22/05/2023
apni islah frma lain r yad kr lian plz
Basic Qaida
Nazra Quran With Tajweed
Hafz-E-Quran With Tajweed
Basic Islamic Knowledge
Masnoon Duain
22/05/2023
apni islah frma lain r yad kr lian plz
01/05/2023
بارش کے پانی سے سیراب ہونے والی زمین کا دسواں حصہ اور ٹیوب ویل کے ذریعے سیراب ہونے والی زمین کا بیسواں حصہ عشر دینا واجب ہے.
دسواں حصہ 100 من سے 10 من بیسواں حصہ 100من سے 5 من گندم بطور عُشر ادا کریں.
اللہ کریم ہم سب کو آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا کرے.
آمین بجاہ النبی الآمین
01/05/2023
Watsapp+https://wa.me/+923006043127
Assalam-o-Alikum.Thanks Admin For approved
I am Hafiz Safdar Iqbal from Pakistan. I am Hafiz-e-Quran.
I am an online teacher. I can teach Qur'an recitation with Tajweed , its translation and Tafseer I can help in doing HIFZ-E-Quran as well. Hafizas can done revision with me.
Experience: Almost 14 years.
Timings: Timings will be of your choice.
Medium of instruction: English and Urdu.
Days: 5 days a week (from Monday to Friday).
3 Days Free Trial Class for Your Satisfaction.
I am based in Pakistan and teach through
Skype, WhatsApp, IMO, and BOTIM,Zoom.
Jazaka Allah o kher
01/05/2023
*ونگار*
اک رسم تھی کہ پیار کا بہانہ تھا۔
وِنگار جسے پنجاب میں "ونگار " پختون علاقوں میں "بلاندرہ" اور"اشر" کےنام سے بھی جانا جاتا ھے۔ ونگار کالفظی مطلب
جو میں سمجھا ھوں کہ بلا معاوضہ اجتماعی کام ( مفتا)
جب جدید زرعی آ لات نہیں تھے ۔ کھیتی باڑی کے کام مینوئلی ھوتے تھے۔ھمارےعلاقہ میں اونٹوں کے ذریعے ھل چلائےجاتے (نالی پھیرنا) کھیت کو ھموار کرنا۔ تال وغیرہ۔ گندم اور چنےکی بوائی، کٹائی اور گہائی کا مرحلہ ھوتا، پڑ پکائے جاتے۔ کباڑ ،جڑی بوٹیاں (بھوکل) وغیرہ تلف کی جاتیں۔ یہ سارے کام چونکہ مشقت طلب تھے اور زیادہ افرادی قوت کی ضرورت ھوتی تو سب کاشتکار مل کر باری باری ایک دوسرےکے کام کرتے تھے ۔
اس کے علاوہ جب کچے مکانات کی چھتوں کی مرمت کی جاتی مٹی اور گارا چڑھایا جاتا یا نئی چھت ڈالنے کا بھاری کام ھوتاتواس موقعےپر بھی وِنگار برپا کیا جاتا تھا ۔
یہ سارے کام سب لوگ خوشی، جوش و ولولے سے انجام دیتے تھے ۔ ایسے موقعوں پر کبھی کبھی ڈھول اور شہنائی والے کو بھی بلایا جاتا تھا۔ اور کام کے دوران منچلوں کا رقص وغیرہ بھی ھوتا تھا اور ڈھول کی تھاپ پر درانتی بھی چلائی جاتی تھی۔
نوجوان، (کچھ بزرگ بھی) کام کرتے ھوئے مذاق میں ایک دوسرے پرفقرے کستے اور ھنسی مذاق کے ساتھ بخوشی سارا کام ھو جاتا تھا ۔
اب بھی کہیں کہیں یہ رواج موجود ھے لیکن کم کم۔ کیونکہ جدید زرعی آلات اور زمانے کی ترقی نے ان سارے کاموں کو آسان بنا دیا ھے۔
ایک وقت تھا کہ جیسے ہی مرغ نے اذان دے کر طلوع سحرکا اعلان کیا۔ اور مساجد سے اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوئیں تو گھروں میں بندھے اونٹوں کے گلوں میں لٹکتی گھنٹیاں بجنے لگتیں۔
ہر گھر سے جفاکش، محنتی کاشتکار اپنے اونٹ لے کر گاؤں، محلہ کے چوک میں جمع ہوتے، پھر ایک سیدھی لائن میں کھیتوں کی جانب رواں دواں، ایک کاشتکار کے کھیت میں پہنچ کر سب ہل جوت لیتے۔ یہ سلسلہ ’’ونگار‘‘ کہلاتا تھا۔۔۔
ھمارے محلہ مہاجرین کے مشہور اوٹھی فضل دین ممبر ۔ چاچا بشیر مرحوم اور چاچا خانو وغیرہ تھے۔ اگر مقامی لوگوں کے اشتراک سے ونگار ھوتی تو چاچا افضل پہوڑ ( مشہور اوٹھی) سے مدد لی جاتی تھی۔ ھم بچپن میں ان کی ٹھیٹ سادہ سرائیکی تھلوچی زبان سے خوب محظوظ ھوتے
ونگار کے یہ مناظر ہمیں آج سے دو تین دہائی قبل تھل کےسب دیہاتوں میں عام طور پر نظر آتے تھے۔ جہاں کبھی کام اور دکھ درد سانجھے ہوتے تھے۔
کھیتوں کی تیاری، گندم اورچنےکی کٹائی، گہائی، شادی بیاہ کی تقریبات، علاقہ کے فلاحی کام جیسےکنوے کی صفائی وغیرہ سب مل جل کر ونگار جیسی رسموں سے نمٹائے جاتے تھے۔
جس شخص نے ونگار لینا ہوتی وہ شام کو ہی اطلاع کر دیتا کہ صبح اس کا کونسا کام ہے۔ کوئی فرد انکار نہیں کرتا تھا اور سب لوگ خوشی خوشی صبح اجتماعی طور پر کام کے لیے چلے جاتے تھے جس سے دنوں کاکام لمحوں میں ہوجاتا تھا اور اتفاق، اتحاد اور محبت بھی قائم رہتی۔
ونگار والے دن ونگاریوں کا ناشتہ، لنچ ونگار لینے والے کے ذمہ ہوتا۔
خواتین عموماً ونگار میں کام تو نہیں کرتی تھیں لیکن ونگار میں شامل لوگوں کے لیے خالص دیسی مزیدار کھانے پکاتی تھیں۔ ھم بچوں کے ذمہ کھانا کھیت میں پہنچانا ھوتا تھا۔ پانی گروٹ کے ٹھنڈے مٹی والے گھڑوں میں اونٹوں کے کچاوے میں رکھ کر علی الصبح ھی روانہ کر دیا جاتا اور یہ ھم بچوں کی ڈیوٹی ھوتی کہ چھوٹی جھاڑیوں کے سائے میں رکھے گھڑوں کو پانی گرائے بنا کیسے سائے کی طرف سرکاتے رھنا ھے۔ اتنا ٹھنڈا اور مذیدار پانی کہ برف اور واٹر فلٹر کی کوئی بھی ضرورت نہیں تھی۔
ھمارے فرائض منصبی میں ایندھن اکٹھا کر کے حقہ بھرنا بھی شامل تھا۔
کھانا ہمیشہ روائتی اور دیسی ہوتا تھا جس میں تندوری گداز روٹی، چاٹی کی لسی، مکھن کے ساتھ گڑ یا شکر لازمی شامل ہوتے۔ مہاجروں کی ونگار میں چٹنی اضافی آ ئٹم تھا۔ دوپہر کو اکثر لوگ مسی روٹیاں ( چنے کی روٹی) پکاتے اس روٹی کے آٹے میں پیاز آلو اور دیگر لوازمات شامل کیے جاتےجس سےونگار والے کام کے ساتھ ساتھ لذیذ مزیدار کھانے سے بھی لطف اندوز ہوتے تھے۔
یہ وہ دور تھا جب دلوں میں خلوص، لہجوں میں اپنائیت، اور رشتوں میں محبت باقی تھی۔ جب بڑوں میں شفقت اور چھوٹوں میں ادب کی خوبصورت عادت تھی۔
جدید گلوبلائزیشن کی اہمیت و افادیت اپنی جگہ لیکن ان کے فوائد سے بھی انکار ممکن نہیں لیکن ہم اپنائیت سے دور ہوتے جارہے ہیں۔
ایک مقامی شاعر " درد"
نے کیا خوب کہا ھے۔۔
"جڈاں تنگ حالات دی جنگ چھڑ پئی"
"تینوں "درد" ونگار نہ لبھسی"
27/03/2023
صدقۂ_فطر اور فدیہ کی کم از کم مقدار 320روپے فی کس ہے، ٰن
اہلِ ثروت اپنی حیثیت کے مطابق فطرہ وفدیہ ادا کریں, نصاب درج ذیل شرح کے مطابق ہوں گے:
یہ #فطرہ، فدیہ اور #کفارات کی کم از کم مقدار ہے، ہم نے تمام اجناس کا حوالہ اس لیے دیا ہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے وافرنعمتِ دولت سے نوازا ہے ، وہ اپنی حیثیت کے مطابق فطرہ ادا کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: اورجو کوئی خوش دلی سے زیادہ دے ،تو یہ اُس کے لیے بہتر ہے(البقرہ:184)‘‘
24/03/2023
امام مسجد کے کام اور دیگر لوگوں کے کام میں فرق😢
امام مسجد نے اپنےگھر بجلی کا کوئی سامان خراب ہوا تو الیکٹریشن کو بلوا کر وہ مسئلہ حل کروایا الیکٹریشن نے دس منٹ میں کام کر کے 500 روپے لیے امام مسجد نے پیسے بھی دیے اور شکریہ بھی ادا کیا۔
اسی الیکٹریشن نے گھر میں قرآن پاک پڑھوایا امام مسجد نے تین گھنٹے اس کے گھر پڑھا لیکن کوئی پیسے نہ دیے اور یہ کہہ کر روانہ کیا کہ(اللہ پاک آپ کو جزاۓ خیر دے)
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ دس منٹ کے حساب 500 الکٹریشن لے تو امام مسجد کو بھی3گھنٹے کے حساب 9000 دیے جائیں لیکن نہیں کیونکہ پیسے امام لے ہی نہیں سکتا وہ لے گا تو دین بیچنے والا
امام مسجد ذاتی کوئی بھی کام کروا لے پلمبر،بڑھئ،الیکٹریشن، مستری،مزدور، درزی،حجام ہر دنیادار امام سے پیسے لے لیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔جبکہ امام سب کے گھر میں جا کر دعا بھی کریں ختم بھی پڑھے دن ہو رات ہو جنازہ بھی پڑھاۓ 24 گھنٹے موجود رہے اذان امامت مسجد میں بچوں کو بھی پڑھاۓ۔ سب کی باتیں بھی سنے اور پھر بھی دین بیچنے والا دین کا غدار ۔
خدارا
مساجد بنانے سے زیادہ ان کی آبادکاری پر توجہ دیں مسجد میں اے سی نہ بھی ہوا تو نماز ہو جاۓ گی لیکن اگراچھا صحیح العقیدہ امام نہ ہوا نماز کون پڑھاۓ گا۔
لہذا جہاں لوگوں کو دکھانے کے لیے لاکھوں لگا کر ختم میں روٹی کھلاتے ہو جس کی ضرورت بھی نہیں فرض واجب بھی نہیں وہاں امام کو بھی چند ہزار دے دو صرف چند رٹے ہوۓ فرضی جملوں سے ٹرکانہ چھوڑو۔
یاد رہے اس سے مراد وہی لوگ ہیں جو امام مسجد کو پیسے لینے پر دین بیچنے والا کہتے ہیں۔
ورنہ ہمارے معاشرے کچھ اچھے لوگ بھی ہیں جو اپنے آئمہ کا حد درجہ احترام اور ادب کرتے ہیں ان کی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں۔اللہ کریم ایسے لوگوں کو سلامت رکھے اور غلط خیالات والوں کو راہ ہدایت عطا کرے آمین
پچھلے کچھ دنوں سے ایسی پوسٹیں دیکھنے میں آئی ہیں کہ امام یہ کام کر لے وہ کام کر لے کاروبار کرے تجارت کرے وغیرہ وغیرہ لیکن جو کام اس نے ساری زندگی لگا کا سیکھا اس کو آگے نہ سکھاۓ کیوں کہ وہ سکھاۓ گا تو پیسہ لے گا۔ اور پیسے دے کر تو ہم دین نہیں سیکھ سکتے۔
دین تو ہم سستے میں لینا چاہتے ہیں۔
کہنے کو تو بہت کچھ ہے لیکن اتنا ہی کہوں گا دوغلا معیار چھوڑو اور انصاف کے ساتھ آئمہ کرام کو ان کا حق دو۔
03/03/2023
عورت کے مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات:
غسل کے دوران مدینہ کی ایک عورت نے مردہ عورت کی ران پر ہاتھ رکھتے ہوئے یہ الفاظ کہے کہ اس عورت کے فلاں مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے.
بس یہ بات کہنا تھا کہ اللہ تعالی نے اپنی ڈھیل دی ہوئی رسی کھینچ دی.
اس عورت کا انتقال مدینہ کی ایک بستی میں ہوا تھا اور غسل کے دوران جوں ہی غسل دینے والی عورت نے مندرجہ بالا الفاظ کہے تو اس کا ہاتھ میت کی ران کے ساتھ چپک گیا۔ چپکنے کی قوت اس قدر تھی کہ وہ عورت اپنا ہاتھ کھینچتی تو میت گھسیٹتی تھی مگر ہاتھ نہ چھوٹتا تھا۔
جنازے کا وقت قریب آ رہا تھا اس کا ہاتھ میت کے ساتھ چپک چکا تھا اور بے حد کوشش کے باوجود جدا نہیں ہو رہا تھا، تمام عورتوں نے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر کھینچا، مروڑا، غرض جو ممکن تھا کیا مگر سب بے سود رہا!
دن گزرا ، رات ہوئی، دوسرا دن گزرا، پھر رات ہوئی سب ویسا ہی تھا، میت سے بدبو آنے لگی اور اس کے پاس ٹھہرنا ،بیٹھنا مشکل ہو گیا!
مولوی صاحبان، قاری صاحبان اور تمام اسلامی طبقے سے مشاورت کے بعد طے ہوا کہ غسال عورت کا ہاتھ کاٹ کر جدا کیا جائےاور میت کو اس کے ہاتھ سمیت دفنا دیا جائے۔ مگر اس فیصلے کو غسال عورت اور اس کے خاندان نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ ہم اپنے خاندان کی عورت کو معذور نہیں کر سکتے لہذا ہمیں یہ فیصلہ قبول نہیں!
دوسری صورت یہ بتائی گئی کہ میت کے جسم کا وہ حصہ کاٹ دیا جائے اور ہاتھ کو آزاد کر کے میت دفنا دی جائے، مگر بے سود. اس بار میت کے خاندان نے اعتراض اٹھایا کہ ہم اپنی میت کی یہ توہین کرنے سے بہر حال قاصر ہیں.
اس دور میں امام مالک قاضی تھے. بات امام مالک تک پہنچائی گئی کہ اس کیس کا فیصلہ کیا جائے! امام مالک اس گھر پہنچے اور صورت حال بھانپ کر غسال عورت سے سوال کیا “اے عورت! کیا تم نے غسل کے دوران اس میت کے بارے میں کوئی بات کہی؟”
غسال عورت نے سارا قصہ امام مالک کو سنایا اور بتایا کہ اس نے غسل کے دوران باقی عورتوں کو کہا کہ اس عورت کے فلاں مرد کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے.
امام مالک نے سوال کیا “کیا تمھارے پاس اس الزام کو ثابت کرنے کےلیے گواہ موجود ہیں” عورت نے جواب دیا کہ اس کے پاس گواہ موجود نہیں. امام مالک نے پھر پوچھا “کیا اس عورت نے اپنی زندگی میں تم سے اس بات کا تذکرہ کیا؟” جواب آیا “نہیں"
امام مالک نے فوری حکم صادر کیا کہ اس غسال عورت نے چونکہ میت پر تہمت لگائی ہے لہذا اس کو حد مقررہ کے مطابق 80 کوڑے لگائے جائیں!
حکم کی تعمیل کی گئی اور 70 بھی نہیں 75 بھی نہیں 79 بھی نہیں پورے 80 کوڑے مارنے کے بعد اس عورت کا ہاتھ میت سے الگ ہوا.
آج ہم تہمت لگاتے وقت ذرا بھی نہیں سوچتے. استغفراللہ
حوالہ:
بکھرے موتی،جلد اول
03/03/2023
Shab e barat ki Fzilat o Ehmiyyat r Nawafil
01/03/2023
مناسب لفظوں کا اِنتِخاب"
’’کھالو‘‘ کی جگہ ’’کھالیجئے‘‘، ’’میرا فیصلہ یہ ہے‘‘ کی جگہ ’’میری رائے یہ ہے‘‘، ’’میں یہ کہہ رہا تھا‘‘ کی جگہ ’’میں یہ عرض کررہا تھا‘‘، ”مجھے تم سے کام ہے“ کی جگہ ”مجھے آپ سے کچھ کام ہے“ یا” آپ کو تھوڑی زَحمت دینی ہے“، ’’اندھے‘‘ کی جگہ” نابینا“، ’’بوڑھے‘‘ کی جگہ ’’بُزُرگ‘‘ ، ’’فلاں مرگیا‘‘ کی جگہ ’’فلاں کا اِنتِقال ہوگیا‘‘، ’’کیوں آئے ہو؟‘‘ کی جگہ’’ کیسے تشریف لائے؟‘‘ ، ’’مصیبت میں پڑگیا“ کی جگہ ’’آزمائش میں آگیا‘‘، ’’آپ غلط کہہ رہے ہیں ‘‘ کی جگہ ’’میری ناقص رائے یہ ہے کہ یہ بات اس طرح ہے ‘‘، ’’آپ میری بات نہیں سمجھے ‘‘ کی جگہ ’’شاید میں اپنی بات سمجھا نہیں پایا‘‘ وغیرہ استعمال کیجئے اور اس کے فوائد اپنی آنکھوں سے دیکھئے
23/02/2023
yeh tamam duain khud bhi yaad krn r apny bachoon ko bi yaad krwain