Jamya Sidiqia Mujadadia Sangla Hill

Jamya Sidiqia Mujadadia Sangla Hill Islam Promoting ethical values

لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ  اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے ...
27/05/2026

لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ
اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اسے تو تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔(الحج: 37)۔
عید الاضحیٰ کا اصل جوہر ظاہری رسوم سے ماورا ہو کر نیت کے اخلاص اور تقویٰ کی حقیقت کو پانا ہے،اللہ پاک ہماری اس علمی و عملی عبادت کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔
تمام اہل اسلام کو عید الاضحی بہت مبارک ہو۔

زیرِ نظر متن سن 1965ء میں جامعہ اسلامیہ بہاولپور میں مناظر اہل سنت ،شیخ الحدیث علامہ مفتی محمد صدیق نقشبندی مجددی علیہ ا...
24/05/2026

زیرِ نظر متن سن 1965ء میں جامعہ اسلامیہ بہاولپور میں مناظر اہل سنت ،شیخ الحدیث علامہ مفتی محمد صدیق نقشبندی مجددی علیہ الرحمہ اور اس دور کے نامور دیوبندی مفسر مولوی شمس الحق افغانی کے مابین عقیدۂ نورانیتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہونے والے ایک علمی مکالمے کا تاریخی مآخذ ہے، جس کا ذکر آپ علیہ الرحمہ نے کچھ یوں کیا:
یہ ناچیز حلفاً عرض کرتا ہے کہ سن ۱۹۶۵ء میں محکمہ اوقاف کی طرف سے جامعہ اسلامیہ بہاولپور گیا تھا،تین ماہ وہاں ٹھہرنے کا موقع ملا تو ان دنوں جامعہ کے شیخ القرآن مولوی محمد شمس الحق افغانی اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد احمد سعید کاظمی ملتانی تھے،افغانی صاحب دیوبندیوں کے نزدیک بہت بڑے مفسر، محدث،مفکر اور رئیس المحققین یقین کیے جاتے ہیں اور ان کا درس سننا بہت بڑا علمی سرمایہ سمجھتے تھے، شہر بہاولپور کے علاوہ دور دراز سے لوگ آتےاور درس سنتے،یہ درس ہر اتوار کو صبح کے وقت دیا جاتا۔
ایک دفعہ بندہ ناچیز بھی مسجد جامعہ فاروقیہ میں افغانی صاحب کا درس سننے کے لیے حاضر ہوالیکن میرے ہمراہ جامعہ سے ایک مولوی صاحب دیوبندی مذہب کے اللہ بخش سندھی بھی تھے، بہرحال افغانی صاحب درس میں بڑے بڑے علمی نکتے بیان کر رہے تھے، سامعین ان کے عجیب عجیب نکتوں کو تحریر میں لا رہے تھے،ان کے درس میں مجھے سب سے زیادہ بے ذوقی اس وقت لاحق ہوئی جب انہوں نے کہا: بعض لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نور کہتے ہیں،ایسا نہیں کہنا چاہیے،آپ آدم علیہ السلام کی اولاد سے ہیں،آپ کو نور کہنا آپ کی توہین ہے (معاذ اللہ)۔
اس کے بعد میں نے اللہ بخش سندھی دیوبندی سے کہا:خدارا! مجھے افغانی صاحب سے ملاؤ،مجھے یہ سمجھنا ہے کہ آپ کو نور کہنے سے گستاخی کیونکر ہوئی ہے؟ میں بحث نہیں کروں گا، صرف سمجھنے کے لیے سوال کروں گا،چنانچہ مولوی صاحب ان کے پاس گئے اور چار بجے کا وقت لے آئے۔
بندہ پورے چار بجے مولوی صاحب کو ساتھ لے کر ان کے پاس پہنچ گیا،مولوی صاحب سے میں نے عرض کیا کہ آپ نے درس میں کہا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نور کہنا یہ آپ کی توہین اور گستاخی ہے،آپ سمجھا دیں کہ اللہ رب العزت نے قَدْ جَاءَکُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ ارشاد فرمایا ہے،اس میں لفظ نور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات مبارکہ کو کہا گیا ہے اوراکثر مفسرین خاص کرمولوی اشرف علی تھانوی نے اپنے رسالہ النور میں اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہاں نور سے مراد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا وجودِ باجود ہےاور مولانا محمد ادریس کاندھلوی نے بھی اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ سراجِ منیر،شمس الضحیٰ،خیر البرایا اور نورِ قدیم ہیں،علاوہ ازیں آپ کے اسمائے صفاتی میں نوربھی آپ کا نام ہے، سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب گستاخیاں اور آپ کی توہین ہے؟ (معاذ اللہ)۔
افغانی صاحب نے کہا:مولانا! آپ میرے ساتھ بحث کرنے آئے ہیں۔میں نے عرض کیا:جناب! بحث کی غرض نہیں، صرف سمجھنا مقصود ہے کہ جب آپ کی ذات پر نور کا اطلاق ہوا ہے اور علماء نے اس کی تصدیق کی ہے تو پھر یہ گستاخی اور توہین کیسی؟افغانی صاحب نے کہا:مولوی صاحب! یہ اطلاق حقیقی نہیں، یہاں نور سے مراد نورِ ہدایت ہے۔بندہ نے عرض کیا: جناب! کچھ بھی ہو، آپ کی ذاتِ گرامی پر لفظِ نور استعمال ہوا ہے اور آپ کو نور کہا گیا ہے۔ آپ نے درس میں سینکڑوں لوگوں کے سامنے کہا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نور کہنا بے ادبی اور گستاخی ہے (معاذ اللہ)۔ بقول آپ کے نورِ ہدایت ہی صحیح، مگر نور کا لفظ تو استعمال کیا گیا ہے اور استعمال کرنے والا رب العالمین ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو نور فرما کر توہین کی ہے؟ (معاذ اللہ ثم معاذ اللہ)۔
میں نے عرض کیا:جناب! آپ نے کہا ہے کہ یہاں نور سے مراد نورِ ہدایت ہے اور اس پر قرائن موجود ہیں،آپ اس کی وضاحت کریں کہ یہاں کوئی ایسا قرینہ بھی ہے جس سے نورِ حقیقی کی نفی لازم آتی ہو اور نورِ حقیقی اور نورِ ہدایت جمع نہ ہو سکتے ہوں؟اس کے بعد افغانی صاحب نے بڑے غصے، رنج اور جلال کے اندر کہا:مولوی اللہ بخش صاحب! آپ نے کہا تھا یہ سمجھنا چاہتے ہیں، یہ تو مجھے سمجھانا چاہتے ہیں،یہ کہہ کر مولوی افغانی صاحب گھر تشریف لے گئے،ہم بھی حسرت لیے ہوئے واپس جامعہ آگئے۔ ہمیں اس پر سخت افسوس ہوا کہ اتنے بڑے عالم، مفسر اور محدث ہونے کے باوجود نورانیتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکاراور لہجہ اور انداز اتنا جارحانہ کیوں؟حالانکہ محبت کا دعویٰ بھی ساتھ ساتھ رہا،یہ کیسی محبت ہے؟ نگاہِ محبت میں تومحبوب کا عیب دکھائی دیتا ہی نہیں۔
🖋️محمد مظہر قیوم صدیقی
جامعہ صدیقیہ مجددیہ سانگلہ ہل

سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے ہاں قصائی گائے وغیرہ ذبح کرنے کے لیے کس...
23/05/2026

سوال:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے ہاں قصائی گائے وغیرہ ذبح کرنے کے لیے کسی متقی یا پرہیزگار شخص کی خدمات لیتے ہیں اور اجرت کے طور پر اسی ذبح شدہ جانور کا گوشت دے دیتے ہیں چونکہ اس معاملے پر قصائی اور ذبح کرنے والا دونوں باہمی طور پر راضی اور خوش ہیں تو کیا ایسی صورت میں باہمی رضامندی کی وجہ سے یہ معاملہ شرعاً جائز ہو جائے گا؟ بینوا توجروا
الجواب:
مذکورہ صورتِ مسئولہ میں قصائی کا کسی متقی شخص سے جانور ذبح کروانا اور اجرت میں اسی جانور کا گوشت مشروط کرنامحض دونوں کی باہمی رضامندی اور خوشی کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں ہو جاتا،شریعتِ مطہرہ کا یہ طے شدہ اصول ہے کہ جہاں صریح حکمِ شرعی موجود ہووہاں محض آپسی رضامندی کسی فاسد یا ممنوعہ معاملے کو حلال نہیں کر سکتی۔
کسی بھی معاملے میں عاقدین (دونوں فریقوں) کا راضی ہونا تب معتبر اور مفید ہوتا ہے جب وہ معاملہ اپنی ذات میں شرعی حدود کے اندر ہو،چونکہ کسی چیز پر کام کرنے کی اجرت خود اسی چیز کا حصہ طے کرنا (جسے فقہ کی اصطلاح میں "قفیز الطحان" کہا جاتا ہے) شریعت میں ممنوع اور عقدِ فاسد ہے،اس لیے یہاں دونوں کی خوشی اس ممنوعہ شرط کو جائز نہیں کر سکتی۔
اگر ذبح کرنے سے پہلے یا ذبح کرتے وقت یہ شرط لگائی جائے کہ آپ یہ گائے ذبح کر دیں،اس کے بدلے آپ کو اسی گائے کا اتنا گوشت دیا جائے گاتو یہ عقد فاسد (ناجائز) ہے،اس کی وجہ یہ ہے کہ ذبح سے پہلے وہ گوشت ابھی شرعی اور حسی طور پر موجود ہی نہیں ہوتا۔
اگر وہ دونوں اس معاملے کو جائز طریقے سے کرنا چاہتے ہیں، تاکہ گناہ سے بھی بچ جائیں اور مقصد بھی حاصل ہو جائے، تو اس کا طریقہ یہ ہے:معاہدہ کرتے وقت یہ شرط یا قید ہرگز نہ لگائیں کہ اسی ذبح ہونے والے جانور کا گوشت دینا لازم ہے۔
قصائی اس متقی شخص سے یوں معاملہ طے کرے کہ آپ یہ گائے ذبح کر دیں، آپ کی اجرت ۵ کلو عمدہ گوشت ہوگی(یہاں گوشت قصائی کے ذمے دین واجب ہو گیا،خواہ وہ کہیں سے بھی لا کر دے)۔
جب وہ صاحب جانور ذبح کر کے فارغ ہو جائیں تو اب قصائی کے لیے شرعاً یہ بالکل جائز ہے کہ وہ اپنے اسی ذبح شدہ جانور کے گوشت میں سے تول کر طے شدہ مقدار ان کو بطورِ اجرت دے دے۔
جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری میں اس نوعیت کے معاملے کے جواز کا طریقہ صراحت کے ساتھ بیان کیا گیاہے:
’’والحيلة في ذلك لمن أراد الجواز أن يشترط صاحب الحنطة قفيزاً من الدقيق الجيد ولم يقل من هذه الحنطة... ثم إذا جاز يجوز أن يعطيه ربع دقيق هذه الحنطة إن شاء. كذا في المحيط‘‘۔
ترجمہ: اور جو شخص جواز چاہتا ہواس کے لیے (شرعی) حیلہ یہ ہے کہ گندم کا مالک (معاہدے کے وقت) عمدہ آٹے کی ایک مقدار شرط کرے اور یہ نہ کہے کہ 'اسی گندم سےدیا جائے گاپھر جب (یہ عقد عام رکھنے کی وجہ سے) جائز ہو جائے تو بعد میں مالک اگر چاہے تو اسی گندم کا پسا ہوا آٹا بھی اسے (اجرت میں) دے سکتا ہے،ایسا ہی المحیط میں ہے۔
(کتاب الإجارة،الباب الخامس عشر، جلد:۴،صفحہ ۴۴۴ مطبوعہ رشیدیة)
واللہ اعلم بالصواب
مفتی محمد اظہار القیوم صدیقی
درالافتاء اہلسنت سانگلہ ہل

سوال:اگر کوئی صاحبِ نصاب (مالدار) شخص سود یا کسی اور حرام رقم سے قربانی کا جانور خرید کر ذبح کر لے تو کیا اس کی واجب قرب...
22/05/2026

سوال:
اگر کوئی صاحبِ نصاب (مالدار) شخص سود یا کسی اور حرام رقم سے قربانی کا جانور خرید کر ذبح کر لے تو کیا اس کی واجب قربانی ادا مانی جائے گی یا اسے حلال مال سے دوبارہ قربانی کرنی ہوگی؟
الجواب:
مذکورہ صورتحال میں اگر کسی شخص کے پاس موجود تمام سرمایہ حرام ہویا اس کی کمائی کا زیادہ تر حصہ ناجائز ذرائع سے حاصل شدہ ہوتو ایسے مال سے قربانی کرنا شرعاً جائز نہیں ہے،اللہ رب العزت پاکیزہ ہےاوروہ صرف حلال و پاکیزہ مال سے کی گئی عبادت اور صدقہ ہی قبول فرماتا ہے،مزید برآں جس شخص کے پاس صرف اور صرف حرام مال ہواس پر قربانی کی شرعی ذمہ داری(وجوب) سرے سے عائد ہی نہیں ہوتی،البتہ اگر اس کے پاس حلال ذرائع سے حاصل کردہ اتنی رقم یا اثاثے موجود ہوں جو نصاب کے برابر ہوں تو اس پر حلال پیسے سے قربانی کرنا واجب ہوگا۔
حرام مال پر قربانی کے واجب نہ ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ناجائز طریقے سے حاصل کیے گئے مال پر قبضہ کر لینے سے انسان اس کا شرعی مالک نہیں بن جاتا،ایسے مال کے بارے میں شریعت کا حکم یہ ہے:
اگر مال بغیر کسی معاوضے کے (مثلاً چوری یا رشوت سے) ملا ہوتو اسے اصل مالک یا اس کے جائز وارثوں تک لوٹانا لازمی ہے۔
اگر اصل مالک کا علم نہ ہو یا مال کسی معاوضے (مثلاً سود یا حرام کاروبار) کے بدلے حاصل ہوا ہوتو اس پورے مال کو ثواب کی نیت رکھے بغیر زکوٰۃ کے مستحق افراد کو بطورِ صدقہ دینا واجب ہے،چونکہ اللہ تعالیٰ ناپاک اور حرام مال سے کیا گیا کوئی بھی صدقہ و خیرات قبول نہیں فرماتا،اس لیے ایسے مال پر قربانی کی عبادت بھی لازم نہیں آتی،جہاں تک سائل کے اس سوال کا تعلق ہے کہ قربانی دوبارہ کرنی ہوگی یا نہیں؟ تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر جانور خریدتے وقت اسی حرام یا سود کی رقم کو متعین کر کے سودا کیا گیا تھاتو وہ قربانی معتبر نہیں ہوگی اور حلال مال سے دوبارہ قربانی کرنا لازم ہوگا۔
درمختار جلد دوم صفحہ 291 پر ہے:
“في القنيةلو كان الخبيث نصاباً لايلزمه الزكاة لأن الكل واجب التصدق عليه فلايفيد إيجاب التصدق ببعضه“
ترجمہ:
کتاب القنیہ میں بیان کیا گیا ہے کہ اگر (کسی شخص کے پاس) حرام یا ناپاک مال نصاب کے برابر بھی ہوتب بھی اس پر زکوٰۃ لازم نہیں ہوگی کیونکہ اس پورے کے پورے مال کا ہی صدقہ کر دینا واجب ہے،چنانچہ اس پورے مال میں سے محض کچھ حصے (یعنی زکوٰۃ) کے صدقے کا حکم دینا کوئی فائدہ نہیں دے گا (جبکہ پورا مال ہی واجبِ تصدق ہو)۔
واللہ اعلم بالصواب
دارالافتاء اہلسنت سانگلہ ہل

معلمِ دین، مدرس جامعہ قیوم عالم مرکز مکان شریف،حضرت علامہ محمد عثمان عارف قادری (حفظہ اللہ تعالی) (Űşmäñ Æŕíf)جامعہ صدیق...
17/05/2026

معلمِ دین، مدرس جامعہ قیوم عالم مرکز مکان شریف،حضرت علامہ محمد عثمان عارف قادری (حفظہ اللہ تعالی) (Űşmäñ Æŕíf)جامعہ صدیقیہ مجددیہ (سانگلہ ہل) تشریف لائے۔

مکتبہ معارف صدیقیہ سے شائع ہونے والی کتاب”تحقیق ماتم”پیش کی گئی۔
ایڈمن: احمد نعمان طاہر

🌹خوشخبری برائے قارئین و محققین!🌹استاذالعلماء،مناظر اہلسنت،فاتح رافضیت،شیخ الحدیث حضرت علامہ محمد صدیق نقشبندی مجددی رحمۃ...
10/05/2026

🌹خوشخبری برائے قارئین و محققین!🌹

استاذالعلماء،مناظر اہلسنت،فاتح رافضیت،شیخ الحدیث حضرت علامہ محمد صدیق نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ کی مایہ ناز اور محققانہ تصنیف "تحقیقِ ماتم" بالآخر زیورِ طبع سے آراستہ ہو کر منظرِ عام پر آ گئی ہے۔

اللہ تعالیٰ اس علمی ورثے کو قبول فرمائے اور علمِ دین کے متلاشیوں کے لیے تاقیامت نافع بنائے، آمین۔

مکتبہ معارف صدیقیہ سانگلہ ہل

مکتبہ معارفِ صدیقیہ سانگلہ ہل کی علمی وتحقیقی کاوش:کتاب: الحکم القطع فی حرمۃ الجزع یعنی تحقیقِ ماتم تالیف: فاتحِ رافضیت،...
09/05/2026

مکتبہ معارفِ صدیقیہ سانگلہ ہل کی علمی وتحقیقی کاوش:
کتاب: الحکم القطع فی حرمۃ الجزع یعنی تحقیقِ ماتم
تالیف: فاتحِ رافضیت،مناظراسلام،شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا محمد صدیق نقشبندی مجددی علیہ الرحمہ (المتوفی 2011ء)
ترتیب و تدوین: محمد مظہر قیوم صدیقی(ایڈووکیٹ)

05/05/2026
02/05/2026

شیخ الحدیث ، مناظر اہلسنت، فاتح رافضیت، علامہ محمد صدیق نقشبندی مجددی علیہ الرحمہ سانگلہ ہل۔

ان شاءاللہ عزوجل۔
30/04/2026

ان شاءاللہ عزوجل۔

Address

Jamya Siddiqia Mujadadia
Sangla
1122

Telephone

+923224600901

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Jamya Sidiqia Mujadadia Sangla Hill posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Jamya Sidiqia Mujadadia Sangla Hill:

Shortcuts

Share

Category