02/04/2026
عنوان:
“آزادی یا بے احتیاطی؟ طلبہ کی تربیت کا سوال”
کالم:
یہ منظر بظاہر خوشی اور بے فکری کا لگتا ہے، جہاں طلبہ چھٹیوں کے دوران ایک دوسرے پر رنگ لگا کر لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ مگر جب یہی خوشی اسکول کے یونیفارم اور نظم و ضبط کی حدود کو توڑنے لگے تو یہ ایک سنجیدہ تربیتی مسئلہ بن جاتا ہے۔
یونیفارم صرف کپڑے نہیں ہوتے، بلکہ یہ نظم، برابری اور ادارے کے وقار کی علامت ہوتے ہیں۔ جب بچے جان بوجھ کر انہیں گندا کرتے ہیں تو دراصل وہ اس نظم و ضبط کو نظر انداز کر رہے ہوتے ہیں جسے اسکول میں سکھایا جاتا ہے۔ اس رویے کو صرف شرارت سمجھ کر نظر انداز کرنا مسئلے کو بڑھا سکتا ہے۔
تربیت کا تقاضا یہ ہے کہ بچوں کو صحیح اور غلط کا فرق نرمی مگر واضح انداز میں سمجھایا جائے۔ اساتذہ اور والدین دونوں کو چاہیے کہ وہ بچوں کو بتائیں کہ خوشی منانا بری بات نہیں، لیکن اس کا ایک مہذب طریقہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر رنگ کھیلنا ہو تو اس کے لیے الگ کپڑے استعمال کیے جائیں، نہ کہ اسکول یونیفارم۔
اس کے ساتھ ساتھ، اسکول میں اخلاقی تربیت کو عملی شکل دینا ضروری ہے۔ صرف نصیحت کافی نہیں ہوتی، بلکہ بچوں کو ذمہ داری کا احساس دلانے کے لیے چھوٹے چھوٹے اصول بنائے جائیں اور ان پر عمل کروایا جائے۔ اگر کوئی طالب علم خلاف ورزی کرے تو اسے مناسب انداز میں سمجھایا جائے تاکہ وہ اپنی غلطی کو خود محسوس کرے۔
آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بچے فطری طور پر خوشی اور شرارت کی طرف مائل ہوتے ہیں، لیکن صحیح رہنمائی نہ ملے تو یہی عادتیں بے احتیاطی اور بد نظمی میں بدل جاتی ہیں۔ اصل کامیابی یہی ہے کہ ہم ان کی خوشیوں کو برقرار رکھتے ہوئے انہیں نظم و ضبط اور ذمہ داری کا شعور بھی دیں۔
01/04/2026
عنوان: تعلیمی معیار میں کمی—ذمہ داری کس کی؟
حال ہی میں سکول میں آنے والے چند والدین نے ایک اہم مسئلہ اٹھایا کہ طلبہ کی پڑھائی کی طرف توجہ کم ہو رہی ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ امتحانی نظام میں پائی جانے والی خامیاں ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ اساتذہ جو نصاب پڑھاتے ہیں، امتحانات میں اس کے برعکس سوالات آ جاتے ہیں، یعنی پیپرز آؤٹ آف سلیبس ہوتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں طلبہ نہ صرف الجھن کا شکار ہوتے ہیں بلکہ ان کا اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔
مزید برآں، یہ شکایت بھی سامنے آئی کہ امتحانی پرچوں کی رازداری برقرار نہیں رہتی۔ بعض اوقات پیپرز امتحان سے ایک دن پہلے ہی انٹرنیٹ یا یوٹیوب پر دستیاب ہو جاتے ہیں۔ اس غیر ذمہ دارانہ عمل کی وجہ سے طلبہ میں محنت اور تیاری کا رجحان کمزور پڑ رہا ہے۔ ان کے ذہن میں یہ تصور بیٹھ چکا ہے کہ وہ پیپر آن لائن حاصل کر کے آسانی سے حل کر لیں گے، جس سے ان کی علمی بنیاد کمزور ہو رہی ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف طلبہ کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ تعلیمی اداروں کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ اگر اساتذہ نصاب کے مطابق مکمل اور معیاری تدریس فراہم کریں اور امتحانی نظام کو شفاف اور محفوظ بنایا جائے تو اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ بچوں کی نگرانی کریں اور انہیں محنت اور ایمانداری کی اہمیت سے آگاہ کریں۔
آخر میں، یہ کہنا بجا ہوگا کہ تعلیم صرف امتحان پاس کرنے کا نام نہیں بلکہ کردار سازی اور حقیقی علم کے حصول کا ذریعہ ہے۔ اگر ہم سب اپنی اپنی ذمہ داریوں کو ایمانداری سے ادا کریں تو تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
30/10/2025
Smog awareness GHS 132 SB
01/03/2025
Moin ud deen SSE IT GHS 168/171 NB ba qaza elahi wafat pa gay han.due to lungs failure problem..
Inna lillahe wa inna elaihe Rajion.😰
Requst to hon. Minister sb please Jo teacher 10 Saal se contract pe Hain un ki family ko kia compensation Mily ga
😔😔😔
DTE Punjab DSD