09/02/2023
میں یہ مان چکا کہ کچے کے علاقے میں مثبت تبدیلی آ نا تقریبا نا ممکن ہے۔ تبدیلی ہمیشہ وہاں آتی ہے جس اس کاراستہ ہموار ہو۔ جہاں جعلی جذبا تیت کی بجائے علم و عقل کے دروازے کھلے ہوں، جہاں ذات پات جیسی غلاظت نہ ہو، لیکن جہاں خود عوام عقل کے پیچھے جہالت کا گنڈاسہ لے کر گھوم رہے ہوں وہاں وہی کچھ ہو تا ہے جو پاکستان میں ہو رہا ہے اور اگلے پچاس سال تک اسی طرح ہوتا رہے گا کیونکہ خوشامد کا خمیر ہمارے ڈی این اے میں شامل ہے اور ہمارا سچ صرف دوسروں کی ذات تک محدود ہوتا ہے۔ میرا آپ کو مشورہ ہے آپ سیاست ضرور کریں، اپنے اپنے مذہبی و سیاسی دیوتا کی پوجا کا بھی پورا پورا بند و بست رکھیں، حمام سے لے کر چائے پکوڑے کی دوکانوں تک کو سیاسی گفتگو کا اڈا بھی بنائیں، اپنے آپ کو مسو لینی، کارل مارکس، اتا ترک، اور خمینی جتنا مدبر و عاقل بھی ضرور سمجھیں لیکن یہ سب تب کریں جب کم از کم آپ کا گھر اور بچے مظلوم بن کر زندگی نہ گزار رہے ہوں ، آپ کا نوکری یا چھوٹا موٹا کاروبار کی حلال کمائی محفوظ ہو تا کہ آپ کے سیاسی و مذہبی نظریات کی قیمت آپ کے ماں باپ یا بیوی بچوں کو بھوک ننگ و تکلیف کی صورت میں نہ چکانی پڑے. نیلسن منڈیلا بننے سے پہلے اپنی ذمہ داری کا بو جھ اٹھائیں. اس کے ساتھ ساتھ تھانیداروں، کو نسلروں، سیاستدانوں، ٹک ٹاکر ملاؤں، وغیرہ کے ساتھ فوٹو لے کر اسے اپنی پروفائل بنانے کی بجائے کچھ نہ کچھ ایسا کریں کہ علاقے میں تعلیم امن اور بنیادی سہولیات میسر ہوں سچ بولو اور سچ بولنے والوں کا ساتھ دو تاکہ آپ کی اپنی ایک پہچان ہو اللہ ہمارے علاقے میں امن کا گہوارہ بنائے آمین