1970 کا واقعہ ہے۔ میری ان دنوں شادی کو تین ماہ ہوئے تھے۔ میرے شوہر ایک سرکاری کمپنی میں ملازمت کرتے تھے۔ گھر میں اللّہ کا دیا سب کچھ تھا۔ میرے سسرال میں صرف میری ساس حیات تھیں ۔ میاں صاحب کے بہن بھائی تو تھے نہیں۔ والد صاحب بھی وفات پاچکے تھے۔ سو ان کے چلے جانے کے بعد گھر میں ہم دو ہی رہ جاتے تھے۔ ہمارا گھر کراچی میں واقع ایک کالونی میں تھا۔ گھر کے کام کاج سے فارغ ہو کر میں ماں جی یعنی اپنی ساس کے پاس بیٹھ جاتی وہ مجھے اپنی جوانی کے قصے سنایا کرتی تھیں۔ ہنسی خوشی دن گزر رہے تھے۔ ایک شام جب میرے شوہر گھر آئے تو انہوں نے بتایا کہ وہ کمپنی کے کام سے چار دن کے لیے جہلم جا رہے ہیں۔
یہ سن کر میں پریشان ہو گئی ۔ ہماری شادی کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب وہ اتنے دنوں کے لیے جا رہے تھے۔ انہوں نے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ وہ جلد آنے کی کوشش کریں گے اور ماں جی کے ہوتے ہوئے مجھے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ "
میں چپ ہو گئی۔میرے شوہر ایک کم گوانسان تھے۔ وہ ویسے بھی بات چیت کم ہی کرتے تھے۔ میں نے ان کا سامان پیک کیا اور اگلے دن صبح وہ جہلم کے لیے نکل گئے۔
دن سست روی سے گزرے۔ ماں جی کی وجہ سے میرا حوصلہ رہا۔ رات کو بھی میں ان کے کمرے میں چلی جاتی اور بہانے سے وہیں سو جاتی۔ جس دن میرے شوہر نے آنا تھا میں نے کھانے پہ کافی اہتمام کیا۔ ان کی پسند سے بنایا اور خود بھی تیار ہو گئی ۔ جب وہ آئے تو بہت چپ چپ تھے ۔ بات تو پہلے بھی کم کرتے تھے لیکن اس دن تو ہوں ہاں کے سوا کچھ نہ کہا۔
میں نے پوچھا تو ٹال گئے کہ تھکا ہوا ہوں۔
میں خاموش ہو گئی ۔ رات کو جب کمرے میں آئے تو بیگ سے ایک پیکٹ نکالا مجھے دیا ۔
میں نے خوشی خوشی کھول کر دیکھا تو ایک گڑیا نما مورتی تھی۔ میں حیرانی سے ان کا منہ تکنے لگی۔
وہ بولے۔ " ڈیکوریشن پیس ہے۔ اچھا لگا لے لیا" ۔
میں نے مطمئن ہو کر ازسرنو مورتی کا جائزہ لیا ۔ وہ چہرے سے ایک غیر ملکی گڑیا جیسی تھی ۔ نیلی آنکھیں، گہرے بال اور دودھ جیسا رنگ۔ اس کا لباس سیاہ تھا ۔ اسے دیکھ کر مجھے معلوم نہیں کیوں عجیب سا احساس ہوا ۔ ایسا لگا جیسے وہ مجھے گھور رہی ہے۔
ایک عجیب سا خوف آیا ۔ میں نے واپس لپیٹ کر رکھنا چاہا تو میاں صاحب ںولے ۔" ڈراینگ روم میں رکھ دو۔ ایسے کیا لپیٹ رہی ہو؟"
میں نے بھی کچھ سوچا اور ڈراینگ روم میں آکر کارنس پہ سجا دیا۔
اب مورتی کو دیکھنے سے لگ رہا تھا جیسے وہ خوش ہے۔ ایسی سوچوں میں گم میں اسے دیکھ رہی تھی کہ اچانک مجھے لگا اس نے آنکھ جھپکی ہے۔
ایک دم میرے حلق سے چیخ نکل گئی ۔ اماں اور میرے شوہر بھاگ کر وہاں آئے مجھے شدید چکر آیا اور میں گر کر بے ہوش ہو گئی ۔
معلوم نہیں پھر کیا ہوا۔ ہوش آیا تو میں ڈاکٹر کے کلینک پہ تھی ماں جی مجھے دم کر رہی تھیں ۔ مجھے ہوش میں آتا دیکھ کر وہ خوشی سے میرا ماتھا چوم کر بولیں ۔" مبارک ہو بیٹا"
میں نے نا سمجھی میں ان کو دیکھا اسی وقت ڈاکٹر آئی اور بولی " مبارک ہو بچے کی خوشخبری ہے۔" میں نے شرما کر سر جھکا لیا۔
پھر ہم ڈھیر ساری ہدایات اور دوائیوں کے ساتھ گھر آگئے ۔
گھر میں داخل ہوتے ہی میری نظر مورتی پہ پڑی ۔ وہ مسکرا کر مجھے دیکھ رہی تھی میرے جسم میں جھرجھری سی دوڑ گئی ۔ میں نے اپنے شوہر کی جانب دیکھا وہ مجھے ہی دیکھ رہے تھے ںولے۔ " ایسی حالت میں فضول باتیں نہیں سوچتے۔ " یہ کہہ کر کمرے میں چلے گئے ۔
میں حیرانی سے سوچنے لگی کہ ان کو تو میں نے کچھ بھی نہیں بتایا۔ یہ کیسے جان گئے کہ میں کچھ ایسا ویسا سوچ رہی ہوں ۔ ماں جی میرے لیے جوس لے آئیں اور میں بات بھول کر ماں جی سے باتوں میں لگ گئی ۔
اگلے دن حسب معمول شوہر کے جانے کے بعد میں ڈراینگ روم کی صفائی کرنے آئی تو مورتی کو دیکھ کر میں دھک سے رہ گئی۔ وہ پیٹھ موڑے بیٹھی تھی۔ اس کو کس نے ہلایا ہو گا۔ یہی سوچتے ہوئے میں ڈرتے ڈرتے اس کے قریب آئی تو مجھے کسی کے رونے کی آواز آئی۔
اواز بےحد باریک اور ہلکی تھی میرے قدم من من کے ہو گئے۔ کلام پاک کا ورد کرتے جونہی میں نے مورتی کو سیدھا کیا میرا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔ مورتی کی آنکھیں گیلی تھیں ۔
نیلی آنکھوں میں پانی تھا۔ میرے تو رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ میں نے چیخ چیخ کر ماں جی کو بلایا ۔
وہ گھبرا کر دوڑتی ہوئی وہاں پہنچی تو میں ان سے چمٹ کر زارو قطار رونے لگی ۔ وہ مجھے صوفے تک بمشکل لائیں۔ پانی پلایا اور پوچھا کیا ہوا؟ میں نے روتے ہوئے مورتی کی طرف اشارہ کیا ۔ وہ چونک کر اس طرف دیکھنے لگیں۔
میرے منہ سے الفاظ نہیں نکل رہے تھے ۔ بمشکل اتنا نکلا ۔ مورتی ۔۔۔ مورتی
وہ اٹھ کر مورتی کے پاس گئیں۔ وہاں کچھ بھی عجیب انہیں نظر نہیں آیا ۔ وہ مجھے دم کرنے لگیں اور بولیں ۔ ایسی حالت میں وہم ہو جاتا ہے۔ آرام کرو ٹھیک ہو جاؤ گی۔ "
میں نے بے بسی سے پہلے انہیں اور پھر مورتی کو دیکھا۔ وہ مسکرا رہی تھی۔ میں آنکھیں بند کر اللّہ سے ہمت مانگنے لگی۔
شام تک میں کافی بہتر تھی نہ جانے ماں جی کی دعاؤں کا اثر تھا یا اللّہ نے ہمت دی تھی ۔ مجھے وہ سب باتیں اپنا وہم لگ رہی تھیں۔
اسی رات ایک اور واقعہ ہو گیا جس سے میرا وہم یقین میں بدل گیا۔
اس رات ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ ہوا یوں کہ رات میں میری پیاس سے آنکھ کھلی تو دیکھا کہ شوہر بستر پہ نہیں۔ سوچا واش روم میں ہوں گے۔ میں نے سائیڈ ٹیبل پر نظر ڈالی تو پانی کا جگ بھی نہیں تھا۔ میں اٹھی اور پانی لینے کچن میں آئی ۔ ڈراینگ روم کے سامنے سے گزری تو اندر سے باتوں کی آواز آئی ۔ میں حیران ہوگئی کہ اس وقت وہاں کون ہو سکتا ہے؟
دبے پاؤں اندر داخل ہوئی تو دیکھا کہ میرے شوہر مورتی کے قریب کھڑے ہلکی آواز میں کہہ رہے ہیں۔ " ایسا مت کرو۔۔ ایسا مت کرو "
میں ایک دم پریشان ہو گئی اور جلدی سے انکے قریب آکے پوچھا ۔" کیا ہوا ؟ "
وہ ایک دم پلٹے اور مجھے دیکھ کر گڑبڑا کر رہ گئے ۔ ان کے سامنے مورتی تھی اس کی آنکھیں عجیب انداز میں چمک رہی تھیں۔ خوف سے مجھے جھرجھری آگئی ۔۔
" آپ اس وقت یہاں کیا کر رہے ہیں؟ " میں نے پریشانی سے پوچھا۔
وہ اسی وقت میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کمرے میں لے آئے اور بولے۔ " نیند نہیں آرہی تھی تو اٹھ کر وہاں چلا گیا۔ دیکھ رہا تھا کہ مورتی میں ایسا کیا ہے جو تم ڈر گئی تھی"
میں نے ان کو بغور دیکھا۔ وہ مجھ سے کچھ چھپا رہے تھے۔ میں نے پوچھا۔" ایک بات بتائیں ۔۔۔ یہ مورتی کس کی ہے؟ "
وہ میرے سوال پہ جیسے اچھل پڑے اور بولے " یہ کیا سوال ہے؟ مجھے نہیں معلوم کس کی ہے؟ اچھی لگی تو لے آیا۔۔ بس"
میں نے پھر پوچھا ۔" تو آپ ابھی کیا باتیں کر رہے تھے مورتی سے؟ "
وہ اٹھ کر بیڈ کی دوسری طرف اپنی جگہ پہ چلے گئے اور بولے۔ " توبہ تم عورتیں ایک گڑیا پہ بھی شک کر سکتی ہو۔۔۔ "
میں خود ہی شرمندہ ہوگئی۔ مگر میری چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ کوئی اور ہی معاملہ ہے۔ مجھے معلوم تھا جتنا پوچھوں گی اتنا ہی وہ نہیں بتائیں گے ۔ میں بھی لیٹ گئی ۔ کچھ ہی دیر میں سو گئی کہ اچانک میری آنکھ کھل گئی ۔ شدید پیاس لگ رہی تھی ۔ مجھے یاد آیا کہ میں نے پانی ہی نہیں پیا تھا۔ میں ڈرتے ہوئے اٹھی اور شوہر کی طرف دیکھا وہ بے خبر سو رہے تھے ۔ میں کچن میں گئی پانی پیا اور گلاس میں مزید پانی لیا۔ کمرے کی طرف آتے ہوئے ڈراینگ روم کی طرف غیر ارادی نگاہ اٹھائی کمرے میں گھپ اندھیرا تھا ۔ اس کارنس کے پاس کوئی سایہ کھڑا تھا جس پہ مورتی رکھی تھی اس کی آنکھیں انگاروں کی طرح جل رہی تھیں۔ میرے ہاتھ سے گلاس چھوٹ کر فرش پہ گرا ۔۔۔ اور حلق سے چیخ نکل گئی ۔۔۔ ایک بار پھر میں بے جان ہو کر فرش پہ گر گئی ۔۔۔
ہوش آیا تو کمرے میں اپنے بستر پہ تھی ۔ اماں ہاتھ میں تسبیح لیے بیٹھی تھیں اور شوہر بھی گھبرائے کھڑے تھے۔ مجھے ہوش میں آتا دیکھ کر میری طرف لپکے۔۔ " کیا ہوا تھا؟ "
میری آنکھوں میں آنسو آگئے میں نے اماں کی طرف دیکھا اور کہا وہاں کوئی کھڑا تھا ۔ مورتی کے پاس ۔۔۔ "
وہ بولے ۔" تم نے مورتی کو ایک ہوا بنا لیا ہے۔ اتنا خوف سر پہ سوار کر لیا ہے اس کا ۔ "
اماں بولیں۔ " بیٹا ایسی حالت میں برے برے خیالات آتے ہیں تو مورتی کو وہاں سے ہٹا دے۔"
وہ سر ہلا کر باہر چلے گئے۔ ان کے جاتے ہی میں نے اماں سے کہا۔ " اماں ۔۔۔یہ میرا وہم نہیں ہے۔ وہاں واقعی کوئی کھڑا تھا۔ "
اماں نے کہا۔ " مجھے بھی ۔وہ مورتی کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی ۔ نہ جانے کہاں سے لایا ہے"
صبح کا اجالا پھیل گیا تھا ۔ میں ناشتہ بنانے اٹھنے لگی تو اماں بولیں تم آرام کرو آج میں بنا لاتی ہوں۔ " پھر میرے اصرار کے باوجود مجھے لیٹا رہنے کا کہہ کر چلی گئیں ۔
ناشتہ کے بعد شوہر آفس کے لیے چلے گئے اور کہتے ہوئے گئے کہ میرا کولیگ کہہ رہا تھا کہ ایک کام والی ان کے گھر آتی ہے ۔ میں اس سے کہتا ہوں آج یہاں بھیج دے۔ تم اور اماں بات کر لو اور رکھ لو ۔ "
میں نے اماں کو دیکھا تو وہ بولیں ۔ " میں نے ہی کہا ہے۔ تمہیں آرام کی ضرورت ہے۔"
میں مطمئن ہو گئی ۔
وہ عورت دوپہر کے وقت آئی ۔ سیدھی سادی اپنے کام سے کام رکھنے والی ۔ اماں کی اجازت سے اسے ایک ہزار روپے مہینے پہ صفائی اور کپڑے دھونے پہ رکھ لیا۔
جس دن سے مورتی کو کارنس سے اٹھایا اس دن سے کوئی عجیب واقعہ نہ ہوا۔ ایک دن ملازمہ بولی ۔" باجی سٹور میں جاتے ہوئے ایک ڈر سا لگتا ہے۔ وہاں ایک گڑیا رکھی ہے شیشے والی الماری میں۔ اس کو دیکھو تو بہت وحشت آتی ہے۔ "
خوف ایک بار پھر میرے اندر دوڑ گیا۔ " کیا کہہ رہی ہو؟ کون سی گڑیا ؟ "
وہ بولی چلیں میرے ساتھ۔ ۔۔ میں اس کے ساتھ سٹور میں گئی تو وہی مورتی شیشے کی الماری میں رکھی تھی ۔ اس کی آنکھیں اندھیرے میں چمک رہی تھیں۔ میں نے جلدی سے سٹور کی لائٹ جلائی تو سب نارمل ہو گیا۔
اس مورتی سے ایک عجیب سی کشش محسوس ہوئی ساتھ ہی بے حد خوف۔ میں سمجھ گئی کہ میاں صاحب نے مورتی کو اٹھا کر سٹور میں رکھ دیا تھا۔ تاکہ میری نظر نہ پڑے۔ میں نے ملازمہ کو تسلی دی اور کہا کہ وہم نہ کرے۔ مگر خود عجیب سے خوف میں مبتلا ہو گئی تھی ۔ ہر وقت مورتی کی صورت ذہن میں آتی رہتی۔
خیر دن گزرتے گئے۔ سٹور کو تالا لگا رہتا تھا۔ مجھے چھٹا مہینہ شروع ہو گیا۔ ایک شام میں موتیے کے پھولوں سے گجرا بنا رہی تھی ۔ ہمارے گھر کے لان میں موتیے کے کئی پودے تھے۔ ان کی خوشبو مجھے بہت پسند تھی ۔ میں نے سوچا آج گجرے بنا کر پہنوں گی۔
شام کا وقت تھا۔ اماں اپنے کمرے میں آرام کر رہی تھیں اور کام والی کام کر کے جا چکی تھی۔ شوہر کے آنے کا وقت تھا۔ اچانک ایسا لگا جیسے ہر طرف ایک خاموشی چھا گئی ہو۔ کوئی بھی آواز نہیں تھی۔ میں نے سر اٹھایا اور حیرانگی سے دیکھا ۔۔۔۔ اچانک میری نظر کارنس پہ پڑی۔ مورتی اپنی جگہ پہ موجود تھی اسی وقت آواز آئی ۔۔" مجھے بھی گجرے بنا دو۔" آواز ہلکی اور باریک تھی۔۔ میں ایک دم گھبرا کر کھڑی ہو گئی۔ سارے پھول بکھر گئے ۔۔ پھر سے آواز آئی ۔۔ ہمیں گجرے بنا دو۔۔۔
میں خوف سے چیختی ماں جی کے کمرے میں بھاگی۔
اماں نے ایسے آتے دیکھا تو وہ بھی پریشان ہو گئیں ۔ میں نے سارا واقعہ ان کو سنایا۔ وہ اسی وقت میرے ساتھ ڈراینگ روم میں آئیں تو ہم دونوں خوف سے گنگ ہو گئے ۔
سامنے کارنس پہ مورتی گجرے گلے میں پہنے ہوئے تھی۔ اس کی نیلی آنکھوں میں ایک تیز چمک تھی۔۔۔جاری ہے
AR.Pakistani
Mr. AR is a very good teacher who teaches people skills and imparts knowledge
ایک خاتون ہر روز اپنے بچوں کو سکول لاتی لیجاتی تھی
ایک دن وہ بیمار ہو گئی تو ڈیوٹی بچوں کے باپ پر آگئی۔
شام کو لیڈی نے بچوں سے پوچھا:
آج باپ کیساتھ ڈرائیو کیسی رہی؟
بچوں نے کہا:
بہت اعلیٰ، آج تو ایک بھی ایڈئیٹ نہیں ملا
نہ کوئی اندھا، بہرہ، گدھا
نہ کوئی نان۔سینس، نہ کوئی الو کا پٹھا
بلکہ ہر کوئی بیوٹیفل
آہا
واؤ
اوئے ہوئے
مر جاواں
صدقے جاواں
جیسا ماحول تھا 🙈🙈😸🥰🥰🙈🙈
مجھے اس کا مجرا دیکھتے ہوئے مسلسل دسواں دن تھا۔ کیا غضب کی نئی چیز ہیرا منڈی میں آئی تھی۔ اس کا نام بلبل تھا۔ جب وہ ناچتی اور تھرکتی تھی تو جیسے سب تماش بین محو ہو جاتے۔ روزانہ اس کو ناچتا دیکھ کے میری شیطانی ہوس مزید پیاسی ہوتی جاتی اور میں نے فیصلہ کر لیا کہ اس سے ضرور ملوں گا۔ میں ہر قیمت پر اسے حاصل کرنا چاہتا تھا۔اس دن مجرا کے دوران وہ بجھی بجھی سی دکھائی دے رہی تھی ۔ اس کے ناچ میں وہ روانی بھی نہیں تھی لیکن مجھے اس سے ملنا تھا، بات کرنی تھی اور معاملات طے کرنے تھے۔ مجرے کے اختتام پہ جب سب تماش بین چلے گئے تو میں بھی اٹھا۔ وہ کوٹھے کی بالکنی میں اپنی نائیکہ کے ساتھ کسی بات پر الجھ رہی تھی۔ دروازہ کے تھوڑا سا قریب ہوا تو میں نے سنا کہ وہ اس سے رو رو کر کچھ مزید رقم کا مطالبہ کر رہی تھی۔ مگر نائیکہ اسکو دھتکار رہی تھی اور آخر میں غصے میں وہ بلبل کو اگلے دن وقت پہ آنے کا کہ کر وہاں سے بڑبڑاتی ہوئی نکل گئی۔بلبل کو پیسوں کی اشد ضرورت ہے، یہ جان کے میرے اندر خوشی کی اک لہر دوڑ گئی۔ چہرے پر شیطانی مسکراہٹ پھیل گئی کہ وہ ضرورت پوری کر کے میں اس کے ساتھ جو چاہے کر سکتا ہوں۔ میں اس کی جانب بڑھا، اس کا چہرہ دوسری طرف تھا اور وہ برقعہ پہن رہی تھی۔ پاس جا کر جب میں نے اسے پکارا تو وہ میری طرف مڑی۔ اسکا چہرہ آنسووں سے تر اور برف کی مانند ایسے سفید تھا جیسے کسی نے اس کا سارا خون نکال لیا ہو۔
اس کی یہ حالت دیکھ کر میں چکرا سا گیا اور اس سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے؟ وہ ایسے کیوں رو رہی ہے؟
میری طرف دیکھتے ہوئے وہ چند لمحے خاموش رہی اور میرے دوبارہ پوچھنے پر گھٹی گھٹی آواز میں بولی "ماں مر گئی۔"
"کیا؟"
جب مجھے اسکی سمجھ نہیں آئی تو وہ بے اختیار روتے ہوئے دوبارہ بولی کہ "آج میری ماں مر گئی۔"
اس جواب سے جیسے میرے منہ کو تالا لگ گیا۔ میری شیطانی ہوس، جس کو پورا کرنے کے لیے میں اس کی جانب آیا تھا، مجھ سے میلوں دور بھاگ گئی۔
"تو تم یہاں کیا کر رہی ہو؟" میں نے غصے اور حیرت سے اس سے پوچھا۔
" کفن دفن کے پیسے نہیں ہیں میرے پاس۔ اس لئے میں مجرا کرنے آئی تھی۔ مگر نائیکہ آج پیسے ہی نہیں دے رہی۔ کہتی ہے بہت مندی ہے۔ تماش بین کوٹھے پر نہیں آتے۔ جو آتے ہیں وہ پہلے کی طرح کچھ لٹاتے نہیں۔ وہ کہہ رہی ہے کہ ایدھی والوں سے اپنی ماں کے کفن دفن کا انتظام کروا لو۔"
اتنا کہہ کے وہ برقعہ پہن کر کوٹھے سے باہر نکل آئی۔
میں بھی اسکے پیچھے چل پڑا،"میں تمھاری ماں کے کفن و دفن کا بندوبست کرتا ہوں۔"
وہ چند لمحے مجھے مشکوک نظروں سے دیکھتی رہی اور پھر خاموشی سے میرے ساتھ بیٹھ گئی۔ گاڑی ٹیکسالی سے باہر نکالتے ہوئے میں نے بلبل سے اس کے گھر کا پتہ پوچھا۔ وہ علاقہ میرے لیے نیا نہیں تھا کئی بار میں وہاں سے گزرا ہوا تھا۔ میں نے گاڑی اس طرف موڑ دی۔ سارا راستہ وہ خاموشی سے روتی رہی۔ میرے پاس اسکو تسلی دینے کے لیے الفاظ بھی نہیں تھے۔کچھ دیر میں ہم بلبل کے گھر پہنچ گئے۔ یہ چھوٹا سا ایک کمرے کا گھر تھا۔ صحن کے بیچ میں چارپائی پر اسکی ماں کی لاش ایک گدلے کمبل میں لپٹی پڑی تھی۔ صحن میں بلب کی پیلی روشنی وہاں بسنے والوں اور گھر کی حالت چیخ چیخ کر عیاں کر رہی تھی۔ چارپائی کے پاس دو بوڑھی عورتیں بیٹھی تھی ۔ ایک کی گود میں سات آٹھ ماہ کا بڑا گول مٹول اور پیارا سا بچہ کھیل رہا تھا۔ آدھی رات ہونے کو آئی تھی۔ جیسے ہی بلبل گھر میں داخل ہوئی، وہ بوڑھی عورتیں بچہ اسے سونپتے اور دیر آنے کی وجہ سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے وہاں سے رخصت ہو گئیں۔ بلبل بچے کو لے کر کمرے کی طرف گئی۔ بچہ بہت بے قرار تھا اور پھر وہ اسکی چھاتی سے لپٹ گیا جیسے صبح سے بھوکا ہو۔
"کیا یہ بلبل کا بچہ ہے؟" یہ ایک نیا انکشاف تھا کہ بلبل شادی شدہ بھی ہے۔چند لمحوں بعد وہ کمرے سے باہر آئی مجھے یونہی کھڑا دیکھ کر پھر کمرے میں گئی اور اک پرانی کرسی اٹھا لائی۔
"سیٹھ جی! معذرت۔ میرے گھر میں آپ کو بیٹھانے کے لیے کوئی چیز نہیں ہے۔" وہ کرسی رکھتے ہوئے شرمندگی سے بولی۔میں سر ہلاتے ہوئے اس کرسی پر بیٹھ گیا۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہاں سے شروع کروں۔
"تمھارا اصل نام کیا ہے بلبل؟" بالآخر میں نے اس سے پوچھا ۔وہ چپ رہی شاید بتانا نہیں چاہ رہی تھی
"افشاں"۔ میرے دوبارہ پوچھنے پر اس نے آہستہ سے کہا۔
" بہت افسوس ہوا تمھاری ماں کی وفات کا۔"
وہ خاموش رہی۔
"تمھارا باپ، بھائی کوئی ہے ؟"
اس نے خاموشی سے "نہیں" میں سر ہلایا۔
"یہ بچہ تمھارا ہے ؟"
اس نے پھر خاموشی سے "ہاں "میں سر ہلایا۔
"تمھارا شوہر کہاں ہے؟"
چند لمحوں بعد وہ بولی "چھوڑ گیا۔"
"تم ہیرا منڈی کیسے گئی تم مجھے ناچنے گانے والی تو نہیں لگتی؟"
اب وہ نظریں اٹھا کر مجھے دیکھتی ہوئی بولی، "سیٹھ جی قسمت وہاں لے گئی۔ گھر میں کوئی مرد نہیں تھا۔ ایک بیمار ماں اور بچے کی ذمہ داری تھی۔ کہیں اور کام نہیں ملا تو ناچاہتے ہوئے بھی مجبورا"یہ راستہ اختیار کرنا پڑا۔ کچھ عرصے تک نائیکہ نے ناچ گانا سکھایا اور پھر دھندے پر بیٹھا دیا۔۔ وہ مجھے مجرا کرنے کے روزانہ دو سو روپے دیتی ہے اور ساتھ میں تماش بینوں کا بچا کھچا کھانا، جو میں گھر لا کے اپنی ماں کو کھلاتی ہوں اور خود بھی کھاتی ہوں۔ برقعے میں آتی جاتی ہوں جس سے محلے میں کسی کو پتہ نہیں چلتا اور اک بھرم قائم ہے۔ سیٹھ جی، ایسی کتنی ہی بے سہارا گمنام لڑکیاں معاشی حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر ان کوٹھوں پر ناچنے پر مجبور ہیں۔ آپ لوگوں کو کیا پتہ وہ کتنی مجبور ہو کر یہ قدم اٹھاتی ہیں ۔ کوئی لڑکی اپنی خوشی سے یوں سب کے سامنے اپنا جسم، اپنی عزت نیلام نہیں کرتی۔ جو لڑکیاں اک بار اس دلدل میں گر پڑتی ہیں پھر وہ دھنستی ہی چلی جاتی ہیں ۔ اور پھر اس میں ہمیشہ کے لیے ڈوب جاتی ہیں۔" یہ سب کچھ بتاتے ہوئے افشاں کے لہجے میں بے بسی اور بے چارگی تھی جیسے وہ کسی ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہی ہو۔میں کچھ دیر اس کے چہرے کو دیکھتا رہا۔ پھر پرس سے چند نوٹ نکالے اور اسکے ہاتھ میں تھماتے ہوئے بولا "کل اپنی ماں کی تدفین کروا لینا اور بچے کے لیے کچھ خوارک اور گھر کے لیے راشن پانی لے لینا۔"
وہ اتنے سارے نوٹ ایک ساتھ دیکھ کر حیران ہو گئی۔
"کیا ہوا؟" میں نے اس کو یوں چپ دیکھتے ہوئے پوچھا۔
"سیٹھ جی مجھے ان روپوں کے بدلے کیا کرنا ہو گا؟" وہ ڈرتے ڈرتے پوچھ رہی تھی۔ شاید یہ سوچ رہی تھی کہ ان نوٹوں کے بدلے سیٹھ پتہ نہیں کب تک اس کا جسم نوچے گا؟ کب تک اس کو سیٹھ کی رکھیل بن کر رہنا پڑے گا؟
اس کی بات سن کر مجھے اپنے آپ سے اتنی نفرت ہوئی کہ میں خواہش کرنے لگا کہ زمین پھٹ جائے اور میں اس میں سما جاؤں۔ مجھے احساس ہوا کہ میں ذلت اور اپنے کردار کی پستی کی آخری حد کو چھو رہا تھا۔ میں اس بے حس معاشرہ میں ایک تنہا اور بے سہارا لڑکی کی مدد کر رہا تھا مگر وہ اس کو بھی ایک ڈیل کے طور پر سمجھ رہی تھی۔ شاید جہاں سے میں اٹھ کر آیا تھا وہاں پر جانے والے لوگوں سے بغیر کسی وجہ کے مدد کی توقع نہیں کی جاتی۔
میں نے لرزتی آواز میں جواب دیا، "تمھیں کچھ نہیں کرنا پڑے گا۔ اور تم اب کوٹھے پر مجرا کرنے نہیں جاؤ گی۔ اپنے گھر میں رہو گی۔ ہر مہینے تمھیں منی آرڈر مل جایا کرے گا۔ تم نے کرنا بس یہ ہے کہ یہ جو بچہ تمھاری گود میں ہے اس کی تربیت ایسے کرو کہ یہ اک دن بڑا ہو کر تمھارا سہارا بن سکے ۔ یہ جو رقم میں بجھواؤں گا یہ تم پر قرض ہے اور جب تمھارا بیٹا جوان ہو جائے گا، ایک قابل انسان بن جائے گا تو تم مجھے واپس کر دینا۔افشاں حیران پریشان کھڑی مجھے دیکھ رہی تھی۔ اس انسان کو جس کے سامنے ابھی وہ ناچ کر آئی تھی وہ اس سے ایسی باتیں کر رہا تھا۔ پھر وہ بے آواز رو پڑی۔ مجھے سے وہاں رکا نہیں گیا۔ میں نے افشاں کے گھر کا پتہ لیا اور اس کو اپنا کیا وعدہ یاد دلا کر وہاں سے رخصت ہو گیا۔
سارے راستے میں یہی سوچتا رہا۔ "مجھے تم سے کچھ نہیں چاہے۔ مجھے تم سے کچھ نہیں چاہئے افشاں۔جو تم نے مجھے دیا ہے میں اس کا احسان ساری عمر نہیں اتار پاؤں گا۔ تم نے مجھ میں دفن اس انسانیت کو جگا دیا جو میں دولت اور شیطانی ہوس کے نیچے دبا کر مار چکا تھا۔ تم نے مجھے پھر سے انسان بنایا ہے افشاں۔"اس واقعے کے بعد میں ان تمام برے کاموں سے توبہ کر کے اس کی بارگاہ میں گناہوں کا بوجھ لیے حاضر ہوا۔ ہر روز اس کے سامنے اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا، اس سے معافی کی درخواست کرتا۔میں باقاعدگی سے ہر ماہ "افشاں" کو منی آڈر بجھواتا رہا۔ کئی دفعہ دل کیا میں اس مسیحا کو مل کر آؤں جس کی وجہ سے مجھے ان تمام گناہوں اور بدکاریوں سے نجات ملی۔ مگر ہر دفعہ اک شرمندگی آڑے آتی رہی کہ کبھی میں اپنی شیطانی ہوس کے لیے اس کا پیاسا تھا۔ اور پھر وقت گزرتا چلا گیا دن مہینوں میں بدلنے لگے اور مہینے سالوں میں تبدیل ہوتے گئے۔ مگر میں افشاں کو بھولا نہیں تھا۔ وہ بھی میری طرح بوڑھی ہو گئی ہو گی۔ اور اس کا بیٹا بھی جوان ہو گیا ہو گا۔ پتہ نہیں کسی قابل بنا ہو گا۔ اپنی ماں کا سہارا بنا ہو گا کہ نہیں؟
میرے بچے جوان ہو گئے تھے۔ زندگی اتار چڑھاؤ کے ساتھ مسلسل چل رہی تھی۔ ایک شام چھٹی کے دن جب میں اپنے گھر میں موجود تھا تو ملازم نے آکر مجھے بتایا کہ ایک عورت اور اسکے ساتھ ایک جوان لڑکا آپ سے ملنے آئے ہیں۔
"کون ہیں؟"
"معلوم نہیں صاحب پہلی بار ان کو دیکھا ہے۔" ملازم نے مودبانہ لہجے میں جواب دیا۔
"اچھا انہیں ڈرائینگ روم میں بٹھاؤ میں آرہا ہوں۔"
کون ہو سکتا ہے یہی سوچتے ہوئے میں ڈرائینگ روم کی طرف بڑھا۔
ایک عورت پرنور چہرہ کے ساتھ سفید بڑی چادر میں خود کو چھپائے ہوئے ہاتھ میں ایک پرانی سی ڈائری لیے کھڑی تھی۔ اور اس کے ساتھ اچھے کپڑوں میں ملبوس ایک بڑا ہینڈسم نوجوان کھڑا تھا۔ اس لڑکے کو میں جانتا تھا وہ ہمارے علاقے کا نیا ڈی ایس پی احمد تھا۔
"سلام سیٹھ جی میں افشاں ہوں اور یہ میرا بیٹا احمد ۔"
جونہی اس نے افشاں کا نام لیا میرے ذہن میں اسکا ماضی کا چہرہ گھوم گیا۔ اور پھر مجھے پہچاننے میں دیر نہیں لگی کہ وہ افشاں تھی۔
" آپ مجھے پہچان گئے ناں؟
"
میں نے سر ہلاتے ہوئے "ہاں" میں جواب دیا اور ان کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔افشاں پھر اپنے بیٹے سے مخاطب ہو کر بولی۔ "احمد بیٹا یہی ہیں میرے مسیحا جن کی بدولت تمھاری ماں گندگی کی دلدل میں گرتے گرتے نکلی اور یہی ہیں جو تمھاری پڑھائی کا تمھیں یہاں اس مقام تک لانے کا ذریعہ ہیں ۔"
" میں انکو جانتا ہوں امی جان ان کا شمار علاقے کے معزز ترین افراد میں ہوتا ہے ۔ مگر میں یہ نہیں جانتا تھا کہ مجھے اس مقام پر لانے میں انکا کردار سب سے اہم ہے۔"
"سیٹھ صاحب جس طرح آپ ہم بے سہارا اور بے کس لوگوں کی زندگی میں مسیحا بن کر آئے اس کا احسان ہم کبھی نہیں بھولیں گے ۔" احمد بڑی مشکور نظروں سے دیکھتا ہوا بڑی عاجزی سے بول رہا تھا۔
"ایسے کہہ کر آپ لوگ مجھے شرمندہ مت کریں۔"
میں نے افشاں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ آج اسکو پکارتے ہوئے بے اختیار میرے منہ سے افشاں بہن نکل گیا۔ میں خود حیران تھا مگر یہ سچ تھا۔افشاں صوفے سے اٹھی اور آگے بڑھ کر پرانی سی ڈائری مجھے تھماتے ہوئے کہنے لگی، "سیٹھ جی اس میں وہ تمام حساب درج ہے ۔۔ میری ماں کی تدفین سے لے کر آپ کے آخری منی آڈر تک۔ میں نے اک اک پائی کا حساب رکھا۔ آپ کے دیے پیسوں کا امانت کے طور پر استعمال کیا۔ اپنے بیٹے کو ایک قابل انسان بنایا۔ آپ نے مجھے بائیس سال پہلے کہا تھا کہ یہ قرض ہے اور یہ تب واپس کرنا جب تمھارا بیٹا ایک قابل انسان بن جائے۔"
کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد افشاں پھر سے بولی، "سیٹھ جی آج وہ وقت آگیا ہے۔ میں آپ کے احسانوں کا بوجھ تو میں نہیں اتار سکتی مگر جو پیسے آپ نے مجھے دئیے تھے میرا بیٹا وہ ضرور اتارے گا۔ اور آپ سے درخواست ہے آپ انکار مت کریں۔"میں افشاں کو بڑی تحسین نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ آخر اس نے وہ کر ہی دکھایا۔ یقیناً قول و قرار کو نبھانا، وعدہ پر قائم رہنا اک اچھے کردار کے حامل انسان کی بڑی نشانی ہے۔ یہ سب سن کر میرے دل میں اسکی عزت اور احترام اور بڑھ گیا۔
"میں نے تم کو بہن کہا ہے افشاں بہن۔ اور میں کیسے تم سے یہ پیسے واپس لے سکتا ہوں۔ مجھے یوں شرمندہ مت کرو۔"
میرے رکے رکے الفاظ میں پیسے نہ لینے کی معذرت چھپی تھی۔ مگر وہ بضد تھی۔ مجھے اس کے سامنے ہار ماننا پڑی اور وہ تمام پیسے جو میں اسکو منی آڈر کی صورت میں بھیجتا تھا اس کو واپس لینے کی حامی بھرنی پڑی۔ پھر وہ دونوں مجھے اپنے نئے گھر کا پتہ دے کر اور آنے کی تاکید کر کے وہاں سے چلے گئے۔
"ارم میں نے تمہیں کسی سے ملوانا ہے میرے ساتھ چلو گی۔؟ " شام کو میں نے اپنی بیگم سے کہا۔
"کیوں نہیں چلوں گی۔ مگر کون ہے؟ اور کس سلسلے میں ملنا ہے؟" بیگم نے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی۔
"میں نے روبی بیٹی کے لیے ایک لڑکا پسند کیا ہے ۔ تم مل لو اگر تم کو پسند آجائے تو پھر اس کے بعد روبی سے بات کر لینا۔" میں نے مختصر لفظوں میں اسے وجہ بتائی۔
اگلے دن میں اور میری بیگم ارم ناز افشاں کے گھر میں تھے۔ ارم کو بھی احمد بہت پسند آیا۔ ہم نے پھر افشاں سے احمد اور روبی کے رشتے کی بات کی۔ افشاں کو بھلا اس سے کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ وہ پھولے سے نہیں سما رہی تھی۔ اور یوں میری بیٹی کا رشتہ افشاں کے بیٹے احمد سے طے ہو گیا۔ وہ تعلق جو اک طوائف اور تماش بین جیسے گندے رشتے سے شروع ہوا تھا اس کا اختتام ایک نہایت مہذب رشتے کی شکل میں ہوا۔یہ سچ ہے کہ ہر انسان کو قدرت سدھرنے کا موقعہ ضرور دیتی ہے۔ کبھی گندگی کے ڈھیر سے اس کو ایسا سبق سیکھا دیتی ہے، کبھی دو بھٹکے لوگوں ملا کر سیدھے راہ پر لے آتی ہے اور انسان ساری زندگی اسی کے مطابق گزارنے کو فخر محسوس کرتا ہے۔ کبھی وہ طوائف اور میں تماش بین تھا۔ مگر آج وہ میری منہ بولی بہن اور اس کا بیٹا میری بیٹی کا شوہر ہے۔ اور مجھے ان دونوں رشتوں پر فخر ہے۔
*جیسے جیسے میری عمر میں اضافہ ہوتا گیا، مجھے سمجھ آتی گئی کہ اگر میں Rs. 3000 کی گھڑی پہنوں یا Rs. 30000 کی، دونوں وقت ایک جیسا ہی بتائیں گی۔۔!*
*میرے پاس Rs. 3000 کا بیگ ہو یا Rs. 30000 کا، اس کے اندر کی چیزیں تبدیل نہیں ہوں گی ۔ ۔ !
*میں 300 گز کے مکان میں رہوں یا3000 گز کے مکان میں، تنہائی کا احساس ایک جیسا ہی ہوگا ۔ ۔ !
*آخر میں مجھے یہ بھی پتہ چلا کہ اگر میں بزنس کلاس میں سفر کروں یا اکانومی کلاس میں، میں اپنی منزل پر اسی مقررہ وقت پر پہنچوں گا۔ ۔ !*
*اس لئے اپنی اولاد کو مالدار ہونے کی ترغیب مت دو بلکہ ان کو یہ سکھاؤ کہ وہ خوش کس طرح رہ سکتے ہیں اور جب بڑے ہوں تو چیزوں کی قدر کو دیکھیں قیمت کو نہیں ۔*
*دل کو دنیا سے نہ لگاؤ کہ وہ فانی ہے، بلکہ آخرت سے چمٹ جاؤ کیونکہ وہ باقی رہنے والی ہے۔*
*فرانس کا ایک وزیر تجارت کہتا تھا؛ برانڈڈ چیزیں مارکیٹنگ کی دُنیا کا سب سے بڑا جھوٹ ہوتی ہیں جنکا مقصد تو امیروں سے پیسہ نکلوانا ہوتا ہے مگر غریب اس سے بہت متاثر ہو رہے ہوتے ہیں۔*
*کیا یہ ضروری ہے کہ میں Iphone اُٹھا کر پھروں تاکہ لوگ مجھے ذہین اور سمجھدار مانیں؟*
*کیا یہ ضروری ہے کہ میں روزانہ Mac یا Kfc کھاؤں تاکہ لوگ یہ نا سمجھیں کہ میں کنجوس ہوں؟*
*کیا یہ ضروری ہے کہ میں روزانہ دوستوں کے ساتھ اٹھک بیٹھک Downtown Cafe پر جا کر لگایا کروں تاکہ لوگ یہ سمجھیں کہ میں خاندانی رئیس ہوں؟*
*کیا یہ ضروری ہے کہ میں Gucci,Lacoste, Adidas یا Nike سے کپڑے لیکر پہنوں تو جینٹل مین کہلایا جاؤں گا؟*
*کیا یہ ضروری ہے کہ میں اپنی ہر بات میں دو چار انگریزی کے لفظ ٹھونسوں تو مہذب کہلاؤں؟*
*نہیں!!*
*میرے کپڑے عام دکانوں سے خریدے ہوئے ہوتے ہیں، دوستوں کے ساتھ کسی تھڑے پر بھی بیٹھ جاتا ہوں، بھوک لگے تو کسی ٹھیلے سے لیکر کھانے میں بھی عار نہیں سمجھتا، اپنی سیدھی سادی زبان بولتا ہوں۔*
*میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو میرے Adidas سے خریدے گئے ایک جوتے کی قیمت میں پورے مہینے کا راشن لے سکتے ہیں۔*
*میں نے ایسے خاندان دیکھے ہیں جو میرے ایک Mac برگر کی قیمت میں سارے گھر کا کھانا بنا سکتے ہیں۔*
*بس میں نے یہاں سے راز پایا ہے کہ پیسے سب کچھ نہیں، جو لوگ ظاہری حالت سے کسی کی قیمت لگاتے ہیں وہ فورا اپنا علاج کروائیں۔*
*انسان کی اصل قیمت اس کا اخلاق، برتاؤ، میل جول کا انداز، صلہ رحمی، ہمدردی اور بھائی چارہ ہے۔
دفتر میں نوکری کرنے والے ہر دوسرے شخص کو لگتا ہے کہ آلو کے چپس کا ٹھیلہ لگانے میں بہت فائدہ ہے، بندہ بریانی کا پتیلا لے کر سڑک کنارے کھڑا ہو جائے تو تا حد نگاہ قطار لگ جائے گی، کسی کا کرش چاٹ چھولے وغیرہ پر ہے. یہ سمجھ لیں کہ کسی بات پر باس نے دو جملے کیا سنا دیے، ہر آفس ورکر کے اندر چھپا Elon Musk انگڑائی مار کر کھڑا ہو جاتا ہے اور بزنس کا پہلا مشورہ جو اسے ملتا ہے، وہ چپس کے ٹھیلے، بریانی کے پتیلے اور چائے کے ڈھابے کے گرد گھومتا ہے.
میں یہ نہیں کہہ رہا کہ بزنس نہ کریں. جس کو شوق ہے، بالکل کرے. لیکن ایسا ہر گز نہیں ہے کہ آپ کے اندر ایک ایسا جوالہ مکھی چھپا ہوا ہے جو آفس کی روٹین لائف نے یخ ٹھنڈا کر دیا ہے اور اگر آپ بزنس میں پاؤں رکھ دیتے تو موٹیویشنل سپیکر آپ کو انگلی پکڑ کر دنیا کے عظیم ترین انسانوں کی فہرست میں کھڑا کر دیتے. عین ممکن ہے کہ جتنے بڑے ڈفر آپ نوکری میں ہیں، اس سے کہیں زیادہ فلاپ بزنس میں ثابت ہوتے. آفس میں تو پھر بھی ٹیم ورک کی وجہ سے آپ کا گزارا ہو جاتا ہے، اکیلے تو آپ بالکل ہی راندہ درگاہ ہو جاتے.
پھر جس کو لگتا ہے کہ آلو کے چپس یا بریانی کا ٹھیلہ زبردست کمائی کا ذریعہ ہے، اسے چاہیے کہ ایک بار گلی کے کونے پر کھڑے چپس والے کے گھر کا چکر بھی لگا لے. شہر کے چوک پر جو بریانی والا آپ کی inspiration ہے، پتہ کر لیں کہ اس کے بچے کون سے سکول میں پڑھتے ہیں. اندازہ ہو جائے گا کہ وہ نوکری جو آپ کو گلے کا پھندا لگتی ہے، جس کی وجہ سے موٹیویشنل سپیکر کے مطابق دنیا آپ کے اندر چھپی ہوئی ایک نابغہ روزگار عالمگیر شخصیت کے جوہر دیکھنے سے محروم ہے، آپ کو اس بریانی والے کے مقابلے میں کیسا معیار زندگی دینے کا ذریعہ ہے.
لہٰذا اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں. یہ عملاً ممکن نہیں ہے کہ ہر بندہ بزنس میں کود پڑے. دوسرا یہ کہ اگر آپ کے نزدیک نوکری غلامی ہے تو بھائی، آپ کا بزنس جب پھلے پھولے گا تو آپ خود بھی لوگوں کو نوکری پر رکھیں گے، یعنی لوگوں کے گلے میں غلامی کا طوق ڈالیں گے، توبہ توبہ. اس فلسفے کے مطابق تو یہ نوکری کرنے سے بھی زیادہ معیوب چیز ہوئی کیونکہ آپ دوسروں کو غلام بنا رہے ہیں. اللہ نے جو کچھ دیا ہے، اس پر شکر کریں. بزنس پلان کرنے کے لیے نوکری سے متنفر ہونا ضروری نہیں ہے. ہمہ وقت reactive approach شدید نقصان دہ ثابت ہوتی ہے. احتیاط کریں
بطخ یا عقاب
ٹین ٹین یا بلند پرواز انتخاب آپ کا
ایک شخص کہتا ہے میں جہاز سے اترا اور کسٹم سے گزر کر ٹیکسی لینے سٹینڈ کی طرف چلا۔جب میرے پاس ایک ٹیکسی رکی تو مجھے جو چیز انوکھی لگی وہ گاڑی کی چمک دمک تھی۔اس کی پالش دور سے جگمگا رہی تھی۔ ٹیکسی سے ایک سمارٹ ڈرائیور تیزی سے نکلا۔اس نے سفید شرٹ اور سیاہ پتلون پہنی ہوئی تھی جو کہ تازہ تازہ استری شدہ لگ رہی تھی۔اس نے صفائی سے سیاہ ٹائی بھی باندھی ہوئی تھی۔ وہ ٹیکسی کی دوسری طرف آیا اور میرے لئے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا۔اس نے ایک خوبصورت کارڈ میرے ہاتھ میں تھمایا اور کہا
’سر جب تک میں آپ کا سامان ڈگی میں رکھوں،آپ میرا مشن سٹیٹ منٹ پڑھ لیں۔
میں نے آنکھیں میچ لیں۔
یہ کیا ہے؟
میرا نام سائیں ہے،آپ کا ڈرائیور۔ میرا مشن ہے کہ مسافروں کو سب سے مختصر، محفوظ اور سستے رستے سے ان کی منزل تک پہنچاؤں اور ان کو مناسب ماحول فراہم کروں
میرا دماغ بھک سے اڑ گیا۔ میں نے آس پاس دیکھا تو ٹیکسی کا اندر بھی اتنا ہی صاف تھا جتنا کہ وہ باہر سے جگمگا رہی تھی۔اس دوران وہ اسٹئرنگ سنبھال چکا تھا۔
’سر آپ کافی یا چائے پینا چاہیں گے۔ آپ کے ساتھ ہی دو تھرماس پڑے ہوئے ہیں جن میں چائے اور کافی موجود ہے‘۔ میں نے مذاق میں کہا کہ نہیں میں تو کوئی کولڈ ڈرنک پیوں گا۔
وہ بولا ’سر کوئی مسئلہ نہیں۔ میرے پاس آگے کولر پڑا ہوا ہے۔ اس میں کوک، لسی، پانی اور اورنج جوس ہے۔ آپ کیا لینا چاہیں گے؟‘
میں نے لسی کا مطالبہ کیا اور اس نے آگے سے ڈبہ پکڑا دیا۔ میں نے ابھی اسے منہ بھی نہیں لگایا تھا کہ اس نے کہا
’سر اگر آپ کچھ پڑھنا چاہیں تو میرے پاس اردو اور انگریزی کے اخبار موجود ہیں‘۔
’سر میں نے ائر کنڈیشنر لگا دیا ہے۔ بتائیے گا کہ ٹمپریچر زیادہ یا کم ہو تو آپ کی مرضی کے مطابق کردوں‘۔اس کے ساتھ ہی اس نے رستے کے بارے میں بتا دیا کہ اس وقت کس رستے پر سے وہ گزرنے کا ارادہ رکھتا ہے کہ اس وقت وہاں رش نہیں ہوتا۔ پھر بڑی پتے کی بات پوچھی
سر اگر آپ چاہیں تو رستے سے گزرتے ہوئے میں آپ کو اس علاقے کے بارے میں بھی بتا سکتا ہوں *اور اگر آپ چاہیں تو آپ اپنی سوچوں میں گم رہ سکتے ہیں
وہ شیشے میں دیکھ کر مسکرایا۔
میں نے پوچھا
سائیں، کیا تم ہمیشہ سے ایسے ہی ٹیکسی چلاتے رہے ہو؟ اس کے چہرے پر پھر سے مسکراہٹ آئی۔
نہیں سر، یہ کچھ دو سال سے میں نے ایسا شروع کیا ہے,اس سے پانچ سال قبل میں بھی اسی طرح کڑھتا تھا جیسے کہ دوسرے ٹیکسی والے کڑھتے ہیں۔ میں بھی اپنا سارا وقت شکایتیں کرتے گزارا کرتا تھا۔ پھر میں نے ایک دن کسی سے سنا کہ سوچ کی طاقت کیا ہوتی ہے۔
یہ سوچ کی طاقت ہوتی ہے کہ آپ بطخ بننا پسند کریں گے کہ عقاب۔ اگر آپ گھر سے مسائل کی توقع کرکے نکلیں گے تو آپ کا سارا دن برا ہی گزرے گا۔ بطخ کی طرح ہر وقت کی ٹیں ٹیں سے کوئی فائدہ نہیں، عقاب کی طرح بلندی پر اڑو تو سارے جہاں سے مختلف لگو گے۔ یہ بات میرے دماغ کو تیر کی طرح لگی اور اس نے میری زندگی بدل دی۔
’میں نے سوچا یہ تو میری زندگی ہے۔ میں ہر وقت شکایتوں کا انبار لئے ہوتا تھا اور بطخ کی طرح سے ٹیں ٹیں کرتا رہتا تھا۔ بس میں نے عقاب بننے کا فیصلہ کیا۔ میں نے ارد گرد دیکھا تو تمام ٹیکسیاں گندی دیکھیں۔ ان کے ڈرائیور گندے کپڑوں میں ملبوس ہوتے تھے۔ ہر وقت شکایتیں کرتے رہتے تھے اور مسافروں کے ساتھ جھگڑتے رہتے تھے۔ ان کے مسافر بھی ان سے بے زار ہوتے تھے۔ کوئی بھی خوش نہیں ہوتا تھا۔ بس میں نے خود کو بدلنے کا فیصلہ کیا۔ پہلے میں نے چند تبدیلیاں کیں۔ گاڑی صاف رکھنی شروع کی اور اپنے لباس پر توجہ دی۔ جب گاہکوں کی طرف سے حوصلہ افزائی ملی تو میں نے مزید بہتری کی۔ اور اب بھی بہتری کی تلاش ہے۔
میں نے اپنی دلچسپی کے لئے پوچھا کہ کیا اس سے تمہاری آمدنی پر کوئی فرق پڑا؟
’سر بڑا فرق پڑا۔ پہلے سال تو میری انکم ڈبل ہوگئی اور اس سال لگتا ہے چار گنا بڑھ جائے گی۔ اب میرے گاہک مجھے فون پر بک کرتے ہیں یا ایس ایم ایس کرکے وقت طے کرلیتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اب مجھے ایک اور ٹیکسی خریدنی پڑے گی اور اپنے جیسے کسی بندے کو اس پر لگانا پڑے گا۔یہ سائیں تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اسے بطخ نہیں بننا بلکہ عقاب بننا ہے۔
کیا خیال ہے، اس ہفتے سے عقاب کا سفر نہ شروع کیا جائے؟ سائیں نے مجھے ایک نیا فلسفہ دیا۔
سوچ بدلو ۔ زندگی بدلو ۔
وہ جو کسی نے کہا ہے نا کہ کوئی بھی پانی میں گرنے سے نہیں مرتا۔مرتا وہ اس وقت ہے جب وہ اس مشکل سے نکلنے کے لیۓ ہاتھ پاؤں نہیں مارتا ہے....
17/11/2022
Welder Test TA 2023
We have required Welders, Argon Welder, Electric Welders for Shutdown in FPCL TA 2023
Address
FFBL Bin Qasim Karachi .
Please contact for test with :
Mukesh Allied Supervisor
03333967255
03002564632
Note : Vaccine card Lazmi sath lekar aana he .
Thanks
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Sadiq Abad
Sadiqabad