علم کی باتیں

علم کی باتیں

Share

I am providing the knowledge about the world and about Islam for Muslim.

21/07/2025










18/07/2025









17/07/2025









16/07/2025









16/07/2025








15/07/2025




14/07/2025

مختصر مگر پر اثر

ازبکستان کے ایک دور دراز دیہات میں پاکستانی تبلیغی
جماعت پہنچی تو ان کے رہنے کا انتظام مسجد میں تھا،
نماز کا وقت ہوا، تبلیغی جماعت کے کچھ ارکان وضو کر کے واپس آئے تو مسجد میں داخل ہونے سے پہلے اپنے اپنے جوتے اٹھا کر اندر داخل ہوئے اور جوتوں کو مسجد کے ایک کونے میں رکھ دیا۔
ایک مقامی بوڑھا حیرانگی سے یہ منظر دیکھ رہا تھا،
نماز ختم ہوئی تو اس بوڑھے نے جماعت کے امیر سے پوچھا کہ : وضو کے بعد ان لوگوں نے اپنے جوتے اندر کیوں رکھے،
امیر جماعت نے جواب دیا : حفاظت کیلئے، تاکہ کوئی باہر سے اٹھا کر نہ لے جائے۔
بوڑھے نے پوچھا : کیا آپ کے ملک میں مسجد کے باہر سے جوتے چوری ہو جاتے ہیں؟
امیر جماعت نے کہا : جی ہاں، بدقسمتی سے،
تو بوڑھے نے کہا کہ : پھر آپ یہاں اتنی دور ہمارے ملک میں کیا تبلیغ کرنے آئے ہیں، تبلیغ کی سب سے زیادہ ضرورت تو آپ کی قوم کو ہے کیونکہ ہمارے ہاں تو مسجد کے اندر یا باہر سے کوئی چیز چوری نہیں ہوتی۔



14/07/2025

بے شک اللہ کا ذکر ہی دلوں کو سکون بخشتا ہے۔


16/04/2025

*TYPO CRAFT*

_Our Services_

1) _*Professional CV Design*_

2) _*Jobs Updates and Apply*_

3) _*Urdu Typing*_

4) _*English Typing*_

5) _*Invitation Card (Birthday Invitations, Event Invitations)Designs*_

6) _*Poster Designs*_

7) _*PDF to Word Conversion*_

8) _*Voice to Text Conversion/Transcription*_

If you need any assistance from the above contact us on

WhatsApp:
+923330240900

Or

Vist Our page:

https://www.facebook.com/share/1ARG658oMt/?mibextid=qi2Omg

24/03/2025

کہا جاتا ہے کہ حضرت سلیمان بن داؤد علیہما السلام کے ایک چرواہے کی نگرانی میں کچھ بھیڑیں تھیں۔ ایک دن اس کے پاس ایک بھیڑیا آیا اور بولا:
“مجھے ایک بھیڑ دے دو!”

چرواہے نے حیران ہو کر جواب دیا:
“یہ بھیڑیں حضرت سلیمان علیہ السلام کی ملکیت ہیں، میں تو بس ان کا رکھوالا ہوں!”

بھیڑیا بولا:
“تو جا کر حضرت سلیمان سے پوچھ لو کہ کیا وہ مجھے ایک بھیڑ دینے کی اجازت دیتے ہیں؟”

چرواہے نے کہا:
“مجھے ڈر ہے کہ اگر میں چلا گیا تو تم بھیڑوں پر حملہ کر دو گے۔”

بھیڑیا ہنسا اور بولا:
“جب تک تم واپس نہ آ جاؤ، میں خود بھیڑوں کی نگرانی کروں گا، الله نہ کرے کہ میں خیانت کروں لیکن اگر میں نے خیانت کی تو میں آخری امت کا قربِ قیامت والا ایک آدمی بن جاؤں” (یعنی اپنے آپ کو بد دعاء دی کہ ہم یعنی موجودہ مسلمانوں کی طرح ہو جاؤں، جو کہ افسوسناک ہے)

یہ سن کر چرواہا روانہ ہو گیا۔

راستے کی حیرت انگیز نشانیاں

چلتے ہوئے چرواہے نے تین عجیب و غریب مناظر دیکھے:

1️⃣ پہلی نشانی: اس نے ایک گائے کو اپنی ہی بچی کا دودھ پیتے دیکھا! حیران ہو کر اس نے سوچا: “سبحان الله! میں نے اس جیسا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا، اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟”

2️⃣ دوسری نشانی: آگے بڑھا تو ایسے لوگ دیکھے جو بوسیدہ کپڑے پہنے ہوئے تھے، مگر ان کے ہاتھوں میں سونے کی تھیلیاں بھری پڑی تھیں! چرواہے نے سوچا: “یہ بھی بڑی عجیب بات ہے، ان کے پاس سونا ہے مگر یہ پھر بھی فقیر نظر آ رہے ہیں!”

3️⃣ تیسری نشانی: کچھ اور آگے بڑھا تو ایک بہتا ہوا چشمہ نظر آیا، پیاس کی شدت میں جیسے ہی قریب پہنچا، تو بدبو نے اسے روک دیا۔ پانی کی بدبو اتنی شدید تھی کہ وہ پیچھے ہٹ گیا اور حیران ہو کر بولا: “یہ کیسی بات ہے؟ بہتا ہوا پانی اور اتنا گندا؟”

حضرت سلیمان علیہ السلام کی حکمت بھری وضاحت

بالآخر وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچا اور بھیڑیے کی درخواست بیان کی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا:
“ٹھیک ہے ، میں نے اسے اجازت دی کہ وہ ایک بھیڑ چن کر کھا لے۔”

چرواہے نے عرض کیا:
“حکم بجا لاتا ہوں، مگر راستے میں تین عجیب چیزیں دیکھی ہیں، ان کی حقیقت جاننا چاہتا ہوں۔”

✦ پہلی نشانی کا جواب:
“یہ آخری زمانے کی نشانی ہے۔ مائیں اپنی بیٹیوں کو فتنہ میں مبتلا کریں گی تاکہ خود فائدہ حاصل کر سکیں۔”

✦ دوسری نشانی کا جواب:
“یہ لوگ ڈاکو اور چور ہیں۔ جو مال حرام سے آتا ہے، اس میں برکت ختم ہو جاتی ہے۔ آخری زمانے میں حرام کمائی عام ہو جائے گی، قناعت ختم ہو جائے گی اور برکت اٹھا لی جائے گی۔”

✦ تیسری نشانی کا جواب:
“یہ بھی آخری زمانے کے نام نہاد دیندار ہیں۔ دور سے دیکھو تو ان کا لباس دین داری کا ہوگا، مگر جب قریب جاؤ گے تاکہ کچھ سیکھ سکو، تو پاؤ گے کہ وہ دنیا اور خواہشات میں ڈوبے ہوئے ہیں۔”

یہ سن کر چرواہے نے تڑپ کر کہا:
“میں اس زمانے کے فتنے سے الـلــَّـه کی پناہ مانگتا ہوں!”

بھیڑیے کی حیران کن دیانتداری

چرواہا واپس آیا تو دیکھا کہ بھیڑیا واقعی بھیڑوں کی نگرانی کر رہا تھا۔

اس نے کہا:
“حضرت سلیمان نے تمہیں اجازت دے دی ہے کہ تم کسی بھی بھیڑ کو چن کر کھا سکتے ہو۔”

بھیڑیے نے بھیڑوں پر نظر دوڑائی اور ایک کمزور، بیمار بھیڑ کو چن لیا۔

چرواہے نے حیرت سے پوچھا:
“تم نے یہی بھیڑ کیوں چنی؟”

بھیڑیا بولا:
“کیونکہ یہ اپنے رب کی تسبیح سے غافل تھی! جو اپنے رب کے ذکر سے غافل ہو، وہ بہت بڑی آزمائش میں ہوتا ہے۔”



📜 کاپی شدہ

23/12/2024

از قلم

*ثاقب محمود*
2024________________________2025

"گزشتہ برسوں کی طرح یہ برس بھی اپنے اختتام کو پہنچا۔ اپنے اندر بہت سی یادیں لئے ہماری زندگی کی کتاب کا ایک اور باب مکمل ہو گیا۔ اس سال میں ہم نے اس عارضی زندگی سے بہت کچھ سیکھا۔ گزشتہ سالوں کی طرح ناچاہتے ہوئے بھی اس سال نے ہمیں اس زندگی کے ایسے ایسے حقائق سے آشنا کیا جن کا ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہو گا۔ ایسے ایسے لمحات اس سال ہماری زندگی کا حصہ بنے جن کو کبھی ہم سوچیں ، یا تو کہتے ہیں کہ کاش وہ لمحہ، وہ وقت، وہ پل ہماری زندگی میں دوبارہ آ جائے، اسی کے برعکس کبھی ہم کہتے ہیں کہ وہ لمحہ، وہ وقت کبھی ہمارے دشمن کو بھی نہ دیکھنا پڑے۔ لیکن بالآخر وہ وقت بھلے ہی اچھا تھا یا برا، گزر ہی گیا، جیسے گزشتہ برس بیت گئے ویسے ہی آنے والے سال بھی گزر تے جائیں گے۔ شب و روز کا تسلسل یوں ہی تا قیامت برقرار رہے گا ، یوں ہی صبح سورج طلوع ہوتا رہے گا اور شام کو یوں ہی غروب ہوتا رہے گا۔ یوں ہی دن ،ہفتہ ،مہینے اور سال گزرتے جائیں گے۔ نہ ہی ہمارے ہونے سے ان کو کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ ہی ہمارے نہ ہونے سے ان کو کوئی فرق پڑے گا ۔ دنیا کا یہ نظام ہمارے محتاج نہیں بلکہ ہم اس کے محتاج ہیں۔ آج جس عہدے پر ، جس مقام پر اور جس ذمہ داری پر ہم فائز ہیں ہم سے پہلے بھی یہاں کوئی نا کوئی موجود تھا اور ہمارے بعد بھی کوئی نہ کوئی ضرور ہو گا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان بہت کچھ سیکھتا ہے، کچھ زمانے سے، کچھ غلطیوں سے، کچھ لوگوں سے ،کچھ لوگوں کے تلخ رویوں ،لہجوں سے،اور بہت کچھ لوگوں کے دئیے ہوئے دھوکوں سے۔ ان سب سے انسان کچھ نا کچھ سیکھتا ضرور ہے۔ یہ انسان کو ایسا سبق ضرور دیتے ہیں کہ انسان تا حیات اس کا یاد رکھتا ہے، مگر افسوس کی بات یہ کہ انسان کو جب زندگی گزارے کا سلیقہ آتا ہے تب اس کی اپنی زندگی اس کا ساتھ چھوڑ جاتی ہے۔ انسان اس دنیا سے لے کر تو کچھ بھی نہیں جاتا مگر یہاں چھوڑ کر بہت کچھ جاتا ہے۔ جس میں اس کا اخلاق سر فہرست ہے۔ اس دنیا سے ہم نے جانا ہے یہ تو حقیقت ہے کوشش کریں کہ جب ہم اس دنیا سے جائیں تو لوگ ہمیں اچھے الفاظ میں یاد کریں۔ اپنا کردار ایسے اچھے انداز میں ادا کریں کہ دنیا جب بھی آپ کو یاد کرے ہمیشہ ان کے منہ سے آپ کے لئے دعا ہی نکلے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Sahiwal?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Sahiwal