمائیں۔ پہلے تو انکارکیا مگر لوگوں کے بے حد اصرار پر فرمایا۔ جب قیامت قریب آئے گی لوگ حسبِ عادت بازاروں میں مشغول ہوں گے۔ اچانک ایک زور دار دھماکہ ہو گا جس سے بہت سے لوگ بے ہوش ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ملک الموت سے فرمائیں گے۔ میں نے سب سے زیادہ تمہارے مددگار و معاون فرشتے بنائے اور تم کو ان سب کے برابر قوت دی۔ میرے غصہ اور غضب کا لباس پہن کر جاؤ اور ابلیس ملعون کی روح قبض کرو اور اس کے ساتھ تمام انسانوں کی اور جنوں سے زیادہ سختی کرنا اور مالک داروغہ جہنم سے کہو کہ جہنم کے دروازے کھول دے۔ ملک الموت انتہائی غیض وغضب میں بھرے بہت سارے فرشتوں کے ساتھ دنیا میں اس طرح آئیں گے کہ آسمان و زمین والے دیکھ لیں تو خوف کے مارے پگھل جائیں۔ ابلیس کے پاس پہنچ کر بہت زور سے ڈانٹ پلائیں گے جس سے ابلیس بری طرح دھاڑیں مار مار کر چیخے گا، اگر دنیا والے اس کی آواز سن لیں تو بے ہوش ہو جائیں۔
ملک الموت ابلیس سے کہیں گے خبیث تو نے بہت طویل عمر پائی اور بے شمار انسانوں کو گمراہ کیا جو تیرے ساتھ جہنم میں جائیں گے۔ آج ان سب کے برابر تجھے موت کا مزہ چکھاؤں گا۔ تیری مہلت اور ڈھیل کا وقت ختم ہو چکا اب تو موت سے بھاگ نہیں سکتا۔ ابلیس گھبراکر مشرق کی جانب بھاگے گا تو کبھی مغرب کی جانب لیکن ہر طرف اپنے سامنے ملک الموت کو پائے گا،سمندر میں گھسنے کی کوشش کرے گا تو سمندر نکال پھینکے گا۔ آدم علیہ السلام کی قبر کے پاس کھڑا ہو کر کہے گا۔ اے آدم! تمہاری وجہ سے میں ملعون ومردود بنا، کاش کہ تم پیدا ہی نہ ہوتے پھر ملک الموت سے کہے گا کتنی سختی اور تکلیف کے ساتھ میری جان نکالو گے؟ فر مائیں گے جتنے لوگ جہنم میں ہیں ان سب کی موت سے کہیں زیادہ تکلیف اور سختی کے ساتھ۔ یہ سن کر تڑپنے لگے گا اور چیختا چلاتا اِدھر اُدھر بھاگے گا اور جہاں موت آنی ہے وہاں گر جائے گا وہ جگہ آگ کے انگارے کی طرح سرخ ہو گی اور وہاں جہنم کی سنسیاں لگی ہوں گی، ان سنسیوں سے تڑپا تڑپا کر کھینچ کر اس کی جان نکالی جائے گی۔آدم علیہ السلام وحوا سے کہا جائے گا ذرا اپنے دشمن کو دیکھو کس طرح ذلت کے ساتھ مر رہا ہے وہ دیکھ کر خوش ہوں گے اور کہیں گے۔’’یا اللہ تو نے ہم پر اپنی نعمت مکمل فرما دی۔
معزز خواتین و حضرات۔۔۔قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور تم سب کو (تمہارے اعمال کے) پورے پورے بدلے قیامت ہی کے دن ملیں گے۔ پھر جس کو دوزخ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا، وہ صحیح معنیٰ میں کامیاب ہوگیا اور یہ دنیاوی زندگی تو (جنت کے مقابلے میں) دھوکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی کامیابی کا معیار ذکر کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس حال میں ہماری موت آئے کہ ہمارے لئے جہنم سے چھٹکارے اور دخولِ جنت کا فیصلہ ہوچکا ہو ۔ اس زمین میں جو کوئی ہے، فنا ہونے والا ہے، اور (صرف) تمہارے پروردگار کی جلال والی اور فضل وکرم والی ذات باقی رہے گی ۔ ہر چیز فنا ہونے والی ہے، سوائے اللہ کی ذات کے۔
حکومت اسی کی ہے، اور اُسی کی طرف تمہیں لوٹ کرجاناہے ۔
یا اللہ ہم سب کو موت سے پہلے نیک عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔ اور روزِ قیامت کی ہولناکی و گھبراہٹ و خوف و سختی سے بچا ۔ اور آسانی و عافیت سے ہم سب کی مغفرت فرما آمین

Want your school to be the top-listed School/college in Sargodha?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Sargodha