Darul uloom sadiqbad

Darul uloom sadiqbad

Share

جامعہ دارالعلوم صادق آباد نزد گرین ٹاؤن صادق آباد ضلع رحیم یار خان پنجاب

13/04/2025

( اهم اعلان )
کل بروزپیر15شوال1446بمطابق 14اپریل2025 صبح 7:00 بجے حضرت مولانا مفتی محمد ابراہیم صادق آبادی صاحب دامت برکاتہم العالیہ دارالعلوم صادق آباد کے سولہویں تعلیمی سال کی افتتاحی دعافرمائیں گےان شاء اللہ.
تمام احباب اس بابرکت سعادت سے مستفید ہونے کے لیے شرکت کا اہتمام فرمائیں۔
منجانب:جامعہ دارالعلوم صادق آباد

11/04/2025

اہم اعلان
الحمد للہ! داخلہ امور کی اکثر کاروائیاں کافی حد تک مکمل ہوچکی ہیں۔تمام جدید طلبہ کرام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ 13 شوال بروز ہفتہ صبح 8 بجے تحریری جائزہ کے لیےجامعہ میں اپنی حاضری کو یقینی بنائیں
اور قدیم طلبہ 13 شوال بروز ہفتہ کو ظہر تک اپنی حاضری یقینی بنائیں۔
نیز کل ان شاءاللہ تحتانی درجات کی فریق بندی،درسگاہوں کی تقسیم اور دیگر تمام ضروری امور سر انجام دیے جائیں گے۔اس لیے تمام طلبہ اپنی حاضری یقینی بنائیں۔
منجانب:دفتر تعلیمات جامعہ دارالعلوم صادق آباد

09/04/2025

اہم اعلان
الحمد للہ! جامعہ دارالعلوم صادق آباد میں داخلہ کاروائی کے مقررہ تین دن مکمل ہوگئے ہیں۔
داخلہ کے خواہشمند حضرات کی درخواستوں کے کثرت، طلبہ کرام کے بھر پور رجوع اور سرپرست حضرات کی گہری دلچسپی کے پیش نظر جامعہ کی انتظامیہ نے داخلہ کاروائی میں مزید ایک دن کی توسیع کردی ہے۔اس لیے کل 11 شوال المکرم بروز جمعرات ان شاءاللہ تمام درجات اور شعبہ جات میں داخلے جاری رہے ہیں گے۔داخلہ کے خواہشمند حضرات بروقت تشریف لاکراپنی داخلہ کاروائی کو یقینی بنائیں۔
اور مزید تفصیلات کے لیے رابطہ کریں:
03007098611

Photos from Darul uloom sadiqbad's post 07/04/2025

الحمدللہ! رب العالمین کے فضل و کرم سے جامعہ دارالعلوم صادق آباد کے تمام شعبہ جات میں سن 1446ھ بمطابق 2025ء کی داخلہ کاروائی کا آغاز ہوچکا ہے ۔
تصویری جھلکیاں ملاحظہ ہوں۔۔۔۔۔

31/03/2025
21/11/2024

استاذ الاساتذہ فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی محمد ابراہیم صاحب صادق آبادی دامت برکاتہم العالیہ
(خلیفہ مجاز مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی نوراللہ مرقدہ) کی "نذرانہ عقیدت"پر ایک علمی و ادبی تقریظ پڑھیے اور کتاب سے استفادہ کی نیت کر لیجئے:

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم اما بعد!
حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کسی بھی پہلو سے ہو ایک محبوب عبادت اور باعث نزولِ صد برکات ہے۔ذکر حبیب صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں کا محبوب ترین مشغلہ ہے جس سے جی کبھی نہیں بھرتا،ان کا سرمایہ حیات بلکہ ان کی کل کائنات عشق رسول ہے ۔امام ربانی حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی قدس سرہ سے کسی نے پوچھا کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ سے دریافت کریں اور کہیں کہ مانگو کیا مانگتے ہو تو آپ کیا مانگیں گے؟حضرت نے فرمایا کچھ نہیں،صرف یہ درخواست کروں گا کہ تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تھی اس کا کچھ حصہ مجھے مل جائے،بس صرف یہ طلب کروں گا۔(عشق رسول اور علمائے حق،ص:149)۔
حضرات محدثین کی جماعت پوری امت کے لیے لائق رشک ہے جس کا ہم وقتی مشغلہ قال اللہ وقال الرسول ہے۔ایک محدث سے دریافت کیا گیا علم حدیث میں آپ کی اس قدر محبوبیت و مصروفیت کا سبب کیا ہے؟بولے سبب ایک ہی ہے کہ اس قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بار بار زبان پر آتا ہے،یعنی اشتغال بالحدیث کا سبب ذکر حبیب کی کثرت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کائنات میں ہر وقت ہر جگہ جاری رہے گا،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ورفعنالک ذکرک"اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کے ذکر کا آوازہ بلند کردیا"
حبر الامت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تفسیر فرمائی:جہاں کہیں میرا ذکر ہوگا آپ کا بھی ذکر ہوگا، اذان میں،اقامت میں ،تشھد میں،جمعہ کے روز منبروں پر،عید الفطر اور عیدالاضحیٰ کےدن،ایام تشریق میں،یوم عرفہ میں،رمی جمرات کے وقت ،صفا مروہ پر،خطبہ نکاح میں،زمین کے مشرق و مغرب میں۔(غرض ہر زمان و مکان میں اللہ اور رسول کا تذکرہ ساتھ ساتھ ہوگا) (الجامع لاحکام القرآن:20/98)
اس وعدہ خداوندی کے مطابق از آدم تا ایں دم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر جاری ہے اور صبح قیامت تک جاری رہے گا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ملاحظہ فرمائیں کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسمپرسی کی کیفیت میں دشمنوں میں گھرے ہوئے تھے ۔کسی کے سان گمان میں بھی نہ تھا شہر مکہ میں گوشہء گمنامی میں موجود یہ ہستی اتنی شہرت و قبولیت پا لے گی کہ اس کا شھرہ چار دانگ عالم میں پھیل جائے گا ۔ایک وقت تھا کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب کو اللہ تعالیٰ کے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت نہ تھی،لیکن جب اللہ تعالٰی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا آوازہ بلند کرنے کا فیصلہ فرمایا تو دیکھتے ہی دیکھتے پہلے مکہ مکرمہ میں،پھر قبائل عرب میں،پھر قبائل عرب سے نکل کر عرب و عجم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کا ڈنکا بجنے لگا۔
ولادت سے لے کروفات تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر فعل، ہر قول،ہر ادا غرض پوری زندگی کتب حدیث میں محفوظ ہے اور یہ وہ اعزاز ہے جو پوری انسانی تاریخ میں صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ پر دنیا کی ہر زبان میں لکھا گیا اور اتنا لکھا گیا کہ ان کتب سیرت کو جمع کیا جائے تو ایک عظیم الشان کتب خانہ وجود میں آجائے ۔سیرت نگاروں ایک سے ایک بڑھ کر نامور اور عبقری شخصیات ،سب نے اس میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور زور قلم صرف کیا ،لیکن ع
حق یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
دانائے شیراز نے یہ فرما کر قصہ تمام کردیا
ع بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
مداحان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے زلہ رباؤں میں ایک نیا نام میرے نور نظر لخت جگر مفتی محمد صادق آبادی سلمہ اللہ تعالیٰ کا ہے جنہوں نے عشق و محبت میں ڈوب ڈوب کر بارگاہِ الٰہی نبوت میں"نذرانہ عقیدت"پیش کیا ہے۔یہ باقاعدہ تصنیف نہیں،بلکہ تالیف ہے جس میں عشاق رسول کا منتخب کلام سلیقے سے جمع کرکے عشاق رسول کی خدمت میں پیش کیا ہے۔قارئین کرام سے درخواست ہے کہ مؤلف کے حق میں دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس طالب علمانہ کاوش کو اپنی بارگاہ عالی میں شرف قبولیت نصیب فرما کر ان کے حق میں اور ان کے والدین اساتذہ اور مشایخ سب کے حق میں تا قیام قیامت صدقہ جاریہ ساریہ بنا دیں اور ان کو مزید علمی،عملی اور دینی خدمات کی توفیق مرحمت فرمائیں۔
وصل اللھم وبارک وسلم
محمد ابراہیم
دارالعلوم صادق آباد
10 محرم الحرام 1446ھ
کتاب خریدنے کے لیے درج ذیل نمبر پر رابطہ کریں:
03001262160

28/10/2024

حضرت استاد جی مفتی محمد صاحب صادق آبادی کی نئی تالیف"نزرانہ عقیدت"
" نزرانہ عقیدت "
استاد محترم حضرت مولانا مفتی محمد صاحب صادق آبادی کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں،حضرت استاد جی درس و تدریس ،اصلاح باطن،جامعہ کی نگرانی اور دیگر ہمہ گیر مصروفیات کے ساتھ ساتھ دین کی ایک جامع خدمت "شعبہ تصنیف و تالیف "سے بھی بڑی گہری وابستگی رکھتے ہیں،جس کا واضح ثبوت حضرت استاد جی کی گزشتہ چند سالوں میں چھپنے والی نئی کتب ہیں۔
حضرت استاد جی کی تحریر و ترتیب اور تالیفات میں یہ چیز واضح طور پر محسوس کی جاسکتی ہے کہ ایک ہی تحریر سےبیک وقت اصلاحی ،علمی و ادبی چاشنی کا لطف اٹھایا جاسکتا ہے۔حضرت استاد جی صاحب کی اس وقت کئی کتب اور رسالے زیر تالیف ہیں جن پر کافی تیزی سے کام جاری ہے۔
زیر تالیف کتب میں سر فہرست کتاب "نذرانہ عقیدت" شامل تھی،جس کی بار بار تصحیح و ترتیب و ڈیزائننگ کا کام ایک لمبے عرصے تک جاری رہا۔تقریبا ایک ماہ پہلے مذکورہ کتاب کی تمام چیزیں مکمل کرنے کے بعد کتاب چھپنے کے لیے پریس والوں کے حوالہ کردی گئی تھی۔
بفضلہ تعالیٰ کتاب زیور طبع سے آراستہ ہوکر منظر عام پہ آگئ ہےجو قارئین کی دہلیز تک پہنچنے کے لیے تیار ہے۔ مذکورہ کتاب کے تعارف پر مبنی چند سطور قسط وار قلمبند کیے تھے ۔جنہیں اب مرتب کرکے ایک ہی مضمون بنا لیا گیا ہے۔مذکورہ کتاب کی نسبت آقائے نامدار محمد مصطفیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور ظاہر ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ہر چیز ہی بڑی ذیشان اور قابل مدح و تعظیم ہے۔
لیکن مجھ جیسا ایک ادنی سا طالب علم اس کا بالکلیہ تو حق ادا نہیں کرسکتا۔لیکن چونکہ انسانی بساط میں صرف کوشش و ارادہ اور یقین ہی ہے جسے بروئے کار لانے میں بظاہرکوئی حرج نہیں۔
اللہ تعالیٰ کی ذات سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اور اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت اور اتباع کرنے کی توفیق نصیب فرمائے آمین ۔
اہل ایمان نے مختلف انداز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت و محبت کا اظہار کیا،نظم میں بھی اور نثر کی صورت میں بھی۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح سرائی کو مسلمانوں کی عام اصطلاح میں "نعت "کہا جاتا ہے۔قرآن و حدیث کی رو سے محبت رسول ایمانی تقاضا ہے۔اس محبت کا جو معیار مقرر کیا گیا ہے ہے وہ ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔انسان کی ذاتی زندگی میں جو چیزیں اہمیت رکھتی ہیں ان میں اعزہ و اقارب اور مال و دولت سرفہرست ہیں ۔مال و دولت سے بڑھ کر انسان کو اس کے قریبی رشتہ دار عزیز ہوتے ہیں ،پھر اعزہ و اقارب میں سے انسان کو اس کے والدین اور اس سے بڑھ کر اسے اپنی اولاد عزیز ہوتی ہے۔لیکن شرعا بقائے ایمان و دین کی بناء اطاعت رسول و محبت رسول میں مضمر ہے۔محبت رسول کا اظہار ان گنت طریقوں سے ممکن ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف شامل ہے ۔"ذکر مصطفی و مدح خواجہ بطحاء صلی اللہ علیہ وسلم"ایک ایسا عنوان بحر بیکراں ہے،جس میں غوطہ زن ہونا ہر مسلمان کی اولین خواہش اورجزبہ ہے۔سرورکونین ،تاج دار مدینہ ،حضرت محمد مصطفیٰ ،احمد مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی وہ ذات ہے کہ ان پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ پوری کائنات سے بڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عقیدت و محبت رکھنا ایمان کی اساس ہے۔جس آدمی کا دل حب رسول سے خالی ہو وہ مومن ہو ہی نہیں سکتا۔مدح رسول میں نامور اور گمنام شعراء نے لاکھوں انمول اشعار لکھے ،نامور مصنفین نے سیرت رسول و مدح رسول کے عنوان سے الفاظ کی سجع بندی کرکے لاکھوں بلکہ کروڑوں سفید اوراق دوات و روشنائی سے بھر دیے،خطابت کے بے تاج بادشاہوں نے آپ صلی اللہ علیہ کی مدح سرائی سے سامعین کو محظوظ کیا،محرروں کی لفاظی سے ذکر رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ابھی تک نامکمل ہے ۔دنیا کے ہر قریہ و بستی سے دن میں پانچ وقت ان گنت موذنین صدائے محمد رسول اللہ ازل سے بلند کررہے ہیں اور تاابد کرتے رہیں گے اور ایسا کیونکر نہ ہو ؟جب کہ باری تعالیٰ نے خود ارشاد فرمایا ہے: ورفعنا لک ذکرک"ہم نے آپ کے ذکر کا آوازہ بلند کردیا"
اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں کئی مقامات پر اپنے معجز و موجز الفاظ میں حبیب انور محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و مدح سرائی کی ہے،ان آیات کا احاطہ یہاں ایک مختصر مضمون میں مشکل ہے ۔جس ذات اقدس کی مدح سرائی اور دفاع خود رب کائنات کرے تو ایک انسان اس ذات کی کیا ثناء بیان کرسکتا ہے؟مرزا غالب نے اس بارے میں اپنی بے بسی اور عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا :
غالب ثنائے خواجہ بہ یزداں گزاشتم
کاں ذات پاک مرتبہ دان محمد است
انجینئر عبد الرزاق اویسی نے انہی جزبات کی ترجمانی اپنے ایک شعر میں یوں کی ہے:
خود کرے تعریف جس کی خالق ارض و سما
ایک مشت خاک سے ہو کیسے حق ادا اس کا
اللہ تعالیٰ نے ازل ہی میں آپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک کو ان تمام مناصب رفیعہ و جمیلہ و جلیلہ کے لیے چن لیا تھا۔جن پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آئندہ فائز ہونا تھا اور تمام جواہر و ملکات ،خوبیوں اور کمالات سے نوازا تھا۔جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ارفع و اعلی کے لائق تھے ارشاد ربانی ہے:اللہ یعلم حیث یجعل رسالتہ(الانعام:124)"اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کون ہے جسے رسالت سے نوازے"
حضرت محمد مصطفی ،احمد مجتبی،افضل المرسلین ،امام الرسل،سرورکون و مکاں،اشرف انس و جاں ،زبدہ زمین و زماں اور سید ولد آدم ہیں ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و ثنا تخلیق آدم سے بھی پہلے شروع ہوچکی تھی۔اور اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم (روحی فداہ)نے فرمایا تھا:انی عنداللہ خاتم النبیین وان آدم لمنجدل فی طینتہ
"میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس وقت بھی خاتم النبیین تھا کہ ابھی آدم علیہ السلام اپنے مٹی میں تھے،یعنی ابھی تک ان کا پتلا نہیں بنا تھا"(السیرہ النبویہ ابن کثیر ،318/1)
بقول شاعر
سب سے پہلے مشیت کے انوار سے نقش روئے محمد بنایا گیا

پھر اسی نقش سے مانگ کر روشنی بزم کون و مکاں کو سجایا گیا

وہ محمد بھی ،احمد بھی،حامد بھی،محمود بھی،حسن مطلق کا شاہد و مشہود بھی

علم و حکمت میں وہ غیر محدود بھی، ظاہراً امیوں میں اٹھایا گیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ادنی امتی جو قاصر ہے ہمیچندان و ہمیچیرز ہے وہ اس ذات کی کیا توصیف و مدح کرسکتا ہے ؟تاہم شفاعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی امید میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے لکھے گئے راقم الحروف کے یہ چند سطور اور راقم کے مشفق و مہربان استاذ،شیخ و مربی علم و عمل سے معمور شخصیت مفتی محمد صاحب صادق آبادی دامت برکاتہم کی مرتب کی گئی زیر نظر کتاب "نزرانہ عقیدت"جس میں سوز و گداز اور فرحت و ابتہاج کے پاکیزہ جزبات سے لبریز ایسی مشکبار تحریریں ہیں،جنہیں پڑھ کر مشام جاں معطر اور آنکھوں سے سیل اشک رواں ہو جائیں ۔ارادت و عقیدت کے عنبر میں گندھی ہوئی ایک ایسی تالیف جو آپ کے خوابیدہ تمناؤں اور خفتہ آرزؤں کو اس انداز میں بیدار کرے کہ آپ مواجہہ شریف کی سنہری جالیوں کے روبرو حاضری کے لیے تڑپ اٹھیں۔ایک ایسی تالیف جس میں عقیدت و محبت اور عاجزی و سپردگی کے تحریری گلدستے جنہیں خوش نصیب زائرین نے روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری کے وقت انہیں تار گریہ میں پروکر اپنی حب و قربت اور عشق و نیاز کے طور پر پیش کیا۔ایمان و وجدان کی گہرائیوں اور جزب و مستی کے عالم میں مرتب کی گئی "نزرانہ عقیدت"آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و ثنا کے بحر بیکراں سے ایک ذرا سی آب جو ہے ۔کتاب دورنگہ طباعت اور اعلی قسم کے سفید کاغذ پر پرنٹ کی گئی ہے جو یقیناً جاذب نظر و دل ہے ۔اللہ تعالیٰ قبول اور نافع فرمائے اور قارئین و مرتب کو حب و اتباع نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے مزید مالا مال فرمائے آمین ثم آمین
کہنے والے نے کہا تھا
ترے رخسار و گیسو کو بھلا تشبیہ دوں کیونکر
زہے لالہ میں رنگ ایسا ہے نہ سبل میں بو ایسی

راشد محمود صادق آبادی
مدرس دارالعلوم صادق آباد

Want your school to be the top-listed School/college in Sadiqabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Sadiqabad