22/04/2026
گورنمنٹ ہائی سکول 75/12 ایل میں جاری "صفائی ستھرائی مہم" کی تصاویر۔
basic information about education system of pakistan About an ideal village of Punjab.
22/04/2026
گورنمنٹ ہائی سکول 75/12 ایل میں جاری "صفائی ستھرائی مہم" کی تصاویر۔
15/04/2026
ہیڈ ماسٹر محمد الیاس صاحب کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر لی گئیں یاد گار تصاویر۔
گورنمنٹ ہائی سکول 75/12L
09/02/2026
چاچا فیاض کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر سکول سٹاف کے ہمراہ لی گئیں یاد گار تصاویر
02/05/2025
چاچا محمد حنیف کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر لی گئیں یاد گار تصاویر۔
مورخہ : 2 مئی 2025
14/03/2022
Celebrating culture day in GHS 75/12-L
14/03/2022
سکول ہذا گورنمنٹ ہائی سکول 75/12 ایل کے معزز اور مشفق استاد "استاد احمد علی صاحب" قضائے الہی سے وفات پا گئے ہیں ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون . جنازہ صبح (24 جنوری) ساڑھے دس بجے چک 76/12 ایل میں ادا کیا جائے گا۔
31/03/2020
31 مارچ 2020
آٹھویں 8th جماعت کا رزلٹ
گورنمنٹ ہائی سکول 75/12 ایل
16/03/2020
الوداعی پارٹی چاچا بشیر مالی
گورنمنٹ ہائی سکول 75/12 ایل تحصیل چیچہ وطنی ضلع ساہیوال
مارچ 2020
*دنیا کا واحد گناہ جہالت ھے*
ایک چھوٹا لڑکا بھاگتا ھوا "شیوانا" (قبل از اسلام کے ایران کا ایک مفکّر) کے پاس آیا اور کہنے لگا.. "میری ماں نے فیصلہ کیا ھے کہ معبد کے کاھن کے کہنے پر عظیم بُت کے قدموں پر میری چھوٹی معصوم سی بہن کو قربان کر دے.. آپ مہربانی کرکے اُس کی جان بچا دیں.."
شیوانا لڑکے کے ساتھ فوراً معبد میں پہنچا اور کیا دیکھتا ھے کہ عورت نے بچی کے ھاتھ پاؤں رسیوں سے جکڑ لیے ھیں اور چھری ھاتھ میں پکڑے آنکھ بند کئے کچھ پڑھ رھی ھے.. بہت سے لوگ اُس عورت کے گرد جمع تھے اور بُت خانے کا کاھن بڑے فخر سے بُت کے قریب ایک بڑے پتّھر پر بیٹھا یہ سب دیکھ رھا تھا.. شیوانا جب عورت کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ اُسے اپنی بیٹی سے بے پناہ محبّت ھے اور وہ بار بار اُس کو گلے لگا کر والہانہ چوم رھی ھے مگر اِس کے باوجود معبد کدے کے بُت کی خوشنودی کے لئے اُس کی قربانی بھی دینا چاھتی ھے..
شیوانا نے اُس سے پوچھا کہ وہ کیوں اپنی بیٹی کو قربان کرنا چاہ رھی ھے.. عورت نے جواب دیا.. "کاھن نے مجھے ھدایت کی ھے کہ میں معبد کے بُت کی خوشنودی کے لئے اپنی عزیز ترین ھستی کو قربان کر دوں تا کہ میری زندگی کی مشکلات ھمیشہ کے لئے ختم ھو جائیں.."
شیوانا نے مسکرا کر کہا.. "مگر یہ بچّی تمہاری عزیز ترین ھستی تھوڑی ھے..؟ اِسے تو تم نے ھلاک کرنے کا ارداہ کیا ھے.. تمہاری جو ھستی سب سے زیادہ عزیز ھے وہ تو پتّھر پر بیٹھا یہ کاھن ھے کہ جس کے کہنے پر تم ایک پھول سی معصوم بچّی کی جان لینے پر تُل گئی ھو.. *یہ بُت احمق نہیں ھے.. وہ تمہاری عزیز ترین ھستی کی قربانی چاھتا ھے.. تم نے اگر کاھن کی بجائے غلطی سے اپنی بیٹی قربان کر دی تو یہ نہ ھو کہ بُت تم سے مزید خفا ھو جائے اور تمہاری زندگی کو جہنّم بنا دے.."*
عورت نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بچّی کے ھاتھ پاؤں کھول دیئے اور چھری ھاتھ میں لے کر کاھن کی طرف دوڑی مگر وہ پہلے ھی وھاں سے جا چکا تھا.. کہتے ھیں کہ اُس دن کے بعد سے وہ کاھن اُس علاقے میں پھر کبھی نظر نہ آیا..
*دنیا میں صرف آگاھی کو فضیلت حاصل ھے اور واحد گناہ جہالت ھے..* جس دن ہم اپنے "کاہنوں" کو پہچان گئے ہمارے مسائل حل ہو جائیں گے !!