26/12/2024
First time meeting of IEC with Sargodha Chamber of Small Traders and Small Industry
Zia u Rehman is an Educationist with expertise in ECCE. His aim is to simplify the complexity of Education in this Era.
He is also expert and trained in Parenting with the aim "To Educate Parents".
26/12/2024
First time meeting of IEC with Sargodha Chamber of Small Traders and Small Industry
وہ چینی جس میں مٹھاس نہ ہو، وہ برف جو ٹھنڈی نہ ہو، وہ آم جو میٹھا نہ ہو، ہمیں قبول نہیں اسی طرح
اللہ کو ایسا بندہ بھی قبول نہیں جس میں بندگی ہی نہ ہو
اللہ ہمیں اپنے نیک بندوں میں شمار فرمائے۔آمین
الحمد للّہ
میری زندگی میں چھوٹی چھوٹی خوشیاں اس قدر ہیں کہ زندگی کے بڑے بڑے غم ان کے سامنے کوئی اہمیت نہیں رکھتے
#نوریات
دنیا کا سب کچھ کسی ایک بھی پاس نہیں، لیکن ہر کسی کے پاس کچھ ایسا ضرور ہے جو دوسروں کے پاس نہیں ہے یہی فطرت کا حسن اور امتزاج ہے۔
01/10/2024
اسکول میں ہر ماہ کی یکم تاریخ کو گزشتہ ماہ میں مکمل حاضری والے طلبا اور سٹاف کو Top Attendance Certificate دیا جاتا ہے۔
اس کا مقصد مکمل حاضری والے طلبا اور سٹاف کی حوصلہ افزائی کرنا ہوتا ہے۔ اسکول کی اس معمولی لیکن مسلسل حوصلہ افزائی کا نتیجہ یہ نکلا ہے آج کی اس تقریب میں میں %49.2 طلبا نے یہ سرٹیفیکیٹ حاصل کیا۔
زیر نظر تصویر ہر سیکشن میں صرف ان طبا کی ہے جنھوں نے تعلیمی اور اخلاقی کارکردگی میں Student of the Month کا ایوارڈ حاصل کیا۔
اسکول چھوٹی چھوٹی پریکٹس کا نام ہے۔ آپ کی معمولی سی مسلسل کوشش عنقریب بہت واضح اور نمایاں تبدیلی کا سبب بن سکتی ہے۔ آپ خوش اسلوبی اور مہارت کے ساتھ اپنی محنت جاری رکھیں۔
20/08/2024
Welcome Back to School
موسم گرما کی چھٹیوں کے بعد کل اسکول میں بچوں کا پہلا دن تھا
اسکول ہمیشہ سے بچوں کے لئے اس موقع پر خاص اہتمام کرتا ہے اور پہلے دن اسکول میں کوئی پڑھائی نہیں ہوتی، بلکہ بچوں کے ساتھ ان کے گزرے دنوں کئ متعلق بات چہت کی جاتی ہے، ان کو مختلف سرگرمیوں میں مشغول کیا جاتا ہے، کھانے پینے اور تحفہ تحائف میں وقت گزارا جاتا ہے۔
اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے کل بچوں کے لئے تمام سٹاف نے خوب محنت کرکے مختلف تحائف بنا رکھے تھے، بچوں کی پسند کی کینڈیز ویفر اور چاکلیٹ بھی موجود تھی۔
سب سے قبل ایسے تمام بچے جو تعطیلات کا کام مکمل کرکے روز گروپ میں بھیجتے تھے انہیں تحائف دئے گے، اس کے بعد ایسے تمام بچے جو گروپ میں بروقت کام تو نہیں بھیج سکے لیکن ان کا کام مکمل تھا ان بچوں کی حوصلہ افزائی کی گئی،
اس سارے عمل میں انتہائی خوب صورت بات یہ تھی کہ جس بچے کا بھی نام لیا جاتا تھا ، اس بچے کو اس کی پنسد اور مرضی اور تحفہ منتخب کرنے کا اختیار بھی دیا جاتا تھا، وہ بچہ اپنی مرضی سے میز پر پڑی تمام اشیا میں سے اپنی پنسد کی چیز اٹھاتا اور وہ ہی اس کو دی جاتی رہی،
بچے مکمل ہوگئے لیکن انعامات پھر بھی باقی رہے۔
اور اگر بات کی جائے حاضری کی۔۔۔۔۔۔۔
الحمد للہ ثم الحمد للہ سوائے چار بچوں کے اور وہ بھی ایسے جو کہ شہر سے باہر تھے سب کے سب حاضر تھے الحمد للہ
یہاں آخر میں ایک بات اور آپ سے شئیر کرتے جائیں کہ اس اسکول کے قیام کے دو بنیادی مقاصد ہیں جن میں سے پہلا مقصد بچوں میں تعلیم کا شوق پیدا کرنا ہے
اور الحمد للہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی خاص توفیق سے اسکول اپنے اس مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہے
اور اس مقصد کی تکمیل میں اساتذہ کی لگن،والدین کے اعتمادکو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
شکریہ
21/07/2024
کیا آپ اپنے بچوں کے لئے کسی ایسے اسکول کی تلاش میں ہیں کہ جہاں
۱۔ بچوں کی فطری صلاحیتوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے
۲۔ بچوں کی انفرادیت پر کام کیا جائے۔
۳۔ بچوں میں تعلیم کا شوق پیدا کیا جائے۔
۴۔ بچوں کو گائیڈڈ انداز میں کھل کر جینے کا موقع دیا جائے۔
۵۔ بچوں کو جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے سکھانے کی کوشش کی جائے۔
۶۔ بچوں میں آغاز سے ہی باہمی اشتراک کی فضا پیدا کی جائے۔
۷۔ بچوں کا موازنہ آپس میں کرنے کی بجائے ان کا موازنہ ان کی اپنی ہی گزشتہ کارکردگی سے کیا جائے۔
۹ بچوں کی تربیت کے لئے والدین کی تربیت پہلے کی جائے۔
۱۰۔ بچوں کے ساتھ انتہائی نرمی اور شفقت سے پیش آیا جائے۔
اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو یہ اسکول آپ ہی کے لئے ہے۔
مزید تفصیلات کے لئے وذٹ کریں
www.theSEEDedu.com
08/06/2024
Cheating
یہ سوشل سائینسز کا دور ہے، جس میں بہت کچھ ایسا ہے کہ جس کے متعلق ہر ایک کی اپنی اپنی آرا ہے۔ لیکن کچھ بنیادی چیزیں ایسی ہیں کہ جن پر سب کا اتفاق ہے اور ان میں سے ایک عمل
Cheating دھوکہ دینے کا ہے
دنیا میں ہر طرح کے ادارے بھی موجود ہیں اور کسی بھی ادارہ یا کام میں اگر دھوکہ دہی کا عنصر شامل ہو جائے تو یہ اس کی بنیاد کا مسئلہ ہے۔
الحمد للہ اسکول میں گزشتہ 6 سال سے بارہا مشاہدہ کرنے کے بعد یہ اہم بات سامنے آئی کہ سٹاف اور طلبا میں یہ خصلت موجود نہیں ہے۔ اور کل تو اس کی شدت کا اندازہ اس وقت ہوا کہ جب ایک صاحب اپنے سٹاف کے متعلق دھوکہ دہی کی اقسام اور طریقہ کار کے متعلق بتارہے تھے اور وہ اس معاملہ میں بہت حد تک فکر مند بھی تھے۔
ان کی گفتگو کے بعد جب دوبارہ اپنے اسکول پر نظرڈالی تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا بے حد شکر کیا اور آج سٹاف کو بھی ان کے اس عمل پر خراج تحسین پیش کیا۔
جائزہ کار کے دوران بھی کبھی مشکل سیٹنگ پلان نہیں بنایا، بچے قدرے معمول کے مطابق ہی کلاس میں موجود ہوتے ہیں لیکن بچے آپس میں ایک دوسرے کا کام دیکھنے یا پوچھنے کی بجائے اپنی ٹیچر سے ہی رجوع کرتے ہیں۔
سٹاف خود بھی جیسا میرے سامنے ہے ویسا ہی میرے بعد ہے۔
اگر کسی بھی وجہ سے کوئی کام نہ ہو رہا تو وہ تب بھی ویسا ہی ہے۔ انہوں نے کام ہونے یا نہ ہونے کی صورت میں رجوع مجھ سے ہی کرنا ہے لیکن کسی بھی انداز میں نہ وقت کے لحاظ سے اور نہ کام کے لحاظ سے دھوکہ دہی سے کام نہیں لینا۔ ہر کام صاف اور شفاف انداز میں ہی کرنا ہے۔
یقینا وہ تمام لوگ جو میری ہمیشہ رہنمائی فرماتے رہتے ہیں، مجھے ہمیشہ کچھ نیا سکھاتے ہیں وہ بھی اس صدقہ جاریہ میں شامل ہیں۔
اللہ سب کی محبت و محنت کو قبول فرمائے۔ آمین
21/05/2024
05/03/2024
السلام علیکم
آج الحمد للّہ اسکول میں تیسری گریجوایشن تقریب سرگودھا آرٹس کونسل میں منعقد کی گئی۔
یہ تقریب دونوں سیکشن کے ابتدائی مرحلہ کو مکمل کرنے کے اعزاز میں منعقد کی گئی۔
اس تقریب کا اسماء الحسنٰی سے کیا گیا۔
انس لطیف، مریم ثاقب نے تلاوت اور ساتھ ہی اس کا اردو اور انگریزی میں ترجمہ کیا گیا۔
حسان امجد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نعت شریف پڑھی جس کے بعد حفصہ اعجاز نے ایک نشید پڑھی۔
اس کے بعد جونیر سینیر کلاسز کے بچوں نے آنے والے معزز مہمانان گرامی اور والدین کو مرحبا کیا جس سے والدین کو اپنی قدر کا احساس ہوا۔
اسکول کے ایک سیکشن کی اس تقریب میں ڈاکٹر حافظ ابو یحییٰ نورپوری حفظہ اللہ نے اسکول ڈائریکٹر کے ہمراہ بچوں کو سرٹیفیکیٹ تقسیم کئے اور حوصلہ افزائی کی۔
بچوں کی اس اعزازی تقریب میں پورا سال سب سے ذیادہ حاضری رکھنے والے طلباء کرام کو بھی شیخ محترم سے سرٹیفیکیٹ اور شیلڈ سے نوازا اور ان کے والدین کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
والدین جو کہ اسکول کے اہم سٹیک ہولڈرز ہیں اسکول میں ان کی بھی ماہانہ کارکردگی رپورٹ تیار کی جاتی ہے اسی رپورٹ کی بنیاد پر اسکول کی کوآرڈینیٹر نے ایسے والدین کو
Parents of the Year
کی شیلڈ سے نوازا۔
القلم ایجوکیشنل کمپلیکس کے پرنسپل پروفیسر عبد المبین صاحب نے اپنی گفتگو میں بچوں کی تربیت میں والدین کے کلیدی کردار کی بہت اچھے انداز میں اہمیت بیان کی اور تعلیم کا اصل لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی۔
اس سال اسکول کی والدین کونسل میں سے ڈاکٹر حافظ ابو یحییٰ نورپوری اور ڈاکٹر نائلہ شایان نے اپنی پی ایچ ڈی کو مکمل کیا ان کے اعزاز میں اسکول کی طرف سے ان کو اعزازی شیلڈ پیش کی گئی۔
ڈاکٹر حافظ ابو یحییٰ نورپوری حفظہ اللہ نے اپنی گفتگو میں اسکول کی خوبیاں اور مقاصد کا اچھے انداز میں اظہار کیا اور اپنے تاثرات باقی لوگوں کے زمانے پیش کئے۔
ڈاکٹر نائلہ شایان جو کہ لاہور یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں انہوں نے بھی اسکول میں اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالہ سے اطمینان کا اظہار کیا اور اسکول کا شکریہ ادا کیا۔
مختلف کلاسز کے طلباء نے نماز کی اہمیت، دین اسلام سے وفاداری اور ملک پاکستان کے لئے اپنے جذبات کا مختلف ٹیبلو کے ذریعے اظہار کیا
اسکول کے دوسرے سیکشن کی کی تقریب میں سر عتیق الرحمن اور ڈاکٹر نائلہ شایان نے بچوں میں سرٹیفیکیٹ تقسیم کئے اور ان کی حوصلہ افزائی فرمائی۔
سر عتیق الرحمن نے بچوں کو دور جدید کی ضروریات، اسکول کی اہمیت اور تعلیم کے اصول پر والدین سے گفتگو کی۔
دوسرے سیکشن کے طلباء میں شیلڈ شیخ محمد انور صاحب نے تقسیم کی اور بچوں کی حوصلہ افزائی کی۔
رمضان المبارک کا آغاز ہونے کو ہے جس کے لئے ماہم نے ایک نظم پیش کی۔
آخر پر اسکول کے ڈائریکٹر جناب ضیاء الرحمن نے اپنی گفتگو میں آنے والے والدین اور معزز مہمانان گرامی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ والدین، ان کی تجاویز اور ان کا تعاون ہمارے لئے اہم ہے اور یہ صرف ایک اسکول ہی نہیں بلکہ ایک ایسی تحریک ہے جس میں والدین ہمارا دست و بازو ہیں۔
اسکول اس سال مزید کمیونٹی سروسز کا اضافہ کرنے کا بھی خواہاں ہے۔ اسکول میں گزشتہ سال ملنے والے دونوں ایواڈز میں والدین بھی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اور ہم والدین کو سلام پیش کرتے ہیں جو عمر میں ہم سے بڑا ہونے کے باوجود اسکول کی پالیسی، قواعد و ضوابط اور ہدایات پر کھلے دل سے عمل کرتے ہیں اور ایسے لوگ بھی ہمارے لئے قابل قدر ہیں جو گاہے بگاہے مختلف پہلوؤں سے اسکول کی رہنمائی کرتے ہیں۔ اور اسی طرح آج الحمد للّٰہ اسکول کو 6 سال بھی مکمل ہوئے جس پر ڈائریکٹر صاحب نے اپنی پوری ٹیم کا تہہ دل سے شکریہ بھی ادا کیا۔
پروگرام کے اختتام پر دونوں کیمپس کی ہیڈ کو ان کی شب و روز محنت اور لگن کو خراج تحسین پیش کرنے کے شیلڈ دی گئی۔
اور عبد الغفار کاظم صاحب کی دعا کے ساتھ اس تقریب کا اختتام ہوا۔
10/01/2024
میں حیران تھا
اندر اندر سے خوش بھی۔۔۔
آج بچے کافی دن کے بعد اسکول آرہے تھے
اسکول میں ویسے تو آغاز سے ہی بچوں کو روزانہ گیٹ پر مرحبا کہنے کا بندوبست موجود ہوتا ہے، لیکن جب بھی بچے چھٹیوں کے بعد آتے ہیں تب اسکول کی کوشش کؤہوتی ہے کہ بچوں کے لئے آتے ہی کچھ خاص ہونا چاہیئے
پہلے اس کے لئے ہر بار اسکول کوشش کرتا تھا لیکن الحمد للہ الحمد للہ اسکول میں ایک ایسا کلچر بن گیا کہ اس مرتبہ
تمام اساتزہ نے خود سے اپنی اپنی کلاس کے بچوں کو خوش آمدید مرحبا کہنے کے لئے ان کے لئے اپنی اپنی پسند کی کرافٹڈ اشیا تیار کر رکھیں تھی، اور مزید یہ کہ سٹاف نے تو بچوں کے لئے چھوٹے چھوتے گفٹ پیک بھی بنا رکھے تھے۔ کسی میں پسنل تھی تو کسی میں چاکلیٹ۔۔۔۔۔
یقینا یہ میرے لئے خوشی کی بات تو تھی ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ حیرانگی اس بات پر تھی کہ تمام سٹاف نے یہ سارا خرچ یا تو اسکول کے سٹور میں موجود سکریپ مواد کو استعمال کر کے تیار اور کھانے پینے اور سٹیشنری کی تمام اشیا اپنے پیسوں سے خریدی۔۔۔۔۔
اب میں صبح سے سوچ رہا ہوں کہ سٹاف کے اس جذبہ اور محبت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسکول کی طرف سے بھی سٹاف کے لئےکچھ ایسا کیا جائے۔
ایسا کیا کیا جائے؟ آپ کا مشورہ درکار ہے۔