03/11/2025
ایک عورت جس نے آگ میں جلتی ہوئی لڑکیوں کے لیے دنیا بدل دی فرانسس پرکنز کی داستان
وہ کھڑی دیکھ رہی تھی جب 146 عورتیں جل کر راکھ بن گئیں کیونکہ فیکٹری کے مالکوں نے باہر کے دروازے بند کر دیے تھے۔
بارہ سال بعد، وہ امریکہ کی سب سے طاقتور عورت بن چکی تھی
بچپن میں فرانسس پرکنز (Frances Perkins) یہ سوچ کر حیران رہتی تھی کہ نیک اور محنتی لوگ غریب کیوں ہیں۔
اس کے والد نے کہا: "غریب اس لیے غریب ہیں کیونکہ وہ کمزور یا سست ہیں۔"
لیکن فرانسس کے دل نے کہا یہ سچ نہیں ہو سکتا۔
کالج میں اس نے فزکس پڑھی ایک محفوظ اور معزز مضمون جو عورتوں کے لیے "مناسب" سمجھا جاتا تھا۔
مگر ایک دن اس کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔
کالج کے پروفیسر نے طلبہ کو دریائے کنیکٹی کٹ کے کنارے واقع فیکٹریوں کا دورہ کروایا۔
فرانسس نے وہاں دیکھا:
تھکی ہوئی لڑکیاں، جن کی عمریں اُس سے بھی کم تھیں، اندھیری اور بند کمروں میں مشینوں کے آگے جھکی ہوئی تھیں۔
نہ ہوا کا گزر، نہ کھڑکیاں، نہ دروازے۔
بارہ گھنٹے کی ڈیوٹی، ہفتے میں چھ دن۔
مشینوں نے ان کی انگلیاں چھین لی تھیں، کپاس کی دھول نے ان کے پھیپھڑے جلا ڈالے تھے۔
اس نے جان لیا علم کی کوئی قیمت نہیں اگر وہ انسان کو عزت سے جینے میں مدد نہ دے۔
اس نے محفوظ راستہ چھوڑ دیا — امیر شوہر، پیانو کی تعلیم، آرام دہ زندگی۔
اس کے بجائے وہ کولمبیا یونیورسٹی سے معاشیات اور سماجیات میں ماسٹرز کرنے لگی۔
اس کا مقالہ غربت اور بھوک پر تھا — "ہیلس کچن" کے مفلوک الحال بچوں پر۔
خاندان حیران اور شرمندہ ہوا:
"اچھی لڑکیاں غربت کا مطالعہ نہیں کرتیں!"
مگر فرانسس نے کہا: "میں وہ نہیں کروں گی جو اچھی لڑکیاں کرتی ہیں، میں وہ کروں گی جو صحیح ہے۔"
1910 میں وہ نیویارک کنزیومرز لیگ کی ایگزیکٹو سیکریٹری بنی۔
فیکٹریوں کے دورے، تصاویر، رپورٹیں — اس نے حقیقت دنیا کے سامنے رکھ دی۔
"یہ لوگ نہیں مرتے، ان کو مارا جاتا ہے۔"
وہ قانون سازوں کے سامنے کھڑی ہوتی، سادہ مگر باوقار لباس میں، اور مردوں سے کہتی:
"آپ کی فیکٹریاں عورتوں کو زندہ جلا رہی ہیں۔"
انہوں نے اس سے نفرت کی۔
مگر وہ نہیں رکی۔
پھر آیا 25 مارچ 1911 کا دن۔
وہ واشنگٹن اسکوائر میں دوستوں کے ساتھ چائے پی رہی تھی جب آگ کے الارم بجے۔
وہ دھواں دیکھتی ہوئی دوڑی ٹرائینگل شرٹ ویسٹ فیکٹری کے سامنے۔
دس منزلہ عمارت آگ میں لپٹی تھی۔
کھڑکیوں سے چیخیں آ رہی تھیں۔
دروازے بند تھے۔
لڑکیاں کھڑکیوں سے کود رہی تھیں — کیونکہ مرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔
ان کے جسم زمین پر گرتے تھے جیسے بجلی گرج رہی ہو۔
بار بار، بار بار۔
146 عورتیں جل گئیں۔
اکثر تارکین وطن لڑکیاں تھیں۔ کچھ صرف 14 سال کی۔
وہ امیر عورتوں کے لیے "شرٹ ویسٹ" بلاؤز تیار کر رہی تھیں — وہی بلاؤز جو "آزادی اور جدیدیت" کی علامت کہلاتے تھے۔
فرانسس نے جلتی ہوئی لڑکیوں کو دیکھا اور کہا:
"ان کی موت رائیگاں نہیں جائے گی۔"
چند ہفتوں میں، فرانسس کو آگ کی تفتیشی کمیٹی کا رکن بنایا گیا۔
اس نے رپورٹ نہیں لکھی قانون بدل دیا۔
فیکٹریوں کے لیے نئے اصول بنائے گئے:
تمام دروازے کھلے اور واضح نشانوں کے ساتھ۔
حفاظتی سیڑھیاں اور اسپرنکلر سسٹم۔
ہفتے میں زیادہ سے زیادہ 54 گھنٹے کی محنت۔
ایک دن کی لازمی چھٹی
فیکٹری مالکان نے شور مچایا: "یہ حکومت کی زیادتی ہے!"
مگر فرانسس نے ان کے سامنے جلتی لڑکیوں کی تصاویر رکھ دیں۔
اس نے کہا:
"اگر منافع انسان سے زیادہ قیمتی ہے، تو ہم انسان نہیں رہے۔"
قانون پاس ہوا۔
نیویارک سے آغاز ہوا، پھر پورے امریکہ نے اپنایا۔
کاروباری طبقہ اس سے نفرت کرنے لگا۔
اخبارات نے لکھا: "یہ عورت شادی کے قابل نہیں، مردوں کے کام میں مداخلت کرتی ہے!"
مگر وہ چپ نہیں ہوئی۔
1933 میں جب فرینکلن ڈی روزویلٹ صدر بنے، انہوں نے فرانسس سے کہا:
"تم میری کابینہ میں شامل ہو جاؤ۔"
یہ تاریخ کا پہلا موقع تھا کہ کسی عورت کو صدارتی کابینہ میں جگہ دی جا رہی تھی۔
فرانسس نے کہا:
"میں شامل ہوں گی، مگر میری شرائط پر۔"
اور اس نے مطالبات کی فہرست پیش کی:
40 گھنٹے کا ہفتہ
کم از کم اجرت
بچوں کی مزدوری کا خاتمہ
بے روزگاری الاؤنس
بڑھاپے کی پنش
روزویلٹ نے کہا: "یہ سب ناممکن ہے!"
فرانسس نے کہا: "پھر کسی اور کو ڈھونڈ لو۔"
اور روزویلٹ نے اسے تعینات کر دیا۔
بارہ سال تک وہ وزیرِ محنت رہیں سب سے طویل مدت۔
اسی کے دور میں بنے:
The Social Security Act (1935) بڑھاپے کی پنشن، بے روزگاری الاؤنس۔
The Fair Labor Standards Act (1938) 40 گھنٹے کا ہفتہ، کم از کم اجرت، بچوں کی مزدوری پر پابندی۔
یہ قوانین مکمل نہیں تھے
مگر انہوں نے امریکہ کو بدل دیا۔
فرانسس نے کبھی اپنے آپ کو "کامیاب" نہیں سمجھا۔
وہ کہتی تھی:
"جب تک کوئی عورت بھوک سے مرتی ہے، میں سکون سے نہیں سو سکتی۔"
1945 میں روزویلٹ کے انتقال کے بعد وہ مستعفی ہوئیں۔
اور پھر کارنیل یونیورسٹی میں پڑھانے لگیں۔
1965 میں 85 سال کی عمر میں وفات پائی۔
آج بہت کم لوگ اس کا نام جانتے ہیں —
مگر اگر آپ ہفتے کے آخر میں چھٹی کرتے ہیں،
اگر آپ کو اوور ٹائم کی تنخواہ ملتی ہے،
اگر آپ کے دفتر میں ہنگامی دروازہ لگا ہے،
یا اگر آپ کے بزرگ پینشن پر زندگی گزار رہے ہیں
تو یاد رکھیے،
یہ سب فرانسس پرکنز کی بدولت ہے۔
1911 میں اس نے جلتی ہوئی عورتوں کو دیکھا
اور اگلے پچاس سال تک جلتی دنیا کے لیے انصاف کی عمارت کھڑی کی۔
اس نے ثابت کیا:
غربت کمزوری نہیں، ایک پالیسی کی پیداوار ہے۔
اور پالیسی بدلی جا سکتی ہے۔
🔥
04/09/2025
ایک امریکی جس نے عراقی صدر صدام حسینؒ کی پھانسی دیکھی
ترجمہ : ابو مصعب اﻻثري
ایک امریکی جس نے صدر صدام حسینؒ کی پھانسی کے عمل میں شرکت کی، کہتا ہے کہ وہ آج تک اس واقعہ پر غور و فکر میں ہے اور اکثر یہ پوچھتا ہے کہ اسلام موت کے بارے میں کیا کہتا ہے۔
اس نے کہا: صدام ایسا شخص ہے جو احترام کے لائق ہے۔
رات دو بجے (گرینچ کے مطابق) صدام حسین کی کوٹھڑی کا دروازہ کھولا گیا۔
پھانسی کی نگرانی کرنے والے گروہ کا سربراہ اندر آیا اور امریکی پہریداروں کو ہٹنے کا حکم دیا، پھر صدام کو بتایا گیا کہ ایک گھنٹے بعد اسے پھانسی دی جائے گی۔
یہ شخص ذرا بھی گھبرایا نہیں تھا۔ اس نے مرغی کے گوشت کے ساتھ چاول منگوائے جو اس نے آدھی رات کو طلب کیے تھے، پھر شہد ملا گرم پانی کے کئی پیالے پئے، یہ وہ مشروب تھا جس کا وہ بچپن سے عادی تھا۔
کھانے کے بعد اسے بیت الخلا جانے کی پیشکش کی گئی مگر اس نے انکار کردیا۔
رات ڈھائی بجے صدام حسین نے وضو کیا، ہاتھ، منہ اور پاؤں دھوئے، اور اپنے لوہے کے بستر کے کنارے بیٹھ کر قرآن مجید کی تلاوت کرنے لگے، یہ قرآن انہیں ان کی اہلیہ نے بطور تحفہ دیا تھا۔ اس دوران پھانسی دینے والی ٹیم پھانسی کے پھندے اور تختے کا جائزہ لے رہی تھی۔
پونے تین بجے مردہ خانہ کے دو افراد تابوت لے کر آئے اور اسے پھانسی کے تختے کے پاس رکھ دیا۔
دو بج کر پچاس منٹ پر صدام کو کمرۂ پھانسی میں لایا گیا۔ وہاں موجود گواہان میں جج، علما، حکومتی نمائندے اور ایک ڈاکٹر شامل تھے۔
تین بج کر ایک منٹ پر پھانسی کا عمل شروع ہوا جسے دنیا نے کمرے کے کونے میں نصب ویڈیو کیمرے کے ذریعے دیکھا۔ اس سے قبل ایک سرکاری اہلکار نے پھانسی کا حکم پڑھ کر سنایا۔
صدام حسین تختے پر بلا خوف کھڑے رہے جبکہ جلاد خوفزدہ تھے، کچھ کانپ رہے تھے اور بعض نے اپنے چہرے نقاب سے چھپا رکھے تھے جیسے مافیا یا سرخ بریگیڈ کے افراد ہوں۔ وہ لرزاں اور سہمے ہوئے تھے۔
امریکی فوجی کہتا ہے:
"میرا جی چاہا کہ میں بھاگ جاؤں جب میں نے صدام کو مسکراتے دیکھا، جبکہ وہ آخری الفاظ میں مسلمانوں کا شعار پڑھ رہے تھے: لا إله إلا الله محمد رسول الله۔
میں نے سوچا کہ شاید کمرہ بارودی مواد سے بھرا ہوا ہے اور ہم کسی جال میں پھنس گئے ہیں۔ کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں لگتا کہ کوئی شخص اپنی پھانسی سے چند لمحے پہلے مسکرا دے۔
اگر عراقی یہ منظر ریکارڈ نہ کرتے تو میرے امریکی ساتھی سمجھتے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں، کیونکہ یہ ناقابلِ یقین تھا۔
لیکن راز یہ ہے کہ اس نے کلمہ پڑھا اور مسکرایا۔
میں یقین دلاتا ہوں کہ وہ واقعی مسکرایا، جیسے اس نے کوئی ایسی چیز دیکھی ہو جو اچانک اس کے سامنے ظاہر ہوگئی ہو۔ پھر اس نے مضبوط لہجے میں کلمہ دوبارہ کہا جیسے کوئی غیبی طاقت اسے کہلا رہی ہو۔"
💢 صدام حسین کے بارے میں چند حقائق
1- وہ پہلا حکمران تھا جس نے اسرائیل کے شہر تل ابیب پر میزائل برسائے۔
2- اس نے یہودیوں کو خوف زدہ کر دیا کہ وہ بلیوں کی طرح بنکروں میں چھپ گئے۔
3- وہ جنگوں میں بھی عرب قومیت کے نعرے لگاتا تھا۔
4- اس نے جج سے کہا: "یاد ہے جب میں نے تمہیں معاف کیا تھا حالانکہ تمہیں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی!" جج گھبرا گیا اور استعفیٰ دے دیا، پھر رؤوف کو لایا گیا۔
5- اس نے کہا: "اے علوج! ہم نے موت کو اسکولوں میں پڑھا ہے، کیا اب بڑھاپے میں اس سے ڈریں گے؟"
6- اس نے شام و لبنان کو کہا: "مجھے ایک ہفتہ اپنی سرحدیں دے دو، میں فلسطین آزاد کرا دوں گا۔"
❣️ آخری لمحے
پھانسی سے قبل امریکی افسر نے صدام سے پوچھا:
"تمہاری آخری خواہش کیا ہے؟"
صدام نے کہا:
"میری وہ کوٹ لا دو جو میں پہنتا تھا۔"
افسر نے کہا: "یہی چاہتے ہو؟ مگر کیوں؟"
صدام نے جواب دیا:
"عراق میں صبح کے وقت سردی ہوتی ہے، میں نہیں چاہتا کہ میرا جسم کانپے اور میری قوم یہ سمجھے کہ ان کا قائد موت سے خوفزدہ ہے۔"
پھانسی سے قبل اس کے لبوں پر آخری کلمات کلمہ شہادت تھے۔
اور اس نے عرب حکمرانوں سے کہا تھا:
"مجھے امریکہ پھانسی دے گا، مگر تمہیں تمہاری اپنی قوم پھانسی دے گی۔"
یہ کوئی معمولی جملہ نہ تھا بلکہ آج ایک حقیقت ہے۔
🌹 اللہ اس بہادر پر رحم فرمائے۔ 🌹
📌 اگر آپ نے یہ پڑھ لیا ہے تو حضور ﷺ پر درود بھیجیں
18/08/2025
غلام سے سالار بن گیا۔۔۔۔! 🔥
ایک بار ایک تاجر غلاموں کی منڈی میں گیا تو اسے ایک تُرک لڑکا ملا جو بہت پسند آیا اور اسے تاجر نے فوراً خرید لیا۔ تاجر نے بچے سے پوچھا : تمہارا نام کیا ہے۔ لڑکے نے جواب دیا : جناب میں اپنا نام بتا کر اپنے نام کی توہین نہیں کرنا چاہتا ۔ میں غلام ہوں اس لئے آپ جس نام سے پکاریں گے وہی میرا نام ہوگا ۔ تاجر کو اس جواب پر حیرت ہوئی لیکن اسے یہ بات پسند بھی آئی کہ بچے میں عزت نفس کا احساس باقی ہے۔ تاجر نے اس بچے پر خاص توجہ دی اور اسکی تعلیم اور تربیت کا انتظام کیا ۔
بچے نے بہت جلد تیر اندازی، تلوار بازی اور شہسواری میں ایسی مہارت حاصل کی کہ خود تاجر حیران رہ گیا ۔ غزنی کا بادشاہ شہاب الدین غوری ایک بار گھوڑوں کی دوڑ کا مقابلہ دیکھ رہا تھا ۔ تاجر اپنے غلام کو لے کر اس کے پاس پہنچا اور کہا کہ حضور میرے اس غلام کو گھڑ سواری میں کوئی نہیں ہرا سکتا ۔
بادشاہ نے مسکرا کے لڑکے سے پوچھا : تم کتنا تیز گھوڑا دوڑا سکتے ہو۔ لڑکے نے نہایت ادب سے جواب دیا : حضور گھوڑے کو تیز دوڑانے سے زیادہ ضروری اسے اپنا مطیع بنانا ہوتا ہے۔ غوری نے چونک کر اسے دیکھا اور ایک بہترین گھوڑا اسے دیتے ہوئے کہا: لڑکے تم اس گھوڑے کو اپنا مطیع و فرمانبردار بنا کر دکھاؤ۔
لڑکا اچھل کر گھوڑے پر بیٹھا اور کچھ دور اسے چلا کر لے گیا اور پھر پلٹ کر واپس آیا۔ لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ واپسی میں بھی گھوڑا اپنے سُموں کے نشان پر ہی چلتا ہوا آیا۔
سلطان غوری نے سوچا جو شخص ایک جانور کو اس طرح اپنا فرمانبردار بنا سکتا ہے اس کے لئے انسانوں کو مُطیع بنانا کیا مشکل ہو سکتا ہے ۔ اس نے فوراً اس غلام کوخرید لیا جس کا نام قطب الدین تھا ۔
ترکی میں ایبک انگلی کو کہتے ہیں اور شل کا مطلب ہوتا ہے ، ٹوٹا ہوا ۔ چونکہ اس غلام کی ایک انگلی ٹوٹی ہوئی تھی اس لئے عموماً سب اسے ایبک شل کہتے تھے پھر ایبک اس کے نام کا جزو بن گیا اور اس نے قطب الدین ایبک کے نام سے ہندوستان پر حکومت کی ۔دہلی کی قوت الاسلام مسجد، اور قطب مینار اس کی یادگاریں ہیں..!!`
14/08/2025
مجھے یاد ہے کہ بچپن میں جب امی کی پاس کپڑے سلنے کے لیے آتے تھے تو امی بہت زیادہ فٹنگ کرنے اور بڑے گلے بنا کر دینے پر راضی نہیں ہوتی تھیں۔ کسی نے تنگ پاجامہ سلوانے آنا تو امی نے کہنا مجھ سے کپڑے کی جڑ نہیں ماری جاتی۔
میں تو ناپ کے مطابق ہی سلائی کروں گی۔ کوئی زیادہ ضد کرتی تو امی اسے اس کا سوٹ معذرت کے ساتھ واپس تھما دیتیں۔
یہ بالکل بھی پروفیشنل رویہ نہیں تھا۔لیکن کیونکہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے اس لیے ہم پروفیشنل ہونے کے لیے بھی اسلام کے اصولوں کو پامال نہیں کرسکتے۔آپ کی سوچ اس سے مختلف ہوسکتی ہے لیکن یہاں وہی لکھا جائے گا جو میری سوچ ہے۔
مانا کہ ہم دوسروں کے لیے جواب دہ نہیں، لیکن کم از کم ہمیں دوسروں کو برائی کرنے میں سپورٹ بھی نہیں کرنا چاہئے۔
برے کام کی سہولت کاری کرنے والابھی یقیناً غلط ہوتا ہے۔
اس کی مثال ایسے ہے کہ کوئی شراب بیچنے لگ جائے اور
کہے میں خود تو نہیں پی رہا تو میں کیسے گناہ گار ہوگیا۔
*لڑکیوں کا لڑکوں سے میک اپ کروانا غلط ہے تو لڑکوں کا اس فیلڈ میں آنا غلط ہے
*مہندی لگانے کا سٹال کھولنے والا لڑکا بھی بے حیائی بھیلانے میں برابر کا شریک ہے۔
*پلکنگ کروانا ناجائز ہے تو پلکنگ کرنا بھی ناجائز ہے
*بے حیائی والا لباس پہننا غلط ہے تو بے حیائی والا لباس بیچنا اور سلائی کرنا بھی غلط ہے
*نشہ کرنا اور بیچنا دونوں حرام ہیں
*فلمیں گانے سننا ناجائز ہے تو ان کی سی ڈیز وغیرہ بیچنا بھی ناجائز ہی ہے
*سود کی لین دین حرام ہے تو اس کا حساب کتاب کرنا کیسے جائز ہوگیا؟
*نامحرموں سے شادی کی مووی بنوانا غلط ہے تو مووی میکر کا اس فیلڈ میں آنا بھی غلط ہے۔
ہاں کچھ فیلڈز ایسے ہیں جن کا صحیح یا غلط استعمال کرنا خریدار کے ذمے ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی ٹی وی خرید کر بیان سنے یا فلمیں دیکھے ٹی وی بیچنے والے کو تو نہیں پتا۔ یہی حال انٹرنیٹ اور کیبل کی سروسز مہیا کرنے والوں کا ہے۔ وہاں صحیح غلط دونوں استعمال موجود ہیں تو سروسز مہیا کرنے والا تو قصوروار نہ ہوا۔
ہمیں چاہئے کہ ہم۔کسی بھی شعبے کا انتخاب کرتے ہوئے اور کوئی بھی کام کرتے ہوئے یہ ضرور ذہن میں رکھیں کہ کہیں ہم معاشرتی بگاڑ پیدا کرنے کا ذریعہ تو نہیں بن رہے؟
آج سے پندرہ بیس سال پہلے خاندانی لوگوں کے لیے صرف پیسہ کمانا ہی اہم نہیں ہوتا تھا بلکہ وہ اس بات کے بارے میں بھی فکر مند رہتے تھے کہ وہ جو کام کریں معاشرے میں اس کی ریپوٹیشن۔اچھی ہو تاکہ پیسے کہ ساتھ ساتھ عزت بھی کما سکیں۔ لیکن اب افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ لوگ پیسہ آتا دیکھ کر عزت پر سمجھوتا کرنے پر تیار ہوجاتے ہیں۔
بے شک کوئی کام بڑا چھوٹا نہیں ہوتا لیکن ہاں جائز ناجائز ضور ہوتا ہے۔
آپ کوئی بھی کام کریں کوشش کریں کہ آپ کی وجہ سے کسی کے لیے برائی کے دروازے نہ کھلیں۔بس اتنی سی بات ۔
14/08/2025
پاکستانی قوم کے لیے مفاد عامہ کے کچھ اپنے طور پر کرنے کے کام:
1۔ دن میں چائے صرف ایک بار پیئں اور پلائیں، نہ بھی پییں گے تو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔
2۔ مہمانوں کو کھانا اچھا کھلائیں لیکن کولڈ ڈرنکس اور جوسز کی بجائے سادہ پانی یا لسی پلائیں اور خود بھی پیئں۔
3۔ گھریلو کھانوں میں بازاری گھی اور آئل کی بجائے سرسوں کا تیل، دیسی گھی اور مکھن استعمال کریں مگر مقدار ایک تہائی کردیں۔
4۔ چینی کا استعمال کم سے کم کر دیں یا چھوڑ دیں اور اس کی جگہ دیسی کھنڈ، شکر، گڑ یا شہد کا استعمال کریں۔
5۔ بلاوجہ اور حد سے زیادہ میک اپ چھوڑ دیں۔ اللہ نے جو شکل دی ہے وہ خوبصورت ترین ہے۔
6۔ فیشن کے نام پر فضول پروڈکٹس امپورٹ کرنا بند کردیں۔
7۔ فلور ملز کی بجائے چکیوں کا آٹا استعمال کرنا شروع کریں۔
8۔جہاں ممکن ہو خود کچھ جانور اور مرغیاں یا خرگوش وغیرہ پال
لیں۔
9۔ ہر شخص سال میں کم از کم دس درخت ضرور لگائے۔خواہ اپنے کھیتوں میں ہوں یا کہیں بھی سڑک اور نہر کنارے۔
10۔ کھیتوں کے کنارے نیم، سوہانجنا ، جنگلی گلاب اور مختلف قسم کے بیری کے پودے لگائیں۔
11۔ سگریٹ اور نسوار وغیرہ کا استعمال اور تمباکو کی پیداوار فوری بند کردیں۔
12۔ درختوں کی کٹائی صرف انتہائی ضرورت کے تحت ہو۔
13۔ کسی بھی کھیت کو بنجر نہ چھوڑیں اگر آپ خود نہیں کرسکتے تو گاؤں کے کسے شخص کو حصے پر دے دیں۔
14۔ روپے پیسے بینک میں نہ رکھیں۔ کوئی سا بھی کام یا کاروبار خود یا کسی بااعتماد شخص کے ساتھ شروع کردیں۔
15۔ قریبی دوستوں اور جاننے والوں کو اگر کاروبار میں دشواری ہو تو پیسے دے کر ان کی مدد کریں اور ان کے کاروبار کو کامیاب بنائیں۔
16۔ اپنے اردگرد پڑوسیوں کا خیال رکھیں اور ان کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کریں اپنی استطاعت کے مطابق۔
17۔ پہاڑوں میں درخت لگا کر اور چھوٹے چھوٹے بند باندھ کر بارش کے پانی کے کھلے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا کریں تاکہ زیر زمین پانی کی سطح برقرار رہے۔
18۔ بیماریوں کا علاج اچھی خوارک اور جسمانی ورزش یا دیسی چیزوں سے شروع کریں۔ ڈاکٹر صاحبان دوائی کے علاوہ یہی علاج تجویز کریں اور صرف ایمرجنسی میں ہی دوائی دیں۔
19۔ چھوٹے بچوں کو چھوٹے چھوٹے گھریلو کاموں میں لگا دیں تاکہ وہ ابھی سے کام کے عادی ہوجائیں۔
20۔ جتنا ممکن ہو ہر گاؤں کے لوگ اپنی حکومت اور لوکل نظام خود چلائیں، ہر معاملے کا خیال خود رکھیں، ایک دوسرے کی مدد کریں۔ مرکز یا صوبے کی طرف ہر معاملے میں نہ دیکھیں۔
21۔ مجرموں اور قانون شکن عناصر کا قلع قمع کرنے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بھرپور ساتھ دیں اور ایسے عناصر کے پشتی بانوں کا مکمل بائیکاٹ کریں۔
22۔ مجرم خواہ کتنا ہی قریبی رشتہ دار یا دوست ہو اس کی مدد اور ساتھ دینے سے گریز کریں۔ اللہ کے لیے انصاف پر کھڑے ہو جائیں۔
23۔ مغرب کے نماز کے بعد سارے کاروبار بند کردیں اور صبح آٹھ بجے سے پہلے شروع کریں۔
24۔ گھر کے لیے صرف اتنی چیزیں اور کپڑے وغیرہ خریدیں جس کی واقعی ضرورت ہو، زائد اشیاء ضرورت مندوں کو دے دیں۔
25۔ گھروں میں غیر ضروری بجلی اور گیس کا استعمال بند کردیں۔
26۔ کم از کم جمعے کے دن لازمی غسل کریں اور صاف کپڑے پہنیں۔
27۔ کپڑوں کو استری صرف خاص مواقع، تقریبات یا عید وغیرہ پر کریں۔ عام دنوں میں گھر کے اندر پہننے کے لیے ہر دفعہ کپڑے استری نہ بھی کریں تو گزارا ہو سکتا ہے، ایسا کرنے سے بے انتہا بجلی بچائی جاسکتی ہے۔ اسی طرح فریج کو بھی اگر آدھا ٹائم بند کر دیا جائے تو کافی بجلی بچے گی۔۔۔ کیونکہ استری، فریج اور پانی کا پمپ سب سے زیادہ بجلی خرچ کرتے ہیں۔
28۔ ایئر کنڈیشنر اگر ہے تو اس کی سیٹنگ 26 ڈگری پر رکھیں۔
29۔ گرمی میں ایئر کنڈیشنڈ کے بغیر کمروں میں اوپری روشن دان کا کچھ حصہ کھلا رکھیں تاکہ گرم ہوا باہر نکلے اور ٹھنڈی ہوا دروازوں اور کھڑکیوں کے راستے اندر آ سکے۔
30۔ پرندوں کے لیے دانے پانی کا بندوبست کریں اور بچوں کو ان کو چھیڑنے یا مارنے سے سختی سے منع کریں۔
فلاح عامہ کے لیے۔۔۔
تبدیلی اور اضافہ کے ساتھ
محمد قاسم سرویا۔۔۔ شیخوپورہ
08/08/2025
میں نے بکریاں پالنے والے ایک چھوٹے سے فارمیٹ سے پوچھا کہ آپ کے پاس کتنی بکریاں ہیں اور سالانہ کتنا کما لیتے ہو
اس نے کہا میرے پاس اچھی نسل کی بارہ بکریاں ہیں جو مجھے سالانہ چھ لاکھ روپے دیتی ہیں جو ماہانہ پچاس ہزار بنتا ہے
مگر میں نے جب بکریوں کے ریوڑ پر نظر دوڑائی تو اس میں بارہ نہیں تیرہ بکریاں تھیں
جب میں نے اس سے تیرھویں بکری کے بارے میں پوچھا تو اسکا جو جواب تھا وہ کمال کا تھا اور اسکا وہی ایک جملہ دراصل کامیاب ہونے کا بہت بڑا راز تھا
اس نے کہا کہ بارہ بکریوں سے میں چھ لاکھ منافع حاصل کرتا ہوں اور اس تیرھویں بکری کے دو بچے ہوتے ہیں ایک کی قربانی کرتا ہوں اور دوسرا کسی مستحق غریب کو دے دیتا ہوں
اس لئے یہ بکری میں نے گنتی میں شامل نہیں کی
یہ تیرہویں بکری باقی کی بارہ بکریوں کی محافظ ہے اور میرے لئے باعث خیر وبرکت ہے
یقین کریں کہ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔
دنیا کے بڑے بڑے فلاسفروں کے فلسفے ایک طرف اور اس بکریاں پالنے والے نوجوان کا یہ جملہ ایک طرف
مجھے وہ بات ان پڑھ سادہ لوح گلہ بان کامیابی کا وہ فلسفہ سمجھا گیا جو کامرس کی موٹی موٹی کتابیں مجھے نہ سمجھا سکیں ..!
06/08/2025
ہیروشیما پر ایٹم بم کا حملہ
اج کے دن، یعنی 6 اگست 1945 کو، صبح 6 بج کر 15 منٹ پر جاپان کے شہر ہیروشیما پر امریکہ نے "لٹل بوائے" (𝑳𝒊𝒕𝒕𝒍𝒆 𝑩𝒐𝒚) نام کا ایٹم بم گرایا، جو انسانی تاریخ کا سب سے ہولناک اور تباہ کن حملہ شمار ہوتا ہے۔ یہ حملہ نہ صرف دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کا ذریعہ بنا، بلکہ ایٹمی ہتھیاروں کی تباہ کاری کا خوفناک پہلو بھی دنیا کے سامنے لے آیا۔
دوسری جنگِ عظیم (1939-1945) کے دوران جاپان، جرمنی اور اٹلی "ایکسِس پاورز" (𝑨𝒙𝒊𝒔 𝑷𝒐𝒘𝒆𝒓𝒔) کا حصہ تھے۔ چونکہ 7 دسمبر 1941 کو جاپان نے امریکہ کے فوجی اڈے پرل ہاربر (𝑷𝒆𝒂𝒓𝒍 𝑯𝒂𝒓𝒃𝒐𝒓) پر حملہ کیا، جس کے بعد امریکہ جنگ میں شامل ہوا۔ ساتھ ہی امریکہ نے خفیہ طور پر ایٹمی ہتھیار بنانے کا منصوبہ شروع کیا، جسے "منہیٹن پراجیکٹ" (𝑴𝒂𝒏𝒉𝒂𝒕𝒕𝒂𝒏 𝑷𝒓𝒐𝒋𝒆𝒄𝒕) کہا گیا۔
"لٹل بوائے" ایٹم بم کی تفصیلات
اس ایٹم بم کی لمبائی تقریباً 10 فٹ اور وزن 4,400 کلوگرام تھا۔ اس میں دھماکہ خیز مواد یورینیم (𝑼-235) استعمال کیا گیا تھا۔ یہ ایٹم بم 𝐸𝑛𝑜𝑙𝑎 𝐺𝑎𝑦 (B-29) نامی بمبار طیارے سے، 1900 فٹ (600 میٹر) کے بلندی سے پھینکا گیا۔
ہیروشیما میں تباہی کا اندازہ
▪️فوری ہلاکتیں 70,000 – 80,000
▪️ایک سال کے اندر 140,000 – 150,000 سے زائد مزید ہلاکتیں
▪️زخمی افراد 70,000+
▪️شہر کی 69 % عمارات مکمل تباہ
▪️درجہ حرارت Ground Zero پر 4,000°C سے زائد
▪️جھلسے ہوئے افراد ہزاروں میں
▪️ریڈی ایشن اثرات کئی دہائیوں تک بیماریوں کا سبب بنتے رہے
▪️لوگ خون کے کینسر (Leukemia) اور تھائرائیڈ کینسر میں مبتلا ہوگئے
▪️پیدائشی نقائص اور معذور بچوں (𝑮𝒆𝒏𝒆𝒕𝒊𝒄 𝑫𝒆𝒇𝒐𝒓𝒎𝒊𝒕𝒊𝒆𝒔) کی پیدائش شروع ہوئی
▪️بعد از صدمہ ذہنی تناؤ (PTSD)، ڈپریشن، انزائٹی اور خوف شروع ہوا
▪️تابکار ذرات زمین میں سرایت کر گئے
▪️زمین کئی سالوں تک غیر زرخیز ہو گئی
▪️ہزاروں افراد یتیم، معذور، اور بے گھر ہوگئے
ایٹمی حملے سے بچ جانے والے افراد کو "ہیباکوشا"
(Hibakusha) کہا جاتا ہے، جو آج بھی جسمانی و ذہنی اثرات سے متاثر ہیں۔
▪️ایٹم بم کے لئے ہیروشیما کیوں چُنا گیا؟
یہ شہر فوجی و صنعتی لحاظ سے اہم تھا۔ امریکی حکمتِ عملی کے مطابق، وہ ایسا شہر چاہتے تھے جو اب تک بمباری سے محفوظ ہو تاکہ ایٹمی اثرات کا مکمل مشاہدہ کیا جا سکے۔ سائنس دان اور فوجی ماہرین چاہتے تھے کہ دنیا کو ایٹم بم کی تباہ کاری پوری شدت سے دکھائی جائے۔
تحریر
ڈاکٹر سراج سواتی
04/08/2025
_*"میں ڈاکو ضرور آں پر بےغيرت نئی آں۔"*_
مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمۃ الله علیہ نےاپنی کتاب میں لکھا، فرماتے ہیں:
مجھے وہاڑی کے ایک گاؤں سے بڑا محبت بھرا خط لکھا گیا
کہ مولانا صاحب ہمارے گاؤں میں آج تک سیرة النبى صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بیان نہیں ہوا۔
ہمارا بہت دل کرتا ہے، آپ ہمیں وقت عنایت فرما دیں ہم تیاری کر لیں گے۔
میں نے محبت بھرے جزبات دیکھ کر خط لکھ دیا کہ فلاں تاریخ کو میں حاضر ہو جاؤں گا۔
دیے گئے وقت پر میں فقیر ٹرین پر سے اتر کر تانگہ پر بیٹھ کر گاؤں پہنچ گیا تو آگے
میزبانوں نے مجھے ھدیہ پیش کرکے کہا
مولانا صاحب آپ جا سکتے ہیں،
ہم بیان نہیں کروانا چاہتے۔
وجہ پوچھی تو بتایا کہ ہمارے گاؤں میں %90 قادیانی ہیں
وہ ہمیں دھمکیاں دیتے ہیں
کہ
نہ تو تمہاری عزتیں
نہ مال
نہ گھربار محفوظ رہیں گے۔
اگر
سیرة النبى (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بیان
کروایا تو۔
مولانا ہم کمزور ہیں
غریب ہیں
تعداد میں بھی کم ہیں
اس لیے ہم نہیں کرسکتے۔
میں نے لفافہ واپس کر دیا اور کہا
بات تمہاری ہوتی یا میری ہوتی تو واپس چلا جاتا۔
بات مدینے والے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت کی آگئی ہے۔
اب بیان ہوگا ضرور ہوگا۔
وہ گھبرا گئے کہ حضرت
آپ تو چلے جائیں گے مسئلہ تو ہمارے لیے ہوگا۔
میں نے کہا،
"اس گاؤں کے آس پاس کوئی ڈنڈے والا یعنی بااثر یا غنڈہ ہے؟"
انہوں نے بتایا کہ گاؤں سے کچھ دُور نُورا ڈاکو رہتا ہے !
پُورا علاقہ اس سے ڈرتا ہے۔
میں نے کہا چلو مجھے لے چلو نُورے کے پاس
جب ہم نورے کے ڈیرے پر پہنچے دیکھ
کر نورا بولا اج خیر اے!
مولوی کیویں آگئے نے؟
میں نے کہا کہ
بات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت کی آگئی ہے تم کچھ کرو گے؟
میری بات سن کر نورا بجلی کی طرح کھڑا ہوا اور بولا،
"میں ڈاکو ضرور آں پر بےغيرت نئی آں۔"
وہ ہمیں لے کرچل نکلا
مسجد میں 3 گھنٹے بیان کیا میں نے۔
اور نورا ڈٹ کر کھڑا رہا۔
آخر میں نورے نے یہ کہا
کہ اگر کسی نےمسلمانوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا تو نورے سے بچ نہیں سکے گا۔
میں واپس آگیا
کچھ ماہ بعد میرے گھر پر ایک آدمی آیا
سر پر عمامہ
چہرے پرداڑھی
زبان پر درود پاک کا ورد ۔۔۔!
میں نے پوچھا،
"کون ہو..؟ "
وہ رو کر
بولا،
"مولانا …
میں نورا ڈاکو آں۔
جب اس دن میں واپس گھر کو لوٹا جا کر سو گیا.
آنکھ لگی ہی تھی
پیارے مصطفٰی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے خواب میں تشریف لائے۔
میرا ماتھا چوما اور فرمایا،
"آج تو نے میری عزت پر پہرہ دیا ہے، میں اور میرا اللہ تم سے خوش ہوگئے ہیں۔
اللہ نے
تیرے پچھلے سب گناہ معاف فرما دیئے ہیں."
مولانا صاحب اس کے بعد میری آنکھ کھلی تو سب کچھ بدل چکا تھا اب تو ہر وقت آنکھوں سے آنسو ہی خشک نہیں ہوتے مولانا صاحب میں آپ کاشکریہ ادا کرنے آیا ہوں آپ کی وجہ سے تو میری زندگی ہی بدل گئی میری آخرت سنور گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔
اے میرے پیارے اللہ جو شخص بھی اس کو شیئر کررہاہےاس کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواب میں زیارت اور قیامت
کے دن شفاعت نصیب فرما، آمین
کاپی شدہ
31/07/2025
میٹرک تک سلیبس اس طرح ہونا چاہیے کہ بچے کے پاس کوئی نہ کوئی ہنر آ جائے اور بچے کو پتہ چل جائے کہ اس نے میٹرک کے بعد کون سے فیلڈ اختیار کرنی ہے یعنی اس کی کس فیلڈ میں دلچسپی ہے...*
میرا خیال ہے اب رٹا سسٹم ختم ہونا چاہیے بچوں کو دسویں تک زیادہ سے زیادہ ٹیکنیکل تعلیم دینی چاہیے ۔۔
جمعہ اور ہفتہ دو دن ایسے ہوں جس میں نصابی کتابیں بالکل بند کر دی جائیں اور بچوں کو ہنر سکھائے جائیں
ایسے کون سے ہنر ہیں جو بچے دسویں کلاس تک سیکھ سکتے ہیں ۔۔
1- آٹو مکینک
خصوصی طور پر موٹر سائیکل کے بارے میں بچوں کو تربیت دی جائے اس کے انجن کے بارے میں پرزے تبدیل کرنے کے بارے میں انہیں چھٹی کلاس سے لے کر دسویں کلاس تک مرحلہ وائز موٹرسائیکل کا کام سکھایا جائے.
وہ اس قدر ماہر بن جائیں کہ دسویں کلاس کے بعد پرزے خرید کر پورا موٹر سائیکل اسمبل کر سکیں ۔۔
2- بجلی کا کام الیکٹریشن
بچوں کو عملی طور پر بجلی کا کام سکھایا جائے انڈر گراؤنڈ وائرنگ کیسے کی جاتی ہے اوپن گراؤنڈ وائرنگ کیسے کی جاتی ہے.
موٹر وائنڈ کیسے کی جاتی ہے مکمل طور پر بچوں کو کام سکھایا جائے اور یہ شعبہ اور یہ ہنر خود میں پوری ایک سائنس ہے
فزکس میں اس کے چیپٹر تو ہیں تھیوری کے طور پر میں کہنے سے چاہتا ہوں کہ بچوں کو پریکٹیکلی کام سکھایا جائے صحیح معنوں میں..
3- گھر کا ڈاکٹر
چھٹی کلاس سے لے کے دسویں کلاس تک کے تمام بچوں کو گھر ڈاکٹر بنا دیا جائے جو کہ وقت کی اشد ضرورت ہے
بچے کو بلڈ پریشر مانیٹر کرنا آنا چاہیے ۔۔
وین میں انجیکشن لگانا سکھائیں گوشت میں انجیکشن لگانا سکھائیں بوقت ضرورت ڈرپ کیسے لگائی جاتی ہے ۔
ایمرجنسی کی صورت میں بینڈج کرنا سکھائیں ۔۔
ضروری نہیں یہ کام اس نے لوگوں کے لیے کرنے ہیں یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں جو بچے کی ساری زندگی اس کے کام آنے والی ہیں۔۔۔
4- موبائل ریپیئرنگ اور سافٹ ویئر
بچوں کو موبائل ریپیئرنگ کے بارے میں تربیت دی جائے ان کو موبائل ریپیئر کرنا سکھایا جائے موبائل میں سوفٹ ویئر کیسے اپڈیٹ کیا جاتا ہے سافٹ ویئر انسٹال کیسے کیا جاتا ہے ۔۔
5- خود سے پیسے کمانا
گرمی کی چھٹیوں میں بچوں کو ٹاسک دیا جائے کہ پانچ پانچ بچے مل کر تھوڑے تھوڑے پیسے ڈال کر کوئی کاروبار کریں کوئی چیز لے کر فروخت کریں
تاکہ وہ عملی زندگی میں اس طرح کی صورتحال میں پریشان نہ ہو مطلب ان کو کمانا سکھائیں ( ہمارے پڑوسی ملک انڈیا میں یہ پریکٹیکل کئی سالوں سے ہو رہا ہے )
6- فری لانسنگ
ویڈیو گیم کھیلنے کے علاوہ کمپیوٹر اور بھی بہت سے مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے یہ بچوں کو عملی طور پر باور کروایا جا سکتا ہے
انہیں بتائیں کہ انٹرنیٹ کا دور ہے اپ اپنی چیزیں انٹرنیٹ پر کس قدر اسانی کے ساتھ فروخت کر سکتے ہیں ۔۔
اپنی خدمات کو انٹرنیٹ پر فروخت کرنا سکھائیں ۔۔
مثال کے طور پر اگر کوئی بچہ دیہاتی ہے اور اس کے گھر میں دیسی گھی ہے تو اس کا استاد بتائے کہ وہ دیسی گھی کا پیج بنا کر انٹرنیٹ پر ایمانداری کے ساتھ کس قدر کامیاب کاروبار کر سکتا ہے
ایلسی کی پنیا فروخت کر سکتا ہے مکئی کا اٹا فروخت کر سکتا ہے سردیوں میں ساگ بنا کر فروخت کر سکتا ہے مکھن فروخت کر سکتا ہے اور بھی بہت کچھ یہ اسے سکھایا جائے ۔۔!!
7- نرسری اگانا
بچوں کو بیج لگانے کی تربیت دی جائے پھولوں کے بیج سبزیوں کے بیج درختوں کے بیج اور یہ کام سکول میں بہت اسانی کے ساتھ ہو سکتے ہیں
کہ اگر مستقبل میں اس کا رجحان نیچر کی طرف بڑھ جائے تو وہ نرسری کا اپنا کاروبار کر سکتا ہے اسے یہ ہنر ضرور سکھانے چاہیے ۔۔
8- چھوٹے پیمانے پر صابن سازی
9- بیچنا آنا چاہیے بچوں کو مارکیٹنگ
بچوں کے اندر اس قدر اعتماد پیدا کیا جائے کہ وہ بہترین مارکیٹر بن سکے ان کو اپنی چیزیں بیچنا آنا چاہیے اور اساتذہ سے بڑھ کر کوئی ایسی ہستی نہیں جو بچوں میں اس قدر اعتماد پیدا کر سکے والدین سے بھی زیادہ اعتماد بچوں کو سکول میں ماحول سے ملتا ہے اساتذہ سے ملتا ہے
اب وقت ہے کہ سلیبس میں موجود فضول کہانیوں کو یکثر مسترد کر کے ہمارے انے والے بچوں کو دسویں تک مکمل پریکٹیکل تعلیم دی جائے
تاکہ وہ اپنا باعزت روزگار کما سکے اور وطن عزیز کے باعزت شہری بن سکیں ۔۔
25/07/2025
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ،
کسی قبیلے کا سردار اپنے گھوڑے پر سوار
تنہا صحرا میں جارہا تھا،
سفر کے دوران اس نے دیکھا کہ
ایک شخص ریت میں دھنسا پڑا ہوا ہے،
سردار نے گھوڑا روکا،
نیچے اترا،
اس شخص کے جسم پر سے ریت ہٹائی،
تو دیکھا کہ وہ جو کوئی بھی تھا بے ہوش چکا تھا
سردار نے اسے ہلایا جلایا تو،
وہ نیم وا آنکھوں کے ساتھ
پانی پانی پکارتے ہوئے کہنے لگا،
پیاس سے میرا حلق اور میری زبان
کسی سوکھے ہوئے چمڑے کی طرح اکڑ چکی ہے،
اگر پانی نہ پیا تو مر جاؤں گا،
سردار نے سوچا کہ وضع قطع سے
اجنبی دکھائی دینے والا شخص ،
جو اردگرد کے کسی بھی قبیلے سے تعلق نہیں رکھتا ،
پتا نہیں کب سے یہاں بے یارو مددگار پڑا ہوا ہے،
اس نے جلدی سے گھوڑے کی زین کیساتھ
لٹکی ہوئی چھاگل اتاری اور
اس اجنبی کے ہونٹوں سے لگا کر
اس کی پیاس بجھانے لگا،
اجنبی نے خوب سیر ہوکر پانی پیا،
سردار کا شکریہ ادا کیا اور کہنے لگا،
اے رحم دل شخص،
میرا گھوڑا شاید کہیں بھاگ گیا ہے،
کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ تم مجھ پر
مزید احسان کرتے ہوئے اپنے ساتھ بٹھا کر
کسی قریبی جگہ لے جاؤ،
جہاں میں اپنی سواری کا بندوبست کرسکوں؟
سردار نے خوشدلی سے کہا،
ہاں کیوں نہیں،
سردار گھوڑے پر سوار ہوکر
اس اجنبی سے کہنے لگا،
آجاؤ میرے پیچھے بیٹھ جاؤ،
اجنبی بمشکل زمین سے اٹھا اور
اٹھ کر دو تین بار گھوڑے پر
سوار ہونے کی کوشش کی
مگر ہر بار نقاہت کے باعث گرجاتا رہا،
وہ سردار سے کہنے لگا،
اس سنگدل صحرا نے میرے جسم کی
ساری طاقت نچوڑ لی ہے،
براہ کرم کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ آپ اتریں
اور گھوڑے پر سوار ہونے میں میری مدد کریں.
سردار بخوشی اتر کر اس اجنبی کو
گھوڑے پر بٹھانے میں مدد کرنے لگا،
اجنبی جیسے ہی گھوڑے پر سوار ہوا ،
اس نے ایک زوردار لات
سردار کے پیٹ میں رسید کی اور
گھوڑے کو ایڑ لگا کر بھگا لے گیا.
سردار نے پیچھے سے آوازیں دیں،
تو اس اجنبی شخص نے رک کر کہا،
شاید تم خجالت محسوس کررہے ہو کہ
ایک اجنبی کے ہاتھوں دھوکا کیسے کھاگیا.
سنو میں ایک راہزن ہوں
اور لٹیرے سے رحم کی بھیک مانگنا بے کار ہے ،
اس لیے چیخنے چلانے سے کوئی حاصل نہیں ہوگا
سردار نے جواب دیا کہ
میں ایک قبیلے کا سردار ہوں،
اور بھیک مانگنا یا رحم کی درخواست کرنا
ایک سردار کی شان کے خلاف ہوتا ہے،
میں فقط یہ کہنا چاہتا ہوں کہ،
بات میری شرمندگی کی نہیں ہے،
بلکہ جب تم کسی منڈی میں
اس گھوڑے کو فروخت کرنے جاؤ گے،
تواس نایاب نسل کے گھوڑے کے متعلق
لوگ ضرور پوچھیں گے،
تو انہیں میرا بتانا کہ
فلاں قبیلے کے فلاں سردار نے
مجھے تحفتاً دیا تھا،
کسی بھی محفل میں صحرا میں
لاچار اور بے یارو مددگار شخص کا روپ دھار کر
مدد حاصل کرنے کے بہانے
لوٹنے کا قصہ مت سنانا "
ورنہ لوگ بے رحم صحراؤں میں
مدد کے طلبگار اجنبیوں پر
بھروسہ کرنا چھوڑ دیں گے" تو میرے اے عزیز از جان دوست یاد رکھو تمہاری بد عہدِی ، تمہارا دھوکہ صرف تم تک ہی نہیں رہتا بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑتا ھے لہٰذا نیکی کے بیچ بو کہ اس کی خوشبو سے دُنیا مہک اٹھے اور تیرا گھر بھی اس سے معطر ہو جزاک اللّہ ۔
Copied
25/07/2025
ایک جوڑا ریستوران میں خوشگوار وقت گزارنے کے بعد آدھی رات کو اپنے گھر لوٹا۔ جیسے ہی وہ گھر میں داخل ہوئے، انہیں گیس کی تیز بو محسوس ہوئی۔ شوہر فوراً باورچی خانے کی طرف گیا تاکہ صورتحال کا جائزہ لے۔ لاشعوری طور پر اُس نے لائٹ کا بٹن آن کر دیا — اور اگلے ہی لمحے خوفناک دھماکہ ہوا۔
اس حادثے میں شوہر موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا، جبکہ بیوی شدید زخمی ہو کر انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں داخل ہے۔ دھماکے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گھر کا فرنیچر 200 میٹر دور تک جا گرا۔
اس افسوسناک واقعے سے ہمیں کیا سیکھنے کی ضرورت ہے؟
جب کبھی آپ کو گھر میں گیس کی بو محسوس ہو، تو مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر کو فوراً اپنائیں:
1. ہرگز کوئی سوئچ آن یا آف نہ کریں — چاہے وہ بلب کا ہو، پنکھے کا یا فریج کا۔ برقی چنگاری دھماکے کا سبب بن سکتی ہے۔
2. دروازے اور کھڑکیاں کھول دیں تاکہ گیس باہر نکل سکے۔
3. گیس کا مین والو بند کریں اگر ممکن ہو تو، اور خود کو محفوظ مقام پر منتقل کریں۔
4. گیس مکمل طور پر ختم ہونے اور بو کے زائل ہونے تک بجلی کے کسی آلے کو ہاتھ نہ لگائیں۔
5. گیس کمپنی یا ہنگامی سروس کو فوراً اطلاع دیں۔
یاد رکھیں، احتیاط زندگی بچا سکتی ہے۔
براہِ کرم اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں، تاکہ دوسروں کی زندگیاں محفوظ رہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو ہر قسم کے حادثات سے محفوظ رکھے۔
22/07/2025
ایک بوڑھا آدمی اور اس کی بیوی، جو سادہ کپڑے پہنے ہوئے تھے، ہارورڈ یونیورسٹی کے صدر کے دفتر کی سکریٹری کے پاس آئے۔ ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ کی سب سے قدیم اور معزز یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے۔ وہ صدر سے ملاقات کرنا چاہتے تھے، لیکن ان کے پاس کوئی پیشگی ملاقات نہیں تھی۔ سکریٹری نے دیہاتی جوڑے سے کہا:
"صدر بہت مصروف ہیں" اور وہ جلد ہی تم دونوں سے نہیں مل سکیں گے۔
لیکن جلد ہی دیہاتی خاتون نے اعتماد کے ساتھ جواب دیا:
"ہم انتظار کریں گے"۔ اور جوڑا طویل عرصے تک انتظار کرتا رہا۔ اس دوران سکریٹری نے انہیں مکمل طور پر نظرانداز کر دیا، اس امید میں کہ وہ مایوس ہو کر چلے جائیں گے۔
لیکن ان کے اصرار پر، صدر نے انہیں ملاقات دی، لیکن انہیں کوئی خاص توجہ نہیں دی۔
خاتون نے کہا: "ہمارا بیٹا یہاں یونیورسٹی میں پڑھتا تھا، لیکن وہ پچھلے سال ایک حادثے میں فوت ہو گیا، اور ہم یہاں اس کی یاد میں کچھ کرنا چاہتے ہیں۔"
صدر نے ان کے سادہ کپڑوں اور شکل و صورت کو دیکھتے ہوئے کہا: "ہم یونیورسٹی میں مجسمے نہیں رکھتے۔"
خاتون نے اسی سکون سے جواب دیا: "آپ نے ہمیں غلط سمجھا، ہم چاہتے ہیں کہ ہارورڈ یونیورسٹی میں ہمارے بیٹے کے نام پر ایک عمارت بنائی جائے۔"
صدر نے ان کے کپڑوں کو دیکھتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا: "کیا تمہیں معلوم ہے کہ ایسی عمارت کی تعمیر پر کتنی لاگت آتی ہے؟ ہماری یونیورسٹی کی عمارتوں پر سات اور نصف ملین ڈالر سے زیادہ لاگت آئی ہے!"
چند لمحوں تک خاموشی رہی، جس دوران صدر نے سوچا کہ اب وہ ان سے جان چھڑا سکتا ہے۔
لیکن پھر خاتون نے اپنے شوہر سے کہا: "مسٹر سٹینفورڈ، اگر یہی قیمت ایک مکمل یونیورسٹی کی تعمیر کی ہے تو ہم کیوں نہ اپنے بیٹے کے نام پر ایک نئی یونیورسٹی بنائیں؟"
شوہر نے سر ہلایا اور اتفاق کیا۔
جوڑا حیرت اور مایوسی کے ساتھ وہاں سے چلا گیا اور کیلیفورنیا چلے گئے، جہاں انہوں نے سٹینفورڈ یونیورسٹی کی بنیاد رکھی، جو امریکہ کی معزز ترین یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے اور دنیا میں 15ویں نمبر پر ہے۔ آج بھی یہ یونیورسٹی ان کے بیٹے کی یاد کو زندہ رکھے ہوئے ہے، جسے ہارورڈ یونیورسٹی کے صدر کے لئے کوئی اہمیت نہیں تھی۔
کسی کو کمتر نہ سمجھیں، لوگوں کا مادی ظاہری شکل اور لباس کے مطابق فیصلہ نہ کریں تاکہ آپ اپنی زندگی میں قیمتی چیزیں نہ کھو دیں۔ ہمیں دوسروں کے ساتھ رحمت، اصولوں اور اخلاقی قدروں کے مطابق پیش آنا چاہیے۔
ظاہری شکل سے دھوکہ نہ کھائیں۔
تصویر میں مسٹر اور مسز سٹینفورڈ ہیں۔
نوٹ
اس پوسٹ پر کچھ کو یہ مسلئہ ہوا کہ یونیورسٹی کا نام دونوں میاں بیوی نے بیٹے کے نام پر رکھنے کی بجائے اپنے نام پر کیوں رکھا تو خدارا عقل استعمال کریں سٹینفورڈ اس خاندان کا سر نیم تھا والد کا نام
Leland Stanford
تھا انکی بیوی کا نام
Jane Lathrop Stanford
تھا اور وہ بیٹا جو سولہ سال کی عمر میں ٹائفائیڈ بخار سے فوت ہوا اسکا نام
Leland Stanford junior
تھا امید ہے مخصمہ دور ہو گیا ہوگا