27/09/2026
سلسلہ شان ساہیوال میں آج کی مہمان شخصیت ہیں
پروفیسر محمد رفیق اذفر ماہرِ تعلیم، ادیب، شاعر اور مربی،
پروفیسر محمد رفیق اذفر پاکستان کے ممتاز ماہرِ تعلیم و تربیت، استاد، ادیب، شاعر اور دینی و روحانی شخصیت ہیں۔ کئی دہائیوں پر محیط ان کی زندگی تدریس، تعلیمی انتظام، دینی و اخلاقی تربیت اور ادب سے وابستہ رہی ہے۔ فارسی اور اردو میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ انہوں نے تدریس اور تعلیمی اداروں کی سربراہی میں طویل عرصہ خدمات انجام دیں۔ ان کے شاگرد پاکستان کے مختلف شہروں اور شعبہ ہائے زندگی میں موجود ہیں۔
پروفیسر محمد رفیق اذفر 1938ء کو تحصیل اوکاڑہ ضلع منٹگمری/ساہیوال میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے ایف اے گورنمنٹ کالج ساہیوال سے کیا۔ بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوئے، جہاں سے بی اے آنرز کی ڈگری حاصل کی اور یوں انہیں راوین (Ravian) ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔
اعلیٰ تعلیم کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے فارسی میں ایم اے کیا۔ بعد میں اسی ادارے سے اردو میں بھی ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ فارسی اور اردو زبان و ادب کا یہ باقاعدہ اور گہرا مطالعہ ان کی تدریسی اور ادبی زندگی میں نمایاں رہا۔
رسمی تعلیم کے ساتھ پروفیسر محمد رفیق اذفر نے دینی تعلیم اور روحانی تربیت بھی ممتاز اہلِ علم اور مشائخ سے حاصل کی۔ ان کے اساتذہ اور مربیان میں مولانا ضیاء الدین، مولانا حبیب اللہ فاضل رشیدی، حضرت مولانا عبدالعزیز رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت سید نفیس الحسینی رحمۃ اللہ علیہ شامل ہیں۔
انہیں قطب الاقطاب حضرت سید نفیس الحسینی رحمۃ اللہ علیہ سے خصوصی روحانی نسبت حاصل رہی اور وہ ان کے خلیفۂ مجاز ہیں۔ پروفیسر مولانا میاں محمد افضل رحمۃ اللہ علیہ سے بھی ان کا نہایت قریبی تعلق رہا؛ وہ ان کے پیر بھائی اور قریبی ساتھیوں میں شامل تھے۔
پروفیسر محمد رفیق اذفر نے باقاعدہ تدریسی زندگی کا آغاز 1962ء میں گورنمنٹ کالج مستونگ، بلوچستان سے بطور لیکچرار کیا۔ اس زمانے سے شروع ہونے والا ان کا تدریسی سفر کئی دہائیوں تک جاری رہا۔
پھر 1963میں وہ ساہیوال میں امامیہ کالج کے قیام سے وابستہ ہوئے۔ یہ ادارہ ان کے استاد پروفیسر محمد امین کی نگرانی میں ایک پرائیویٹ کالج کے طور پر شروع کیا گیا تھا۔ پروفیسر رفیق اذفر نے اس ادارے میں تدریسی اور انتظامی ذمہ داریاں انجام دیں۔
ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں دیگر متعدد تعلیمی اداروں کے ساتھ امامیہ کالج بھی نیشنلائز ہوگیا اور گورنمنٹ امامیہ کالج کی حیثیت اختیار کرگیا۔ نیشنلائزیشن کے بعد بھی پروفیسر رفیق اذفر اس ادارے سے وابستہ رہے اور مجموعی طور پر دس سال سے زائد عرصہ گورنمنٹ امامیہ کالج ساہیوال کے پرنسپل کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
طویل تدریسی اور انتظامی خدمات کے بعد وہ 1998ء میں سرکاری ملازمت سے ریٹائر ہوئےپروفیسر رفیق اذفر کی تدریسی زندگی کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ گورنمنٹ کالج مستونگ سے لے کر امامیہ کالج ساہیوال اور بعد کے تعلیمی سفر تک بڑی تعداد میں طلبہ نے ان سے تعلیم اور تربیت حاصل کی۔ ان کے شاگرد آج ساہیوال یا پنجاب تک محدود نہیں بلکہ پورے پاکستان میں مختلف شعبوں میں موجود ہیں۔
ان کی شخصیت میں استاد کا کردار محض نصابی تعلیم تک محدود نہیں رہا۔ طلبہ کی اخلاقی اور دینی تربیت بھی ان کی توجہ کا حصہ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان سے تعلیم حاصل کرنے والے بہت سے افراد انہیں اپنے استاد کے ساتھ ساتھ مربی کی حیثیت سے بھی یاد کرتے ہیں۔
سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پروفیسر رفیق اذفر نے تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری رکھا۔ مارچ 2002ء میں انہوں نے ساہیوال میں ’’الفِ ثانی سکول‘‘ کی بنیاد رکھی۔ وہ اس ادارے کے بانی مبانی ہیں۔
الفِ ثانی سکول، پاک ایونیو کالونی ساہیوال میں قائم ہے اور پروفیسر رفیق اذفر تادمِ تحریر اس کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے وابستہ ہیں۔
اس ادارے کے قیام کا نمایاں پہلو انگلش میڈیم عصری تعلیم کے ساتھ قرآن مجید اور دینی تعلیم کو شامل کرنا تھا۔ اس طرح بچوں کو سکول کی باقاعدہ تعلیم کے ساتھ قرآن اور بنیادی دینی و اخلاقی تربیت فراہم کرنے کا اہتمام کیا گیا۔ ساہیوال میں انگلش میڈیم تعلیم اور قرآنی تعلیمات کے اس امتزاج کو متعارف کرانے میں پروفیسر رفیق اذفر کا اہم کردار رہا ہے۔
تعلیم و تدریس کے ساتھ پروفیسر رفیق اذفر کا ادب سے تعلق بھی بہت گہرا ہے۔ اردو اور فارسی میں اعلیٰ تعلیم کی وجہ سے انہیں دونوں زبانوں کے کلاسیکی اور جدید ادب سے گہری واقفیت حاصل ہے۔
وہ خود بھی صاحبِ کلام شاعر ہیں اور فارسی، اردو اور پنجابی تینوں زبانوں میں شاعری کرتے رہے ہیں۔ ان کا شعری مجموعہ ’’مشکِ اذفر‘‘ کے نام سے موجود ہے، جس میں ان کا منتخب کلام شامل ہے۔ ان کی ادبی شناخت میں شاعری کے ساتھ فارسی اور اردو زبان و ادب سے ان کی طویل وابستگی بھی شامل ہے۔
پروفیسر محمد رفیق اذفر کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو ان کی دینی وابستگی ہے۔ علمی اور انتظامی ذمہ داریوں کے ساتھ وہ دینی تعلیم، اصلاح اور نئی نسل کی تربیت سے مسلسل وابستہ رہے ہیں۔ خصوصاً امتِ مسلمہ کی نئی نسل کے دین، ایمان، اخلاق اور تعلیم و تربیت کے معاملات ان کی توجہ کا اہم حصہ رہے