11/07/2025
عبدالستار ایدھی — انسانیت کا سچا خادم
یہ کہانی ہے ایک ایسے شخص کی، جس نے زندگی بھر نہ کوئی محل بنایا، نہ کوئی گاڑی خریدی، نہ لباس کا شوق رکھا، نہ شہرت کا۔ اُس کا نام تھا عبدالستار ایدھی۔
کراچی کی گلیوں میں ایک شخص پرانا سا کرتا پہنے، بوسیدہ چپلوں میں، ایک ایمبولینس چلاتا تھا۔ وہ لوگوں کو اسپتال پہنچاتا، لاوارث لاشوں کو غسل دیتا، بچوں کو گود لیتا، بوڑھوں کو سنبھالتا، اور مریضوں کی دوا خود خریدتا۔ لوگ اُسے فقیر سمجھتے، لیکن وہ اُس فقیر سے بھی عظیم تھا، جو سب کچھ بانٹ کر خود خالی ہو جاتا ہے۔
ایک دن ایک صحافی نے پوچھا:
"ایدھی صاحب، آپ کے اپنے بچے کیا کرتے ہیں؟"
ایدھی نے مسکرا کر جواب دیا:
میرے سب بچے وہ ہیں، جنہیں کوئی اپنا کہنے والا نہیں۔
انہوں نے 1951 میں صرف 500 روپے سے ایدھی فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی۔ پھر خود سڑک پر ایمبولینس لے کر کھڑے ہو گئے۔ جب جنگ ہو، بم دھماکہ ہو، یا سیلاب — سب بھاگتے، لیکن ایک ایدھی تھا جو لپکتاتھا.
ایک بار کسی نے ان پر الزام لگا دیا کہ وہ غیر مسلم بچوں کو مسلمان بنا رہے ہیں۔ عدالت میں پیشی ہوئی۔ جج نے پوچھا:
کیا یہ سچ ہے؟
ایدھی نے جواب دیا:
"میں تو صرف بھوکے کو کھانا دیتا ہوں، ننگے کو کپڑا، بیمار کو دوا۔ ایمان دینا میرے اختیار میں نہیں، وہ خدا کا کام ہے!
اور کمرہ عدالت تالیوں سے گونج اُٹھا۔
انہوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ انسانوں کے لیے وقف کیا۔ اُن کا کوئی بینک اکاؤنٹ نہ تھا، کوئی جائیداد نہیں، کوئی سیاست نہیں — بس خدمت، صرف خدمت۔
8 جولائی 2016 کو وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ پوری قوم نے انہیں سلامی دی۔ فوج نے اُن کی میت کو عزت دی۔ وہ شخص جو کبھی حکومت کا حصہ نہ بنا، اُس کے جنازے پر ساری حکومت جھکی کھڑی تھی۔
ایدھی نے مرتے وقت صرف یہ وصیت چھوڑی:
"میرے کپڑے اور جوتے بھی میرے غریب بھائیوں کو ہدیہ کر دینا۔"
سبق:
ایدھی ہمیں سکھا گئے کہ سچا مذہب انسانیت ہے۔ جو انسانوں کی خدمت کرتا ہے، وہی اللہ کا ولی ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بغیر اقتدار، بغیر طاقت، اور بغیر دولت کے بھی قوم کی خدمت کی جا سکتی ہے — بس دل میں درد ہونا چاہیے۔