حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ . تَابَعَهُ جَرِيرٌ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ , وَأَبُو مُعَاوِيَةَ , وَمُحَاضِرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ .
نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” میرے اصحاب کو برا بھلا مت کہو ۔ اگر کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کر ڈالے تو ان کے ایک مد غلہ کے برابر بھی نہیں ہو سکتا اور نہ ان کے آدھے مد کے برابر ۔“ شعبہ کے ساتھ اس حدیث کو جریر ، عبداللہ بن داود ، ابومعاویہ اور محاضر نے بھی اعمش سے روایت کیا ہے ۔
Sahih Bukhari #3673
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی فضیلت
Status: صحیح
General & Islamic Knowledge
اس پیج پہ آپ کو ملیں گی مستند اور تحقیق شدہ جنرل اور اسلامی معلومات
10/06/2024
عشرہ ذوالحج کی فضیلت
ہر نماز میں پائی جانے والی چار (4) چیزیں
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ الْمَذْحِجِيِّ - قَالَ مُسْلِمٌ: أَبُو عُبَيْدٍ مَوْلَى سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ - عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَبَّحَ اللهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَحَمِدَ اللهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبَّرَ اللهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، فَتْلِكَ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ، وَقَالَ: تَمَامَ الْمِائَةِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ غُفِرَتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ
خالد بن عبداللہ نے ہمیں سہیل سے خبر دی ، انھوں نے ابوعبید مذحجی سے روایت کی ۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا : ابوعبید سلیمان بن عبدالملک کے مولیٰ تھے ۔ انھوں نے عطاء بن یزید لیثی سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی :’’ جس نے ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ «سبحان اللہ» تینتیس دفعہ «الحمد اللہ» اور تینتیس بار «اللہ اکبر» کہا ، یہ ننانوے ہو گئے اور سو پورا کرنے کے لیے «لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ، لہ الملک ولہ الحمد ، وہو علی کل شیء قدیر» کہا اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے ، چاہے وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں ۔‘‘
Sahih Muslim #1352
کتاب: مسجدوں اور نماز کی جگہوں کے احکام
Status: صحیح
11/10/2022
ڈاکٹر عبدالقدیر خان
عالِم کی فضیلت عابِد پرایسی ہے جیسے چودہویں کے چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر (کہ اس رات ستارے چاند کی چمک دمک کے سبب ماند پڑجاتے ہیں)
اور علماء انبیاء کے وارث ہیں
الحدیث
5 کلومیٹر میں آپکو 25 مساجد اور 15 مدرسے مل جائینگے لیکن 50 کلومیٹر میں ایسا بندہ نہیں ملیگا جس پر آپ اعتماد کر سکے۔
کچھ دن سے یہ جملہ تواتر سے سوشل میڈیا پر نظر آرہا ہے۔
کہنے والے کا مقصد یہ ہے کہ مدارس اور مساجد اپنی کثرت کے باوجود، عوام کی تربیت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
الگ الگ کچھ جائزہ لیتے ہیں:
میں اسلام آباد کے لحاظ سے بات کرتا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
سب سے پہلے مدارس کی بات۔
میری پیدائش اسلام آباد کی ہے ، تعلیم، روزگار سب اسی شہر میں ہوا۔
آج تک میں نے اپنے اردگرد ایسے رہائشی لوگ نہیں دیکھے جو اپنے بچوں کو مدارس بھیجتے ہوں یا کبھی سوچ بھی آتی ہو۔
مدارس میں نوے فیصد سے زیادہ بچے دور دراز کے پسماندہ علاقوں سے آتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام آباد کی رہائشی نسلوں کی تربیت میں مدارس کا ہاتھ نہیں رہا کیونکہ ہم لوگوں نے ہاتھ دیا ہی نہیں۔
۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرے نمبر پر مساجد کی بات کرتا ہوں۔
مساجد میں پانچ وقت کی نماز کا قیام، غالب مقصد ہے۔
کسی بھی محلے کی کتنی فیصد آبادی باجماعت نماز میں شریک ہوتی ہے؟
فجر میں کتنی صفیں بھری ہوتی ہیں؟
نمازِ جمعہ کے رش میں خوب اندازہ ہوجاتا ہے جب ہر مسجد میں جگہ، نمازیوں کی تعداد کی وجہ سے کم پڑ جایا کرتی ہے۔
اس سے اندازہ لگا لیجیے کہ کتنے لوگ، عام دنوں میں، مساجد کی طرف متوجہ ہیں؟
اور جو رُخ کرتے ہیں، اُن میں کتنے فیصد نماز کے علاوہ مسجد کی طرف متوجہ ہوتے ہیں؟
خود اندازہ کرلیں کہ مساجد کو ہم اپنی تربیت کے لیے کتنا موقع فراہم کررہے ہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
سب سے زیادہ ہم خود کو اور اپنے بچوں کو تربیت کے لیے کہاں بھیج رہے ہیں؟
عصری تعلیم کے اداروں میں۔
سرکاری سکول، نجی سکول، کالج، یونیورسٹی۔
اوسطاً سولہ سال۔
پلے گروپ، نرسری ملالیں تو دو سے تین سال مزید اوپر۔
کئی سکول تو اڑھائی تین سال کا بچہ بھی لیتے ہیں جب بچہ بولنا بھی صحیح شروع نہیں ہوتا۔
۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر پانچ کلومیٹر میں اندازہ لگائیں کہ کتنے تعلیمی ادارے ہیں؟
بیشک گِن لیجیے، مساجد اور مدارس سے زیادہ تعداد نکلے گی۔
یہ وہ ادارے ہیں جنھیں ہم حقیقت میں اپنے بچے تربیت کے لیے سونپ رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح اور دوپہر کا وقت تو یہاں گزر گیا۔
باقی وقت کس کے زیرِ تربیت ہیں؟
والدین کی زیرِ نگرانی؟
والدین کہاں مصروف رکھنا پسند کرتے ہیں؟
ٹی وی، موبائل، کیبل۔
والدین خود کہاں مصروف رہتے ہیں؟
ٹی وی، موبائل ، کیبل۔
پانچ کلو میٹر میں کتنے گھروں میں یہ سب لوازمات موجود ہیں؟
سو فیصد ؟
چلیں ، ننانوے فیصد کہہ لیں۔
تقریباً ہر ہر گھر میں۔
کتنی تعداد ہوئی؟
سینکڑوں؟
نہیں، یقیناً ہزاروں گھر۔
۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
اب بتائیے کہ پچاس کلومیٹر میں قابلِ اعتماد بندہ کیوں نہیں ملتا؟
لیکن ٹھہرئیے۔
ایسا بھی زوال نہیں، مل جاتے ہیں، ضرور ملتے ہیں اگرچہ تعداد میں کم ہیں، نمایاں نہیں۔
۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا، یہ صاحب جو پچاس کلومیٹر میں قابلِ اعتماد بندہ نہیں ڈھونڈ پا رہے، خود کیوں ایسے خصائل اپنے اندر پیدا نہیں کرتے؟
دوسروں میں کمی کوتاہی تو دیکھ پارہے ہیں، اپنے اندر کیوں نہیں؟
یہ بھی زوال کی بڑی وجہ ہے کہ ہر بندہ اپنی ذات کو تنقید اور اصلاح سے ماورا سمجھتا ہے۔
اصلاح کی نیت سے نشاندہی میں حرج نہیں لیکن اصل عوامل پسِ پشت ڈالتے ہوئے، جانتے بوجھتے مذہب بیزاری کی فضا پیدا کرنا فکری بددیانتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
کاپی پیسٹ
30/09/2022
ہمیشہ کی بھلائی۔۔۔۔۔!!!
27/09/2022
💚 میری جانب سے آپ کو ربیع النور شریف کا چاند بہت بہت مبارک ہو*🌹
*سرکار ﷺ کی آمد مرحبا*🌹
*دلدار ﷺ آمد مرحبا*🌹
27/09/2022
حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کا شوق علم دین
24/09/2022
دشمن سے غافل مت ہوں
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Sahiwal