Dar Ul Ifta Jamia Faridia Sahiwal

Dar Ul Ifta Jamia Faridia Sahiwal Jamia Faridia Sahiwal

سوال: جب قالین ناپاک ہوجائے کہ جسے دھونا لازمی ہے تو کیسے دھویا جائے؟ جبکہ وہ اتنا بڑا ہو کہ جس کا اٹھانا اور دھونا محال...
22/09/2026

سوال:
جب قالین ناپاک ہوجائے کہ جسے دھونا لازمی ہے تو کیسے دھویا جائے؟
جبکہ وہ اتنا بڑا ہو کہ جس کا اٹھانا اور دھونا محال ہے۔ کیا دھونا ہی لازمی ہوگا یا کوئی اور طریقہ بھی اپنایا جاسکتا ہے؟
یا قالین کو زمین کے حکم میں کرسکتے ہیں کہ خشک ہونے پر ہی اس کی طہارت کا یقین کرلیا جائے گا؟
جواب: اس حوالہ سے ملاحظہ ہو کہ علامہ شامی علامہ حصکفی رحمہما اللہ کی عبارت پر وضاحت کرتے ہیں:
و تطہر ارض بخلاف نحو بساط بیبسھا، ای حصیر و ثوب و بدن مما لیس ارضا و لا متصلا بھا اتصال قرار۔ (1)
ترجمہ: اور زمین خشک ہوجانے سے پاک ہو جائے گی برخلاف بچھونے جیسی چیزوں کے یعنی چٹائی، کپڑا اور بدن کہ جو چیزیں زمین نہیں ہیں اور نہ ہی زمین سے مستقل متصل ہیں۔
لہٰذا قالین ان اشیاء میں سے ہے جن کی طہارت دھونے کے علاوہ جائز نہیں لیکن اس وقت ایسے قالین ہوتے ہیں کہ جنہیں دھویا نہیں جاسکتا تو اس کو دھونے کا طریقہ مختلف اختیار کیا جاسکتا ہے۔ کہ پانی یا کوئی بھی طاہر مائع چیز اس پر بہا کر رگڑا جائے تاکہ نجاست کے اجزاء پانی میں شامل ہوجائیں پھر کسی چوس لینے والے آلہ سے پانی کو چوس لیا جائے یہ عمل نچوڑنے کے حکم میں ہوگا۔
دوسری صورت یہ ہے کہ استری یا کسی گرمی چھوڑنے والے آلہ کے ساتھ حرارت دی جائے جس سے پانی اڑجائے گا اور یہ عمل کم ازکم تین بار کیا جائے یہ اس لئے کہ قالین کے نیچے والی جانب ہمارے لیے غیر مرئیہ ہے۔ یا پھر اتنی بار تک دوہرایا جائے جب تک کہ نجاست کے تمام اجزاء خارج نہ ہوجائیں یہ اس صورت میں ہے کہ جب نجاست مرئیہ ہو۔
یہ نجاست کیونکہ زمین تک بھی ضرور پہنچی ہے اس لیے زمین کا پاک کرنا بھی ضروری ہے تو اس کےلئے اس کا خشک ہوجانا ہی کافی ہے۔ حضور نبی کریمﷺ فرماتے ہیں:
ذکاۃ الارض یبسھا۔ (2)
ترجمہ: زمین کی پاکیزگی اس کا خشک ہوجانا ہے۔
ابن ہمام حنفی فرماتے ہیں:
لا فرق بین الجفاف بالشمس والنار او الریح۔(3)
ترجمہ: سورج، آگ اور ہوا کے خشک کرنے میں کوئی فرق نہیں ہے۔
اور بدرالدین عینی نے بھی یہی وضاحت کی ہے۔(4) جبکہ علامہ شامی کی بھی ایسی ہی صراحت موجود ہے۔ (5)
اس لیے کسی طرح سے ہوا یا گرمی پہنچانے والے آلہ سے قالین کے نیچے سے زمین کو خشک کردیا جائےگا۔ ایک اور وضاحت کرتےہوئے امام شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
الحجر اذا اصابتہ النجاسۃ ان کان حجرا یتشرب النجاسۃ یکون یبسہ طہارۃ، و ان کان لایتشرب لا یطہر الا بالغسل۔(6)
ترجمہ: اور پتھر کو جب نجاست لگ جائے اگر پتھر نجاست کو پی لے تو اس کا خشک ہونا ہی طہارت ہے اور اگر نہ پیئے تو دھونے کے بغیر پاک نہ ہوگا۔
لہٰذا اگر پتھر یا اس کی مثل ایسا فرش لگا ہو جو پانی کو پینے کے قابل نہ ہوتو وہ قالین کے دھوئے جانے کے ساتھ ساتھ دھویا جائے گا لہٰذا جب قالین اور اس کے نیچے سے نجاست اور نجاست کے تمام اجزاء خارج کر دئیے جائیں گے۔ تو اس طرح سے فرش کا غسل بھی ہوجائے گا۔یقینا نجاست کی طرح پاک کرنے کےلیے بہایا جانے والا پانی بھی زمین تک پہنچے گا اور جب گرمی یا تپش دے کر پانی کو بخارات کی شکل میں اڑادیا جائے گا تو یقیناً نیچے تک تمام اثرات بخارات بن کر اڑ جائیں گے۔
حوالہ جات:
1۔ شامی ، رد المحتار، کتاب الہارۃ ، باب الانجاس ، ج : 1 ، ص : 512
2۔ المرغینانی،الہدایۃ،کتاب الطہارۃ،باب الانجاس و تطہیرھا ،ج:1، ص : 71
3۔ ابن ہمام، فتح القدیر ، کتاب الطھارۃ ، باب الانجاس ، ج : 1، ص : 200
4۔ عینی ، البنایۃ شرح الہدایۃ ، کتاب الطھارۃ ، باب الانجاس ، ج :1، ص:719
5۔ شامی ، رد المحتار، کتاب الہارۃ ، باب الانجاس ، ج : 1 ص : 513
6۔ شامی ، رد المحتار ، کتاب الہارۃ ، باب الانجاس ، ج : 1 ص : 513


سوال:مسجد کو نمائش کے لیے بنانا کیا باعثِ اجر و ثواب ہے؟جواب:مساجد عبادت الٰہی کےلیے بنائی جاتی ہیں، جن میں ذکرباری تعال...
25/06/2026

سوال:
مسجد کو نمائش کے لیے بنانا کیا باعثِ اجر و ثواب ہے؟

جواب:
مساجد عبادت الٰہی کےلیے بنائی جاتی ہیں، جن میں ذکرباری تعالیٰ اور تقویٰ جیسی پاکیزہ صفات کے ساتھ داخل ہوا جاتا ہے۔ اس لیے مساجد کو نمائش اور فخرومباہات کےلیے بنانا باعث ثواب نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن و احادیث میں بے شمار مقامات پر نیت کی خرابی کی وجہ سے عمل صالح کے ضائع ہوجانے کی وعیدات اورمثالیں موجود ہیں۔ مساجد صرف اللہ کےلیے ہیں ارشاد ہوتا ہے:

وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا۔ 1

ترجمہ: بے شک مساجد اللہ کےلیے(مخصوص) ہیں، سو اللہ کے ساتھ کسی اور کی پرستش مت کیا کرو۔

مسجد صرف عبادت اوررضاء الٰہی کا مرکز ہے اس لیے فخرومباہات کو اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ يُّذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهٗ۔ 2

ترجمہ: اور اس سے بڑا ظالم اور کون ہے جو اللہ کی مساجد میں اس کے نام کے ذکر سے منع کرے۔

مسجد ذکر الٰہی کا مقام ہے، جسے نمائش کےلیے تعمیر کرنا اللہ کی ناراضگی کا موجب ہے۔ اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:

لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَي التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْهِ ۭ فِيْهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَهَّرُوْا ۭوَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِيْنَ ۔ 3

ترجمہ: وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے ہی دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے، حق دار ہے کہ آپ اس میں قیام فرما ہوں اس میں ایسے لوگ ہیں جو(ظاہراً وباطناً) پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ طہارت شعار لوگوں سے محبت فرماتا ہے۔

اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْيَانَهٗ عَلٰي تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانٍ خَيْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْيَانَهٗ عَلٰي شَفَا جُرُفٍ ھَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ۔ 4

ترجمہ: بھلا وہ شخص جس نے اپنی عمارت(یعنی مسجد) کی بنیاد اللہ سے ڈرنے اور (اس کی) رضا وخوشنودی پر رکھی، بہتر ہے یا وہ شخص جس نے اپنی عمارت کی بنیاد ایسے گڑھے کے کنارے پر رکھی جو گرنے والا ہے، سو وہ (عمارت) اس معمار کے ساتھ ہی آتش دوزخ میں گر پڑی۔

ان آیات کریمہ اور سابقہ مسئلہ کے تحت بیان کی جانے والی احادیث، جن میں مساجد پر فخرومباہات کرنے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے، سے ثابت ہوا کہ نمائش کی غرض سے مساجد کی تعمیر باعث اجروثواب نہیں ہے۔

لاثواب الا بالنیۃ۔ 5
ترجمہ: ثواب (ثواب کی) نیت کے ساتھ(مخصوص) ہے (یعنی یہ نیت ہوگی تو ثواب ملے گا ورنہ نہیں)۔
اس قاعدہ کی بنیاد یہ حدیث پاک ہے:
انما الاعمال بالنیات۔ 6
ترجمہ: اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔
فقہاء نے اس حدیث کو اجر پر محمول کیا ہے۔ جس سے قاعدہ اخذ کیا کہ نیک کام نیکی کی نیت کے بغیر باعث اجر نہیں ہے۔

1 ۔ الجن 18/72
2 ۔ البقرۃ 114/2
3 ۔ التوبۃ108/9
4 ۔ التوبۃ109/9
5 ۔ ابن نجیم، الاشباہ والنظائر، الفن الاول فی القواعد، القاعدۃ الاولیٰ،ص:14
6 ۔ بخاری، الصحیح، کتاب بدء الوحی، باب کیف کان بدء الوحی، رقم:01



سوال:سیوریج والے پانی کو فلٹریشن کرنے کے بعد کیا وہ پاک ہو جائے گا؟جواب:بعض اشیاء اصلاً ناپاک ہوتی ہیں بعض عرضاً یعنی کس...
05/01/2026

سوال:
سیوریج والے پانی کو فلٹریشن کرنے کے بعد کیا وہ پاک ہو جائے گا؟

جواب:
بعض اشیاء اصلاً ناپاک ہوتی ہیں بعض عرضاً یعنی کسی سبب کے پائے جانے کی وجہ سے لہٰذا جب وہ سبب خارج ہوجائے تو پاکی لوٹ آتی ہے۔ لیکن جو اصلاً ناپاک ہیں ان کی پاکی کسی صورت بھی نہیں ہے۔ جو کسی سبب کی وجہ سے ناپاک ہوئی ہے اس کے پاک ہونے کی دو وجوہات ہیں۔ ناپاک چیز کے پاک ہونے کی دو صورتیں ہیں:
پہلی صورت یہ ہے کہ اس کی حالت بدل دی جائے جیسا کہ خمر کو سرکہ بنا دیا جائے تو پاک ہو جائے گا۔ کہ خمر اصلاً ناپاک نہیں ہے کیونکہ اصلاً تو انگور ہے جو حلال اورطیب ہے۔ صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:
لان بالتخلیل یزول الوصف المفسد و تثبت صفۃ الصلاح۔۔۔والاصلاح مباح۔ (حوالہ: ۔ المرغینانی، الھدایۃ،کتاب الاشربۃ، ج: 4،ص:502)
ترجمہ: اس لیے کہ سرکہ بنادینے سے نقصان دینے والا وصف زائل ہوجاتا ہے اور فائدہ کی صفت ثابت ہوجاتی ہے، لہٰذا جہاں فائدہ ہوگا وہ جائز ہوگا۔
صاحب رد المحتار فرماتےہیں:
ان الطہارۃ بانقلاب العین۔ (حوالہ: ۔ شامی ، رد المحتار ، کتاب الطہارۃ ، ج : 1 ، ص : 510)
ترجمہ: کسی چیز کے عین میں تبدیلی سے طہارت حاصل ہو جائے گی۔
دوسری صورت یہ ہے کہ اس میں سے ناپاک اجزاء کو خارج کر دیا جائے جیسا کہ کپڑے کو دھو کر، زمین اور اس کی اقسام کا دھوپ کے پڑنے کی وجہ سے پاک ہوجانا ہے، یا لوہا وغیرہ کو مٹی سے رگڑنے کے ساتھ پاک کرلیا جائے۔یعنی پانی، مٹی یا آگ کے ذریعہ سے اس نجاست کے اجزاء کو خارج کردیا جائے۔
صاحب درالمختار و ردالمحتار نے بھی کہا:
بکل مائع طاہر قالع للنجاسۃ ینعصر بالعصر۔(حوالہ:محمد بن علی بن محمد بن علی بن عبدالرحمن بن محمد الدمشقی الحنفی المعروف بالحصکفی ، تاریخ پیدائش: 1025ھ، علماء نے آپ کو فقیہ، اصولی، محدث، مفسر اور نحوی کہا ہے۔ جس سے آپ کی علمی قابلیت اور امت میں مقبولیت عامہ کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔کہ مسند افتاء الحنفیہ پر بھی جلوہ افروز رہے۔ کثیر کتب کے مصنف ہیں، تفسیر بیضاوی اور صحیح بخاری پر تعلیقات بھی تحریر کیں۔ تاریخ وفات: شوال 1088ھ۔ در المختار مع رد المحتار، کتاب الطہارۃ ، باب الانجاس ، 510)
ترجمہ: ہر پاک مائع جو کہ نجاست کو اکھاڑنے والی ہو اور نچوڑنے سے نچڑ جائے
اس سے نجاست حقیقیہ کو زائل کرنا جائز ہے۔
جس پانی میں انسانی فضلات یا دیگر غلاظتیں شامل ہوجائیں وہ پانی ناپاک ہوجائے گا۔ اور ناپاک ایسا کہ ناپاکی کے اجزاء اس کے اجزاء بن جائیں۔ فلٹریشن کے ساتھ نہ تو اس کی حالت کو بدلا جاسکتا ہے یعنی وہ پانی ہی رہے گا، اور نہ ہی اس کے اجزاء کو اس سے خارج کیا جاسکتا ہے کیونکہ فلٹریشن سے وہ چیزیں تو خارج ہوجائیں گی جو طبی لحاظ سے پانی کو خراب کردیتی ہیں لیکن اس سے ناپاک پانی کے خارج ہوجانے کی گارنٹی نہیں ہے۔اور سیورج میں صرف ناپاک پانی ہی نہیں ہوتا بلکہ اصل نجس پیشاب اور پاخانہ بھی اس میں شامل ہوتاہے۔لہٰذا جب تک پانی کے اندر نجس اصلی موجود ہے اس وقت تک پانی پاک نہیں ہوسکتا۔ اور پانی کے اندر سے فلٹریشن سے کئی طرح کے ذرات تو خارج کیے جاسکتے ہیں مگر پیشاب وغیرہ کو پانی سے جدا کرنا ناممکن ہے۔


اگر حوض میں سے وضو کرنے والوں کا ماء مستعمل اتنی مقدار کو پہنچتا ہے کہ وہ حوض کے پانی پر غالب آجاتا ہے تو اس سے سارا پا...
15/09/2025

اگر حوض میں سے وضو کرنے والوں کا ماء مستعمل اتنی مقدار کو پہنچتا ہے کہ وہ حوض کے پانی پر غالب آجاتا ہے تو اس سے سارا پانی مستعمل کے حکم میں ہوجائے گا جس سے طہارت حکمیہ جائز نہیں تو اگر اسے ماء مطلق بنانا ہو تو اس کے مندرجہ ذیل دو طریقے ہیں:

۱۔ اس کے اندر موجود پانی کی مقدار سے زیادہ ماء مطلق اس میں شامل کردیا جائے جس سے غلبہ ماء مطلق کا ہوگا اور سب پانی ماء مطلق کے حکم میں ہوجائے گا۔

۲۔ اس پانی کو ماء جاری بنادیا جائے جب ماء جاری بنے گا تو ماء مستعمل نہیں رہے گا بلکہ مطلق کے حکم میں آجائے گا۔ اور اسے جاری کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک طرف سے پانی داخل کیا جائے دوسری طرح سے خارج کیا جائے۔ اور ادخال و اخراج میں برابری ضروری نہیں ہے اگرچہ ایک طرف سے زیادہ ہے اور دوسری طرف سے کم ہے تو بھی ماء جاری کے حکم میں ہوجائے گا، جس سے ماء مطلق بن جائے گا۔

جب ماء مطلق بن جائے گا تو اس پانی سے حقیقی و حکمی طہارت حاصل کرنا جائز ہوجائے گا۔

تاریخ: 2025-09-15 | مفتی: ڈاکٹر مظہر فرید شاہ مہتمم و شیخ الحدیث جامعہ فریدیہ ساہیوال

Address

Jamia Faridia Sahiwal
Sahiwal
57000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dar Ul Ifta Jamia Faridia Sahiwal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share