27/11/2022
1970 کا واقعہ ہے۔ میری ان دنوں شادی کو تین ماہ ہوئے تھے۔ میرے شوہر ایک سرکاری کمپنی میں ملازمت کرتے تھے۔ گھر میں اللّہ کا دیا سب کچھ تھا۔ میرے سسرال میں صرف میری ساس حیات تھیں ۔ میاں صاحب کے بہن بھائی تو تھے نہیں۔ والد صاحب بھی وفات پاچکے تھے۔ سو ان کے چلے جانے کے بعد گھر میں ہم دو ہی رہ جاتے تھے۔ ہمارا گھر کراچی میں واقع ایک کالونی میں تھا۔ گھر کے کام کاج سے فارغ ہو کر میں ماں جی یعنی اپنی ساس کے پاس بیٹھ جاتی وہ مجھے اپنی جوانی کے قصے سنایا کرتی تھیں۔ ہنسی خوشی دن گزر رہے تھے۔ ایک شام جب میرے شوہر گھر آئے تو انہوں نے بتایا کہ وہ کمپنی کے کام سے چار دن کے لیے جہلم جا رہے ہیں۔
یہ سن کر میں پریشان ہو گئی ۔ ہماری شادی کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب وہ اتنے دنوں کے لیے جا رہے تھے۔ انہوں نے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ وہ جلد آنے کی کوشش کریں گے اور ماں جی کے ہوتے ہوئے مجھے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ "
میں چپ ہو گئی۔میرے شوہر ایک کم گوانسان تھے۔ وہ ویسے بھی بات چیت کم ہی کرتے تھے۔ میں نے ان کا سامان پیک کیا اور اگلے دن صبح وہ جہلم کے لیے نکل گئے۔
دن سست روی سے گزرے۔ ماں جی کی وجہ سے میرا حوصلہ رہا۔ رات کو بھی میں ان کے کمرے میں چلی جاتی اور بہانے سے وہیں سو جاتی۔ جس دن میرے شوہر نے آنا تھا میں نے کھانے پہ کافی اہتمام کیا۔ ان کی پسند سے بنایا اور خود بھی تیار ہو گئی ۔ جب وہ آئے تو بہت چپ چپ تھے ۔ بات تو پہلے بھی کم کرتے تھے لیکن اس دن تو ہوں ہاں کے سوا کچھ نہ کہا۔
میں نے پوچھا تو ٹال گئے کہ تھکا ہوا ہوں۔
میں خاموش ہو گئی ۔ رات کو جب کمرے میں آئے تو بیگ سے ایک پیکٹ نکالا مجھے دیا ۔
میں نے خوشی خوشی کھول کر دیکھا تو ایک گڑیا نما مورتی تھی۔ میں حیرانی سے ان کا منہ تکنے لگی۔
وہ بولے۔ " ڈیکوریشن پیس ہے۔ اچھا لگا لے لیا" ۔
میں نے مطمئن ہو کر ازسرنو مورتی کا جائزہ لیا ۔ وہ چہرے سے ایک غیر ملکی گڑیا جیسی تھی ۔ نیلی آنکھیں، گہرے بال اور دودھ جیسا رنگ۔ اس کا لباس سیاہ تھا ۔ اسے دیکھ کر مجھے معلوم نہیں کیوں عجیب سا احساس ہوا ۔ ایسا لگا جیسے وہ مجھے گھور رہی ہے۔
ایک عجیب سا خوف آیا ۔ میں نے واپس لپیٹ کر رکھنا چاہا تو میاں صاحب ںولے ۔" ڈراینگ روم میں رکھ دو۔ ایسے کیا لپیٹ رہی ہو؟"
میں نے بھی کچھ سوچا اور ڈراینگ روم میں آکر کارنس پہ سجا دیا۔
اب مورتی کو دیکھنے سے لگ رہا تھا جیسے وہ خوش ہے۔ ایسی سوچوں میں گم میں اسے دیکھ رہی تھی کہ اچانک مجھے لگا اس نے آنکھ جھپکی ہے۔
ایک دم میرے حلق سے چیخ نکل گئی ۔ اماں اور میرے شوہر بھاگ کر وہاں آئے مجھے شدید چکر آیا اور میں گر کر بے ہوش ہو گئی ۔
معلوم نہیں پھر کیا ہوا۔ ہوش آیا تو میں ڈاکٹر کے کلینک پہ تھی ماں جی مجھے دم کر رہی تھیں ۔ مجھے ہوش میں آتا دیکھ کر وہ خوشی سے میرا ماتھا چوم کر بولیں ۔" مبارک ہو بیٹا"
میں نے نا سمجھی میں ان کو دیکھا اسی وقت ڈاکٹر آئی اور بولی " مبارک ہو بچے کی خوشخبری ہے۔" میں نے شرما کر سر جھکا لیا۔
پھر ہم ڈھیر ساری ہدایات اور دوائیوں کے ساتھ گھر آگئے ۔
گھر میں داخل ہوتے ہی میری نظر مورتی پہ پڑی ۔ وہ مسکرا کر مجھے دیکھ رہی تھی میرے جسم میں جھرجھری سی دوڑ گئی ۔ میں نے اپنے شوہر کی جانب دیکھا وہ مجھے ہی دیکھ رہے تھے ںولے۔ " ایسی حالت میں فضول باتیں نہیں سوچتے۔ " یہ کہہ کر کمرے میں چلے گئے ۔
میں حیرانی سے سوچنے لگی کہ ان کو تو میں نے کچھ بھی نہیں بتایا۔ یہ کیسے جان گئے کہ میں کچھ ایسا ویسا سوچ رہی ہوں ۔ ماں جی میرے لیے جوس لے آئیں اور میں بات بھول کر ماں جی سے باتوں میں لگ گئی ۔
اگلے دن حسب معمول شوہر کے جانے کے بعد میں ڈراینگ روم کی صفائی کرنے آئی تو مورتی کو دیکھ کر میں دھک سے رہ گئی۔ وہ پیٹھ موڑے بیٹھی تھی۔ اس کو کس نے ہلایا ہو گا۔ یہی سوچتے ہوئے میں ڈرتے ڈرتے اس کے قریب آئی تو مجھے کسی کے رونے کی آواز آئی۔
اواز بےحد باریک اور ہلکی تھی میرے قدم من من کے ہو گئے۔ کلام پاک کا ورد کرتے جونہی میں نے مورتی کو سیدھا کیا میرا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔ مورتی کی آنکھیں گیلی تھیں ۔
نیلی آنکھوں میں پانی تھا۔ میرے تو رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ میں نے چیخ چیخ کر ماں جی کو بلایا ۔
وہ گھبرا کر دوڑتی ہوئی وہاں پہنچی تو میں ان سے چمٹ کر زارو قطار رونے لگی ۔ وہ مجھے صوفے تک بمشکل لائیں۔ پانی پلایا اور پوچھا کیا ہوا؟ میں نے روتے ہوئے مورتی کی طرف اشارہ کیا ۔ وہ چونک کر اس طرف دیکھنے لگیں۔
میرے منہ سے الفاظ نہیں نکل رہے تھے ۔ بمشکل اتنا نکلا ۔ مورتی ۔۔۔ مورتی
وہ اٹھ کر مورتی کے پاس گئیں۔ وہاں کچھ بھی عجیب انہیں نظر نہیں آیا ۔ وہ مجھے دم کرنے لگیں اور بولیں ۔ ایسی حالت میں وہم ہو جاتا ہے۔ آرام کرو ٹھیک ہو جاؤ گی۔ "
میں نے بے بسی سے پہلے انہیں اور پھر مورتی کو دیکھا۔ وہ مسکرا رہی تھی۔ میں آنکھیں بند کر اللّہ سے ہمت مانگنے لگی۔
شام تک میں کافی بہتر تھی نہ جانے ماں جی کی دعاؤں کا اثر تھا یا اللّہ نے ہمت دی تھی ۔ مجھے وہ سب باتیں اپنا وہم لگ رہی تھیں۔
اسی رات ایک اور واقعہ ہو گیا جس سے میرا وہم یقین میں بدل گیا۔
اس رات ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ ہوا یوں کہ رات میں میری پیاس سے آنکھ کھلی تو دیکھا کہ شوہر بستر پہ نہیں۔ سوچا واش روم میں ہوں گے۔ میں نے سائیڈ ٹیبل پر نظر ڈالی تو پانی کا جگ بھی نہیں تھا۔ میں اٹھی اور پانی لینے کچن میں آئی ۔ ڈراینگ روم کے سامنے سے گزری تو اندر سے باتوں کی آواز آئی ۔ میں حیران ہوگئی کہ اس وقت وہاں کون ہو سکتا ہے؟
دبے پاؤں اندر داخل ہوئی تو دیکھا کہ میرے شوہر مورتی کے قریب کھڑے ہلکی آواز میں کہہ رہے ہیں۔ " ایسا مت کرو۔۔ ایسا مت کرو "
میں ایک دم پریشان ہو گئی اور جلدی سے انکے قریب آکے پوچھا ۔" کیا ہوا ؟ "
وہ ایک دم پلٹے اور مجھے دیکھ کر گڑبڑا کر رہ گئے ۔ ان کے سامنے مورتی تھی اس کی آنکھیں عجیب انداز میں چمک رہی تھیں۔ خوف سے مجھے جھرجھری آگئی ۔۔
" آپ اس وقت یہاں کیا کر رہے ہیں؟ " میں نے پریشانی سے پوچھا۔
وہ اسی وقت میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کمرے میں لے آئے اور بولے۔ " نیند نہیں آرہی تھی تو اٹھ کر وہاں چلا گیا۔ دیکھ رہا تھا کہ مورتی میں ایسا کیا ہے جو تم ڈر گئی تھی"
میں نے ان کو بغور دیکھا۔ وہ مجھ سے کچھ چھپا رہے تھے۔ میں نے پوچھا۔" ایک بات بتائیں ۔۔۔ یہ مورتی کس کی ہے؟ "
وہ میرے سوال پہ جیسے اچھل پڑے اور بولے " یہ کیا سوال ہے؟ مجھے نہیں معلوم کس کی ہے؟ اچھی لگی تو لے آیا۔۔ بس"
میں نے پھر پوچھا ۔" تو آپ ابھی کیا باتیں کر رہے تھے مورتی سے؟ "
وہ اٹھ کر بیڈ کی دوسری طرف اپنی جگہ پہ چلے گئے اور بولے۔ " توبہ تم عورتیں ایک گڑیا پہ بھی شک کر سکتی ہو۔۔۔ "
میں خود ہی شرمندہ ہوگئی۔ مگر میری چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ کوئی اور ہی معاملہ ہے۔ مجھے معلوم تھا جتنا پوچھوں گی اتنا ہی وہ نہیں بتائیں گے ۔ میں بھی لیٹ گئی ۔ کچھ ہی دیر میں سو گئی کہ اچانک میری آنکھ کھل گئی ۔ شدید پیاس لگ رہی تھی ۔ مجھے یاد آیا کہ میں نے پانی ہی نہیں پیا تھا۔ میں ڈرتے ہوئے اٹھی اور شوہر کی طرف دیکھا وہ بے خبر سو رہے تھے ۔ میں کچن میں گئی پانی پیا اور گلاس میں مزید پانی لیا۔ کمرے کی طرف آتے ہوئے ڈراینگ روم کی طرف غیر ارادی نگاہ اٹھائی کمرے میں گھپ اندھیرا تھا ۔ اس کارنس کے پاس کوئی سایہ کھڑا تھا جس پہ مورتی رکھی تھی اس کی آنکھیں انگاروں کی طرح جل رہی تھیں۔ میرے ہاتھ سے گلاس چھوٹ کر فرش پہ گرا ۔۔۔ اور حلق سے چیخ نکل گئی ۔۔۔ ایک بار پھر میں بے جان ہو کر فرش پہ گر گئی ۔۔۔
ہوش آیا تو کمرے میں اپنے بستر پہ تھی ۔ اماں ہاتھ میں تسبیح لیے بیٹھی تھیں اور شوہر بھی گھبرائے کھڑے تھے۔ مجھے ہوش میں آتا دیکھ کر میری طرف لپکے۔۔ " کیا ہوا تھا؟ "
میری آنکھوں میں آنسو آگئے میں نے اماں کی طرف دیکھا اور کہا وہاں کوئی کھڑا تھا ۔ مورتی کے پاس ۔۔۔ "
وہ بولے ۔" تم نے مورتی کو ایک ہوا بنا لیا ہے۔ اتنا خوف سر پہ سوار کر لیا ہے اس کا ۔ "
اماں بولیں۔ " بیٹا ایسی حالت میں برے برے خیالات آتے ہیں تو مورتی کو وہاں سے ہٹا دے۔"
وہ سر ہلا کر باہر چلے گئے۔ ان کے جاتے ہی میں نے اماں سے کہا۔ " اماں ۔۔۔یہ میرا وہم نہیں ہے۔ وہاں واقعی کوئی کھڑا تھا۔ "
اماں نے کہا۔ " مجھے بھی ۔وہ مورتی کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی ۔ نہ جانے کہاں سے لایا ہے"
صبح کا اجالا پھیل گیا تھا ۔ میں ناشتہ بنانے اٹھنے لگی تو اماں بولیں تم آرام کرو آج میں بنا لاتی ہوں۔ " پھر میرے اصرار کے باوجود مجھے لیٹا رہنے کا کہہ کر چلی گئیں ۔
ناشتہ کے بعد شوہر آفس کے لیے چلے گئے اور کہتے ہوئے گئے کہ میرا کولیگ کہہ رہا تھا کہ ایک کام والی ان کے گھر آتی ہے ۔ میں اس سے کہتا ہوں آج یہاں بھیج دے۔ تم اور اماں بات کر لو اور رکھ لو ۔ "
میں نے اماں کو دیکھا تو وہ بولیں ۔ " میں نے ہی کہا ہے۔ تمہیں آرام کی ضرورت ہے۔"
میں مطمئن ہو گئی ۔
وہ عورت دوپہر کے وقت آئی ۔ سیدھی سادی اپنے کام سے کام رکھنے والی ۔ اماں کی اجازت سے اسے ایک ہزار روپے مہینے پہ صفائی اور کپڑے دھونے پہ رکھ لیا۔
جس دن سے مورتی کو کارنس سے اٹھایا اس دن سے کوئی عجیب واقعہ نہ ہوا۔ ایک دن ملازمہ بولی ۔" باجی سٹور میں جاتے ہوئے ایک ڈر سا لگتا ہے۔ وہاں ایک گڑیا رکھی ہے شیشے والی الماری میں۔ اس کو دیکھو تو بہت وحشت آتی ہے۔ "
خوف ایک بار پھر میرے اندر دوڑ گیا۔ " کیا کہہ رہی ہو؟ کون سی گڑیا ؟ "
وہ بولی چلیں میرے ساتھ۔ ۔۔ میں اس کے ساتھ سٹور میں گئی تو وہی مورتی شیشے کی الماری میں رکھی تھی ۔ اس کی آنکھیں اندھیرے میں چمک رہی تھیں۔ میں نے جلدی سے سٹور کی لائٹ جلائی تو سب نارمل ہو گیا۔
اس مورتی سے ایک عجیب سی کشش محسوس ہوئی ساتھ ہی بے حد خوف۔ میں سمجھ گئی کہ میاں صاحب نے مورتی کو اٹھا کر سٹور میں رکھ دیا تھا۔ تاکہ میری نظر نہ پڑے۔ میں نے ملازمہ کو تسلی دی اور کہا کہ وہم نہ کرے۔ مگر خود عجیب سے خوف میں مبتلا ہو گئی تھی ۔ ہر وقت مورتی کی صورت ذہن میں آتی رہتی۔
خیر دن گزرتے گئے۔ سٹور کو تالا لگا رہتا تھا۔ مجھے چھٹا مہینہ شروع ہو گیا۔ ایک شام میں موتیے کے پھولوں سے گجرا بنا رہی تھی ۔ ہمارے گھر کے لان میں موتیے کے کئی پودے تھے۔ ان کی خوشبو مجھے بہت پسند تھی ۔ میں نے سوچا آج گجرے بنا کر پہنوں گی۔
شام کا وقت تھا۔ اماں اپنے کمرے میں آرام کر رہی تھیں اور کام والی کام کر کے جا چکی تھی۔ شوہر کے آنے کا وقت تھا۔ اچانک ایسا لگا جیسے ہر طرف ایک خاموشی چھا گئی ہو۔ کوئی بھی آواز نہیں تھی۔ میں نے سر اٹھایا اور حیرانگی سے دیکھا ۔۔۔۔ اچانک میری نظر کارنس پہ پڑی۔ مورتی اپنی جگہ پہ موجود تھی اسی وقت آواز آئی ۔۔" مجھے بھی گجرے بنا دو۔" آواز ہلکی اور باریک تھی۔۔ میں ایک دم گھبرا کر کھڑی ہو گئی۔ سارے پھول بکھر گئے ۔۔ پھر سے آواز آئی ۔۔ ہمیں گجرے بنا دو۔۔۔
میں خوف سے چیختی ماں جی کے کمرے میں بھاگی۔
اماں نے ایسے آتے دیکھا تو وہ بھی پریشان ہو گئیں ۔ میں نے سارا واقعہ ان کو سنایا۔ وہ اسی وقت میرے ساتھ ڈراینگ روم میں آئیں تو ہم دونوں خوف سے گنگ ہو گئے ۔
سامنے کارنس پہ مورتی گجرے گلے میں پہنے ہوئے تھی۔ اس کی نیلی آنکھوں میں ایک تیز چمک تھی۔۔۔جاری ہے