Abu Huraira Online Quran Academy

Abu Huraira Online Quran Academy Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Abu Huraira Online Quran Academy, Education, Sadiqabad.

Connect with us for Online Quran Learning — Nazra, Hifz, Tajweed, Translation & Tafseer of the Holy Quran, taught by qualified male and female teachers.
📘 Free Trial Available
📲 WhatsApp: 03123046748

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حالات پڑھتے ہیں تو واقعی حیرت ہوتی ہے کہ ان کے گھروں میں دنیا کی سہولتیں کتنی کم تھیں، لیکن ...
11/08/2026

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حالات پڑھتے ہیں تو واقعی حیرت ہوتی ہے کہ ان کے گھروں میں دنیا کی سہولتیں کتنی کم تھیں، لیکن آخرت کی فکر کتنی زیادہ تھی۔
اور آج ہمارے گھروں کا حال دیکھیں… اللہ نے ضرورت سے کہیں زیادہ دیا ہوا ہے، گھر میں ہر طرح کی سہولت موجود ہے، ہماری بہت سی خواہشیں بھی پوری ہوتی رہتی ہیں، لیکن اگر کبھی ہماری مرضی کی کوئی ایک چیز نہ ملے تو ہم شکوہ شروع کر دیتے ہیں، ناشکری کرنے لگتے ہیں۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگی ہمیں یہی تو سکھاتی ہے کہ اصل کامیابی دنیا کو زیادہ سے زیادہ جمع کرنا نہیں، بلکہ آخرت کے لیے تیاری کرنا ہے۔
اللہ ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر کرنے والا بنائے اور آخرت کی تیاری کی فکر بھی نصیب فرمائے۔ آمین۔ 🤲🏻

✍️ ام ایمن

جو کہیں نہ ملے وہ خوشی چاہیے درد کیسا بھی ہو بندگی چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! مجھے دنیا کی اب کوئی خواہش نہیںآخرت کی مجھے زندگی چا...
10/08/2026

جو کہیں نہ ملے وہ خوشی چاہیے
درد کیسا بھی ہو بندگی چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
مجھے دنیا کی اب کوئی خواہش نہیں
آخرت کی مجھے زندگی چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
تیرے آگے ہی بس ہاتھ پھیلاؤں میں
ایسی اللّٰہ مجھے بے بسی چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
تو ہو جائے راضی سنور جاؤں میں
میرے مالک مجھے آگہی چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔!
میں جھکوں اور جھکوں اور جھکی ہی رہوں
عبادت میں بس ایسی عاجزی چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
میں بھٹک جاؤں تو آسرا دے مجھے
ایسی اللّٰہ بس مجھے رہبری چاہیے ۔۔۔۔۔۔

✍️ ام ایمن

09/08/2026

ہمارے گھروں میں اور لوگوں میں سب سے بڑا مسئلہ کنٹرول کا مسئلہ ہے جانے ایسی کون سی نفسیاتی گرہ ہے کہ سب ایک دوسرے کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں سب چاہتے ہیں دوسرے تمام لوگ ان کی مرضی پر چلیں جیسے وہ چاہتے ہیں ویسی زندگی گزاریں اپنی زندگیاں تو ہم جیتے ہیں یا نہیں جیتے مگر دوسروں کی زندگیاں ہم خود ہی جینا چاہتے ہیں جس سے دوسروں کا جینا بھی حرام رہتا ہے۔

والدین اولاد کو کنٹرول رکھنا چاہتے ہیں کہ وہ ان کے اشاروں پہ چلے شوہر بیوی کو انگلیوں پہ چلانا چاہتے ہیں بیویاں شوہروں کو قابو کرنے کے چکر میں ہیں بہنیں چاہتی ہیں صرف ہماری چلے بہوئیں گھر کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتی ہیں۔

اس کنٹرول کرنے کی بیماری کو ہم اگر اپنے دماغوں سے نکال دیں تو یقین کریں آدھے سے زیادہ مسئلے حل ہو جائیں گے۔ پر ایک کو اس کی زندگی جینے دیں۔ اسے سپیس دیں۔
صرف ایک چیز کا دھیان رکھیں کہ کسی بھی دوسرے شخص کی جس بات سے ہمیں ڈائریکٹ فرق نہیں پڑ رہا اس میں دخل مت دیں۔
کوشش کریں جس حد تک ممکن ہو آپ کی زندگی کسی دوسرے پر انحصار کرئے ہی نا اپنے لیے پیسے خرچ کریں اور ملازم رکھیں
ساتھ میں اپنے سے منسلک رشتوں کو سپورٹ کریں ان کے ساتھ مخلص رہیں اور ہمیشہ ان کے مدد گار رہیں ان کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔

کسی بھی خاندان کو جوڑنے اور چلانے میں سب سے اہم کردار اس گھر کے بڑوں کا ہوتا ہے۔ آپ ساس سسر کے منصف پر فائز ہو گئے صرف یہ کافی نہیں ہے بڑے ہیں تو بڑا پن اپنائیں اعلیٰ ظرفی دیکھائیں بڑوں کا کردار بڑا ہوتا ہے کنٹرول نہیں۔

سب سے اہم چیز اولادوں کے مابین عدل اور انصاف ہے۔
اکثر گھرانے بڑی اولاد پر پیسہ خرچ کرتے ہیں انہیں اچھا پڑھایا لکھایا سیٹ کیا کہ یہ باقی اولاد کی پرورش میں ہمارے مددگار ہوں گے باپ کا بازو بنیں گے بیچ میں بیٹے کی پسند کی ایک عدد بیوی آجاتی ہے جو کہتی ہے یہ میرے شوہر کی کمائی ہے اس پر میرا اور میرے بچوں کا حق ہے میں اپنے شوہر کی کمائی ایروں غیروں (بہن بھائیوں) پر یوں لٹانے نہیں دوں گی۔

یہاں باپ تہی دست ہکا بکا کھڑا ہوتا ہے کہ اس نے ایک اولاد کو قابل بنایا اپنا ساتھ دینے کے لیے اور یہاں تو تیرا میرا شروع ہو گیا۔
کچھ خود غرض بیٹے اس موقع پر جان چھڑاتے ہیں اور الگ ہو جاتے ہیں باپ کا سرمایہ ڈوبتا ہے تو ڈوبے، باقی بہن بھائی بھاڑ میں جاتے ہیں تو جائیں۔

کچھ گھرانوں میں یہ بڑا بیٹا قابو آ جاتا ہے سب بہن بھائی اس کے پیسوں سے پڑھتے ہیں سیٹل ہوتے ہیں اس کی اپنی اولاد کے لیے کچھ نہیں بچتا۔

جن گھرانوں میں مشترکہ کاروبار ہیں وہاں تو صورتحال اور بھی گھمبیر ہے باپ اپنا جما جمایا کاروبار نا تو ایک دم ختم کر سکتا ہے نا تقسیم ممکن ہوتی ہے نا اپنی زندگی میں اولاد کو کاروبار سونپ کے ان کا محتاج ہو سکتا ہے میں اب تک کے حالات دیکھ کر ایک نتیجے پر پہنچی ہوں کہ اگر کاروبار مشترک ہو تو گھر مشترک نہیں ہونا چاہیے۔

اگر آپ کو اولادوں کو ساتھ رکھنا ہے تو بڑے گھر بنانے کے بجائے الگ الگ خود مختار پورشن بنائیں جن میں بجلی گیس کے میٹر، پانی کے کنکشن اور داخلی دروازے سب الگ ہوں۔
ہر گھر کی اپنی پرائیویسی ہو اپنا نظام ہو کوئی اس میں دخل اندازی نا کرئے۔

نہیں تو بہتر یہ ہے والدین بیٹوں کی شادی پر لاکھوں روپے بارات، ولیمے اور شو بازی میں اڑانے کے بجائے وہ رقم بیٹے کو تھمائیں اور کہیں کہ اپنے لیے الگ گھر کا انتظام کرو اور اپنی زندگی شروع کرو۔

ایسا سزا کے طور پر نہیں کہ ہمارے بغیر رہ نہیں سکیں گے رہیں گے تو لگ پتہ جائے گا آٹے دال کا بھاو معلوم ہو گا وغیرہ بلکہ جہاں جہاں ضرورت ہو سپورٹ کر سکتے ہوں تو ضرور سپورٹ کریں کمی بیشی پوری کریں۔
اس میں انصاف نہیں عدل رکھیں۔

اپنے بڑھاپے کے لیے اپنا گھر اور گزر بسر کے لیے کچھ سرمایہ ہاتھ میں رکھیں۔

جب والدین بوڑھے ہو جائیں تو اولاد کا فرض ہے کہ اب وہ ان کی خدمت کرئے جب آپ سیٹ ہو گئے تو والدین کو ہر ممکن سہولت دیں ان کے مددگار ہوں۔

ہاں اپنے خاندان کے کچھ اصول بنائیں کہ کم از کم ہفتے میں ایک دن سب بچے آپ کے ساتھ کھانا کھائیں گے وہ کھانا بھی سب ون ڈش لائیں گے
اگر کوئی بیٹا کمائی میں کمزور ہے تو خاموشی سے بغیر جتائے اس کی مدد کریں کہ وہ بھی سب کے برابر ہو جائے اس کو عدل equality کہتے ہیں.

اپنے گھر کے ماحول کو خود خوشگوار رکھیں کسی کو کسی پر حاوی مت ہونے دیں طنز طعنے ، مذاق اڑانا ، نیچا دیکھانا جیسی باتوں کی حوصلہ شکنی کریں۔
اگر بچوں میں ایک دوسرے سے شکایات ہیں تو انہیں رفع دفع کرنے کی کوشش کریں ، کوشش کریں کہ شکایات نفرتوں
میں نا بدلیں ، کسی پر بوجھ نا لادیں آپ کی اولاد مل بیٹھے یہ کافی ہے اگے ان کی اولادوں کو کیا کرنا ہے انہیں کیسے لے کے چلنا ہے وہ جانیں ان کا کام جانے۔
سمجھداری ہی خاندانی نظام کو بجانے کا واحد راستہ ہے.

منقول

کاش! اللہ پاک وہ دن جلد دکھا دیں… 🥹🤍جب ہم اُس کے گھر میں ہوں،بیت اللہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں،اور اللہ کے سامنے ک...
08/08/2026

کاش! اللہ پاک وہ دن جلد دکھا دیں… 🥹🤍
جب ہم اُس کے گھر میں ہوں،
بیت اللہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں،اور اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر دل کی گہرائیوں سے کہہ سکیں:
شکر ہے تیرا خدایا، میں تو اس قابل نہ تھا
تو نے اپنے گھر بلایا، میں تو اس قابل نہ تھا… 🤍
یا اللہ! ہمیں بھی وہ دن نصیب فرما دیجئے
اپنے گھر کی حاضری ہماری قسمت میں لکھ دیجئے
اپنے حبیب ﷺ کے شہر کی زیارت نصیب فرمادیجئے
ہمیں اپنے گھر کی مقبول حاضری نصیب فرمائیے
ہمیں اپنے گھر بار بار بلائیے
اور جب بلائیں تو ایمان، صحت، عافیت اور اپنی رضا کے ساتھ بلائیے گا۔ 🤲🏻
یا اللہ! ہمیں بھی اُن خوش نصیبوں میں شامل فرما
جن کے دل تڑپتے ہیں آپکے گھر کے لیے
اور جن کے قدم پہنچ جاتے ہیں تیرے در پر۔ آمین یا رب العالمین۔ 🤍🕋

✍️ ام ایمن

07/08/2026

کافی عرصے سے دل میں ایک خواہش تھی کہ AI کے ذریعے ویڈیوز بنانا سیکھوں، مگر سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ آغاز کہاں سے کروں، کس موضوع پر کام کروں اور AI کو صحیح طریقے سے کیسے سمجھاؤں۔
دو تین دن پہلے میں نے کہا کہ اب مزید سوچنے کے بجائے پہلا قدم اٹھانا ہے۔ کیونکہ جب انسان ابتدا کر لیتا ہے تو راستے بھی بنتے جاتے ہیں اور نئے آئیڈیاز بھی آنا شروع ہو جاتے ہیں۔
بس پھر کیا تھا لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ گئ تین دن کی کوشش، غلطیوں، بار بار تبدیلیوں اور سیکھنے کے بعد یہ میری پہلی AI ویڈیو تیار ہوئی ہے۔ ابھی بہت کچھ سیکھنا باقی ہے، پرامپٹ لکھنے سے لے کر ویڈیو کو بہتر بنانے تک، لیکن ہر سفر کی ایک پہلی منزل ضرور ہوتی ہے، اور یہ ویڈیو میرے اسی سفر کا پہلا قدم ہے۔

آپ سب سے درخواست ہے کہ اسے دیکھ کر اپنی رائے ضرور دیجیے۔ آپ کے مشورے اور حوصلہ افزائی میرے لیے بہت قیمتی ہیں۔ 🌸

✍️ امِ ایمن
ابو ہریرہ آن لائن قرآن اکیڈمی

06/08/2026

♥️ قرآن سیکھنے اور سکھانے کی توفیق ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔
قرآن سیکھنے کی جگہ مل جانا، ایک بہترین معلم کا نصیب ہو جانا، قرآن کا دل میں اتر جانا، اس کی آیات کو سمجھنا، صحیح مخارج کے ساتھ تلاوت سیکھ لینا، کسی قرآن کلاس سے وابستہ ہو جانا، یا قرآنِ کریم کا کچھ حصہ یا مکمل حفظ کر لینا...
یہ سب کوئی معمولی بات نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت اور خصوصی رحمت ہے۔ ✨
یہ اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ پر مہربان ہے اور آپ کو اپنے کلام کے ذریعے اپنے قریب کرنا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ آپ قرآن کو مضبوطی سے تھامیں، اسے سمجھیں، اس پر عمل کریں، اور دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کریں۔
الحمد لله رب العالمين۔ 💞
🌿 اگر آپ یا آپ کے گھر کا کوئی فرد ابھی تک قرآنِ کریم صحیح تجوید کے ساتھ نہیں پڑھ سکتا، تو آج ہی یہ سعادت حاصل کرنے کا ارادہ کیجیے۔
📖 ابو ہریرہ آن لائن قرآن اکیڈمی میں بچوں، خواتین اور بڑوں کے لیے انفرادی (One-to-One) آن لائن کلاسز دستیاب ہیں۔
✨ 3 دن کی مفت ٹرائل کلاس کے لیے ابھی ہم سے رابطہ کریں، اور قرآن کے سفر کا آغاز کیجیے۔
🤍 یہ پیغام دوسروں تک ضرور پہنچائیں، شاید آپ کے ذریعے کسی کی زندگی قرآن سے روشن ہو جائے۔

✍️ ام ایمن
#تجوید

05/08/2026

کچھ لوگوں کی قربانیوں کی قدر ہمیں وقت گزرنے کے بعد ہوتی ہے۔

جب ہم چھوٹے ہوتے ہیں تو ہر چیز کو اپنا حق سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔ چاہے وہ ماں باپ کی محبت اور توجہ ہو، مالی ذمہ داریاں ہوں، بہترین تعلیم و تربیت ہو یا ہمارے ناز نخرے… ہمیں لگتا ہے کہ یہ سب تو ہمیں ملنا ہی چاہیے۔

لیکن جب عمر کے ساتھ شعور آتا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ ماں باپ نے صرف اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی، بلکہ اپنی خواہشیں، آرام اور خوشیاں قربان کرکے ہم پر بے شمار احسانات کیے۔

بچپن سے جوانی تک کا سفر ہم ان کی شفقت کے سائے میں ہنستے کھیلتے گزار دیتے ہیں، مگر اس وقت ان قربانیوں کی گہرائی کا اندازہ نہیں ہوتا۔

پھر ایک دن وہ اپنی بیٹی کو بڑے مان اور محبت سے رخصت کرتے ہوئے کہتے ہیں:
"بیٹا! ہم سے جو ہو سکا، ہم نے تمہارے لیے بہترین کرنے کی کوشش کی۔ اب آگے تمہارا نصیب ہے۔"

کبھی کبھی دل میں خیال آتا ہے کہ اگر ماں باپ کے اختیار میں ہوتا تو وہ اپنی اولاد، خاص طور پر بیٹیوں کو، ایسی جگہ بھیجتے جہاں انہیں کانٹا بھی نہ چبھتا۔ مگر آزمائشیں تو اللہ کی طرف سے ہوتی ہیں، اور اکثر وہیں سے آتی ہیں جہاں انسان کا گمان بھی نہیں ہوتا۔

ایسے وقت میں ماں باپ بے بس ضرور ہوتے ہیں، لیکن ان کی دعائیں کبھی بے اثر نہیں ہوتیں۔ بس ہمیں اللہ کی رحمت اور ان دعاؤں کی قبولیت کا انتظار صبر کے ساتھ کرنا چاہیے۔

🌿 اگر آپ بھی اپنے ماں باپ کی کسی قربانی کو آج سمجھ پائے ہیں، تو ان کے لیے دل سے دعا کیجیے، اور یہ تحریر دوسروں تک بھی ضرور پہنچائیے۔ شاید کسی کو آج ہی اپنے والدین کی قدر کرنے کا احساس ہو جائے۔

✍️ ام ایمن

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّه...
03/08/2026

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا﴾
"کہہ دیجیے: اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، بے شک اللہ تمام گناہ معاف کر دیتا ہے۔"
(سورۂ الزمر: 53)
ہم سب انسان ہیں۔ غلطیاں ہم سے بھی ہوتی ہیں۔ کبھی نفس کی خواہشات غالب آ جاتی ہیں اور کبھی شیطان کے بہکاوے میں قدم پھسل جاتا ہے۔
گناہ ہو جانا انسان کی کمزوری ہے، مگر اس کے بعد اللہ سے دور ہو جانا، توبہ کو ٹالتے رہنا، اور نماز میں سستی کرنا... یہی چیز دل کو آہستہ آہستہ سخت کر دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سے یہ نہیں چاہتے کہ ہم کبھی غلطی ہی نہ کریں، بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ جب بھی ہم سے لغزش ہو، ہم شرمندہ دل کے ساتھ انہی کے در پر لوٹ آئیں، معافی مانگیں اور دوبارہ اپنی اصلاح کی کوشش کریں۔
اس لیے اپنی کسی غلطی کی وجہ سے کبھی مایوس نہ ہوں۔ جب تک سانس ہے، توبہ کا دروازہ کھلا ہے، اور اللہ کی رحمت ہمارے گناہوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سچی توبہ کی توفیق عطا فرمائے، ہماری لغزشیں معاف فرمائے، نمازوں کی پابندی نصیب فرمائے، اور ہمیشہ اپنا قرب عطا فرمائے۔ آمین۔ 🤲

💚 اگر یہ پیغام اچھا لگا ہو تو اسے دوسروں تک بھی پہنچائیں۔ شاید آپ کی ایک شیئر کسی کے لیے اللہ کی طرف لوٹنے کا سبب بن جائے۔
✍️ ام ایمن

02/08/2026

ہمارے ہاں صادق آباد میں ماشاء اللہ دو دن سے موسم بہت خوشگوار ہے.... آپ بتائیں آپکے شہر میں کیا صورت حال ہے؟
✍️ام ایمن

Address

Sadiqabad
64350

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Abu Huraira Online Quran Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category