14/05/2026
🌴🌴سنی سنائی آگے پہنچانا 🌴🌴
عن ابی مسعود الانصاری قال لابی عبد اللہ او قال ابو عبد اللہ لابی مسعود ما سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یقول فی زعموا قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یقول بئس مطیۃ الرجل ۔
ترجمہ:
🪴🪴حضرت ابو مسعود انصاریؓ سے روایت ہے کہ ابو عبداللہ نے ابو مسعودؓ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ ﷺ سے "زعموا" (لوگ کہتے ہیں) کے بارے میں کیا سنا ہے؟
انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
«بِئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ زَعَمُوا»
"کسی آدمی کے لیے یہ بہت بُری سواری ہے کہ وہ (بغیر تحقیق کے) کہنے لگے: لوگ کہتے ہیں۔"🪴🪴
تشریح:
🌺🌺اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے بغیر تحقیق باتیں آگے پہنچانے سے منع فرمایا ہے۔ عربی میں "زَعَمُوا" کا معنی ہے: "لوگ کہتے ہیں" یا "یوں مشہور ہے"۔
"مطیۃ" کا اصل معنی سواری (جس پر سوار ہو کر سفر کیا جائے) ہے۔ یہاں مجازی معنی مراد ہے، یعنی:
جو شخص ہر بات میں صرف "لوگ کہتے ہیں" کہہ کر غیر مصدقہ باتیں پھیلاتا ہے، وہ گویا اسی چیز کو اپنی سواری بنا لیتا ہے۔
حدیث کا مقصد یہ ہے کہ:
ہر سنی سنائی بات فوراً بیان نہ کی جائے۔
خبر کی تحقیق کی جائے۔
افواہوں اور غیر مصدقہ باتوں سے بچا جائے۔
مسلمان اپنی زبان کے استعمال میں احتیاط کرے۔
یہی تعلیم قرآن کریم میں بھی ملتی ہے کہ اگر کوئی خبر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو۔🌸🌸
Suffah Islamic School Online
Learn Quran and Islamic education online classes for more details contact WhatsApp.
+923226967174