تاریخ 27 ستمبر
مقام 66جی ڈی ختم نبوت والا
مفتی عبد الواحد قریشی دامت برکاتہم العالیہ
موضوع ختم نبوت
KALAM UL ALAH online Quran Academy
QURAN RIGHS
a)To believe
b)Read as it demands reading
c)Understand
d)Act upon it
e)Disseminate That made me realize how many years I prayed without Tajweed.
My name is Muhammad Irfan I learned Tajweed from Hazrat Maulana Tanzeelur Rehman in 2017. Now my goal in life is that every Muslim should learn Tajweed and then read the Quran and pray, which is something else.
27/09/2025
*تتلیاں، خبیث اور خبیثنیاں ۔۔۔۔*
سن 1982 میں امریکی ریاضی دان اور ماہر ماحولیات ایڈورڈ لورینٹز نے ایک نظریہ پیش کیا۔ اس نظریے کے مطابق ایک تتلی اگر برازیل میں، اپنے پنکھ پھڑپھڑائے تو اس سے ٹیکساس میں ایک بھیانک طوفان آ سکتا ہے۔ اس نظریے کو انہوں نے بٹر فلائی ایفیکٹ (Butterfly Effect) کا نام دیا تھا۔
ایڈورڈ کا اپنے نظریے میں کہنا ہے، کہ ہر جاندار چیز سے کوئی بھی کام اتفاقاً نہیں ہوتا بلکہ یہ ’’بٹر فلائی ایفیکٹ‘‘ ہوتا ہے جس سے شروع ہونے والا عمل ایک کڑی سے جڑ کر، دوسری کڑی اور اسی طرح جڑتے جڑتے کہیں دور اپنے اختتام کو پنہچتا ہے۔
یہButterfly Effect طبیعیات میں ’’نظریۂ انتشار‘‘ نظریہ شواش (chaos تھیوری) کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس کا سادہ سا مطلب ہے کہ ابتدائی کیفیت میں چھوٹی چھوٹی سی تبدیلیاں بعد میں آنے والی بہت بڑی تبدیلیوں کو جنم دی سکتی ہیں۔
یہ نظریہ یعنی Butterfly Effect ہماری توجہ ان عوامل کی جانب مبذول کراتا ہے جو بظاہر ایک معمولی دکھائی دینے والی تبدیلی کے نتیجے میں حیران کن نتائج دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
آئیے اس بات کو دو مثالوں سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہ بٹر فلائی افیکٹ کیا ہے؟
ہنگری کا ایک شہزادہ 1914 میں اپنی بیگم کے ساتھ بوسنیا کی سڑکوں پر گھومنے نکلا۔ گھومتے گھومتے وہ غلط طرف میں نکل گئے۔اُسی وقت ایک انقلابی شخص جو وہاں پر کھانا خریدنے آیا تھا، دونوں میاں بیوی کو دیکھ کر رکا اور انہیں گولی مار دی۔اِس واقعہ کے بعد ہنگری نے سَربیا پر حملہ کر دیا۔ روس نے ہنگری کا ساتھ دیا جس کے ساتھ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے 32ممالک اِس جنگ کا حصہ بن گئے۔اِس جنگ کو لوگ پہلی جنگِ عظیم یا ورلڈ وار 1 کے نام سے جانتے ہیں۔اِس جنگ میں تقریبا 2کروڑ لوگ مارے گئے۔
اسی طرح کہا جاتا ہے کہ گاندھی ایک بار ٹرین کے اپر کلاس ڈبےمیں بیٹھا۔ ٹکٹ چیکر نے اسے اس کی ظاہری حالت دیکھتے ہوئےدھکے مار کر ادھر سےنکال باہر کیا۔ اس واقعے کے بعد گاندھی نے ٹھان لی کہ وہ ہندوستان سے انگریزوں کو نکال کر رہے گا۔
بظاہرگاندی کا تحریک آزادی شروع کرنا ہو یا شہزادے کا قتل معمولی واقعات ہیں لیکن ان کا اختتام معمولی نہیں تھا بلکہ دنیا کے جغرافیہ میں تبدیلی ثابت ہوا۔۔
بلا سوچے سمجھے اور بغیر کسی دور اندیشی کے کیے جانے والے فیصلے آغاز میں بظاہر ویسے ہی بے ضرر دکھائی دیتے ہیں، جیسا کسی تتلی کے پروں کی پھر پھراہٹ، مگر وہی فیصلے بعد میں کئی نسلوں کے لیے روگ بن جاتے ہیں اور ایسے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں، جو اپنے ساتھ خس و خاشاک کی طرح سب کچھ بہا لے جاتا ہے۔
ابتدا میں تو اس تھیوری کو صرف ماحولیات کے لئے پیش کیا گیا لیکن آہستہ آہستہ اس کا اطلاق دیگر علوم پر بھی ہوتا گیا اور اس کے حیرت انگیز نتائج مرتب ہوتے گئے بلکہ ہو رہے ہیں۔۔ اس تھیوری پر اسی نام سے یعنی Butterfly Effect نامی ایک بہت خوبصورت فلم بھی بنائی گئی جس میں اس تھیوری کو بہت عمدہ طریقے سے سمجھایا گیا ہے۔۔
اس فلم میں تو جو ابتدائی غلطی یا بگاڑ پیدا ہوتا ہے جو بعد میں ایک بڑے سانحہ کی شکل اختیار کرتا جاتا ہے کو درست کرنے کے لئے ہیرو کو ماضی میں جا کر شروع ہی سے اس معمولی غلطی کو درست کرنا پڑتا ہے۔۔ جبکہ حقیقی زندگی میں ایسا کوئی آپشن ہمارے پاس موجود نہیں۔۔ سوائے مذہب یا اخلاقیات کے جس میں اپنی غلطی کو سدھارنے کا موقع معافی اور توبہ سے نئے سرے سے شروع کیا جا سکتا ہے۔۔
اسلام کی اصطلاح میں ایسی غلطی یا گناہ کے سدھارنے کو "توبہ النصوح" یعنی ایسی خالص توبہ جس کے بعد دوبارہ گناہ کا خیال بھی نہ آئے کہا جاتا ہے ۔۔ جبکہ انگریزی میں اصل معافی اسے کہا جاتا ہے جس کے بعد رویہ بھی تبدیل ہو۔۔
" A real apology is changed behavior"
کیا ہم یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ اس کائنات میں ہماری قریبی ترین ہستی میں سب سے زیادہ اصلاح اور تربیت کی ضرورت کسے ہے؟
یقینا اسے ہو گی جس کا ہمارے ساتھ سب سے زیادہ اور گہرا تعلق ہو گا۔ جسے ہمارے ساتھ تاقیامت رہنا ہو گا۔۔ آپ اولاد یا والدین یا بیوی کو سوچ رہے ہوں گے جبکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔۔
جسے سب سے زیادہ تربیت اور اصلاح کی ضرورت ہے وہ آپ کی اپنی ذات ہے۔جس کے اللہ کریم نے دو حصے بنائے ہیں ایک نفس جو بدن کے افعال کا ذمہدار ہے اور دوسرا روح جو نفس کے محاسبہ اور آخرت میں کامیابی کی ذمہدار ہے۔۔ اسی لئے حدیث پاک ہے کہ " اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے" اعمال جسم سے ہوتے ہیں جبکہ نیت شائد لاشعور میں کہیں سے پیدا ہونے والی ایک تحریک ہے۔۔ جس کی زمہدار ایک طاقتور روح یا ایک طاقتور نفس ہے۔
رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ: "انسانی جسم کے اندر گوشت کا ایسا لوتھڑا ہے کہ اگر وہ صحیح ہو تو پورا جسم صحیح رہتا ہے، اور اگر اس میں خرابی پیدا ہوجائے تو پورا جسم خراب ہوجاتا ہے۔ جسم کا یہ حصہ دل ہے۔"
یعنی اگر نفس کوئی شرارت کرے گا اور روح اسے روکنے میں ناکام رہی تو قبر میں آخرت میں جسم کی شرارت کا خمیازہ روح بھی بھگتے گی۔۔ اور اگر روح نے ہمارے جسم کو شرارتوں سے روکے رکھا تو قبر میں آسانیاں روح کے ساتھ جسم کو بھی ملیں گے۔۔ یعنی تاقیامت اگر کسی کا آپ کے ساتھ تعلق ہے تو وہ آپ کی روح اور نفس کا جو ایک دوسرے کے ذمہ دار ہیں اسی لئے جہنم میں جلیں گے بھی تو دونوں کیونکہ ایک دوسرے کے ہاتھوں اس مقام تک پہنچے ہوں گے اور اگر جنت کی نعمتوں کا لطف اٹھائیں گے بھی تو دنوں کیونکہ دنیا میں دونوں نے مشکلات میں ایک دوسرے کی مدد کی ہو گی۔۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے میں آپ کی خدمت میں چند مثالیں پیش کرتا ہوں جو دراصل آج کی اس تحریر کا اصل موضوع بھی ہے۔۔۔۔
بخاری شریف کی حدیث پاک میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ مدینہ یا مکے کے ایک باغ میں تشریف لے گئے۔ (وہاں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو شخصوں کی آواز سنی جنھیں ان کی قبروں میں عذاب کیا جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان پر عذاب ہو رہا ہے اور کسی بہت بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بات یہ ہے کہ ایک شخص ان میں سے *پیشاب کے چھینٹوں سے بچنے کا اہتمام نہیں کرتا تھا* اور دوسرا شخص چغل خوری کیا کرتا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کھجور کی) ایک ڈالی منگوائی اور اس کو توڑ کر دو ٹکڑے کیا اور ان میں سے (ایک ایک ٹکڑا) ہر ایک کی قبر پر رکھ دیا۔ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس لیے کہ جب تک یہ ڈالیاں خشک ہوں شاید اس وقت تک ان پر عذاب کم ہو جائے۔
یہ Butterfly Effect کی ایک بہترین مثال ہے۔۔ اس حدیث پاک میں لفظ "پیشاب کی چھینٹوں سے بچنے کا اہتمام" جس کا مطلب جو بھی شخص تھا وہ جان بوجھ کر اس عمل کو اختیار کئے ہوئے تھا ۔ ناکہ غلطی سے تو اس کا نتیجہ اس کے بدن کی ساتھ اس کی روح کو بھی بھگتنا پڑھ رہا تھا۔۔ اب پیشاب کی چھینٹوں سے آج کے دور میں یا تو جوتے گندے ہوں گے یا کپڑے جسم تو پھر بھی بچا رہے گا ۔۔ مگر اگر آپ یہ کام deliberately کر رہے ہیں تو آپ اس چھوٹی سی حرکت کا خمیازہ ایک نہ ختم ہونے والی زندگی میں بھگتے رہیں گے۔۔ اسی طرح ایک عام غلطی جسے ہم کبھی سوچتے بھی نہیں اور ہماری خواتین خود بھی اور اپنے بچوں کو بھی اس سے منع نہیں کرتیں وہ ہے۔ نہانے والی جگہ پر پیشاب کرنا۔۔ اس کی دو صورتیں ہیں ایک تو یہ کہ بچوں کو اور خصوصا لڑکیوں کو یہ سمجھایا ہی نہیں جاتا اور وہ نہاتے ہوئے اس عمل کے مرتکب ہوتے ہین۔۔ اور دوسرا خواتین اپنے بچوں کو آج کل کے واش روم میں لے جا کر کموڈ پر بٹھانے کی بجائے کہیں بھی بٹھا کر رفع حاجت کرا دیتی ہیں۔۔ حدیث شریف میں نہانے کے دوران یا نہانے کی جگہ پر رفع حاجت ( پیشاب) کرنے کے کئی نقصانات وارد ہوئے ہیں۔۔ مثلا
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص ہرگز ایسا نہ کرے کہ اپنے غسل خانے (حمام) میں پیشاب کرے پھر اسی میں نہائے“۔ احمد کی روایت میں ہے: پھر اسی میں وضو کرے، کیونکہ اکثر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔
صحابہ کرام، صوفیاء کرام اور علماء دین اس بات پر متفق ہیں کہ حمام یعنی نہانے کی جگہ پر پیساب کرنے سے "وسوسوں" کی بیماری پیدا ہوتی ہے۔۔۔
اِتباعِ شیطان کا سب سےبڑااور بنیادی سبب وسوسوں کی پیروی ہے کیوں کہ گناہ کروانے اور نیکیاں چھڑوانے میں وسوسے پیدا کرنا شیطان کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔۔جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالٰی ہے
الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ
ترجمہ: میں اس سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں جو انسانوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا رہتا ہے۔
اور ان وسوسوں کا علاج قران نے یوں ارشاد فرمایا کہ
وَإِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ
ترجمہ: جب بھی شیطان تمہیں کوئی وسوسہ ڈالے تو اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو۔
مندرجہ بالا آیات سے ثابت ہوا کہ صرف واش روم میں نہاتے ہوئے پیشاب کرنا یا نہانے کی جگہ پر پیشاب کرنا سے وسوسوں کی بیماری لگتی ہے اور وسوسہ ڈالنا شیطان کا کام ہے۔ یعنی ایک غیر زمہداری کے کام سے ہم شیطان کے استعمال میں چلے جاتے ہیں ۔۔ یہ وسوسے جو شروع میں تو صرف روح پر وار کرتے ہیں ۔ لیکن آگے چل کر یہ جسمانی امراض جنہیں ڈپریشن، anxiety، اعصابی مسائل اور ان اعصابی مسائل سے ایک قدم آگے بلڈ پریشر اور دل کے امراض جسم کو ناکارہ کر دیتے ہیں اور یوں کہنے کو تو موت ہارٹ اٹیک یا گردوں کے ناکارہ ہونے سے ہوتی ہے جبکہ اس کو شروع ہم ایک معمولی بد احتیاطی سے کرتے ہیں۔۔ آج ہمارے معاشرے کے سب سے بڑے المیہ میں بے توکلی، ذہنی انتشار کے امراض ہیں۔ جن کو اس خبیث نے وسوسوں کی صورت میں ہمارے خواتین اور ہمارے بچوں میں ڈالا تھا۔۔
اگر آپ روز مرہ کی وہ دعائیں دیکھیں جو حضور نبی کریمﷺ مانگا کرتے تھے تو اس میں بیت الخلا، یا واش روم کیونکہ آجکل تو یہ اٹیچ ہے ۔۔ کی دعا میں عجیب الفاظ ہیں۔۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو کہتے :
اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ.
بخاری، الصحيح، کتاب الوضو، باب ما يقول عند الخلاء، 1 : 66، 142
*’’اے اللہ بے شک میں خبیث جنّوں اور خبیث جنّنیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔‘‘*
نبی کریمﷺ کے زبان اطہر سے نکلی ہوئی ہر بات حق ہے اور سچ ہے اگر آپ کریمﷺ نے بیت الخلا یا واش روم کی دعا میں خبیث جنوں اور جننیوں سے پناہ طلب کی ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری روح اور جسم پر وار کرنے کے لئے جنات کی سب سے پسندیدہ جگہ ہمارے واش روم ہیں اور ہماری ایک چھوٹی سی نادانی ان خبیثوں کو ہم پر ہماری اولاد پر اور ہماری خواتین پر اختیار دے دیتی ہے۔۔ آج جو بچہ یا خاتون نہاتے ہوئے طہارت کا خیال نہی رکھ رہی تو اس کا مطلب ہے وہ مستقبل کے نفسیاتی مریض پیدا کر رہی ہیں۔ جو قاتل بھی ہو سکتے ہیں، چور ڈاکو بھی اور آج ایک خاتون مرد یا بچہ بے احتیاطی برتے گا آنے والے سو سالوں میں پورا ایک قبیلہ نفسیاتی مریضوں کا موجود ہو گا۔۔
جس طرح نبی کریمﷺ نے ایک سبز ٹہنی رکھ کر ان قبروں کا عذاب کم کیا۔۔
ہمیں بھی آج اپنے نبی کریمﷺ کی پناہ میں آنا ہو گا اور ان کی ماننی ہوگی اور صرف اپنے آپ اور اپنی اولاد پر کام کر کے ہم اپنے معاشرے کی بڑی اذیتوں نفسیاتی المیہ کو ختم کرنے کا باعث ہو سکتے ہیں۔۔
نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا
ساتھ ہی منشیء رحمت کا قلمدان گیا
دل ہے وہ دل جو تِری یاد سے معمور رہا
سر ہے وہ سر جو ترے قدموں پہ قربان گیا
اُنہیں جانا، اُنہیں مانا نہ رکھا غیر سے کام
للہِ الحمد میں دنیا سے مسلمان گیا
منقول
19/10/2024
عربوں کی قدیم روایات میں، مرد اپنی غیرت کی وجہ سے کبھی بھی اس گھوڑے کو فروخت نہیں کرتا تھا جس پر اس کی بیوی سواری کرتی تھی، بلکہ وہ اسے ذبح کر دیتا تھا تاکہ کوئی دوسرا مرد اس پر سوار نہ ہو۔
جب کسی عورت کو دفن کیا جاتا ہے، تو اس کے اہل خانہ قبر کے کنارے پر ہجوم کر لیتے ہیں اور پورا مقام اس طرح گھیر لیتے ہیں کہ کوئی غیر خاندان والا اس کے قریب نہ آسکے۔ وہ سب آوازیں بلند کرتے ہیں: “جنازہ ڈھانپ دو، قبر کو چھپا دو!.
یہ سب کچھ اس پر غیرت کی وجہ سے کرتے ہیں، حالانکہ وہ کفن میں لپٹی ہوئی ہوتی ہے۔
کیا تمہارے زندہ خواتین اس غیرت کے زیادہ حق دار نہیں ہیں؟
عورت کے لباس سے اس کے والد کی تربیت، اس کی ماں کی پاکیزگی، اس کے بھائی کی غیرت اور اس کے شوہر کی مردانگی کی جھلک نظر آتی ہے۔
ثقافت، آزادی اور جمہوریت کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی قدروں، حیا، اور اخلاقیات کو چھوڑ دیں۔
اپنی بیٹیوں اور عورتوں کے ساتھ ﷲ کا خوف رکھو اور ان کی عزت کا خیال رکھو۔
السلام علیکم و رحمۃاللہ عنقریب ہم قرآن پاک کی تجوید پر کلاس کا آغاز کریں گے احباب سے دعاؤں کی درخواست ہے
جس طرح post-modernism نے کسی چیز کو 'حق' قرار دینے کو معیوب بنا کر حق و باطل کو دو opinions قرار دیا جس میں دونوں میں درست ہونے کا احتمال بھی ہو اور غلط ہونے کا بھی۔۔۔ ویسے ہی مغربی سیاسیات و سماجیات سے متاثر ہوکر کچھ لوگوں نے اسلام میں موجود اتھارٹی کے تصور کو ہی معیوب بنا دیا۔ جیسے 'اتھارٹی' کا ہونا تو بہت بری، دقیانوسی اور نقصاندہ چیز ہے۔ یہ تو ملوکیت، بادشاہت، آمریت اور authoritarianism ہے!
جبکہ اسلام کو دیکھا جائے تو ہر جگہ اتھارٹی نظر آئے گی۔ میاں بیوی میں شوہر کو، اولاد کے مقابلے والدین کو، جماعت میں کسی امیر کو، مسجد میں امام کو، اور رعایا کے سامنے خلیفہ کو۔ حتی کہ رسول اللہ ﷺ نے یہاں تک حکم دیا کہ سفر میں تین افراد بھی ہوں تو ایک کو 'امیر' بنا لیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ جس کے پاس فیصلے کا اختیار ہو وہ باقیوں سے مشورہ نہ کرے، ان کی خواہش نہ دیکھے، ان کی قوت یا ضعف کو نظر انداز کردے۔ یا حرام میں اس کی بات مانے جائے اور آنکھیں بند کر کے ایسی اطاعت ہو کہ کہیں مشورہ، کہیں نصیحت یا کہیں accountability درکار ہو تو اس سے بھی دامن بچایا جائے۔ ہرگز نہیں! لیکن یہ سمجھنا کہ مشورہ کرنا، باقیوں کی خواہش، ان کی کمزوری یا طاقت کو دیکھنا۔۔ یا پھر نصیحت کرنا یا غلطی پر اکاؤنٹبلیٹی کرنا جیسے اس 'اتھارٹی' کو ہی ختم کردیتا، اس اتھارٹی کے نظم و ضبط کو ہی مٹا دیتا، ایک حماقت پر مبنی رائے ہوگی۔
مختصرا کہوں تو بیوی کے لیے شوہر کی، مقتدی کے لیے امام کی، جماعت میں امیر کی، رعایا کی خلیفہ کی اطاعت نہ صرف اچھی بلکہ لازمی چیز ہے۔ ہاں اسلام نے اس کی حدود و قیود بھی بیان کی،لیکن یہ سب اس اتھارٹی کو dilute نہیں بلکہ اس کو مزید احسن انداز میں endorse کرتی ہیں۔
منقول
مبارک ثانی کیس! فیصلہ تبدیل کرنے ہونے پر تمام قوم کو مبارکباد۔ شکریہ چیف جسٹس
09/08/2024
الحمدللہ
پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم نے اولمپکس مقابلوں میں تاریخ رقم کر دی۔۔۔
ارشد ندیم نے جیولین تھرو کے فائنل میں 92.97 میٹر کا تھرو پھینک کر اولمپک ریکارڈ بناتے ہوئے پاکستان کیلئے 40 سال بعد اولمپکس مقابلوں میں گولڈ میڈل جیت لیا، یہ پاکستان کا اولمپکس کے انفرادی مقابلوں میں پہلا گولڈ میڈل ہے
نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
05/08/2024
"سٹیٹ گیسٹ"
وہ اور تھے جنہوں نے ایک مہمان کی خاطر پورا ملک داؤ پر لگادیا تھا ،
عمرؒ تیری یاد آتی رہیگی ۔
31/07/2024
ح-م-ا-س کے رہنما اسماعیل ہانیہ کو ایران میں شہید کر دیا گیا
انا للّٰہ و انا الیہ راجعون
اپنے پورے خاندان اور اولاد سے 70 سے زائد شہادتوں کے بعد اسماعیل ہانیہ خود بھی شہید
انا للّٰہ و انا الیہ راجعون
کادیانیوں کے فرنٹ مین کی جانب سپریم کورٹ کے فیصلے کو خوب سراہا جائے گا۔(اتوار کاانتظار کیجئے) پشین گوئی ہے ہماری انشاءاللہ
25/05/2024
زندگی میں ایک مرحلہ وہ ہوتا ہے جب یہ بات بے معنی ہو جاتی ہے کہ آپ کی تعداد کتنی ہے؟ اہم صرف یہ ہوتا ہے آپ کا موقف کیا ہے۔
ڈی چوک میں اس گونگے معاشرے کے اکلوتے کفارے سینیٹر مشتاق کی رات گئے کی یہ تصویر بھی ایسے ہی لمحے کی خبر دے رہی ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Jinnah Town 89/6. R
Sahiwal
62300
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 23:00 |
| Tuesday | 09:00 - 23:00 |
| Wednesday | 09:00 - 23:00 |
| Thursday | 09:00 - 23:00 |
| Friday | 09:00 - 23:00 |
| Saturday | 09:00 - 23:00 |