03/11/2025
ایک عورت جس نے آگ میں جلتی ہوئی لڑکیوں کے لیے دنیا بدل دی فرانسس پرکنز کی داستان
وہ کھڑی دیکھ رہی تھی جب 146 عورتیں جل کر راکھ بن گئیں کیونکہ فیکٹری کے مالکوں نے باہر کے دروازے بند کر دیے تھے۔
بارہ سال بعد، وہ امریکہ کی سب سے طاقتور عورت بن چکی تھی
بچپن میں فرانسس پرکنز (Frances Perkins) یہ سوچ کر حیران رہتی تھی کہ نیک اور محنتی لوگ غریب کیوں ہیں۔
اس کے والد نے کہا: "غریب اس لیے غریب ہیں کیونکہ وہ کمزور یا سست ہیں۔"
لیکن فرانسس کے دل نے کہا یہ سچ نہیں ہو سکتا۔
کالج میں اس نے فزکس پڑھی ایک محفوظ اور معزز مضمون جو عورتوں کے لیے "مناسب" سمجھا جاتا تھا۔
مگر ایک دن اس کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔
کالج کے پروفیسر نے طلبہ کو دریائے کنیکٹی کٹ کے کنارے واقع فیکٹریوں کا دورہ کروایا۔
فرانسس نے وہاں دیکھا:
تھکی ہوئی لڑکیاں، جن کی عمریں اُس سے بھی کم تھیں، اندھیری اور بند کمروں میں مشینوں کے آگے جھکی ہوئی تھیں۔
نہ ہوا کا گزر، نہ کھڑکیاں، نہ دروازے۔
بارہ گھنٹے کی ڈیوٹی، ہفتے میں چھ دن۔
مشینوں نے ان کی انگلیاں چھین لی تھیں، کپاس کی دھول نے ان کے پھیپھڑے جلا ڈالے تھے۔
اس نے جان لیا علم کی کوئی قیمت نہیں اگر وہ انسان کو عزت سے جینے میں مدد نہ دے۔
اس نے محفوظ راستہ چھوڑ دیا — امیر شوہر، پیانو کی تعلیم، آرام دہ زندگی۔
اس کے بجائے وہ کولمبیا یونیورسٹی سے معاشیات اور سماجیات میں ماسٹرز کرنے لگی۔
اس کا مقالہ غربت اور بھوک پر تھا — "ہیلس کچن" کے مفلوک الحال بچوں پر۔
خاندان حیران اور شرمندہ ہوا:
"اچھی لڑکیاں غربت کا مطالعہ نہیں کرتیں!"
مگر فرانسس نے کہا: "میں وہ نہیں کروں گی جو اچھی لڑکیاں کرتی ہیں، میں وہ کروں گی جو صحیح ہے۔"
1910 میں وہ نیویارک کنزیومرز لیگ کی ایگزیکٹو سیکریٹری بنی۔
فیکٹریوں کے دورے، تصاویر، رپورٹیں — اس نے حقیقت دنیا کے سامنے رکھ دی۔
"یہ لوگ نہیں مرتے، ان کو مارا جاتا ہے۔"
وہ قانون سازوں کے سامنے کھڑی ہوتی، سادہ مگر باوقار لباس میں، اور مردوں سے کہتی:
"آپ کی فیکٹریاں عورتوں کو زندہ جلا رہی ہیں۔"
انہوں نے اس سے نفرت کی۔
مگر وہ نہیں رکی۔
پھر آیا 25 مارچ 1911 کا دن۔
وہ واشنگٹن اسکوائر میں دوستوں کے ساتھ چائے پی رہی تھی جب آگ کے الارم بجے۔
وہ دھواں دیکھتی ہوئی دوڑی ٹرائینگل شرٹ ویسٹ فیکٹری کے سامنے۔
دس منزلہ عمارت آگ میں لپٹی تھی۔
کھڑکیوں سے چیخیں آ رہی تھیں۔
دروازے بند تھے۔
لڑکیاں کھڑکیوں سے کود رہی تھیں — کیونکہ مرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔
ان کے جسم زمین پر گرتے تھے جیسے بجلی گرج رہی ہو۔
بار بار، بار بار۔
146 عورتیں جل گئیں۔
اکثر تارکین وطن لڑکیاں تھیں۔ کچھ صرف 14 سال کی۔
وہ امیر عورتوں کے لیے "شرٹ ویسٹ" بلاؤز تیار کر رہی تھیں — وہی بلاؤز جو "آزادی اور جدیدیت" کی علامت کہلاتے تھے۔
فرانسس نے جلتی ہوئی لڑکیوں کو دیکھا اور کہا:
"ان کی موت رائیگاں نہیں جائے گی۔"
چند ہفتوں میں، فرانسس کو آگ کی تفتیشی کمیٹی کا رکن بنایا گیا۔
اس نے رپورٹ نہیں لکھی قانون بدل دیا۔
فیکٹریوں کے لیے نئے اصول بنائے گئے:
تمام دروازے کھلے اور واضح نشانوں کے ساتھ۔
حفاظتی سیڑھیاں اور اسپرنکلر سسٹم۔
ہفتے میں زیادہ سے زیادہ 54 گھنٹے کی محنت۔
ایک دن کی لازمی چھٹی
فیکٹری مالکان نے شور مچایا: "یہ حکومت کی زیادتی ہے!"
مگر فرانسس نے ان کے سامنے جلتی لڑکیوں کی تصاویر رکھ دیں۔
اس نے کہا:
"اگر منافع انسان سے زیادہ قیمتی ہے، تو ہم انسان نہیں رہے۔"
قانون پاس ہوا۔
نیویارک سے آغاز ہوا، پھر پورے امریکہ نے اپنایا۔
کاروباری طبقہ اس سے نفرت کرنے لگا۔
اخبارات نے لکھا: "یہ عورت شادی کے قابل نہیں، مردوں کے کام میں مداخلت کرتی ہے!"
مگر وہ چپ نہیں ہوئی۔
1933 میں جب فرینکلن ڈی روزویلٹ صدر بنے، انہوں نے فرانسس سے کہا:
"تم میری کابینہ میں شامل ہو جاؤ۔"
یہ تاریخ کا پہلا موقع تھا کہ کسی عورت کو صدارتی کابینہ میں جگہ دی جا رہی تھی۔
فرانسس نے کہا:
"میں شامل ہوں گی، مگر میری شرائط پر۔"
اور اس نے مطالبات کی فہرست پیش کی:
40 گھنٹے کا ہفتہ
کم از کم اجرت
بچوں کی مزدوری کا خاتمہ
بے روزگاری الاؤنس
بڑھاپے کی پنش
روزویلٹ نے کہا: "یہ سب ناممکن ہے!"
فرانسس نے کہا: "پھر کسی اور کو ڈھونڈ لو۔"
اور روزویلٹ نے اسے تعینات کر دیا۔
بارہ سال تک وہ وزیرِ محنت رہیں سب سے طویل مدت۔
اسی کے دور میں بنے:
The Social Security Act (1935) بڑھاپے کی پنشن، بے روزگاری الاؤنس۔
The Fair Labor Standards Act (1938) 40 گھنٹے کا ہفتہ، کم از کم اجرت، بچوں کی مزدوری پر پابندی۔
یہ قوانین مکمل نہیں تھے
مگر انہوں نے امریکہ کو بدل دیا۔
فرانسس نے کبھی اپنے آپ کو "کامیاب" نہیں سمجھا۔
وہ کہتی تھی:
"جب تک کوئی عورت بھوک سے مرتی ہے، میں سکون سے نہیں سو سکتی۔"
1945 میں روزویلٹ کے انتقال کے بعد وہ مستعفی ہوئیں۔
اور پھر کارنیل یونیورسٹی میں پڑھانے لگیں۔
1965 میں 85 سال کی عمر میں وفات پائی۔
آج بہت کم لوگ اس کا نام جانتے ہیں —
مگر اگر آپ ہفتے کے آخر میں چھٹی کرتے ہیں،
اگر آپ کو اوور ٹائم کی تنخواہ ملتی ہے،
اگر آپ کے دفتر میں ہنگامی دروازہ لگا ہے،
یا اگر آپ کے بزرگ پینشن پر زندگی گزار رہے ہیں
تو یاد رکھیے،
یہ سب فرانسس پرکنز کی بدولت ہے۔
1911 میں اس نے جلتی ہوئی عورتوں کو دیکھا
اور اگلے پچاس سال تک جلتی دنیا کے لیے انصاف کی عمارت کھڑی کی۔
اس نے ثابت کیا:
غربت کمزوری نہیں، ایک پالیسی کی پیداوار ہے۔
اور پالیسی بدلی جا سکتی ہے۔
🔥