Al Hamad Online Quuran Aacademy

Al Hamad Online Quuran Aacademy

Share

Qualifiied in Quranic Education And Teaching Quran All over Tha World

22/03/2025

ایک چوہا کسان کے گھر میں بل بنا کر رہتا تھا، ایک دن
چوہے نے دیکھا کہ کسان اور اس کی بیوی ایک تھیلے
سے کچھ نکال رہے ہیں،چوہے نے سوچا کہ شاید کچھ کھانے کا سامان ہے-

خوب غور سے دیکھنے پر اس نے پایا کہ وہ ایک چوهےدانی تھی-

خطرہ بھانپنے پر اس نے گھر کے پچھلے حصے میں جا کر کبوتر کو یہ بات بتائی کہ گھر میں چوهےدانی آ گئی ہے-

کبوتر نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ مجھے کیا؟ مجھے کون سا اس میں پھنسنا ہے؟

مایوس چوہا یہ بات مرغ کو بتانے گیا

مرغ نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ... جا بھائی یہ میرا مسئلہ نہیں ہے تو اپنا کام خود کر
مایوس چوہے نے دیوار میں جا کر بکرے کو یہ بات بتائی ... اور بکرا ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہونے لگا-

*اسی رات چوهےدانی میں كھٹاك کی آواز ہوئی جس میں ایک زہریلا سانپ پھنس گیا تھا-*

اندھیرے میں اس کی دم کو چوہا سمجھ کر کسان کی بیوی نے اس کو نکالا اور سانپ نے اسے ڈس لیا-

طبیعت بگڑنے پر کسان نے حکیم کو بلوایا،

حکیم نے اسے کبوتر کا سوپ پلانے کا مشورہ دیا،

کبوتر ابھی برتن میں ابل رہا تھا کہ اچانک سے

خبر سن کر کسان کے کئی رشتہ دار ملنے آ پہنچے جن کے کھانے کے انتظام کیلئے اگلے دن مرغ کو ذبح کیا گیا

کچھ دنوں کے بعد کسان کی بیوی مر گئی ... جنازہ اور موت ضیافت میں بکرا پروسنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا ......

*چوہا دور جا چکا تھا ... بہت دور ............

اگلی بار کوئی آپ کو اپنے مسئلے بتائے اور آپ کو لگے کہ یہ میرا مسئلہ نہیں ہے تو انتظار کیجئیے اور دوبارہ سوچیں .... *ہم سب خطرے میں ہیں ....*

سماج کا ایک عضو، ایک طبقہ، ایک شہری خطرے میں ہے تو پورا ملک خطرے میں ہے ....

ذات، مذہب اور طبقے کے دائرے سے باہر نكليے-
میرا اشارہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے مظلوم مسلمانوں کی طرف ہے

خود تک محدود مت رہیے- دوسروں کا احساس کیجئے
ورنہ اپنی باری کا انتظار کریں
😥یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود !!اپنَـــ͜ـؔــا ضَمِیــ͜ـؔـــر مُطمئـــ͜ـؔــن ھے ؛؛💯
بھَـــ͜ـؔــاڑ مِیِــ͜ـؔــں جائیں مُنافِــ͜ـؔــق لــ͜ـؔــوّگ🔥

19/03/2025

ایک چوہا کسان کے گھر میں بل بنا کر رہتا تھا، ایک دن
چوہے نے دیکھا کہ کسان اور اس کی بیوی ایک تھیلے
سے کچھ نکال رہے ہیں،چوہے نے سوچا کہ شاید کچھ کھانے کا سامان ہے-

خوب غور سے دیکھنے پر اس نے پایا کہ وہ ایک چوهےدانی تھی-

خطرہ بھانپنے پر اس نے گھر کے پچھلے حصے میں جا کر کبوتر کو یہ بات بتائی کہ گھر میں چوهےدانی آ گئی ہے-

کبوتر نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ مجھے کیا؟ مجھے کون سا اس میں پھنسنا ہے؟

مایوس چوہا یہ بات مرغ کو بتانے گیا

مرغ نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ... جا بھائی یہ میرا مسئلہ نہیں ہے-

مایوس چوہے نے دیوار میں جا کر بکرے کو یہ بات بتائی ... اور بکرا ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہونے لگا-

*اسی رات چوهےدانی میں كھٹاك کی آواز ہوئی جس میں ایک زہریلا سانپ پھنس گیا تھا-*

اندھیرے میں اس کی دم کو چوہا سمجھ کر کسان کی بیوی نے اس کو نکالا اور سانپ نے اسے ڈس لیا-

طبیعت بگڑنے پر کسان نے حکیم کو بلوایا،

حکیم نے اسے کبوتر کا سوپ پلانے کا مشورہ دیا،

کبوتر ابھی برتن میں ابل رہا تھا کہ اچانک

خبر سن کر کسان کے کئی رشتہ دار ملنے آ پہنچے جن کے کھانے کے انتظام کیلئے اگلے دن مرغ کو ذبح کیا گیا

کچھ دنوں کے بعد کسان کی بیوی مر گئی ... جنازہ اور موت ضیافت میں بکرا پروسنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا ......

*چوہا دور جا چکا تھا ... بہت دور .....

اگلی بار کوئی آپ کو اپنے مسئلے بتائے اور آپ کو لگے کہ یہ میرا مسئلہ نہیں ہے تو انتظار کیجئیے اور دوبارہ سوچیں .... *ہم سب خطرے میں ہیں ....*

سماج کا ایک عضو، ایک طبقہ، ایک شہری خطرے میں ہے تو پورا ملک خطرے میں ہے ....

ذات، مذہب اور طبقے کے دائرے سے باہر نكليے-
میرا اشارہ فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی طرف ہے

خود تک محدود مت رہیے- دوسروں کا احساس کیجئے
ورنہ اپنی باری کا انتظار کریں...!

16/03/2025

پرانے زمانے میں ایک امیر آدمی اپنے خادم کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔ جب رات ہوئی تو انہوں نے ایک سرائے میں قیام کیا، اس امیر آدمی کا گھوڑا بہت قیمتی تھا اسے ڈر تھا کہ کہیں رات کو خادم بھی سو گیا تو میرا قیمتی گھوڑا چوری نہ ہو جائے، اس لئے اس نے خادم کو حکم دیا کہ تم ایسا کرو گھوڑا چونکہ بہت تھکا ہوا ہے اس لئے تم رات بھر گھوڑے کی مالش کرتے رہو جب تک میں نہ کہوں تم بس گھوڑے کو ملتے رہنا، یہ کہ کر وہ تو بے فکر ہو کر سو گیا ادھر خادم بیچارہ بھی دن بھر کے سفر سے تھکا ہوا تھا کیونکہ وہ بیچارہ تو اپنے مالک کے ساتھ ساتھ دن بھر پیدل چلتا رہا ، بہرحال اس نے مالک کے حکم کو بجا لاتے ہوئے گھوڑے کو ملنا یعنی مالش شروع کر دی لیکن آخرکار تھکاوٹ کی وجہ سے جلد ہی اس پر بھی نیند غالب آ گئی اور وہ بھی سو گیا۔

جب اس کی نیند پوری ہوئی اور ہڑبڑا کر جب جاگا اور ادھر ادھر دیکھا تو گھوڑا غائب تھا بہت پریشان ہوا کہ اب مالک کو کیا جواب دوں گا پریشانی کے عالم میں اِدھر اُدھر نظر دوڑائی تو اسے پاس ہی ایک خرگوش نظر آیا کچھ سوچ کر اس نے خرگوش کو پکڑا اور اس پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ اتنے میں اس کا مالک بھی بیدار ہو گیا اس نے جب خادم کو دیکھا تو وہ گھوڑے کی بجائے خرگوش کو سہلا رہا تھا اسے بہت غصّہ آیا اس نے خادم سے پوچھا گھوڑا کدھر ہے تو خادم نے کتراتے ہوئے جواب دیا کہ یہی تو ہے گھوڑا رات بھر ملتے ملتے بس اتنا ہی رہ گیا ہے۔
پھر کیا ہونا تھا.
کہنے کو تو یہ ایک پرُ مزاح مثال ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو اس میں موجودہ دور میں دینِ اسلام کے ساتھ ہمارے شرمناک رویّے کی صحیح عکّاسی ہوتی ہے کہ آج ہم نے بھی اپنی زندگیوں سے اسلامی احکامات و روایات اور تعلیمات کو مٙل مٙل کر اتنا محدود کر دیا ہے کہ ہم بس نام کے مسلمان رہ گئے ہیں۔۔
😀😀😀😀😀😀

#فنی #کہانی #سٹوری

14/03/2025

"ذلیل" صاحب چائے لاؤں
مشہور سندھی ادیب امر جلیل صاحب نے اسلام آباد میں ایک بنگالی باورچی رکھا۔ اب ظاہر ہے، بندہ کھانا زبردست بناتا تھا لیکن زبان کا ذائقہ کچھ الگ ہی تھا۔
جب بھی مہمان آتے، وہ نہایت عزت سے پوچھتا:
"ذلیل صاحب! چائے لاؤں؟"
مہمانوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی، اور جلیل صاحب کے ماتھے پر پسینہ۔
جلیل صاحب نے نرمی سے کئی بار سمجھایا،
"بیٹا! میں جلیل ہوں… ذلیل نہیں!"
لیکن بندہ پورے اعتماد سے ہر بار وہی:
"ذلیل صاحب، کچھ اور تو نہیں چاہیے؟"
جلیل صاحب تنگ آ گئے۔ آخر کسی اور بنگالی دوست نے مشورہ دیا،
"مسئلہ یہ ہے کہ ہم بنگالی لوگ ج کو ز اور ز کو ج بولتے ہیں۔
آپ اپنا نام ذلیل لکھ کر دے دیں، وہ خود بخود جلیل کہنا سیکھ جائے گا۔"
امید کی کرن چمکی۔ فوراً کاغذ پر لکھا: ذلیل
اب تو کمال ہو گیا! جب بھی باورچی بلاتا، بولتا:
"جلیل صاحب! چائے لاؤں؟"
لیکن لہجہ کچھ ایسا طنزیہ سا ہوتا جیسے دل میں ہنسی دبا رہا ہو۔
اب جلیل صاحب کی مشکل دوگنی ہوچکی تھی کیونکہ:
"پہلے وہ مجھے 'ذلیل' کہتا تھا لیکن سمجھتا جلیل تھا۔
اب وہ مجھے 'جلیل' کہتا ہے لیکن سمجھتا ذلیل ہے!
😜😜😜😜

13/03/2025

آئیں تھوڑا مسکرا لیجیے! 😀😂

ایک وکیل صاحب نے ایک استاد کو اپنا کنواں بیچ دیا۔ دو دن بعد وکیل صاحب استاد کے پاس آئے اور کہنے لگے:

"معلم صاحب، میں نے آپ کو کنواں بیچا ہے، اس کا پانی نہیں! اگر پانی استعمال کریں گے تو اس کے پیسے الگ سے دینے ہوں گے۔"

استاد مسکرائے اور بولے:
"جی بالکل! میں بھی آپ کے پاس آنے والا تھا۔ کہنا یہ تھا کہ آپ اپنا پانی میرے کنویں سے نکال لیں، نہیں تو کل سے کرایہ بھرنا ہوگا!"

یہ سن کر وکیل گھبرا گئے اور بولے:
"اجی، میں تو بس مذاق کر رہا تھا!"

استاد نے ہنستے ہوئے جواب دیا:
"وکیل صاحب، آپ جیسے ہی ہمارے پاس پڑھ کر وکیل بنتے ہیں!"

🌟 اساتذہ کو سلام! 🌟

Want your school to be the top-listed School/college in Sahiwal?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Chicha Watni
Sahiwal

Opening Hours

09:00 - 17:00