🌹لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-🌹
حجۃ الکاملین،امام الواصلین،سیدی علی بن عثمان ہجویری رحمۃ اللّٰہ علیہ"کشف المحجوب" میں فرماتے ہیں:
ایک مرتبہ کہیں قحط پڑھ گیا۔لوگ بڑے پریشان تھے۔فکر فردا ان کا سکون غارت کیے ہوئے تھی۔کہ ایک غلام کو دیکھا کہ بڑاہنستا،کھیلتا،اٹکھیلیاں کرتا بازار سے گزر رہا تھا۔۔۔
لوگوں نے کہا:
تجھے نہیں پتہ قحط پڑا ہوا ہے؟ لوگ فاقوں سے مر رہے ہیں اور تجھے ذرہ برابر بھی فکر نہیں ہے ۔۔
کہنے لگا مجھے کیا پرواہ میں تو فلاں آقا کا غلام ہوں اور اس کے پاس گندم کے انبار لگے ہوئے ہیں ۔۔۔
داتا حضور فرماتے ہیں اگر بندے کو اللہ کے خزانوں پر اتنا بھی یقین ہو جائے جتنا اس غلام کو اپنے آقا کے خزانوں پر تھا تو وہ کبھی پریشان نہ ہو۔
اپنے مالک کو نہ پہچانے تو محتاج ملوک
اور پہچانے تو ہیں تیرے گدا دارا وجم
دل کے آزادی شہنشاہی شکم سامان موت
فیصلہ تیرا تیرے ہاتھوں میں ہے دل یا شکم
(ڈاکٹر اقبال رح)
Noor Ul Quran
Aiou daily basis information
25/07/2024
قلب و نظر کی حفاظت کیجیے ۔۔۔یہ دونوں محبوب کی تجلیات،آمد کے مرکز ہیں۔۔۔نظر اس لیے کہ محبوب کے جلوؤں کو دیکھا جائے ۔۔۔قلب اس لیے کہ محبوب کی یاد کو اس میں بسایا جائے ۔۔۔۔🌹🌹🌹🌹🌹
حاصل مطالعہ ۔۔۔۔۔
اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہی حکم اذاں لا الہ الااللہ
🌹دعوت و ارشاد🌹
دعوت و ارشاد (اللّہ کی طرف بلانے اسلام کی طرف بلانے)کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ ایک دفعہ پیغام پہنچا دیا اسکے بعد داعی بے فکر ہو کر بیٹھ جائے بلکہ اگر مدعو نہ مانیں تو داعی کے دل میں تڑپ رہنی چاہیے وہ اندر سے کڑھتا رہے دعوت کے مختلف طریقے اپناتا رہے ۔۔۔۔۔
دعوت کے لیے داعی میں بنیادی طور پر جو اوصاف ہونے چاہییں ان میں سے چند درج ذیل ہیں۔۔۔
(1)شدت احساس
(2)بے لوثی
(3)عظمت کردار
(4) تصادم سے گریز
(5)اخلاص
جیسے:::::::: ایک بیٹا جب بگڑتا ہے تو ماں اس کو سمجھاتی ہے اگر اس کا بیٹا اس کی بات نہیں مانتا تو ماں بے فکر ہو کر نہیں بیٹھ جاتی کہ میں نے تو پیغام پہنچا دیا بلکہ ماں دل ہی دل میں کڑھتی رہتی ہے اور اسکے من میں فکر کی آگ سلگتی رہتی ہے ۔۔۔۔
دعوت و ارشاد کے باب میں انبیاء کرام کا اسوۂ شاہد ہے کہ دعوت کا اس سے بھی کہیں زیادہ احساس ہوتا ہے جتنا ایک ماں کو اپنے بیٹے کے نہ سنورنے سے ہوتا ہے۔۔۔
قرآن کریم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی شدت احساس کو یوں بیان کرتا ہے.....
فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّـفۡسَكَ عَلٰٓى اٰثَارِهِمۡ اِنۡ لَّمۡ يُؤۡمِنُوۡا بِهٰذَا الۡحَـدِيۡثِ اَسَفًا ۞
اگر یہ لوگ اس قرآن پر ایمان نہ لائے تو لگتا ہے کہ آپ فرط غم سے ان کے پیچھے جان دے دیں گے۔۔۔۔(الکہف)
لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّـفۡسَكَ اَلَّا يَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ ۞
(اے رسول مکرم ! ) شاید آپ اس غم میں جان دے دیں گے کہ وہ ایمان لانے والے نہیں۔۔۔(الشعراء)
احساس کی یہی شدت انبیاء کرام کو اعلان حق کے لیے بادشاہوں کے بھرے درباروں میں بے دھڑک لے جاتی ہے کبھی حضرت ابراہیم نمرود کے کروفر سے بے نیاز ہو کر اس کے دربار میں دعوت الی اللہ کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں اور کبھی حضرت موسی علیہ السلام فرعون کے سجے دربار میں اللہ کا کلمہ بلند کرتے ہیں یہی احساس کی شدت ہے جو انبیاء کرام کو اس روش پر گامزن کرتی ہے کہ وہ ہر موقع کا رخ موڑ کر اسے دعوت الی اللہ کا ذریعہ بنا لیتے ہیں
جیسے جب قید خانے میں دو قیدی حضرت یوسف علیہ السلام سے اپنے خواب کی تعبیر پوچھنے آتے ہیں تو وہ اسی تناظر میں بھی دعوت کا موقع پیدا کر لیتے ہیں اور فرماتے ہیں۔۔
يٰصَاحِبَىِ السِّجۡنِ ءَاَرۡبَابٌ مُّتَفَرِّقُوۡنَ خَيۡرٌ اَمِ اللّٰهُ الۡوَاحِدُ الۡقَهَّارُؕ ۞
اے قید کے دونوں ساتھیو ! آیا متعدد خدا بہتر ہیں یا ایک اللہ جو غالب ہے ؟
بے لوثی:
انسان کو جب کسی چیز سے شدید لگن اور بلا کی محبت ہو جاتی ہے تو پھر وہ کسی مادی صلہ کی پرواہ کیے بغیر ہی اس کام کو سرانجام دیتا رہتا ہے اور اس کام کی انجام دہی ہی اس کے لیے سکون قلب کا سامان اور اس کے درد کا مداوا ہوتی ہے اس کی سوچ اور فکر مادی معاوضوں سے بہت اوپر اٹھ جاتی ہے۔۔
جیسا کہ حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے۔۔۔ حضرت ہود اپنی قوم سے کہتے ہیں کہ میرا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔۔۔ حضرت صالح حضرت لوط حضرت شعیب کا بھی یہی فرمان ہے کہ ہمارا اجر اللہ کے ذمہ ہے اسی طرح محبوب کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی یہی فرماتے ہیں ۔۔۔۔
عظمت کردار ۔۔۔۔
انسان کو اپنی رائے اور فکر سب سے زیادہ پیاری ہوتی ہے۔ رائے کی قربانی سب سے بڑی قربانی ہوتی ہے۔ داعی دعوت کے ذریعے سے دوسروں کی رائے اور فکر تبدیل کرنا چاہتا ہے اور ایک انسان دوسرے انسان سے متاثر ہو کر اس وقت تک اپنی رائے قربان نہیں کرے گا جب تک اس کے کردار کی عظمت اور اخلاقی مرتبت اس کے دل میں اتر نہ جائے اگر کوئی انسان عظمت کردار کا حامل نہ ہو تو اس کے دلائل عقل کو تو قائل کر سکتے ہیں دل کو نہیں گویا ایسا انسان ذہنی تبدیلی تو لا سکتا ہے عملی نہیں۔۔
خرد نے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیں
داعی کا کردار اتنا پاکیزہ اور شفاف ہو کہ اس کے کردار کی عظمت اس کے دعوی کی دلیل بن جائے۔۔۔
جیسا کہ::: جب حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کو شرک اور اخلاقی برائیوں سے روکا تو وہ کہنے لگے اے صالح اس سے پہلے ہمیں تم سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں۔۔۔
امام جلال الدین سیوطی لکھتے ہیں انہوں نے کہا ہمیں امید تھی کہ تم ہمارے سردار بنو گے۔۔۔
ظاہر ہے اگر اعلان نبوت سے قبل حضرت صالح علیہ السلام کی شخصیت کی عظمت مسلمہ نہ ہوتی تو انہیں آپ سے اتنی امیدیں وابستہ نہ ہوتیں۔۔
اسی طرح مکہ کے لوگ محبوب کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو صادق و امین کہتے تھے یہاں تک کہ محبوب نے جب پہاڑی پر کھڑے ہو کر کہا کہ اگر میں تمہیں کہوں کہ پہاڑی کے پیچھے سے ایک لشکر آ رہا ہے جو تم پر حملہ اور ہونے والا ہے تم کیا کہو گے انہوں نے کہا جی ہم تسلیم کر لیں گے۔۔۔۔
روم کے بادشاہ ہرقل نے جب ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھا کہ کیا انہوں نے کبھی دعوی نبوت سے قبل جھوٹ بولا تو ابو سفیان نے کہا نہیں حالانکہ ابو سفیان کافروں کا سردار تھا۔۔۔
فضلیت وہی ہے دشمن بھی جس کی گواہی دیں ۔۔۔
تصادم سے گریز ۔۔۔
جب بھی کسی بندے کے پیش نظر ایک اعلی و ارفع مقصد ہو تو وہ ہر اس چیز سے دامن بچاتے ہوئے گزر جاتا ہے جو اس کے مقصد کی راہ میں رکاوٹ بننے والی ہو وہ ہر تنقید برداشت کرتا ہے ہر رکاوٹ کو انتہائی دانشمندی سے دور کرتا ہے نازک سے نازک موقع پر اشتعال میں نہیں اتا اور مخاطب کیسی ہی حوصلہ شکن بات کرے وہ مخاطب کے زعم کے برعکس نہ صرف یہ کہ اشتعال میں نہیں اتا بلکہ اسی موقع کو ابلاغ کا حسین ترین ذریعہ بنا لیتا ہے
ذرا غور کریں فرعون کے زمانہ میں فرعون سے برا کون انسان ہوگا؟
اور حضرت موسی کا فرعون سے بڑا دشمن کون ہوگا؟
لیکن جب حضرت موسی فرعون کے دربار میں جاتے ہیں تو اللہ فرماتا ہے:
تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہو گیا ہے پس اس سے نرمی سے بات کرنا شاید وہ نصیحت قبول کرے اور اللہ سے ڈر جائے
پھر اگر سورۃ الشعراء کی ایت نمبر 23 سے 28 کا مطالعہ کیا جائے تو یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ فرعون نے ہر طرح سے حضرت موسی کو اشتعال دلانے کی کوشش کی لیکن حضرت موسی بڑے نرم لہجے سے اس کے مقابلے میں اس کو دلائل سے قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔۔۔
اور ایک موقع پر حضرت موسی کو اپنی قوم سے یہ ہمت توڑ دینے والا جملہ سننا پڑا جب اپ کے قوم اپ سے کہنے لگی۔۔۔
قَالُـوۡۤا اُوۡذِيۡنَا مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَاۡتِيَنَا وَمِنۡۢ بَعۡدِ مَا جِئۡتَنَا ؕ
وہ کہنے لگے ہم تمہارے انے سے پہلے بھی ستائے گئے اور بعد میں بھی۔۔
حضرت موسی علیہ السلام اپنی قوم کو ذلتوں کی زندگی سے نجات دلا کر انہیں امامت عالم کے منصب رفیع پر فائض کرنے کے لیے رات دن ایک کیے ہوئے تھے یہ حوصلہ شکن بات سن کر آپ دلبرداشتہ نہیں ہوئے آپ ان سے الجھ نہیں پڑے بلکہ اپ نے کمال تحمل اور تدبر سے فرمایا۔۔۔۔
قَالَ عَسٰى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّهۡلِكَ عَدُوَّكُمۡ وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ فِى الۡاَرۡضِ فَيَنۡظُرَ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ
قریب ہے تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور بجائے اس کے تمہیں اس سرزمین کا مالک بنا دے پھر دیکھے کہ تم کیسا عمل کرتے ہو۔۔۔
اخلاص ۔۔۔
دائی کا جتنا زیادہ اپنے مشن سے اخلاص ہوگا داعی اتنا ہی زیادہ استقامت کے ساتھ کام کر سکے گا اخلاص کی صرف ایک مثال محبوب کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سیرت طیبہ سے ملاحظہ فرمائیں۔۔۔۔
واللہ یاعم لو وضعوا الشمس فی یمینی والقمر فی یساری علی ان اترک ھذا الامر حتی یظہرہ اللہ او اھلک فیہ ما ترکتہ ۔۔
(سیرت ابنِ کثیر)
باخدا اگر وہ سورج کو میرے دائیں ہاتھ میں رکھ دیں اور چاند کو میرے بائیں ہاتھ میں اور یہ سوچیں کہ میں دعوت حق کو چھوڑ دوں گا تو یہ ناممکن ہے یا تو اللہ تعالی اس دین کو غلبہ دے دے گا یا میں محمد اسم اپنی جان قربان کر دوں گا اس وقت تک میں اس کام کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔۔۔
یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا ۔۔
(جاری۔۔۔۔۔۔۔۔)
مجوزہ کتب ۔۔۔
قرآن کریم
صحیح بخاری
فکر اسلامی از پروفیسر حبیب اللہ چشتی
اسلامی اسلوب ؤ دعوت از پروفیسر حبیب اللہ چشتی
افسوس یہ ہے کہ ہمارا مغربی تعلیم یافتہ طبقہ مغرب سے آنے والی ہر رطب و یابس تحریر کو تحقیق کا بے مثل نمونہ سمجھتا ہے۔اس طبقے کے بارے میں حکیم الامت حضرت علامہ اقبال نے آج سے 80 90 سال پیشتر فرمایا تھا کہ مسلمانوں کا جدید تعلیم یافتہ طبقہ نہایت پست فطرت ہے۔
فطرت کی یہ پستی آج انتہاؤں کو چھوتی محسوس ہوتی ہے۔اب اس کے اثرات قرآن مجید، حدیث رسول، فقہ اسلامی اور سیرت پاک کے ذخائر پر عدم اعتماد کی صورتوں میں سامنے آ نے لگے ہیں۔
ان حالات میں فن سیرت کی ابتدائی تدوین،تاریخ ارتقاء،اور مناہج پر گفتگو کرنے کی ضرورت اور اہمیت پہلے سے بہت بڑھ گئی ہے۔
(ڈاکٹر محمود احمد غازی،محاضرات سیرت،ص،9)
28/06/2023
19/12/2022
Job's👇👇👇👇
24/11/2022
معلومات سے باخبر رہنے کے لیے پیج کو فالو کریں ❣️👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇
پنجاب پولیس میں انسپکٹر لیگل کی 357 آسامیوں پر بھرتی کیلئے PPSC کی جانب سے اشتہار جاری کر دیا گیا ہے۔ مطلوبہ اہلیت اور دیگر معلومات کیلئے PPSC کی ویب سائٹ وزٹ کریں۔
https://t.co/vuQ8X2ffGl https://t.co/smrJOC0mLc
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Sahiwal