26/09/2024
ڈاکٹر ذاکر نائیک پاکستان ٹوور
آج کل کوئی آتا نہیں اور کوئی جاتا نہیں۔۔۔ ہر وقت ہر ایک عالم و سکالر ہر کسی کے موبائل میں ہوتا ہے۔ اس کے بعد آنے جانے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ بہت سے لوگ پریشان ہیں کہ یہ غلط نظریات پھیلا جائیں گے اور بہت سے لوگ خوش ہیں کہ یہ غلط نظریات مٹا جائیں گے۔ سکون سے رہیں نہ کچھ پھیلا جائیں گے اور نہ ہی کچھ مٹا جائیں گے۔ ماننے والے ان کے آنے سے پہلے ہی سب کچھ مانے بیٹھے ہیں اور رد کرنے والے پہلے ہی رد کیے بیٹھے۔ وہ آئیں گے اور کچھ کہیں گے تو کون کیا مانے گا کیا رد کرے گا؟ ڈاکٹر صاحب آئیں گے اور چلے جائیں گے سب معاملات اپنے معمول پر ہی جاری رہیں گے۔ کوئی فرق نہیں پڑے گا بس صرف اتنا ہی کہ کچھ وقت بحث و مباحثہ اور سوشل میڈیا گرم رکھنے کو کچھ باتیں مل جائیں گی۔
وہ مہمان ہیں، مہمان کی تکریم کی جاتی ہے، سننے والے سنیں اور نہ سننے والے اپنے شب و روز میں مصروف رہیں۔
ان سے امت کو جو اختلافات ہیں ان سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ خاص طور پر رسول اللهﷺ کی حیات اور یزید کے معاملہ پہ جو انہوں نے موقف دیا ایسا موقف رکھنے والے شخص کو قبول کرنا کوئی آسان کام نہیں اور ایسا ہو بھی نہیں سکتا۔
ڈاکٹر صاحب تقابل ادیان کے ماہر ہیں انہیں اپنے موضوع پر کلام کرنا چاہیے اور جس سطح پر وہ موجود ہیں انہیں دین کی کلامی و فقہی معلومات کو بھی صحیح کر لینا چاہیے۔ کہ جو شخص غیر مسلموں کو اسلام کےلیے قائل کر رہا ہو خود مسلمان اس شخص کو عیب دے رہے ہوں اور بتا رہے ہوں کہ اسے اسلامی تعلیمات کا فہم نہیں تو یہ مناسب نہیں ہوگا۔
ڈاکٹر صاحب ملحدین و مستشرقین اور دیگر تمام مذاھب والوں کا رد کرنے کی خوب صلاحیت رکھتے ہیں اس میدان میں دین کے طلبہ کو چاہیے کہ انہیں سنیں۔ اس پہلو سے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔
غیر مسلمون سے بحث کا میدان عقل ہے۔ عقل قرآن و سنت کے برابر کبھی نہیں ہو سکتی۔ یہ ایک تاریخ ہے کہ جن علماء نے منطق و فلسفہ اور علوم عقلیہ میں زور لگایا انہوں نے علوم نقلیہ میں ضرور غلطی کی ہے۔ اسلاف میں کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن پر ان کے عقلی استدلالات کی وجہ سے ایسے ہی فتوے لگے جیسے آج ان پر لگائے جا رہے ہیں۔ فتوے تب بھی ٹھیک تھے اور اب بھی۔ لیکن فرق یہ آ گیا ہے جن پہلے والوں پر فتوی لگے ان کے متعلق علماء کہتے ہیں ان سے منطق و فلسفہ کے دلائل اور علوم نقلیہ سیکھو۔ اس مقصد کےلیے ان کی کتب، تفاسیر وغیرہ سب کچھ پڑھو۔ علوم نقلیہ تو تم نے ابوحنیفہ و بخاری سے لینے ہیں۔ لہذا اُن کو پڑھنے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ لیکن آج کا فتوی یہ گنجائش نہیں چھوڑتا۔