govt.high school saghri

govt.high school saghri it is education incitation

26/08/2020
true
12/10/2019

true

01/09/2019

ایک اندھیرے کمرے میں چار موم بتیاں جل رہیں تھیں۔۔۔۔ پہلی بولی: میں امن ہوں۔۔اب چونکہ میں مفقود ہو چلی ہوں، تو بس میرا آخری وقت آن پہنچا ہے، اس کا شعلہ تھوڑا سا پھڑپھڑایا اور وہ بجھ گئی۔۔۔۔ دوسری موم بتی بولی: میں ایمان ہوں، لوگوں کے دل سے اللہ کا خوف اٹھ گیا ہے،ایک دوسرے پر بھروسہ نہیں کرتے تو میرا کیا ہے۔ جب دنیا میں ایمان ختم ہو گیا ہے تو میرا کیا کام، اس کا شعلہ اٹھا اور بجھ گیا۔۔۔۔ تیسری نے کہا: میں محبت ہوں۔۔آج ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی ٹانگ کھینچ رہا ہے، میرا اس دنیا میں اب کوئی کام نہیں بچا اور یہ کہہ کر وہ بھی بجھ گئی۔۔۔

کمرے میں بہت اندھیرا ہو گیا اور غم و الم کے سائے دیواروں اور جھروکوں پر منڈلا نے لگے، اتنے میں ایک معصوم بچہ کمرے میں داخل ہوا اور اندھیرا دیکھ کر سہم گیا۔۔۔۔ وہ جانے لگا تھا کہ آخری موم بتی بولی: رکو پلیز۔۔۔مت جاؤ۔۔۔ میں امید ہوں اور میں کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔ واپس آجاؤ، میرا وعدہ ہے۔ میں تمہیں کبھی اندھیرے میں تنہا نہیں چھوڑوں گی۔ بچے نے سنا تو مسکرایا اور واپس آگیا۔ امید بولی کہ مجھ سے تم باقی شمعیں بھی پھر سے روشن کر دو۔ بچے نے اسے اٹھایا اور امن، ایمان اور محبت کی شمعیں پھر سے روشن کر دیں۔۔۔۔

  # Mobaruk.2019 june 6
04/06/2019

# Mobaruk.
2019 june 6

Rsmzan mobrik
07/05/2019

Rsmzan mobrik

One Nation
04/04/2019

One Nation

15/11/2018

۔ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮔﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ
ﺑﻮﮌﮬﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﭘﺮﺍﻧﺎ ﺳﺎ ﺍﯾﮏ ﻣﮑﺎﻥ
ﺗﮭﺎ، ﺍﯾﮏ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﭖ ﺑﯿﭩﺎ ﺭﮨﺘﮯ ، ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﻮ ﺍﺻﻄﺒﻞ
ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ، ﻭﮨﺎﮞ ﺍﻥ ﮐﺎ ﮔﮭﻮﮌﺍ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﯾﮧ ﮔﮭﻮﮌﺍ ﺑﮍﺍ ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺍﻋﻠﯽٰ ﻧﺴﻞ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺑﮩﺖ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﯾﮏ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ﻟﮕﺎ، ﺍﺱ ﻧﮯ باپ بن کر بیٹے ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺳﮯ ﭘﺎﻻ ۔ ﺑﮍﺍ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﮐﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﮐﯽ ﺩﮬﻮﻡ ﻣﭻ ﮔﺌﯽ۔ ﺩﻭﺭ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺁﺗﮯ ۔ ﮔﺎﺅﮞ ﮐﮯ ﺭﺋﯿﺲ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﭘﮩﻠﯽ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﯾﻔﺘﮧ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ، ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮐﻮ ﺑﻼ ﮐﺮ ﻣﻨﮧ ﻣﺎﻧﮕﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﮐﯽ ﭘﯿﺶﮐﺶ ﮐﯽ۔ ﮐﺴﺎﻥ ﻧﮯ ﻣﻌﺬﺭﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮔﮭﻮﮌﺍ ﻧﮩﯿﮟ ، ﻣﯿﺮﺍ ﺑﯿﭩﺎ ﮨﮯ ، ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ۔ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ، ﺳﺐ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﺭﮨﮯ ۔ ﮔﺎﺅﮞ ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﺳﻤﺠﮭﺪﺍﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻏﺮﯾﺐ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﻮ، ﺍﯾﺴﮯ ﺍﻋﻠﯽٰ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﮐﻮ ﮐﺘﻨﯽ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﮐﺮ ﺭﮐﮫ ﻟﻮ ﮔﮯ ، ﺍﭼﮭﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﻣﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ، ﺑﯿﭻ ﮈﺍﻟﻮ، ﮐﮩﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﯾﮧ ﮔﮭﻮﮌﺍ ﭼﺮﺍ ﮐﺮ ﻟﮯ ﺟﺎﺋﮯ ۔ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﺮ ﻣﺸﻮﺭﮮ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﺩﯾﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺲ، ﺑﺎﺕ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ۔

ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﮐﺴﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺣﺴﺐ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺻﺒﺢ ﺍﭨﮭﮯ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻼ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﻮﮌﺍ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﮯ ۔

ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺁﺱ ﭘﺎﺱ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﻣﮕﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺮﺍﻍ ﻧﮧ ﻣﻼ۔ ﺑﺴﺘﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮐﺮﻧﮯ ﺁﺋﮯ ۔ ﺟﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮔﮭﻮﮌﺍ ﺑﯿﭽﻨﮯ ﮐﺎ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﭧ ﺳﮯ ﻃﻌﻨﮧ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮔﮭﻮﮌﺍ ﺑﯿﭻ ﺩﻭ ، ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﮯ ۔ ﺍﺏ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﺪﻗﺴﻤﺘﯽ ﮐﮧ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﭽﮫ ﻟﺌﮯ ﮔﮭﻮﮌﺍ ﮔﻨﻮﺍ ﺑﯿﭩﮭﮯ ۔ ﮐﺴﺎﻥ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻨﺘﺎ ﺭﮨﺎ، ﭘﮭﺮ ﺑﮍﮮ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﻮﻻ، ﺑﮭﺎﺋﯿﻮ، ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﮍﯼ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺁﺋﮯ ، ﺍﭘﻨﯽ ﮨﻤﺪﺭﺩﯼ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﯿﺎ، ﻣﮕﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻗﺴﻤﺘﯽ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺁ ﮔﺌﯽ۔ ﯾﮧ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﮔﮭﻮﮌﺍ ﺗﮭﺎ، ﺟﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻋﺰﯾﺰ ﺗﮭﺎ، ﺁﺝ ﺻﺒﺢ ﻭﮦ ﮔﮭﻮﮌﺍ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﮯ ۔ ﺍﺱ ﺣﺪ ﺗﮏ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﮯ، ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﮭﯽ ﺳﮯ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﻃﮯ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺑﺪﻗﺴﻤﺘﯽ ﮨﮯ ؟ ﮔﺎﺅﮞ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﮍﮮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺋﮯ ، ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ ﺷﺎﺋﺪ ﺻﺪﻣﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺑﺎﺑﮯ ﮐﺎ ﺩﻣﺎﻍ ﭼﻞ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ، ﯾﮧ ﺑﺪﻗﺴﻤﺘﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻣﺎﻟﯿﺖ ﮐﺎ ﮔﮭﻮﮌﺍ ﭼﻮﺭﯼ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﺑﮍﺑﮍﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯﺳﺐ ﻟﻮﮒ ﻭﺍﭘﺲ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ۔ ﺩﻭ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻭﮦ ﮔﮭﻮﮌﺍ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﮔﯿﺎ،
ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﮦ ﺟﻨﮕﻞ ﺳﮯ ﺻﺤﺖ ﻣﻨﺪ، ﺍﻋﻠﯽٰ ﻧﺴﻞ ﮐﮯ ﺍﮐﯿﺲ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﺑﮭﯽ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ۔ ﮔﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﻮﻡ ﻣﭻ ﮔﺌﯽ۔ ﻟﻮﮒ ﺁﮐﺮ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮐﻮ ﻣﺒﺎﺭﮐﺒﺎﺩﯾﮟ ﺩﯾﻨﮯ ﻟﮕﮯ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺭﻭﺯ ﻏﻠﻂ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ، ﮔﮭﻮﮌﮮ ﮐﺎ ﭼﻼ ﺟﺎﻧﺎ ﺑﺪﻗﺴﻤﺘﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ، ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﺗﻮﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺘﯽ ﺗﮭﯽ، ﺁﺝ ﭘﻮﺭﮮ ﺍﮐﯿﺲ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ.ﮔﮭﺮ ﺁ ﮔﺌﮯ ۔ ﮐﺴﺎﻥ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺗﺒﺼﺮﮮ ﺳﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮐﮩﺎ، ﺑﮭﺎﺋﯿﻮِ، ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﮭﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﯽ، ﻣﯿﺮﺍ ﮔﮭﻮﮌﺍ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﮔﯿﺎ، ﯾﮧ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﮐﯿﺲ ﮔﮭﻮﮌ ﮮ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ ، ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺘﯽ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ؟

ﮔﺎﺅﮞ ﻭﺍﻟﮯ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺎ ﻣﻨﮧ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ ۔ ﭼﻨﺪ ﺩﻥ ﮔﺰﺭﮔﺌﮯ، ﮐﺴﺎﻥ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺍﻥ ﺟﻨﮕﻠﯽ ﮔﮭﻮﮌﻭﮞ ﮐﻮ ﺳﺪﮬﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺸﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﺗﮭﺎ، ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﯾﮏ ﺳﺮﮐﺶ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﺴﯽ ﭘﭩﺨﻨﯽ ﺩﯼ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭨﺎﻧﮓ ﮨﯽ ﭨﻮﭦ ﮔﺌﯽ، ﻃﺒﯿﺐ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺑﮭﺎﻻ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﻦ ﻣﮩﯿﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ ﺁﺭﺍﻡ ﮐﯽ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﮐﯽ۔ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﮭﺮ ﮔﺎﺅﮞ ﺍﻣﻨﮉ ﺁﯾﺎ۔ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﻧﮯ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻤﺪﺭﺩﯼ ﮐﯽ۔ ﭼﻨﺪ ﺍﯾﮏ ﻧﮯ ﺻﺎﻑ ﮔﻮﺋﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺑﺎﺑﺎﺟﯽ ﺁﭖ ﮨﯽ ﭨﮭﯿﮏ ﺗﮭﮯ ، ﺍﻥ ﺍﮐﯿﺲ ﮔﮭﻮﮌﻭﮞ ﮐﺎ ﺁﻧﺎ ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺘﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺩﺭﺣﻘﯿﻘﺖ ﺑﺪﻗﺴﻤﺘﯽ ﮐﺎ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﺗﮭﺎ۔ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺍﮐﻠﻮﺗﺎ ﺳﮩﺎﺭﺍ ، ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺑﯿﭩﺎ ﺯﺧﻤﯽ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ، ﻧﺠﺎﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭨﺎﻧﮓ ﺩﺭﺳﺖ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺟﮍ ﺗﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ، ﺁﭖ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﮨﻮ، ﺗﻤﺎﻡ ﮐﺎﻡ ﮐﺎﺝ ﺑﯿﭩﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺏ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﻮ ﮔﯽ، ﺁﭖ ﮐﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﺧﺮﺍﺏ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮐﺴﺎﻥ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﭨﮭﻨﮉﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﺑﮭﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﻗﺪﺭﮮ ﺟﮭﻨﺠﮭﻼﮨﭧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮩﺎ ، ﯾﺎﺭﻭ ﮨﺮ ﻭﺍﻗﻌﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺘﯽ ﯾﺎ ﺑﺪﻗﺴﻤﺘﯽ ﻧﮧ ﮈﮬﻮﻧﮉ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﻭ، ﺟﻮ ﺑﺎﺕ ﺟﺘﻨﯽ ﮨﮯ ، ﺍﺗﻨﯽ ﮨﯽ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﻭ، ﺍﺗﻨﯽ ﻗﻄﻌﯿﺖ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﻦ ﺭﺍﺋﮯ ﻧﮧ ﺩﯾﺎ ﮐﺮﻭ، ﻣﯿﺮﺍ ﺑﯿﭩﺎ ﮔﺮ ﮐﺮ ﭨﺎﻧﮓ ﺗﮍﻭﺍ ﺑﯿﭩﮭﺎ، ﺍﺱ ﺣﺪ ﺗﮏ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﺎﺕ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﮯ ، ﺑﺎﻗﯽ ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺘﯽ ﯾﺎ ﺑﺪﻗﺴﻤﺘﯽ ﮐﺎ ﺣﺘﻤﯽ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺍﺑﮭﯽ ﮨﻮﻧﺎ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ ، ﻗﺪﺭﺕ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺘﺮ ﺟﺎﻧﺘﯽ ﮨﮯ ۔

ﺩﻭ ﺗﯿﻦ ﮨﻔﺘﮯ ﮔﺰﺭﮮ ، ﺍﭼﺎﻧﮏ ﮨﯽ ﺟﻨﮓ ﭼﮭﮍ ﮔﺌﯽ، ﻗﺮﯾﺒﯽ ﻣﻠﮏ ﮐﯽ ﻓﻮﺝ ﻧﮯ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺟﺒﺮﯼ ﺑﮭﺮﺗﯽ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ۔ ﺭﯾﺎﺳﺘﯽ ﺍﮨﻠﮑﺎﺭ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﯾﮩﺎﺕ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺱ ﮔﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺯﺧﻤﯽ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮨﺮ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﻮ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ۔
ﮔﺎﺅﮞ ﻭﺍﻟﮯ ﺭﻭﺗﮯ ﭘﯿﭩﺘﮯ ﺑﺎﺑﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺗﻮ

ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﮯﻭﻗﻮﻑ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ ، ﺗﻢ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﯿﺎﻧﮯ ﻧﮑﻠﮯ ۔ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﺎ ﺣﺎﺩﺛﮧ ﺑﺪﻗﺴﻤﺘﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ ﺳﭻ ﭘﻮﭼﮭﻮ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺘﯽ ﺗﮭﯽ، ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯﺟﻨﮓ ﻟﮍﻧﮯ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ، ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﻮﭨﺘﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ،ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺑﯿﭩﺎ ﺗﻮ ﭼﻠﻮ ﺗﯿﻦ ﭼﺎﺭ ﻣﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮐﺴﺎﻥﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺳﺮ ﭘﯿﭩﻨﮯ ﮐﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﺎﺭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ، ﺑﮯ ﭼﺎﺭﮔﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ، ﺑﮭﺎﺋﯿﻮ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﻟﻮﮒ ﺍﺻﻞ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺗﻨﺎ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ۔ ﮨﻢ ﺳﺐ ﺑﮩﺖ ﺟﻠﺪﯼ ﮐﺴﯽ ﻭﺍﻗﻌﮯ ﭘﺮ ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺘﯽ ، ﺑﺪﻗﺴﻤﺘﯽ ﮐﺎ ﻟﯿﺒﻞ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﮐﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﭨﮑﮍﮮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ، ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻣﮑﻤﻞ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﻧﮩﯿﮟ ، ﺗﺼﻮﯾﺮ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﭨﮑﮍﺍ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﺳﯽ ﭨﮑﮍﮮ ﮐﻮ ﮨﻢ ﻣﮑﻤﻞ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺍﯾﮏ ﭨﮑﮍﺍﮐﺒﮭﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﮐﻮ ﺩﺭﺳﺖ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﺑﯿﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﻧﮓ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺘﺎ ﺳﮑﺘﺎ۔ ﮨﻤﯿﮟ ﺣﺘﻤﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ، ﺟﻮ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ، ﺍﺳﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﺳﻤﺠﮭﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﻧﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ۔

17/08/2018

ہلاکو خاں کی بیٹی کے سامنے بغداد کے ایک بڑے عالم کو پیش کیا گیا جسے زنجیروں میں جکڑا گیا تھا۔ مغرور شہزادی نے عالم کو حقارت سے دیکھا اور پوچھا
تم لوگ تو کہتے ہو کہ تمہارا خدا تم سے محبت کرتا ہے ۔ پھر یہ سب کیا ہے؟ کیا تمہارے خدا نے تم پر چنگیزیوں کو غالب نہیں کر دیا؟
۔
عالم نے جواب دیا۔ یقینا اس وقت آپ ہم پر غالب ہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ خدا نے ہم سے محبت چھوڑ دی ہے؟
۔
شہزادی نے پوچھا تو پھر تمہارے خدا نے تمہاری مدد کیوں نہیں کی؟
عالم نے پوچھا شہزادی صاحبہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ چرواہے نے جہاں سینکڑوں بھیڑ بکریوں پالی ہوتی ہیں اس کے ساتھ اس نے دو چار کتے بھی رکھے ہوتے ہیں؟ کیا آپ اس کی وجہ جانتی ہیں؟
۔
شہزادی نے جواب دیا۔ وہ اس لئے کہ اگر کچھ بھیڑیں ریوڑ کو چھوڑ کو راستے سے بھٹک جائیں تو چرواہا ان کے پیچھے کتے لگا دیتا ہے جو انہیں ڈرا دھمکا کر کر واپس اپنے ریوڑ میں لے آتے ہیں۔
۔
عالم نے مسکرا کر کہا۔ شہزادی صاحبہ اسی طرح ہم بھی خدا کا ریوڑ ہیں۔ اور آپ وہی چرواہے کے کتے ہو۔ جب ہم نے خدا کی نافرمانی کی اور اس کے احکامات چھوڑ دیئے تو اس نے ہم پر آپ جیسے کتوں کو مسلط کر دیا۔ جس وقت ہم اپنی غلطیوں سے تائب ہو کر واپس اپنے ریوڑ میں آ جائیں گے وہ دوبارہ سے ہم پر مہربان ہو جائے گا۔ پھر آپ کا کام ختم ہو جائے گا۔
عالم کی بات سن کر شہزادی کا غصہ انتہاؤں کو چھونے لگا۔ اس نے فورا سپاہی کو حکم دیا کہ اس گستاخ کا سر قلم کر دیا جائے۔
۔
۔
بس یہی سبق ہے آج کا
جب ہم خود ٹھیک ہو جائیں گے تو نہ امریکہ یروشلم کو بیچے گا نہ اسرائیل غزہ میں قتل عام کر سکے گا۔ نہ انڈیا کشمیر کو کھا سکے گا نہ برما میں مسلمان شہید ہوںگے.

08/05/2018

عبداللہ طاہر جب خراسان کے گورنر تھے اور نیشاپور اس کا دارالحکومت تھا تو ایک لوہار شہر ہرات سے نیشاپور گیا اور چند دنوں تک وہاں کاروبار کیا۔ پھر اپنے اہل و عیال سے ملاقات کے لئے وطن لوٹنے کا ارادہ کیا اور رات کے پچھلے پہر سفر کرنا شروع کردیا۔ ان ہی دنوں عبد اللہ طاہر نے سپاہیوں کو حکم دے رکھا تھا کہ وہ شہر کے راستوں کو محفوظ بنائیں تاکہ کسی مسافر کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو۔

اتفاق ایسا ہوا کہ سپاہیوں نے اسی رات چند چوروں کو گرفتار کیا اور امیر خراسان (عبد اللہ طاہر) کو اسکی خبر بھی پہنچا دی لیکن اچانک ان میں سے ایک چور بھاگ گیا۔ اب یہ گھبرائے اگر امیر کو معلوم ہوگیا کہ ایک چور بھاگ گیا ہے تو وہ ہمیں سزا دے گا۔ اتنے میں انہیں سفر کرتا ہوا یہ (لوہار) نظر آیا۔ انھوں نے اپنی جان بچانے کی خاطر اس بےگناہ شخص کوفوراً گرفتار کرلیا اور باقی چوروں کے ساتھ اسے بھی امیر کے سامنے پیش کردیا۔ امیرخراسان نے سمجھا کہ یہ سب چوری کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں اس لئے مزید کسی تفتیش و تحقیق کے بغیر سب کو قید کرنے کا حکم دے دیا۔

نیک سیرت لوہار سمجھ گیا کہ اب میرا معاملہ صرف اللہ جل شانہ کی بارگاہ سے ہی حل ہوسکتا ہے اور میرا مقصد اسی کے کرم سے حاصل ہوسکتا ہے لہٰذا اس نے وضو کیا اور قید خانہ کے ایک گوشہ میں نماز پڑھنا شروع کردی۔ ہر دو رکعت کی بعد سر سجدہ میں رکھ کر اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں رقت انگیز دعائیں اور دل سوز مناجات شروع کردیتا اور کہتا۔ ’’ اے میرے مالک! تو اچھی طرح جانتا ہے میں بےقصور ہوں‘‘۔ جب رات ہوئی تو عبد اللہ طاہر نے خواب دیکھا کہ چار بہادر اور طاقتور لوگ آئے اور سختی سے اس کے تخت کے چاروں پایوں کو پکڑکر اٹھایا اور الٹنے لگے اتنے میں اس کی نیند ٹوٹ گئی۔ اس نے فوراً لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ پڑھا۔ پھر وضو کیا اور اس احکم الحاکمین کی بارگاہ میں دو رکعت نماز ادا کی جس کی طرف ہر شاہ و گدا اپنی اپنی پریشانیوں کے وقت رجوع کرتے ہیں۔ اس کے بعد دوبارہ سویا تو پھر وہی خواب دیکھا اس طرح چار مرتبہ ہوا۔ ہر بار وہ یہی دیکھتا تھا کہ چاروں نوجوان اس کے تخت کے پایوں کو پکڑ کر اٹھاتے ہیں اور الٹنا چاہتے ہیں۔امیر خراسان عبد اللہ طاہر اس واقعہ سے گھبرا گئے اور انہیں یقین ہوگیا کہ ضرور اس میں کسی مظلوم کی آہ کا اثر ہے جیسا کہ کسی صاحب علم و دانش نے کہا ہے:
نکند صد ہزار تیر و تبر
آنچہ یک پیرہ زن کند بہ سحر
ای بسا نیزۂ عدد شکناں
ریزہ گشت از دعاے پیر زناں
یعنی لاکھوں تیر اور بھالے وہ کام نہیں کر سکتے جو کام ایک بڑھیا صبح کے وقت کردیتی ہے۔ بارہا ایسا ہوا ہے کہ دشمنوں سے مردانہ وار مقابلہ کرنے اور انہیں شکست دینے والے، بوڑھی عورتوں کی بد دعا سے تباہ وبرباد ہوگئے۔

امیر خراسان نے رات ہی میں جیلر کو بلوایا اور اس سے پوچھا کہ بتاؤ! تمہارے علم میں کوئی مظلوم شخص جیل میں بند تو نہیں کردیا گیا ہے؟ جیلر نے عرض کیا۔ عالیجاہ! میں یہ تو نہیں جانتا کہ مظلوم کون ہے لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ میں ایک شخص کو دیکھ رہا ہوں جو جیل میں نماز پڑھتا ہے اور رقت انگیز و دل سوز دعائیں کرتا ہے۔

امیر نے حکم دیا: اسے فوراً حاضر کیا جائے۔ جب وہ شخص امیر کے سامنے حاضر ہوا تو امیر نے اس کے معاملہ کی تحقیق کی۔ معلوم ہوا کہ وہ بے قصور ہے۔امیر نے اس شخص سے معذرت کی اور کہا: آپ میرے ساتھ تین کام کیجئے۔
نمبر۱۔ آپ مجھے معاف کردیں۔
نمبر۲۔ میری طرف سے ایک ہزار درہم قبول فرمائیں۔
نمبر۳۔ جب بھی آپ کو کسی قسم کی پریشانی درپیش ہو تو میرے پاس تشریف لائیں تاکہ میں آپ کی مدد کر سکوں۔

نیک سیرت لوہار نے کہا: آپ نے جو یہ فرمایا ہے کہ میں آپ کو معاف کردوں تو میں نے آپ کو معاف کردیا اور آپ نے جو یہ فرمایا کہ ایک ہزار درہم قبول کرلوں تو وہ بھی میں نے قبول کیا لیکن آپ نے جو یہ کہا ہے کہ جب مجھے کوئی مشکل درپیش ہو تو میں آپ کے پاس آؤں، یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا۔

امیر نے پوچھا: یہ کیوں نہیں ہوسکتا؟ تو اس شخص نے جواب دیا کہ وہ خالق و مالک جل جلالہ جو مجھ جیسے فقیر کے لئے آپ جیسے بادشاہ کا تخت ایک رات میں چار مرتبہ اوندھا کر سکتا ہے تو اسکو چھوڑ دینا اور اپنی ضرورت کسی دوسرے کے پاس لے جانا اصولِ بندگی کے خلاف ہے۔ میرا وہ کون سا کام ہے جو نماز پڑھنے سے پورا نہیں ہو جاتا کہ میں اسے غیر کے پاس لے جاؤں۔ یعنی جب میرا سارا کام نماز کی برکت سے پورا ہوجاتا ہے تو مجھے کسی اور کے پاس جانے کی کیا ضرورت ہے۔

(ریاض الناصحینص:۱۰۵،۱۰۴)

@
25/03/2018

@

21/02/2018

ایک خاتون ایک مولوی صاحب کے پاس گئیں، "مولوی صاحب، کوئی ایسا تعویز لکھ دیں کہ میرے بچے رات کو بھوک سے نہ رویا کریں۔"
مولوی صاحب نے تعویذ لکھ دیا۔
اگلے ھی روز کسی نے روپوں سے بھرا تھیلا اُن کے صحن میں پھینک دیا۔
خاتون کے شوھر نے ایک دوکان کرائے پر لے لی۔ کاروبار میں برکت ھوئی اور دوکانیں بڑھتی گئیں اور پیسے کی ریل پیل ھو گئی۔
ایک دن خاتون کی نظر اُس پرانے صندوق پر پڑی جس میں انہوں نے تعویذ کو محفوظ رکھا تھا۔
"جانے مولوی صاحب نے تعویذ میں کیا لکھا تھا؟" تجسّس میں اس نے تعویذ کھول ڈالا۔
لکھا تھا، "جب پیسے کی ریل پیل ھو جائے تو سارا پیسہ تجوری میں چھپانے کی بجائے کچھ ایسے گھروں میں ڈال دینا جہاں رات کو بچوں کے رونے کی آواز آتی ھو۔"

Address

Saghri, Pujab
Saghri
43000

Opening Hours

09:00 - 14:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when govt.high school saghri posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share