Government Boys Elementary school Kacha chishtian

Government Boys Elementary school Kacha chishtian Government Boys Elementary school Kacha chishtian Tehsil sahiwal Sargodha

12/08/2026

ایک شکریہ، ایک دعا اور نیک تمناؤں کے ساتھ
جب گورنمنٹ پرائمری سکول کچا چشتیان کو آؤٹ سورس کرنے کا مرحلہ آیا تو میری دلی خواہش تھی کہ اسکول کسی ایسے شخص یا گروپ کے پاس جائے جو اسی علاقے سے تعلق رکھتا ہو، اسکول اور بچوں کے مسائل کو سمجھتا ہو اور اسے محض ایک ادارہ نہیں بلکہ علاقے کی امانت سمجھ کر چلائے۔
اس سلسلے میں میں نے علاقے کے مختلف لوگوں سے بات کی۔ کچھ احباب نے دلچسپی ظاہر کی، کچھ نے مثبت ردِعمل دیا اور بعض لوگوں نے پہلے ہی اسکول لینے کے لیے اپلائی بھی کر رکھا تھا، لیکن کوئی بھی اس معاملے میں اس طرح سنجیدگی سے آگے نہیں آ رہا تھا کہ باقاعدہ طور پر اسکول کی ذمہ داری سنبھال سکے۔
ایسے وقت میں ہمارے علاقے کی ایک نہایت محترم اور معزز شخصیت قمر عباس صاحب نے آگے بڑھ کر ایک ٹیم تشکیل دی اور اپنے ساتھیوں کو آگے کر کے اسکول کی ذمہ داری حاصل کی۔ چونکہ وہ خود سرکاری ملازم ہونے کی وجہ سے براہِ راست اس عمل کی قیادت نہیں کر سکتے تھے، اس کے باوجود انہوں نے جس اخلاص، دلچسپی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، وہ میرے لیے واقعی قابلِ قدر ہے۔
میں قمر عباس صاحب کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میرے اسکول کو کسی باہر کے فرد کے حوالے ہونے کے بجائے اپنے ہی علاقے میں رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مجھے خوشی ہے کہ یہ ادارہ ایسے لوگوں کے پاس ہے جن سے مجھے بہت اچھی امیدیں وابستہ ہیں۔
میری دعا اور نیک خواہشات ہیں کہ قمر عباس صاحب اور ان کی پوری ٹیم اسکول کو مزید بہتر انداز میں چلائیں، بچوں کو بہترین تعلیمی ماحول فراہم کریں، اساتذہ اور والدین کے ساتھ اچھا تعاون رکھیں اور اس ادارے کی ترقی کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔
یہ اسکول میرے لیے صرف ایک سرکاری ادارہ نہیں رہا؛ اس کے ساتھ میری زندگی کے کئی سال، میری محنت، میرے ساتھیوں کی محنت، بچوں کی یادیں اور علاقے کے لوگوں کی محبت وابستہ ہے۔ اس لیے میری سب سے بڑی خوشی یہی ہوگی کہ یہ اسکول میرے بعد بھی آباد، خوشحال اور ترقی کرتا رہے۔
میری دلی خواہش ہے کہ قمر عباس صاحب اور ان کی ٹیم مجھ سے بھی بہتر انداز میں اس اسکول کو چلائیں اور اسے ایک مثالی ادارہ بنائیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ وہ اس ادارے کو بہترین انداز میں آگے لے کر جائیں گے۔ میرے لیے اس سے بڑھ کر خوشی کی کوئی بات نہیں ہوگی کہ میرے بعد بھی یہ اسکول آباد رہے، ترقی کرے اور علاقے کے بچوں کے روشن مستقبل میں اپنا کردار ادا کرتا رہے۔
مجھے یقین ہے کہ قمر عباس صاحب مجھ سے بھی بہتر انداز میں اس اسکول کی خدمت کریں گے اور اسے نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔
میری دعائیں اور نیک تمنائیں ہمیشہ اس اسکول، اس کے بچوں، اساتذہ اور قمر عباس صاحب کی پوری ٹیم کے ساتھ رہیں گی۔
اللہ تعالیٰ قمر عباس صاحب اور ان کی ٹیم کو اس نیک ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھانے کی توفیق عطا فرمائے، اس ادارے کو دن دگنی رات چوگنی ترقی دے اور اسے علاقے کے بچوں کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔
قمر عباس صاحب، آپ کا تہہ دل سے شکریہ۔
اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ آمین۔
جزاکم اللہ خیراً۔

طالبِ دعا،
غلام مصطفیٰ
سابق ہیڈ ماسٹر
گورنمنٹ پرائمری سکول کچا چشتیان

31/07/2026

کل سکول ہینڈ اوور کر دیا تھا۔ ایک طویل سفر اپنے اختتام کو پہنچا۔

اللہ تعالیٰ میرے اس پیارے سکول کی حفاظت فرمائے اور آنے والے PEF لائسنس ہولڈرز کو توفیق دے کہ وہ اسے دیانت، محنت اور خلوص سے پہلے سے بھی بہتر انداز میں چلائیں۔ آمین۔

دل میں صرف ایک ہی افسوس رہے گا کہ اگر اہلِ علاقہ اپنے اس تعلیمی ادارے کو بچانے کے لیے متحد ہو کر بھرپور کوشش کرتے، تو شاید آج یہ سکول پرائیویٹ نہ ہوتا۔

بہرحال، میری دعائیں ہمیشہ اس سکول، اس کے اساتذہ اور اس کے بچوں کے ساتھ رہیں گی۔ اللہ اسے ہمیشہ آباد رکھے۔ آمین۔
آپ کے سکول کا ثابقہ ہیڈ ماسٹر
غلام مصطفی

30/07/2026

الوداع، میرے پیارے سکول! 💔

آج میں بہت دکھی دل کے ساتھ یہ الفاظ لکھ رہا ہوں۔ میں اپنے اس سکول کو الوداع کہہ رہا ہوں جس کے ساتھ میری زندگی کی بے شمار یادیں وابستہ ہیں۔

میں ان دیواروں کو الوداع کہہ رہا ہوں جنہیں میں نے ہمیشہ اپنا گھر سمجھا۔ میں ان کمروں کو الوداع کہہ رہا ہوں جنہیں خوبصورت بنانے کے لیے نہ صرف اپنی محنت بلکہ کئی بار اپنی جیب سے بھی خرچ کیا۔ میں اس باغیچے کو الوداع کہہ رہا ہوں جس کے پودے میں نے اپنے ہاتھوں سے لگائے، انہیں پروان چڑھتے دیکھا، اور ہر پھول میں اپنی خوشیاں تلاش کیں۔

یکم اگست 2017 کو میری پہلی تقرری اسی سکول میں ہوئی تھی۔ یہ صرف میری ملازمت کی جگہ نہیں تھی بلکہ میری شناخت، میری محنت اور میری زندگی کا ایک خوبصورت باب تھی۔ آج کئی برس بعد اس سے بچھڑنا میرے لیے کسی اپنے سے جدا ہونے سے کم نہیں۔

ہم نے انتہائی محدود وسائل میں بھی ہمت نہیں ہاری۔ جب حکومت نے ضرورت کے مطابق اساتذہ فراہم نہیں کیے تو ہم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اپنی ذاتی حیثیت میں پرائیویٹ اساتذہ رکھے، تاکہ بچوں کی تعلیم کا سلسلہ نہ رکے۔ ہم نے ہر ممکن کوشش کی کہ یہ ادارہ چلتا رہے، آباد رہے اور بچوں کے مستقبل کو روشن کرتا رہے۔

مجھے سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ میں نے اہلِ علاقہ سے بارہا گزارش کی کہ اپنے سکول کو بچانے کے لیے آگے آئیں، چند افراد مل کر اپنے منتخب نمائندوں، خصوصاً ایم پی اے تیمور علی خان سے ملیں اور اس سکول کو آؤٹ سورس ہونے سے بچانے کی درخواست کریں۔ مگر افسوس، کوئی نہ گیا۔ کاش اہلِ علاقہ اس مقصد کے لیے متحد ہو جاتے، شاید آج یہ سکول بھی محفوظ رہتا۔

آج مجھے یہ خدشہ نہیں بلکہ یقین سا ہونے لگا ہے کہ اگر ہم نے اپنے تعلیمی اداروں کے لیے آواز نہ اٹھائی تو ہمارے علاقے کا دوسرا، خصوصاً بچیوں کا سکول بھی آؤٹ سورس ہو سکتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل شاید پھر بھی کوئی نہ اٹھے۔

یہ شکوہ کسی فرد سے نہیں، بلکہ ہم سب سے ہے۔ اگر ہم اپنے سکولوں، اپنے بچوں کے مستقبل اور اپنے سرکاری تعلیمی اداروں کی حفاظت کے لیے متحد نہ ہوں تو ایسے ادارے ایک ایک کرکے ہم سے دور ہوتے جائیں گے۔

آخر میں میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہلِ علاقہ کو اپنے تعلیمی اداروں کی قدر کرنے، ان کے تحفظ کے لیے متحد ہونے اور انہیں مزید نجکاری سے بچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

اللہ حافظ، میرے پیارے سکول!
تمہاری دیواریں، تمہارے کمرے، تمہارا باغیچہ، تمہارے بچے اور تم سے وابستہ ہر یاد ہمیشہ میرے دل میں زندہ رہے گی۔

30/07/2026

اہلِ علاقہ کے نام ایک درد بھری اپیل

السلام علیکم!

آج ہمارے سکول کا ہینڈ اوور ہونے جا رہا ہے۔ میری اہلِ علاقہ سے ایک مؤدبانہ گزارش ہے کہ اگر ممکن ہو تو آج ضرور سکول تشریف لائیں اور اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ یہ سکول کس حالت میں حوالے کیا جا رہا ہے۔

جب میں یکم اگست 2017ء کو اس سکول میں آیا تھا تو اس کی حالت آج جیسی نہیں تھی۔ نہ خوبصورت لان تھا، نہ باغیچہ، نہ مناسب ماحول، اور نہ ہی وہ سہولیات جو آج نظر آتی ہیں۔ اللہ کے فضل، اپنے ساتھی اساتذہ کی محنت اور اپنی ذاتی کوششوں سے ہم نے اس ادارے کو سنوارا۔ ایک ایک چیز محنت سے بنائی، وسائل بچا بچا کر سکول کی ضروریات پوری کیں، برآمدے کو کمرے میں تبدیل کیا، پودے لگائے، ماحول کو خوبصورت بنایا اور اس ادارے کو ایک بہتر تعلیمی مرکز بنانے کی کوشش کی۔

آج جب یہ سکول آؤٹ سورس ہو کر ہمارے ہاتھوں سے جا رہا ہے تو دل بہت غمگین ہے۔ میری خواہش ہے کہ آپ آئیں، اس سکول کو دیکھیں، اس کی ترقی کو دیکھیں، اور یہ بھی دیکھیں کہ ایک سرکاری ادارہ کتنی محنت سے یہاں تک پہنچا تھا۔

اللہ تعالیٰ ہمارے تمام تعلیمی اداروں کی حفاظت فرمائے، اہلِ علاقہ کو ان کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں اپنے سکولوں کو محفوظ رکھنے کے لیے متحد ہونے کی ہمت دے۔

آپ کی آمد ہمارے لیے باعثِ حوصلہ ہوگی۔

کچہ چشتیاں والوں ۔۔۔ آ پ لوگ بھی اپنا سکول بچانے کے لیے تیمور علی خان کے پاس جا سکتے ہو۔اگلا نمبر آپ کے گرلز سکول کا یے۔
02/07/2026

کچہ چشتیاں والوں ۔۔۔ آ پ لوگ بھی اپنا سکول بچانے کے لیے تیمور علی خان کے پاس جا سکتے ہو۔
اگلا نمبر آپ کے گرلز سکول کا یے۔

اپنے گاؤں، اپنے بچوں اور اپنے مستقبل کے لیے آواز اٹھائیںاہلی کمبوہ کے لوگوں نے ثابت کر دیا کہ جب ایک قوم اپنے سرکاری سکو...
02/07/2026

اپنے گاؤں، اپنے بچوں اور اپنے مستقبل کے لیے آواز اٹھائیں
اہلی کمبوہ کے لوگوں نے ثابت کر دیا کہ جب ایک قوم اپنے سرکاری سکول کے لیے متحد ہو جائے تو کامیابی ممکن ہو جاتی ہے۔ انہوں نے اپنے بچوں کے مستقبل کو ترجیح دی، کوشش کی، آواز بلند کی اور آخرکار اپنے سکول کو آؤٹ سورسنگ سے بچانے میں کامیاب ہوئے۔
اب باری ہے کچا چشتیاں والوں کی۔
اگر آج ہم خاموش رہے تو کل شاید پچھتانے کے سوا کچھ نہ بچے۔ یہ سکول صرف ایک عمارت نہیں، بلکہ ہمارے بچوں کے روشن مستقبل، ہماری آنے والی نسلوں اور ہمارے گاؤں کی پہچان ہے۔
آئیں! ذاتی اختلافات بھلا کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ اپنے منتخب نمائندوں، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ تعلیم تک اپنی آواز پہنچائیں۔ پرامن اور قانونی طریقے سے اپنے سکول کے تحفظ کے لیے بھرپور کوشش کریں۔
یاد رکھیں، "جو قوم اپنے تعلیمی اداروں کی حفاظت کرتی ہے، وہی اپنے مستقبل کی حفاظت کرتی ہے۔"
آئیں! کچا چشتیاں کے سرکاری سکول کو بچانے کے لیے آج ہی متحد ہوں۔ کل بہت دیر ہو سکتی ہے۔

کچا چشتیاں کے غیرت مند باشندو!ذرا سوچیں! آپ کے بزرگوں نے اپنی قیمتی زمین اللہ کی رضا اور اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے دی تھ...
02/07/2026

کچا چشتیاں کے غیرت مند باشندو!
ذرا سوچیں! آپ کے بزرگوں نے اپنی قیمتی زمین اللہ کی رضا اور اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے دی تھی تاکہ اس پر ایک سرکاری سکول بنے، جہاں ہر غریب اور امیر کا بچہ بلا تفریق تعلیم حاصل کر سکے۔
اگر آج وہی سکول نجکاری یا آؤٹ سورسنگ کی طرف چلا جاتا ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے اپنی زمین کس مقصد کے لیے دی تھی؟
آج بھی وقت ہے۔ اگر آپ متحد ہو جائیں تو اپنی آواز متعلقہ حکام تک پہنچا سکتے ہیں۔ اپنے منتخب نمائندے تیمور علی خان سے ملاقات کریں، انہیں اپنے تحفظات سے آگاہ کریں۔ آپ نے انہیں ووٹ دیے ہیں، اس لیے اپنے علاقے کے تعلیمی مستقبل کے لیے ان سے بات کرنا آپ کا جمہوری حق ہے۔
خاموش رہنے سے مسائل حل نہیں ہوتے، بلکہ اتحاد، شعور اور پرامن کوشش سے تبدیلی آتی ہے۔ اہلی کمبوہ کے لوگوں نے مل کر کوشش کی، اپنی آواز بلند کی اور کامیابی حاصل کی۔
آئیں! کچا چشتیاں بھی ایک باشعور، متحد اور ذمہ دار قوم ہونے کا ثبوت دے۔
یہ صرف ایک سکول نہیں، بلکہ ہماری زمین، ہماری امانت اور ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کا معاملہ ہے۔ آج آواز اٹھائیں، تاکہ کل پچھتانا نہ پڑے

09/04/2026
Very Old studentsاپنی تصویر تلاش کریں
05/04/2026

Very Old students
اپنی تصویر تلاش کریں

بولتے کیوں نہیں میرے حق میں؟؟ آبلے پڑ گئے ہیں زبان میں کیا؟؟کہا جا رہا ہے کہ اسکول پرائیویٹ ہو جائیں تو تعلیم سنور جائے ...
27/02/2026

بولتے کیوں نہیں میرے حق میں؟؟
آبلے پڑ گئے ہیں زبان میں کیا؟؟

کہا جا رہا ہے کہ اسکول پرائیویٹ ہو جائیں تو تعلیم سنور جائے گی۔
گویا علم بھی کوئی موبائل پیکج ہے— کمپنی بدلیں اور نیٹ تیز ہو جائے۔
سوال سادہ ہے:
کیا نظام واقعی نام بدلنے سے ٹھیک ہو جاتے ہیں؟
یا نیت اور ترجیح بدلنے سے؟

کبھی اساتذہ کے لباس پر بحث، کبھی گاؤن کے رنگ پر گرما گرمی، کبھی حکم کہ پرنسپل صفائی خود چیک کرے ورنہ کارروائی
۔ یوں لگتا ہے جیسے قوم کا سب سے بڑا مسئلہ بچوں کی کتاب نہیں، دیواروں کا رنگ ہے۔
ہم نے تعلیم کو مسئلہ کم اور انتظامی سرکس زیادہ بنا دیا ہے۔
میں ایک استاد ہوں۔
میں نے وہ بچے دیکھے ہیں جو نئی کاپی ہاتھ میں لے کر ایسے خوش ہوتے ہیں جیسے دنیا جیت لی ہو۔
اور وہ بھی دیکھے ہیں جو فیس کا ذکر سن کر نظریں جھکا لیتے ہیں۔
یہ نظریں بہت کچھ سکھا دیتی

ہیں—
نصاب سے زیادہ۔
کہا جاتا ہے نجی شعبہ آئے گا تو معیار بلند ہوگا۔
ضرور ہو سکتا ہے۔
لیکن ایک سوال پھر بھی کھڑا رہتا ہے:
_اگر تعلیم منافع بن گئی تو کیا ہر بچہ اس منافع میں شریک ہوگا؟
یا کچھ بچوں کے خواب “آؤٹ آف اسٹاک” ہو جائیں گے؟

سرکاری نظام میں خامیاں ہیں، اس سے انکار نہیں۔
مگر علاج یہ نہیں کہ اسکول کو دکان بنا دیا جائے۔
تعلیم اگر صرف کاروبار بن گئی تو سبق کم اور رسیدیں زیادہ یاد رہیں گی۔

ہم بڑی سنجیدگی سے چھوٹی باتوں میں الجھ جاتے ہیں،
*اور بڑی باتوں کو “بعد میں دیکھیں گے” کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔
حالانکہ اصل سوال ہمیشہ وہی رہتا ہے:
کیا گاؤں کا وہ بچہ جس کے والد مزدور ہیں، کل بھی اسی دروازے سے داخل ہو سکے گا؟

اسکول صرف عمارت نہیں ہوتے۔
وہ امید کی فیکٹریاں ہوتے ہیں

مگر یہاں امید پیدا ہوتی ہے، منافع نہیں۔
اگر ہم نے امید کا دروازہ تنگ کر دیا تو شاید عمارتیں تو رہ جائیں،
لیکن ان میں گونجتی آوازیں کم ہو جائیں گی۔
بات طنز کی نہیں، سوچ کی ہے۔
کیونکہ قومیں تب کمزور نہیں ہوتیں جب ان کے پاس پیسہ کم ہو،
وہ تب کمزور ہوتی ہیں جب وہ تعلیم کو خرچ سمجھنے لگتی ہیں۔

لفظ میرے ہتھیار نہیں
میرا ضمیرہیں

Address

Sargodha

Opening Hours

Monday 08:00 - 17:00
Tuesday 08:00 - 17:00
Wednesday 08:00 - 17:00
Thursday 08:00 - 17:00
Friday 08:00 - 17:00
Saturday 08:00 - 17:00

Telephone

+923005377752

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Government Boys Elementary school Kacha chishtian posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category