GHSS Khohar

GHSS Khohar GHSS KHOHAR aims to provide quality education to student of our area.On this page you wills see post

*باپ نے اپنی بیٹی سے کہا تم نے اعزاز کے ساتھ گریجویشن کی ہے، یہ ایک کار ہے جو میں نے کئی سال پہلے خریدی تھی۔ اب کچھ پران...
18/11/2025

*باپ نے اپنی بیٹی سے کہا تم نے اعزاز کے ساتھ گریجویشن کی ہے، یہ ایک کار ہے جو میں نے کئی سال پہلے خریدی تھی۔ اب کچھ پرانی ہو گئی ہے۔ لیکن اس سے پہلے کہ میں یہ آپ کو دے دوں، اسے کسی استعمال شدہ کار ڈیلر کے پاس لے جاؤ اور اس کی قیمت لگواؤ دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کو اس کی کتنی پیشکش کرتے ہیں۔*

*بیٹی استعمال شدہ کار ڈیلر کے پاس گئی، اپنے والد کے پاس واپس آئی، اور کہا، "انہوں نے مجھے $1,000 کی پیشکش کی کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ یہ کافی پرانی لگ رہی ہے*

*باپ نے کہا اب اسے کباڑئیے کی دکان پر لے چلو بیٹی کباڑئیے کی دکان پر گئی اپنے والد کے پاس واپس آئی اور کہا*

*کباڑئیے نے صرف 100 ڈالر کی پیشکش کی ہے کیونکہ یہ ایک پرانی گاڑی ہے۔"*

*باپ نے اپنی بیٹی سے کہا کہ وہ اب کسی بڑے کار کلب میں جائے اور انہیں گاڑی دکھائے۔ بیٹی اس کے بعد گاڑی ایک بڑے کار کلب لے گئی، واپس آئی اور اپنے والد سے کہا، "کلب کے کچھ لوگوں نے اس کے لیے $100,000 کی پیشکش کی ہے کیونکہ یہ نسان اسکائی لائن R34 ہے، یہ ایک مشہور کار ہے اور بہت سے پرآنی کاروں کو جمع کرنے والے اس کی تلاش میں تھے۔"*

*اب باپ نے اپنی بیٹی سے کہا، "صحیح جگہ آپ کی صحیح قدر کا تعین کرتی ہے،" اگر آپ کی قدر نہیں کی جاتی ہے تو ناراض نہ ہوں، اس کا مطلب ہے کہ آپ غلط جگہ پر ہیں۔ جو لوگ آپ کی قدر جانتے ہیں وہی آپ کی قدر کرتے ہیں...... کبھی ایسی جگہ مت ٹھہرو جہاں آپ کی قدر نہ ہو ۔*

*اپنے آپ کو وہاں رہنے پر مجبور نہ کریں جہاں آپ کا احترام نہیں کیا جاتا...*

*جہاں آپ کی قدر ہو وہیں رہیں.*

کلاس کنٹرول — ایک فن، ایک سمجھ، ایک رویہ 🎓تعلیمی دنیا میں اکثر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ڈسپلن، کلاس کنٹرول اور بیہیویئر م...
03/11/2025

کلاس کنٹرول — ایک فن، ایک سمجھ، ایک رویہ 🎓
تعلیمی دنیا میں اکثر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ڈسپلن، کلاس کنٹرول اور بیہیویئر مینجمنٹ* ایک ہی چیزیں ہیں، حالانکہ یہ تینوں اپنی نوعیت میں الگ ہیں۔
ڈسپلن کارکردگی سے جڑا ہوا ہے، جبکہ کلاس کنٹرول اورBehaviour Management اس ماحول سے تعلق رکھتے ہیں جس میں وہ کارکردگی پیدا ہوتی ہے۔

آج ہم انہی دو پہلوؤں پر بات کریں گے —
کہ کلاس کنٹرول کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے؟
اور اساتذہ اپنے رویوں کے ذریعے کلاس میں سیکھنے کا ماحول کیسے قائم کر سکتے ہیں؟

کلاس کنٹرول کا مقصد

کلاس کنٹرول کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ استاد تدریسی عمل کو *بغیر کسی غیر ضروری مداخلت کے، مؤثر، پُرسکون اور منظم انداز میں* چلا سکے۔
یہ دو بنیادی ستونوں پر کھڑا ہوتا ہے:

1. استاد کی شخصیت اور رویہ
2. سکول کا کلچر اور بیہیویئر مینجمنٹ پالیسی

پہلا ستون: استاد کی شخصیت

کلاس کنٹرول کی کامیابی کی چابی ٹیچر کے پہلے چند دنوں کے رویےمیں چھپی ہوتی ہے۔
اگر استاد معمولی بات پر غصہ کرتا ہے، تو بڑے بچے اس غصے کو تفریح سمجھنے لگتے ہیں۔
کچھ ہی دنوں میں کلاس میں نظم و ضبط مذاق بن جاتا ہے۔

دوسری طرف، اگر استاد خاموش، نرم اور حد سے زیادہ برداشت والا ہو —
تو بچے اپنی مرضی کرنے لگتے ہیں۔
ایسی صورت میں استاد کی موجودگی اور غیر موجودگی میں کوئی فرق نہیں رہتا۔

اس لیے ضروری ہے کہ ٹیچر اپنے پہلے ہفتے میں ہی ایک مضبوط مگر مہذب تاثر قائم کرے۔
کلاس کو یہ محسوس ہونا چاہیے کہ **"یہ استاد نرم بھی ہے، مگر کمزور نہیں"

مؤثر کلاس کنٹرول کے عملی اصول

1. پہلے چھ سات لیکچر بہترین تیاری سے لیں۔
ایسا تاثر دیں کہ آپ اپنی کلاس کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔
جب بچے آپ سے امپریس ہوں گے، تو وہ آپ کے نظم کو خود بخود قبول کریں گے۔

2. ابتدائی مزاحمت پر حد سے زیادہ ردعمل نہ دیں۔
شور یا بات چیت پر فوری سزا دینے کے بجائے خاموش، پُرسکون ردعمل دیں۔
لیکن اگر ایک بار والدین کو بلانے کی دھمکی دیں — تو اسے پورا ضرور کریں۔
بچے کو احساس ہونا چاہیے کہ آپ کی بات حرفِ آخر ہے۔

3. والدین سے رابطہ سمجھداری سے کریں۔
والدین کو یہ کبھی نہ کہیں کہ بچہ شور کر رہا تھا۔
یہ سکول کی کمزوری ظاہر کرتا ہے۔
اس کے بجائے کہیں کہ بچہ لیکچر پر توجہ نہیں دے رہا یا ہوم ورک مکمل نہیں کیا۔
اس سے بچے پر اثر زیادہ ہوتا ہے۔

4. ایسی دھمکی نہ دیں جو پوری نہ کر سکیں۔
کیونکہ نامکمل دھمکیاں اعتماد توڑ دیتی ہیں۔

بچے آپ کے دشمن نہیں، سیکھنے والے ہیں

کلاس کنٹرول کا مطلب یہ نہیں کہ کلاس کو "خاموش قید خانہ" بنا دیا جائے۔
دلچسپی اور تعلق کامیاب ٹیچنگ کی بنیاد ہیں۔

* بچوں سے دوستانہ تعلق رکھیں۔
* اپنی زندگی کے تجربات اور سبق بانٹیں۔
* تعریف کرنے میں کنجوسی نہ کریں۔
* اپنی ناکامیوں کا رونا نہ روتے پھریں — کیونکہ بچے حوصلہ افزا مثالیں چاہتے ہیں، نہ کہ افسوس ناک کہانیاں۔

یاد رکھیں، اگر آپ زندہ ہیں، محنت کر رہے ہیں، اور کچھ کما رہے ہیں —
تو آپ ناکام نہیں، بلکہ کامیاب ہیں۔
اور یہی جذبہ بچوں تک منتقل ہونا چاہیے۔

دوسرا ستون: سکول کا کلچر

سکول یا کالج اگر بچوں کے رویوں کو بہتر بنانا چاہتا ہے تو Behaviour Management Policy ناگزیر ہے۔

1. پالیسی بنائیں 📜

واضح ضابطے طے کریں:

* پہلی بار شور کرنے پر تنبیہ
* دوسری بار نام لے کر متوجہ کرنا
* تیسری بار کھڑا کرنا یا کاونسلر کے پاس بھیجنا
* چوتھی بار والدین سے رابطہ
* اگر پھر بھی بہتری نہ آئے تو عارضی معطلی

ایسے ہی دس سے پندرہ عام غلط رویوں کے لیے پالیسی تحریری طور پر تیار کریں،
اور اساتذہ و طلبہ دونوں کو بار بار یاد دلائیں۔

2. قانون پر عمل کریں ⚖️

پالیسی تب ہی کامیاب ہوگی جب اس پر مسلسل عملدرآمد ہوگا۔
جب طلبہ دیکھیں گے کہ "جو لکھا ہے، وہی ہو رہا ہے"، تو خود بخود نظم پیدا ہوگا۔

3. تربیت اور حوصلہ افزائی 🌟

بچوں کے اندر سزا و جزا کا تصور پیدا کریں۔
ہر ماہ دو قسم کے سرٹیفیکیٹس دیں:

* Good Behaviour Certificate — ان بچوں کے لیے جو پہلے سے مثبت رویہ رکھتے ہیں۔
* Most Improved Behaviour Certificate — ان بچوں کے لیے جنہوں نے اپنے رویے میں نمایاں بہتری دکھائی۔

یہ طریقہ نہ صرف کلاس کنٹرول بہتر بنائے گا بلکہ سکول کا مجموعی ماحول بھی خوشگوار کرے گا۔

کلاس کنٹرول طاقت یا ڈر سے نہیں، احترام اور تعلق سے قائم ہوتا ہے۔
ایک اچھا استاد وہ نہیں جو کلاس کو خاموش رکھے،
بلکہ وہ جو کلاس کو سننے پر مجبور کر دے۔

جمیل بسمل صاحب کہتے ہیں کہ میری بیٹی کی شادی تھی میں نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر اپنی بچی کیلیے جہیز تیار کیا اور ہم لوگ جہی...
03/11/2025

جمیل بسمل صاحب کہتے ہیں کہ میری بیٹی کی شادی تھی میں نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر اپنی بچی کیلیے جہیز تیار کیا اور ہم لوگ جہیز کی تیاری میں ایسے جُتے کہ ہوش ہی نہ رہا کہ کب پیسے ختم ہو گۓ ( کم رہ گۓ ) اب ہمیں پریشانی ہوئی کہ ابھی کھانا ، کیٹرنگ اور لائٹ ڈیکوریشن کا خرچہ وغیرہ کیسے پورا ہو گا ( یاد رہے یہ 80 کی دہائی کی شروعات تھی تب زیادہ تر شادیوں کا انتظام کھلی گراؤنڈز وغیرہ میں کیا جاتا تھا )
ایک دن میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ کسی رشتہ دار سے پیسے مانگ لیتے ہیں لیکن اس میں ایک قباحت تھی کہ رشتہ دار بعد میں طرح طرح کی باتیں بناتے اسلیے اس بات کو رَد کر دیا گیا
پھر یار دوستوں کا ذکر چھڑا تو سب سے پہلے میرے ذہن میں دلدار بھٹی کا نام آیا تو شام کو ہم میاں بیوی دلدار بھٹی کے گھر چلے گۓ بھٹی نے بڑی خاطر مدارت کی ، اسکے بعد اُس نے پوچھا جمیل بھائی کیسے آ نا ہُوا تو ہم دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے علاوہ کچھ بھی نہ بول سکے ( ہمیں اُس وقت ڈیڑھ لاکھ روپے کی ضرورت تھی ) اور خاموشی سے ایکدوسرے کو تکتے رہے اسی اثناء میں بھٹی نے پوچھا کہ ہماری بِٹیا رانی کا کیا حال ہے تو میں ہمت کر کے صرف اتنا ہی بول پایا کہ اس کی شادی کی تیاریوں میں مصروف ہیں اتنا سُن کر بھٹی کچھ لمحے مجھے اور میری بیگم کے چہرے کو دیکھتا رہا اور پھر بولا جمیل بھائی
دِھیاں سب دیاں سانجھیاں ہوندیاں نیں
پریشان نہیں ہونا اگر کسی چیز کی ضروت ہو تو مجھے بتا دینا
لیکن اتنا سُننے کے بعد بھی میں بھٹی کے سامنے اپنے آنے کا مُدعا بیان نہ کر سکا اور ہم دونوں میاں بیوی گھر واپس آ گۓ ہم دونوں ہی خاموش تھے اور سوچ رہے تھے کہ اب ہمارا کیا بَنے گا ڈیڑھ لاکھ روپے کا بندوبست کیسے ہو گا ( یاد رہے کہ اُن دنوں ڈیڑھ لاکھ کا شمار ایک بڑی رقم میں ہوتا تھا )
جیسے تیسے کر کے رات کٹی صُبح ابھی ہم ناشتہ کرنے کی تیاری کر رہے تھے کہ کسی نے ڈور بیل بجائی میں اُٹھ کر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بھٹی مُنہ لٹکاۓ میرے سامنے کھڑا ہے میں اُسے دیکھ کر سٹپٹاگیا کہ یااللہ کیا ماجرا ہے یہ ہر وقت ہنسنے مسکرانے والا بندہ اتنا افسردہ کیوں ہے
میں نے پوچھا بھٹی خیریت ہے اتنی صُبح کیس آنا ہُوا تَو وہ اسی طرح مُنہ لٹکاۓ ہُوۓ بولا جمیل بھائی مجھے ناشتہ کرنا ہے آپ لوگوں کے ساتھ تو میں اُس کھینچ کر اندر لے آیا یہ کہتے ہُوۓ کہ تیرا اپنا گھر ہے چل آ جا مِل کر ناشتہ کرتے ہیں
جب ناشتہ آ گیا تو بھٹی نے ہم دونوں کی طرف دیکھا اور رونا شروع کر دیا ہم دونوں گھبرا گۓ یااللہ خیر ، کچھ بتاؤ تو سہی کہ آخر ماجرا کیا ہے
تو بھٹی بولا
جمیل بھائی آپ مجھے غیر سمجھتے ہیں
میں نے کہا نہیں تو ، پر تم کیوں ایسا سوچ رہے ہو تو بھٹی نے کہا کیا تمھاری بیٹی میری بیٹی نہیں کل آپ لوگوں نے مجھے کچھ نہیں بتایا لیکن آپ لوگوں کی خاموشی مجھے سب کچھ بتا گئی ، میں اپنی بیٹی کیلیے ایک چھوٹا سا نذرانہ لایا ہوں یہ آپ لوگوں کو قبول کرنا پڑے گا اور اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہُوۓ تھیلے میں سے کاغذ کے چند لفافے نکالے جو کہ ظاہری طور پر نوٹوں سے بھرے ہُوۓ تھے
میں صرف اتنا ہی بول سکا کہ بھٹی اللہ تمھیں اس کا اجر دے گا اور جیسے جیسے میرے پاس پیسے آئیں گے میں تمھیں لوٹا دوں گا تو بھٹی نے کہا جمیل بھائی یہ میں نے آپ کو نہیں دئیے بلکہ اپنی بِٹیا رانی کیلیے دئیے ہیں ان کو واپس کرنے کا سوچنا بھی مَت
پھر ناشتے کے بعد بھٹی واپس چلا گیا تو ہم نے وہ پیسے گِنے تو وہ پورے دو لاکھ روپے تھے

ایک ملٹی نیشنل بینک کمپنی کے چیئرمین نے معاشی ماہرین کو اّس وقت سوچ میں ڈال دیا جب اُس نے ایک اسٹاف میٹنگ میں یہ بتایا ک...
01/11/2025

ایک ملٹی نیشنل بینک کمپنی کے چیئرمین نے معاشی ماہرین کو اّس وقت سوچ میں ڈال دیا جب اُس نے ایک اسٹاف میٹنگ میں یہ بتایا کہ:--
سائیکل ملکی معیشت کیلئے تباھی کا باعث بنتی ہے 🔃

سب ماہرین نے حیران ھو کر پوچھا:--ایسا کیسے ھو سکتا ہے ؟؟ سی ای او CEO :-- اِس لیئے کہ سائیکل چلانے والا ‏کار نہیں خریدتا۔▪️
وہ کار خریدنے کے لیئے قرض بھی نہیں لیتا
▪️انشورنس نہیں کرواتا

▪️پیٹرول بھی نہیں خریدتا

▪️اپنی گاڑی سروس اورمرمت کے لیئے نہیں بھیجتا

▪️کار پارکنگ کی فیس ادا نہیں کرتا

▪️وہ ٹول پلازوں پر ٹیکس بھی ادا نہیں کرتا

▪️سائیکل چلانے کی وجہ سے صحت مند رہتا ہے اور موٹا نہیں ھوتا

▪️‏صحت مند رہنے کے باعث وہ دوائیں بھی نہیں خریدتا

▪️ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کے پاس نہیں جاتا حتیٰ کہ :--

▪️ملک کے GDP میں کچھ بھی شامل نہیں کرتا۔

جبکہ اُس کے بالکل برعکس :--
ہر نیا فاسٹ فوڈ آؤٹ لیٹ اپنے ملازمین کے علاوہ کم از کم 30 طرح کے لوگوں کے لیئے روزگار کا سبب بھی بنتا ہے
‏جن میں ڈاکٹر ٫ امراض قلب کے ماہر٫ ماہرِ معدہ و جگر ٫ ماہر ناک کان گلہ٫ دندان ساز٫ کینسر اسپیشلسٹ٫ حکیم اورمیڈیکل اسٹور مالکان وغیرہ شامل ہیں
▪️
چنانچہ یہ بات ثابت کرتی ہے کہ:--

‏سائیکل معیشت کی دشمن ہے اورمضبوط معیشت کے لیئے صحت مند افراد سخت نقصان دہ ہیں
‼️
نوٹ:--- پیدل چلنے والے معیشت کے لیئے اور بھی زیادہ خطرناک ہیں کیونکہ وہ سائیکل بھی نہیں خریدتے۔ 🚲

اپنے بچوں کو ابھی سے کمپیوٹر پر چھوٹے چھوٹے ٹاسک دیں تاکہ وہ کمپیوٹر کی   فیلڈ میں بہت اگے بڑھ سکیں اور انکی دلچسپی میں ...
01/11/2025

اپنے بچوں کو ابھی سے کمپیوٹر پر چھوٹے چھوٹے ٹاسک دیں تاکہ وہ کمپیوٹر کی فیلڈ میں بہت اگے بڑھ سکیں اور انکی دلچسپی میں اضافہ ہو۔۔

اعتراض کیا گیاتھا لاکھوں روپیہ لگا کر حویلی بناٸی ہے یہ کیا بے وقوفی کردی کہ دیوار کی مضبوطی کا خیال نہیں رکھا۔ان درختوں...
01/11/2025

اعتراض کیا گیاتھا لاکھوں روپیہ لگا کر حویلی بناٸی ہے یہ کیا بے وقوفی کردی کہ دیوار کی مضبوطی کا خیال نہیں رکھا۔ان درختوں کی وجہ سے نہ جانے کب دیوار گر پڑے۔
جواب دیا جب میرے پاس دیوار کے وساٸل نہ تھے یہ درخت ہی تھے جنہوں نے میرا پردہ رکھا تھا۔یہی تو تھے جو چھایا بنے رہے۔
جب انہوں نے بے وفاٸی نہیں کی تو میں انکی جڑوں پہ وار کاحوصلہ کہاں سے لاتا۔

آج مورخہ 31 اکتوبر 2025 کو گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول کھوہار میں ششم تا دواز دہم کا ماہانہ ٹیسٹ لیا گیا۔
31/10/2025

آج مورخہ 31 اکتوبر 2025 کو گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول کھوہار میں ششم تا دواز دہم کا ماہانہ ٹیسٹ لیا گیا۔

اچھی نصیحت دل کو بدل دیتی ہے، لمبی تقریر نہیں چاہیئے…  بعض اوقات بس ایک سادہ سی بات زندگی کا رخ موڑ دیتی ہے
19/10/2025

اچھی نصیحت دل کو بدل دیتی ہے، لمبی تقریر نہیں چاہیئے… بعض اوقات بس ایک سادہ سی بات زندگی کا رخ موڑ دیتی ہے

کہتے ہیں کہ پرانے وقتوں میں کسی حاکم نے ایک بڑی گزرگاہ کے بیچوں بیچ ایک چٹانی پتھر ایسے رکھوا دیا کہ گزرگاہ بند ہو کر رہ...
16/10/2025

کہتے ہیں کہ پرانے وقتوں میں کسی حاکم نے ایک بڑی گزرگاہ کے بیچوں بیچ ایک چٹانی پتھر ایسے رکھوا دیا کہ گزرگاہ بند ہو کر رہ گئی۔ اپنے ایک پہریدار کو نزدیک ہی ایک درخت کے پیچھے چھپا کر بٹھا دیا تاکہ وہ آتے جاتے لوگوں کے ردِ عمل سُنے اور اُسے آگاہ کرے۔
اتفاق سے جس پہلے شخص کا وہاں سے گزر ہوا وہ شہر کا مشہور تاجر تھا جس نے بہت ہی نفرت اور حقارت سے سڑک کے بیچوں بیچ رکھی اس چٹان کو دیکھا، یہ جانے بغیر کہ یہ چٹان تو حاکمِ وقت نے ہی رکھوائی تھی اُس نے ہر اُس شخص کو بے نقط اور بے حساب باتیں سنائیں جو اس حرکت کا ذمہ دار ہو سکتا تھا۔

چٹان کے ارد گرد ایک دو چکر لگائے اور چیختے ڈھاڑتے ہوئے کہا کہ وہ ابھی جا کر اعلیٰ حکام سے اس حرکت کی شکایت کرے گا اور جو کوئی بھی اس حرکت کا ذمہ دار ہو گا اُسے سزا دلوائے بغیر آرام سے نہیں بیٹھے گا۔

اس کے بعد وہاں سے تعمیراتی کام کرنے والے ایک ٹھیکیدار کا گزر ہوا ۔ اُس کا ردِ عمل بھی اُس سے پہلے گزرنے والے تاجر سے مختلف تو نہیں تھا مگر اُس کی باتوں میں ویسی شدت اور گھن گرج نہیں تھی جیسی پہلے والا تاجر دکھا کر گیا تھا۔ آخر ان دونوں کی حیثیت اور مرتبے میں نمایاں فرق بھی تو تھا۔ اس کے بعد وہاں سے تین ایسے دوستوں کا گزر ہوا جو ابھی تک زندگی میں اپنی ذاتی پہچان نہیں بنا پائے تھے اور کام کاج کی تلاش میں نکلے ہوئے تھے۔ انہوں نے چٹان کے پاس رک کر سڑک کے بیچوں بیچ ایسی حرکت کرنے والے کو جاہل، بیہودہ اور گھٹیا انسان سے تشبیہ دی، قہقہے لگاتے اور ہنستے ہوئے اپنے گھروں کو چل دیئے۔ اس طرح مختلف لوگ گزرتے رہے اور پتھر کو ، حکمرانوں کو برا بھلا کہتے رہے۔

اس چٹان کو سڑک پر رکھے دو دن گزر گئے تھے کہ وہاں سے ایک مفلوک الحال اور غریب کسان کا گزر ہوا۔ کوئی شکوہ کئے بغیر جو بات اُس کے دل میں آئی وہ وہاں سے گزرنے والوں کی تکلیف کا احساس تھا اور وہ یہ چاہتا تھا کہ کسی طرح یہ پتھر وہاں سے ہٹا دیا جائے۔ اُس نے وہاں سے گزرنے والے راہگیروں کو دوسرے لوگوں کی مشکلات سے آگاہ کیا اور انہیں جمع ہو کر وہاں سے پتھر ہٹوانے کیلئے مدد کی درخواست کی۔ اور بہت سے لوگوں نے مل کر زور لگا کر چٹان نما پتھر وہاں سے ہٹا دیا۔ جیسے ہی یہ چٹان وہاں سے ہٹی تو نیچے سے ایک چھوٹا سا گڑھا کھود کر اُس میں رکھی ہوئی ایک صندوقچی نظر آئی جسے کسان نے کھول کر دیکھا تو اُس میں سونے کا ایک ٹکڑا اور خط رکھا تھا جس میں لکھا ہوا تھا کہ:

"حاکمِ وقت کی طرف سے اس چٹان کو سڑک کے درمیان سے ہٹانے والے شخص کے نام۔ جس کی مثبت اور عملی سوچ نے مسائل پر شکایت کرنے کی بجائے اُس کا حل نکالنا زیادہ بہتر جانا۔"

*اندھیروں کی شکایت کرنے سے تو بہت بہتر تھا*
*اپنے حصے کا ایک دیا جلاتے جاتے۔“*

کبھی کبھی ایسا کرلیا کریں... تنخواہ لے کر گھر پہنچتے ہی فوڈ پانڈا والوں کو فون کرکے انہیں ایک چکن بروسٹ، ایک منرل واٹر ا...
15/10/2025

کبھی کبھی ایسا کرلیا کریں...

تنخواہ لے کر گھر پہنچتے ہی فوڈ پانڈا والوں کو فون کرکے انہیں ایک چکن بروسٹ، ایک منرل واٹر اور ایک سافٹ ڈرنک کا آرڈر بُک کرایا اور ڈیلیوری کا انتظار کرنے لگا

کُچھ دیر بعد ہی کوئی 21/22 سال کا ایک پیارا سا نوجوان رائیڈر میرے دروازے پر پارسل کے ساتھ موجود تھا
رسمی علیک سلیک کے بعد میں نے پُوچھا بیٹا کہاں تک پڑھے ہو؟

اُس نے بتایا کہ وہ بی اے پاس ھے، میرے مزید کُریدنے پر بولا کہ اُس کے والد فوت ہوچکے ہیں، خاندان کی کفالت کی ذمہ داری اُسی کے کاندھوں پر آن پڑی ھے، پانچ بہن بھائی ہیں جو چھوٹے ہیں اس لیے مُجھے تعلیم ادھوری چھوڑنی پڑی، اب رائیڈنگ کے ذریعے اپنی والدہ اور چھوٹے بہن بھائیوں کی کفالت کرتا ہوں

سر...
آپ نے یہ آرڈر دیا تھا، وہ ایک دم اپنے مُدعے پر آگیا

میں نے جیب سے بٹوہ نکالا، 380 روپے کا بل ادا کیا، اور پرس میں سے مزید ایک ہزار روپے نکال کر اُس کی ہتھیلی پر رکھتے ہوئے کہا

یار...
یہ آرڈر میں نے اپنے لیے نہیں بلکہ آپ کے لیے بُک کرایا تھا، آج تُم ہمارے مہمان ہو، یہ کھالینا پلیز
وہ حیرت زدہ آنکھوں سے مُجھے دیکھتا رہا، اُس آنکھیں کی "مخصوص چمک" دیدنی تھی، میں نے سلام کیا اور گھر واپس آگیا

دوستو....!!
فوڈ سپلائی رائیڈرز کی اکثریت کی یہی حالت ہوتی ھے، حالات کے مارے یہ نوجوان کوئی معقول ملازمت نہ ملنے کے باعث شدید معاشی مُشکلات سے پریشان ہوکر اپنے اہلِ خانہ کی کفالت کی ذمہ داری اُٹھانے پر مجبور ہوتے ہیں،
اِن میں سے کئی نوجوان اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہوتے ہیں
عرض یہ کرنی تھی کہ اِن کے ساتھ نرمی والا معاملہ برتا کریں

"کبھی ایک ایسا ہی" چھوٹا سا آرڈر" آپ بھی بُک کرائیں جو آپ کے لیے نہ ہو"

اللہ آپ سے راضی ہو

خواتین کے ایک معروف سرکاری کالج میں انگلش کا پیریڈ تھا کہ ایک طالبہ زور زور سے رونے لگی ٹیچر نے پڑھانا چھوڑا بھاگم بھاگ ...
14/10/2025

خواتین کے ایک معروف سرکاری کالج میں انگلش کا پیریڈ تھا کہ ایک طالبہ زور زور سے رونے لگی ٹیچر نے پڑھانا چھوڑا بھاگم بھاگ اس کے پاس جا پہنچی بڑی نرمی سے دریافت کیا کیا بات ہے بیٹی کیوں رو رہی ہو؟

اس نے سسکیاں لے کر جواب دیا میرے فیس کے پیسے چوری ہوگئے ہیں بیگ میں رکھے تھے کسی نے نکال لئے ہیں

ٹیچر نے ایک لڑکی کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کمرے کے دروازے بند کردو کوئی باہر نہ جائے سب کی تلاشی ہوگی ٹیچر نے سامنے کی تین طالبات کی خود تلاشی لی اور پھر انہیں پوری کلاس کی طالبات کی جیبیں چیک کرنے اور بستوں کی تلاشی کی ہدایت کردی

کچھ دیر بعد دو لڑکیوں کی تکرار سے اچانک کلاس ایک بار پھر شور سے گونج اٹھی ٹیچر اپنی کرسی سے اٹھتے ہوئے بولی کیا بات ہے؟
مس تلاشی لینے والی طالبہ بولی کوثر اپنے بیگ کی تلاشی نہیں لینے دے رہی ٹیچر وہیں تڑک سے بولی پیسے پھر اسی نے چرائے ہوں گے کوثر تڑپ کر بولی نہیں نہیں مس میں چور نہیں ہوں چور نہیں ہو تو پھر بیگ کی تلاشی لینے دو نہیں کوثر نے کتابوں کے بیگ کو سختی سے اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا۔

نہیں میں تلاشی نہیں دوں گی ٹیچر آگے بڑھی اس نے کوثر سے بیگ چھیننے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکی اسے غصہ آگیا ٹیچر نے کوثر کے منہ پر تھپڑ دے مارا وہ زور زور سے رونے لگی ٹیچر پھر آگے بڑھی ابھی اس نے طالبہ کو مارنے کیلئے ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ ایک بارعب آواز گونجی رک جاو ٹیچر نے پیچھے مڑکر دیکھا تو وہ پرنسپل تھیں نہ جانے کب کسی نے انہیں خبر کر دی تھی
انہوں نے طالبہ اور ٹیچر کو اپنے دفتر میں آنے کی ہدایت کی اور واپس لوٹ گئیں۔

پرنسپل نے پوچھا کیا معاملہ ہے ٹیچر نے تمام ماجرا کہہ سنایا انہوں نے طالبہ سے بڑی نرمی سے پوچھا تم نے پیسے چرائے؟
نہیں اس نے نفی میں سر ہلا دیا کوثر کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے بالفرض مان بھی لیا جائے۔
پرنسپل متانت سے بولیں جب تمام طالبات اپنی اپنی تلاشی دے رہی تھیں تم نے انکار کیوں کیا؟

کوثر خاموشی سے میڈم کو تکنے لگی اس کی آنکھوں سے دو موٹے موٹے آنسو نکل کر اس کے چہرے پر پھیل گئے ٹیچر نے کچھ کہنا چاہا جہاندیدہ پرنسپل نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا پرنسپل کا دل طالبہ کا چہرہ دیکھ کر اسے چور ماننے پر آمادہ نہ تھا پھر اس نے تلاشی دینے کے بجائے تماشا بننا گوارا کیوں کیا؟
اس میں کیا راز ہے؟
وہ سوچنے لگی اور پھر کچھ سوچ کر ٹیچر کو کلاس میں جانے کا کہہ دیا۔

پرنسپل نے بڑی محبت سے کوثر کو اپنے سامنے والی نشست پر بٹھا کر پھر استفسار کیا اس نے خاموشی سے اپنا بیگ ان کے حوالے کر دیا پرنسپل نے اشتیاق تجسس اور دھڑکتے دل کے ساتھ بیگ کھولا۔

مگر یہ کیا کتابوں کاپیوں کے ساتھ ایک کالے رنگ کا پھولا پچکا ہوا شاپر بیگ بھی باہر نکل آیا۔
طالبہ کو یوں لگا جیسے اس کا دل سینے سے باہر نکل آیا ہو کوثر کی ہچکیاں بندھ گئیں پرنسپل نے شاپر کھولا اس میں کھائے ادھ کھائے برگر سموسے اور پیزے کے ٹکڑے نان کچھ کباب اور دہی کی چٹنی میں ڈوبی چکن کی بوٹیاں
سارا معاملہ پرنسپل کی سمجھ میں آ گیا

وہ کانپتے وجود کے ساتھ اٹھی روتی ہوئی کوثر کو گلے لگا کر خود بھی رونے لگ گئی
کوثر نے بتایا میرا کوئی بڑا بھائی نہیں

دیگر 3 بہن بھائی اس سے چھوٹے ہیں والد صاحب ریٹائرڈمنٹ سے پہلے ہی بیمار رہنے لگے تھے گھر میں کوئی اور کفیل نہیں ہے پنشن سے گزارا نہیں ہوتا بھوک سے مجبور ہو کر ایک دن رات کا فاقہ تھا ناشتے میں کچھ نہ تھا کالج آنے لگی تو بھوک اور نقاہت سے چلنا مشکل ہوگیا میں ایک تکہ کباب کی دکان کے آگے سے گزری تو کچرے میں کچھ نان کے ٹکڑے اور ادھ کھانا ایک چکن پیس پڑا دیکھا بے اختیار اٹھا کر کھا لیا قریبی نل سے پانی پی کر خدا کر شکر ادا کیا

پھر ایسا کئی مرتبہ ہوا ایک دن میں دکان کے تھڑے پر بیٹھی پیٹ کا دوزخ بھر رہی تھی کہ دکان کا مالک آگیا اس نے مجھے دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا ندیدوں کی طرح نان اور کباب کے ٹکڑے کھاتا دیکھ کر پہلے وہ پریشان ہوا پھر ساری بات اس کی سمجھ میں آگئی وہ ایک نیک اور ہمدرد انسان ثابت ہوا میں نے اسے اپنے حالات سچ سچ بتا دئیے اسے بہت ترس آیا اب وہ کبھی کبھی میرے گھر کھانا بھی بھیج دیتا ہے اور گاہکوں کا بچا ہوا کھانا برگر وغیرہ روزانہ شاپر میں ڈال کر اپنی دکان کے باہر ایک مخصوص جگہ پر رکھ دیتا ہے

جو میں کالج آتے ہوئے اٹھا کر کتابوں کے بیگ میں رکھ لیتی ہوں اور جاتے ہوئے گھر لے جاتی ہوں میرے امی ابو کو علم ہے میں نے کئی مرتبہ دیکھا ہے لوگوں کا بچا کھچا کھانا کھاتے وقت ان کی آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں بہن بھائی چھوٹے ہیں انہیں کچھ علم نہیں وہ تو ایک دوسرے سے چھین کر بھی کھا جاتے ہیں. بس یہی وجہ تھی کہ میں بیگ نہیں دکھا رہی تھی😭

خدارا اپنے اردگرد ایسے سفید پوش لوگوں کا خیال رکھا کریں یہ اپنی عزت کو غربت پر ترجیح دیتے ہیں۔

شام کے وقت جب میں تھکا ہارا دفتر سے واپس آیا تو میری بچی دروازے پر ہی روتی ہوئی ملی۔میں نے گھبرا کر پوچھا،“کیا ہوا بیٹا؟...
14/10/2025

شام کے وقت جب میں تھکا ہارا دفتر سے واپس آیا تو میری بچی دروازے پر ہی روتی ہوئی ملی۔
میں نے گھبرا کر پوچھا،
“کیا ہوا بیٹا؟”
اس نے ہچکیوں کے درمیان کہا،
“ابو... استانی نے تھپڑ مارا...”

بس اتنا سننا تھا کہ میرا خون کھول اٹھا۔
غصے میں میرے ہاتھ خودبخود مکے کی شکل میں بند ہو گئے۔
ساری رات میں غصے میں اُبلتا رہا۔
دل میں بار بار وہی جملہ گونجتا رہا — "استانی نے تھپڑ مارا!"

اگلے دن صبح ہوتے ہی میں نے موٹر سائیکل نکالی اور سیدھا سکول کا رخ کیا۔
راستے بھر دماغ میں ایک ہی خیال گردش کر رہا تھا:
“اتنی چھوٹی بچی پر ہاتھ اٹھانے کی جرات کیسے ہوئی؟ استاد کو اتنا بھی احساس نہیں کہ بچوں پر تشدد کا کیا اثر ہوتا ہے؟”
میں نے دل میں فیصلہ کر لیا تھا کہ آج یہ بات یونہی ختم نہیں ہوگی۔

سکول پہنچ کر میں نے گیٹ پر کھڑے ایک بچے سے پوچھا،
“پہلی کلاس کہاں ہے؟”
اس نے انگلی سے اشارہ کیا،
“ادھر، جہاں شور زیادہ آ رہا ہے!”

میں نے دروازے کے قریب جا کر جھانکا —
اور جو منظر دیکھا، اس نے میرے سارے غصے کو جیسے کسی نے پانی میں بہا دیا۔

ایک کمزور سی خاتون، دھیمی آواز مگر تھکی ہوئی آنکھوں کے ساتھ ستر بچوں کے درمیان کھڑی تھیں۔
بچے ایسے شور مچا رہے تھے جیسے کسی میلے میں ہجوم اکٹھا ہو۔
کوئی بنچ پر چڑھا ہوا تھا، کوئی نیچے بیٹھ کر گارہا تھا،
کوئی لڑکی دوسری کی چٹیا کھینچ رہی تھی۔
اور بیچاری استانی ایک ہاتھ سے بورڈ پر لکھ رہی تھیں، دوسرے ہاتھ سے بچوں کو چپ کرانے کی کوشش۔

“بیٹا بیٹھ جاؤ... نہیں وہ چیز مت کھینچو... سنو تو سہی... سب اپنی جگہ...”
ان کے الفاظ تھکن سے لبریز تھے۔

میں نے غور سے ان کا چہرہ دیکھا —
پسینے کے قطرے، ماتھے پر شکنیں، آواز میں بھاری پن۔
ان کی حالت دیکھ کر میرا دل بیٹھ گیا۔

میری بیٹی وہیں بیٹھی تھی، سر جھکائے۔
میں نے اسے دیکھا، مگر بول نہ سکا۔

استانی کی نظر مجھ پر پڑی تو وہ چونک گئیں۔
بولیں، “آپ... شاید آپ حنا کے والد ہیں؟”
میں نے آہستگی سے کہا، “جی۔”
وہ مسکرائیں، مگر اس مسکراہٹ کے پیچھے تھکن چھپی تھی۔

میں نے نرمی سے پوچھا، “میڈم، یہ سب آپ اکیلی سنبھالتی ہیں؟”
وہ تھوڑا رُکیں، پھر بولیں،
“کون ہے جو مدد کرے؟ ایک کلاس، ستر بچے، نہ کوئی آیا ہے، نہ صفائی والا۔
کبھی کوئی لڑ پڑتا ہے، کبھی کوئی بیمار ہو جاتا ہے۔
پھر بھی سب کو پڑھانا بھی ہے، قابو میں بھی رکھنا ہے۔
کبھی کبھار... ہاتھ اٹھ ہی جاتا ہے۔
مگر خدا گواہ ہے، دل سے نہیں مارتی۔”

ان کے الفاظ نے میرے اندر کی گرمی جیسے ایک دم سرد کر دی۔
میں نے سوچا، یہ عورت روزانہ یہ سب برداشت کرتی ہوگی۔
کیا ہم نے کبھی سوچا کہ استاد بھی انسان ہے؟
کبھی تھک بھی سکتا ہے، کبھی ٹوٹ بھی سکتا ہے۔

میں خاموشی سے باہر نکلا۔
موٹر سائیکل پر بیٹھتے ہی دل بوجھل ہو گیا۔
راستے بھر یہی سوچتا رہا —
ہم کتنی آسانی سے الزام لگا دیتے ہیں۔
“استاد نے مارا، سخت ہے، ظالم ہے...”
مگر کبھی نہیں دیکھتے کہ ان کے حالات کیا ہیں۔

میرے ذہن میں ایک تصویر بار بار ابھر رہی تھی:
ایک کمزور عورت، شور مچاتے بچوں کے بیچ، تھکن اور ذمے داری کا بوجھ اٹھائے ہوئے۔
وہ مجھے ایک چرواہے کی طرح لگی،
جو اپنے ریوڑ کو قابو میں رکھنے کی کوشش میں خود بھاگتے بھاگتے تھک گیا ہو۔

گھر پہنچ کر میں نے بیٹی کو گود میں بٹھایا،
اس کے گال پر ہاتھ پھیرا اور کہا،
“بیٹا، استانی نے تمہیں مارا ضرور ہوگا،
مگر شاید وہ تم سے ناراض نہیں تھی،
بس تھک گئی تھی۔”

اس رات میں دیر تک جاگتا رہا۔
سوچتا رہا کہ ہمارا معاشرہ ان استادوں سے کیا چاہتا ہے؟
وہ لوگ جو قوم کے بچوں کو علم دیتے ہیں،
مگر خود بے حوصلگی، کمی اور بے قدری کا سامنا کرتے ہیں۔

اب جب بھی کوئی کہتا ہے کہ “استاد نے مارا”،
میں جواب دیتا ہوں —
“شاید نہیں،
شاید نظام نے مارا ہے —
استاد کو بھی، بچے کو بھی، اور ہمیں بھی۔”

---

تحریر: عبداللہ خالد

Address

Khohar Khurd
Sarai Alamgir
50050

Opening Hours

Monday 07:30 - 13:00
Tuesday 07:30 - 13:00
Wednesday 07:30 - 13:00
Thursday 07:30 - 13:00
Friday 07:30 - 11:30
Saturday 07:30 - 13:00

Telephone

+923452404227

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when GHSS Khohar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to GHSS Khohar:

Shortcuts

Share

Category